دارالعلوم دیوبند کیسے بنا۔۔۔ملک گوہر اقبال رما خیل

ہماری تعلیم کا مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو رنگ و نسل کے لحاظ سے ہندوستانی ہوں  لیکن دل و دماغ کے لحاظ سے اسلامی ۔ جن میں اسلامی تہذیب و تمدن کے جذبات بیدار ہوں اور دین و سیاست کے لحاظ سے ان میں اسلامی شعور زندہ ہو۔

عزیزانِ من۔۔ حجتہ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی نے دارالعلوم دیوبند قائم کرکے اپنے عمل سے یہ نعرہ کیوں لگایا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ برطانوی ہند کے فاتح قوم ” انگریز” کو فکر تھی کہ ہندوستان کے دل و دماغ کو یورپین سانچوں میں کس طرح ڈھالا جائے جس سے برطانویت اس ملک میں جڑ پکڑ سکے۔ ظاہر ہے کہ دل و دماغ کے بدلنے کا واحد ذریعہ تعلیم ہوسکتی تھی جس نے ہمیشہ ان سانچوں میں دلوں اور دماغوں کو ڈھالا ہے۔ اس لیے ہندوستان کو فرنگی رنگ میں رنگنے کے لیے لارڈ میکالے نے تعلیم کی اسکیم پیش کی۔ اسکول اور کالج کی  تعلیم کا نقشہ لے کر یورپ سے ہندوستان پہنچا۔ اور یہ نعرہ بلند کیا کہ ہماری تعلیم کا مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو رنگ و نسل کے لحاظ سے ہندوستانی ہوں  اور دل و دماغ کے لحاظ سے انگلستانی ۔ یقیناً یہ آواز جب ایک فاتح اور برسرِ اقتدار قوم کی طرف سے اٹھی اور تھی بھی وہ تعلیم کی، جو بذاتِ خود ایک انقلاب آفریں حربہ ہے تو اس نے ملک پر ذہنی انقلاب کا خاطر خواہ اثر ڈالا۔ اس تعلیم سے ایسی نسلیں ابھرنی شروع ہوگئیں جو اپنے گوشت پوست کے لحاظ سے یقیناً ہندوستانی تھیں لیکن اپنے طرزِ فکر اور سوچنے کے ڈھنگ کے اعتبار سے انگریزی جامہ میں نمایاں ہونے لگیں۔ اسی ذہنی مگر خطرناک انقلاب کو دیکھ کر مولانا محمد قاسم نانوتوی نے دارالعلوم دیوبند قائم کیا۔ اور یہ نعرہ بلند کیا کہ ہم ایسے نوجوان تیار کریں گے جو خالص اسلامی ہوں۔ اس کا ایک ثمرہ یہ نکلا کہ مغربیت کے ہمہ گیر اثرات پر بریک لگ گئی اور بات یکطرفہ نہ رہی۔ بلکہ ایک طرف اگر مغربیت شعار افراد نے جنم لینا شروع کیا تو دوسری طرف مشرقیت نواز اور اسلامیت طراز جنبہ بھی برابر کے درجہ میں آنا شروع ہو گیا۔ جس سے یہ خطرہ باقی نہ رہا کہ مغربی سیلاب سارے خشک و تر کو بہا لے جائے گا بلکہ اگر اس کی رو کا ریلا بہاؤ پر آئیگا تو ایسے بند بھی باندھ دیے گئے ہیں جو اسے آزادی سے آگے نہ بڑھنے دیں گے۔
بہرحال وہ ساعت محمود آگئی کہ مدرسہ کا آغاز ہوا اور اس کی یہ تعمیر و دفاع کی ملی جلی تعلیم عملاً ساحت وجود پر آگئی۔ ملا محمود نے اپنے سامنے ایک شاگرد کو جس کا نام بھی محمود تھا جو بعد میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کے نام سے مشہور ہوئے بٹھا کر کسی عمارت میں نہیں جو مدرسہ کے لیے بنائی گئی ہو بلکہ چھتہ کی مسجد کے کھلے صحن میں ایک انار کے درخت کے سائے میں بیٹھ کر اس مشہور درسگاہ دارلعلوم دیوبند کا افتتاح کردیا۔ نہ کوئی مظاہرہ تھا نہ نام و نمود کی تڑپ تھی اور نہ پوسٹر و اشتہارات کی بھرمار۔ بس ایک شاگرد اور ایک استاد۔ شاگرد بھی محمود اور استاد بھی محمود۔ دو نفر سے یہ لاکھوں کے ایمانوں کی حفاظت کی اسکیم معرضِ وجود میں آگئی۔ علمی حیثیت سے یہ ولی اللہی جماعت مسلکہ اہل سنت والجماعت ہے۔ جس کی بنیاد قرآن وسنت اور اجماع وقیاس پر قائم ہے۔ اپنی جامع طریق سے دارالعلوم نے اپنی علمی خدمات سے سائبیریا سے لیکر سماترا اور جاوا تک، برما سے لیکر عرب اور افریقہ تک علومِ نبویہ کی روشنی پھیلا دی جس سے پاکیزہ اخلاق کی شاہراہیں صاف نظر آنے لگی۔ 1857 کے بعد جب مسلمانوں کی شان و شوکت ہندوستان سے پامال ہوچکی تھی اور حالات میں یکسر انقلاب اور تبدیلی آچکی تھی۔ دارالعلوم نے ان بدلتے ہوئے حالات میں جو سب سے بڑا کام کیا وہ یہ کہ مسلمانوں میں بلحاظ دین و مذہب اور بلحاظ معاشرت تبدیلی نہیں ہونے دی کہ وہ حالات کے رو میں بہہ جائے۔ پختگی اور عزیمت کے ساتھ انہیں اسلامی سادگی اور دینی ثقافت کے زاہدانہ اور متوکلانہ اخلاق پر قائم رکھا۔ اور یوں برصغیر کی اس عظیم درسگاہ نے عالم اسلام کی ایسی شخصیات پیدا کیں جنہوں نے ملی، فکری اور عملی رہنمائی کرکے مسلمانوں کی تاریخ پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کیے۔ اور یہاں سے ایسا چشمہ فیض جاری کیا جس نے برصغیر کی تاریخ کا رخ موڑ کر رکھ دیا۔ اس درسگاہ سے علم و فضل کے ایسے آفتاب و مہتاب پیدا ہوئے جنہوں نے ایک دنیا کو جگمگا کر رکھ دیا۔ ایک زمانہ ایسا تھا کہ دارالعلوم کے چپڑاسی سے لیکر صدر مدرس اور مہتمم تک ہرہر شخص صاحب نسبت ولی کامل تھا۔ دن کے وقت یہاں علوم و فنون کے چرچے ہوتے تھے اور رات کے وقت اس کا گوشہ گوشہ اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر اور تلاوت قرآن سے گونجتا تھا۔ اس دور میں جو شخصیات دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئیں انہوں نے عبادات، معاملات، اخلاق و معاشرت، سیاست اور اجتماعی امور میں ایسے تابناک کردار پیش کیے ہیں کہ آج اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ ان میں سے ہر شخص اسلام کی مجسم تبلیغ تھا وہ جہاں بیٹھتا گیا ایک جہان کو سچا مسلمان بنا کر اٹھتا۔ حجتہ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی، فقیہ الہند مولانا رشید احمد گنگوہی، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی، امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری، شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنی، امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی، مفتی اعظم ہند مولانا کفایت اللہ دہلوی اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری جیسے ہزاروں مردان خدا دارالعلوم کے تاجدار بنے۔ ان ہی بزرگان دین نے فدائیت وجانثاری کے نمونے پیش کیے۔ درس و تدریس، وعظ و نصیحت، تالیف و تصنیف الغرض دین اسلام کے دفاع اور دعوت میں جان کی بازی لگائے ہوئے جہاد وقتال فی سبیل اللہ کے عملی میدانوں میں بھی سرگرم عمل رہے تھے۔ دنیاوی جاہ ومنصب، مال و دولت، عزت و شہرت، نام و نمود ذاتی آرام وآرائش سے کنارہ کش اور اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے جذبہ میں مگن” ان صلاتی ونسکی ومحیای و مماتی للہ رب العالمین” کا پیکر تھے۔ یہ بزرگانِ دین ظاہر و باطن کے جامع، علم و عمل کے سنگھم، معقولات و منقولات کے بہ یک وقت بحر ذخار، رات کو عابد شب زندہ دار، دن کو دفاع حق میں تیغ آب دار، تدریس و علوم کے وقت ان سے” یعلمہم الکتاب و الحکمہ’ کی جلدہ ریزیاں نمایاں اور تربیت نفوس کے وقت ” یزکیہم” کی نور افزائیاں  ہویدا تھیں۔ ان میں سے ہر ایک بہ یک وقت کمالات دینی کا مجمع البحار تھا۔ اس کا اندازہ آپ دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم شیخ الہند مولانا محمود حسن کی شان سے لگائیں کہ وہ کون تھے وہ علم کے کس درجہ پر فائز تھے۔ ان کے علمی مقام کو کیسے سمجھا جائے۔

جن کے شاگرد حضرت تھانوی، حضرت مدنی اور حضرت کشمیری جیسے علم کے بحر ہوں  تو ان کے شیخ کا کیا کہنا وہ تو شیخ الہند شیخ العالم تھے وہ تو علم شریعت و طریقت کا ناپید کنار سمندر تھے۔ کبھی دیوبند میں درس حدیث دیتے تو کبھی حرمین شریفین میں۔ کبھی انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی میں مسلمانوں کے لیے کانگریس میں شرکت کا فتویٰ صادر فرماتے تھے تو کبھی ریشمی رومال کی تحریک شروع کرکے مسلمانوں میں بیداری کی نئی روح پھونک دیتے تھے۔ اور آپ کی اس قدر جدوجہد آزادی دیکھ کر دشمن کو مالٹا میں اسیر کرنا پڑا۔ لیکن آپ کی درس آزادی اس قدر شدید تھی کہ شاگردوں نے جمیعت علمائے ہند تشکیل دے کر قربانی کے نذرانے پیش کیے ۔ ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *