فلیٹ ارتھ حقیقت یا افسانہ؟۔۔محمد شاہزیب صدیقی/قسط7

فلیٹ ارتھرز کے 200 اعتراضات کے جوابات پر مبنی سیریز!

اعتراض 101: جیسے قطبِِ شمالی پہ نظر آنے والا قطبی ستارہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے بالکل ویسے ہی سائنسدان دعویٰ کرتے ہیں کہ جنوبی قطب پر Sigma Octantis واقع ہے جو حرکت نہیں کرتا ، معلوم نہیں ایسا ستارہ ہے بھی یا نہیں۔
جواب:یہ سچ ہے کہ Sigma Octantis کو عام آنکھ سے باآسانی دیکھنا ممکن نہیں ہے مگر ٹیلی سکوپ کی مدد سے دیکھا جاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ ستارہ جنوبی axis پر موجود ہے جس کے باعث یہ پورا سال اپنی جگہ تبدیل کرتا دِکھائی نہیں دیتا۔ برازیل چونکہ جنوبی hemisphere میں واقع ہے اس خاطر انہوں نے اپنے جھنڈے کے ڈیزائن میں Sigma Octantis ستارے کو شامل کیا ہے۔

اعتراض102: گول زمین کے ماننے والے عموماً یہ ثبوت دیتے ہیں کہ قطبِ شمالی پر موجود ستارہ قطبِ جنوب تک پہنچ کر نظر نہیں آتا ۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ اس متعلق بہت سی چیزیں کارفرما ہوتی ہیں جیسے آپ جیسے جیسے کسی چیز سے دُور جائیں گے وہ ویسے ویسے اُفق سے نیچے جاتی دِکھائی دے گی۔ اس کے علاوہ جگہوں کی height اور موسم بھی ان عوامل کا حصہ ہیں۔
جواب: ہمیں معلوم ہے کہ ستارے ہماری زمین سے ہزاروں لاکھوں کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر ہیں لہٰذا ان کا غائب ہونا جھکاؤ کے باعث ہی ہوسکتا ہے۔ اگر تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ قطبِ شمالی پر پولارس ستارہ عین سر کے اوپر ہوگا جیسے جیسے قطبِ شمالی سے دُورہٹتے جائیں گے تو پولارس ستارہ جھُکنا شروع ہوجائے گا اور جب Southern Hemisphere میں پہنچیں گے ستارہ نظر آنا بند ہوجائے گا۔ یہ گول زمین میں ہی ممکن ہے۔ چونکہ فلیٹ ارتھرز کے مطابق ستارے دراصل زمین سے چند سو کلومیٹر اونچائی پر ہیں اور بہت چھوٹے ہیں اسی خاطر وہ ایسا اعتراض بلند کرتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں :انفجارعظیم ،بگ بینگ یا عظیم دھماکہ۔۔۔ محمد شاہ زیب صدیقی

اعتراض103: شمال پر موجود قطبی ستارے کے نزدیک موجود ستاروں کا جھرمٹUrsa Major میں موجود کئی ستارےحقیقت میں 30 ڈگری جنوبی عرض بلد سے بھی کیسے دیکھے جاسکتے ہیں اگر زمین گول ہے؟
جواب: Ursa Major کی declinationتقریباً 55 ڈگری ہے ، اس خاطر اس کے کچھ ستارے 30 ڈگری جنوبی عرض بلد سے دیکھے جاسکتے ہیں۔

اعتراض104: ایک کہکشاں Vulpecula کو قطبِ شمالی سے لے کر 55 ڈگری جنوبی طول بلد تک دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر زمین اپنے خود ساختہ محور پر جھُکی ہوئی بھی ہو تو یہ کیسے ممکن ہے؟
جواب: یہ بالکل ممکن ہے ، مذکورہ کہکشاں 25ڈگری declination پر موجود ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ باآسانی مذکورہ بلدوں سے دیکھی جاسکتی ہے۔

اعتراض105: Aquarius اور Libra ستاروں کے جھرمٹ قطبِ جنوبی سے 65 ڈگری شمالی بلد تک دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ دیگر ستاروں کے جھرمٹ 85 ڈگری شمال سے 75 ڈگری جنوب تک دیکھے جاسکتے ہیں، یہ کیسے ممکن ہے؟
جواب: ان constellations کی declination اور زمین کے جھکاؤ کو سمجھا جائے تو سارا معاملہ سمجھ آجائے گا اور یہ گول زمین کے واضح ثبوت ہیں۔ انہیں فلیٹ ارتھرز اپنی چپٹی زمین کے ماڈل سے ثابت نہیں کرسکتے۔

اعتراض106: انٹارکٹکا میں بتایا جانے والا قطبِ جنوبی اصل میں قطبِ جنوبی نہیں ، یہ بات آپ ایک compass کے ذریعے باآسانی ثابت کرسکتے ہیں۔
جواب: یہاں فلیٹ ارتھرز زمین کےجغرافیائی شمالی اور جنوبی قُطبین کو زمین کے geomagnetic شمالی اور جنوبی poles کے ساتھ mixup کررہے ہیں۔ دراصل زمین کے گھومنے کے باعث geomagnetic poles (جن کی نشاندہی compass کرتا ہے) پورا سال change ہوتے رہتے ہیں ۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ compassکبھی بھی exact قطب شمالی یا قطب جنوبی کی جانب نشاندہی نہیں کرتا بلکہ یہ صرف زمین کے geomagnetic poles یا magnetic fields کی نشاندہی کرتا ہے۔ لیکن فلیٹ ارتھرز اس حقیقت کو نہیں مانتے اس خاطر ایسے اعتراضات اٹھاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی اور ہمارا مزاحمتی رویہ۔۔چوہدری منشا طارق

اعتراض نمبر107: اگر لاؤڈ اسپیکرز کے اندرونی حصے کو دیکھا جائے تو اس میں موجود مقناطیسی دائرے جن میں شمال مرکز میں جبکہ جنوب کناروں پر واقع ہوتا ہے چپٹی زمین کی مقنا طیسیت کی صحیح نشاندہی کرتے ہیں جبکہ سائنسدان دعویٰ کرتے ہیں کہ زمین میں موجود پگھلا ہوا مادہ زمین کے کناروں پر مقناطیسیت کی اصل وجہ ہے ، زمین کو سب سے گہرا اب تک 8 میل تک ہی کھودا گیا ہے تو سائنسدانوں کو زمین کے نیچے موجود مبینہ تہوں کے متعلق کیسے علم ہوا؟
جواب: اگر ring magnet کے ذریعے فلیٹ ارتھرز زمین کا فلیٹ ہونا ثابت کرتے ہیں تو مقناطیس کی دیگر شکلوں کی بنا پر گول زمین بھی ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مقناطیس (خواہ گول ہو یا سیدھا) اس سے نکلنے والی مقناطیسی لہریں عین وہی برتاؤ دِکھاتی ہیں جو زمین کے کناروں سے نکلنے والی مقناطیسی لہریں دِکھاتی ہیں۔ سائنسدانوں نے seismic waves کے ذریعے زمین کے نیچے موجود تہوں کے متعلق معلومات حاصل کی ہیں۔ سائنسدان زمین کی سب سے اندرونی تہہ تک drill کرنے کے حوالے سے پراجیکٹ کا اعلان کرچکے ہیں جس پر کام اسی سال شروع ہوجائے گا۔

اعتراض 108: گول زمین پرcompass کبھی بھی ٹھیک طرح پولز کی نشاندہی نہیں کرسکتا ، زمین کے جھکاؤ کی وجہ سے اگر ایک سوئی شمال کی جانب اشارہ کررہی ہے تو دوسری سوئی کو جنوب کے لئے آسمان کی جانب اشارہ کرنا چاہیے۔
جواب: یہ کہنا غلط ہے کہ compass ہمیشہ شمالی اور جنوبی قُطب کی طرف اشارہ کرتا ہے اصل میں compass ہمیشہ مقناطیسی لہروں کی نشاندہی کرتا ہے جس کے ذریعے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ شمال کونسی سمت ہے اور جنوب کونسی طرف ہے ۔ اس خاطر اس میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے فلیٹ ارتھ ثابت ہو۔

اعتراض109: شمال کے علاوہ زمین پر کوئی نقطہ جامد نہیں ، مشرق مغرب اور جنوب مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔ پولارس ستارہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شمال جامد ہے ، جو کہ فلیٹ ارتھ ماڈل کی واضح نشانی ہے۔
جواب: چونکہ فلیٹ ارتھرز کے نزدیک مشرق، مغرب اور جنوب بدلتے رہتے ہیں ، لیکن جیسے پولارس ستارہ عین شمالی قطب کے اوپر واقع ہے ویسے ہی Sigma Octantis جنوبی قطب کے اوپر واقع ہے جو کہ فلیٹ ارتھ ماڈل کے خلاف انتہائی واضح ثبوت ہے۔ بہرحال ہمیں معلوم ہے کہ زمین جھُکی ہوئی ہے جس کے باعث سورج سردیوں اور گرمیوں میں تھوڑی سی مختلف سمت سے نکلتا ہے اس سے قطعاً یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مشرق اور مغرب بدلتے رہتے ہیں جیسا فلیٹ ارتھرز کہتے ہیں۔

اعتراض 110: اکثر گول زمین کے لئے بطورِ ثبوت زمین کے گرد چکر لگانے کے واقعات کو پیش کیا جاتا ہے یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ یہ تو فلیٹ ارتھ پر بھی ثابت کیا جاسکتا ہے جیسے پُرکار کا ایک سِرا درمیان میں ہوتا ہے جبکہ دوسرا سِرا اس کے گرد گھوم رہا ہوتا ہے بالکل ایسے ہی فلیٹ ارتھ پر بھی زمین کا چکر لگا کر واپس وہی پہنچا جاسکتا ہے۔
جواب: فلیٹ ارتھرز کے بتائے ہوئے ماڈل کے مطابق چکر لگانے کے فاصلے اور حقیقت میں زمین کے گرد چکر لگانے کےفاصلے میں کافی فرق ہے، سو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فلیٹ ارتھرز کا ماڈل کسی طرح حقائق کو ثابت نہیں کرتا۔

اعتراض111: قُطبین کو چونکہ نوفلائی زون قرار دے کر جہازوں کو نہیں گزرنے دیا جاتا اسی خاطر قُطب شمالی سے قُطب جنوبی تک جہاز کے ذریعے زمین کا چکرلگانا ممکن نہیں ہے جو کہ فلیٹ ارتھ ماڈل کو ثابت کرتا ہے۔اگر زمین واقعی گول ہے تو قُطبین پر جہازوں کو جانے سے روکا کیوں جاتا ہے۔
جواب: بیجنگ، دُبئی، ابوظہبی، ہانگ کانگ، نیو بنکاگ، دہلی، ممبئی، سیئول، شنگائی، سنگاپور، تائی پائی، ٹوکیو، نیویارک، بوسٹن، شکاگو، ہوسٹن، لاس اینجلس، سان فرانسسکو، سیٹل، ٹورنٹو، واشنگٹن آنے جانے والی فلائٹس اکثر شمالی قطب سے ہوکر گزرتی ہیں، یہ جھوٹا دعویٰ ہے کہ یہ علاقے نو فلائی زون قرار دیے جاچکے ہیں۔ ہم نے پچھلی اقساط میں انتہائی تفصیل سے سمجھا ہے کہ کمرشل فلائٹس انٹارکٹکا کے اوپر سے نہیں گزرتیں کیونکہ انٹارکٹکا کسی بھی ملک کے درمیان میں بطور shortest distance نہیں پڑتا۔

اعتراض112: ہر 15 ڈگری کےبعد ایک گھنٹے کا فرق رکھا جاتا ہے جسے ہم time zone کہتے ہیں، اگر زمین واقعی سورج کےگرد گھوم رہی ہوتی تو 6 ماہ بعد جب زمین سورج کے دوسری طرف پہنچتی تو پوری دنیا کو اپنی گھڑیاں 12 گھنٹے پیچھے کرنی پڑتیں پر ایسا نہیں ہوتا دن رات کا فرق سمجھ نہ آتا ، اس سے واضح ہوتا ہے کہ سورج زمین کے گرد گھوم رہا ہے ۔
جواب: یہ سچ ہے کہ زمین اپنا چکر 23گھنٹے 56 منٹ میں مکمل کرلیتی ہے، اس کا مطلب ہے کہ ہمیں آسمان پر جو ستارہ جس پوزیشن پر آج شام 7 بجے نظر آرہا وہ ٹھیک 23 گھنٹے 56 منٹ بعد (یعنی اگلے دن 6 بج کر 56 منٹ پر) ہمیں اسی پوزیشن پر نظر آئے گا ، لیکن اب یہاں 2 باتیں سمجھنے والی ہیں پہلی یہ کہ ہماری زمین اپنے axis پر گھومنے کے ساتھ ساتھ سورج کے گرد بھی چکر لگا رہی ہے دوسری یہ کہ ہم وقت کو اپنے سورج کے مطابق set کرتے ہیں سو ہماری زمین جب 23 گھنٹے 56 منٹ بعد اپنے axis پر چکر مکمل کرلیتی ہے تو سورج کے گرد گھومنے کی وجہ سے ،زمین کو سورج کے مطابق چکر مکمل کرنے میں 4 منٹ مزید لگتے ہیں، اس کو آپ ایسے سمجھیں کہ اگر صبح 7 بجے اسلام آباد والا حصہ سورج کے سامنے آیا تو اگلے دن 6 بج کر 56 منٹ پر نہیں بلکہ عین 7 بجے ہی اسلام آباد والا حصہ سورج کے سامنے آئے گا یہ 4 منٹ کا اضافہ زمین کا سورج کے گرد چکر لگانے کی وجہ سے ہے۔ جس کی وجہ سے ہم دن کو 24 گھنٹے کا شمار کرتے ہیں۔ ہم ہر دن 4 منٹ اضافی جمع کرتے رہتے ہیں سو 6 ماہ (یعنی 182 دن) بعد یہ 728 منٹ بن جاتے ہیں جس کامطلب 12 گھنٹے ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ہمیں اپنی گھڑیاں 12 گھنٹے پیچھے نہیں کرنی پڑتیں ، لہٰذا فلیٹ ارتھرز کا یہ اعتراض بےجا ہے۔

اعتراض113: یہ ماننا عین حماقت ہے کہ زمین کے ایک طرف لوگ چل رہے ہیں ، بحری جہاز آجارہے ہیں جبکہ اس کے بالکل اُلٹ مقام پربھی ایسا ہورہا ہے کوئی بھی خلاء میں نہیں گررہا،ہر کوئی اپنے آپ کو سیدھا سمجھ رہاہے جبکہ سب ایک دوسرے کے الٹ ہیں۔ یہ بات عقل سے بالاتر ہے ۔

اعتراض114: Lancantius نے On the False Wisdom of the Philosphers میں لکھا :”یہ عجیب بات ہے کہ ایک گلوب ہے جس میں ایک طرف فصلیں الٹی ہیں بارش الٹی ہورہی ہے ،بابل کے معلق باغات جیسا عجوبہ بھی ان دعوؤں کے سامنے ہیچ ہے!”
جواب 113،114: فلیٹ ارتھرز اپنے مصنوعی دعوے کو سہارا دینے کی خاطر ہر طرح کے جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں ،چونکہ فلیٹ ارتھرز کشش ثقل پر یقین نہیں رکھتے اور زمین کا موازنہ ایک چھوٹی سی گیند سے کرتے ہیں جس کی وجہ سے ایسے مضحکہ خیز اعتراضات ہم کو پڑھنے کو ملتے ہیں۔یاد رہے Lancantius آج سے تقریباً 2 ہزار سال قبل موجود تھا تو کیا آج کی جدید ٹیکنالوجی کے مقابلے میں 2 ہزار سال پرانے فلاسفر کی باتوں کو بطور ثبوت استعمال کرنا کسی عقلمند شخص کا کام ہوسکتاہے؟

یہ بھی پڑھیں :  مینجمنٹ “سائنس”، ذہنی دباؤ اور خودکشی۔ شاداب مرتضی

اعتراض115: نیوٹن نے دعویٰ کیا کہ جو چیز جتنے زیادہ ماس کی حامل ہوگی وہ اپنے سے چھوٹی چیز کو اپنی جانب کھینچے گی۔ نیوٹن کے قوانین کا کوئی عملی ثبوت نہیں بس ویسے دعوے ہی ہیں۔
جواب: نیوٹن نے ہی سیاروں کے مدار دریافت کیے جسے آج سائنس تسلیم کرتی ہے۔ راکٹ، سیٹلائیٹ، جہازوں کو نیوٹن کے کشش ثقل کے قانون کے مطابق بنایا جاتا ہے۔تقریباً دو سو سال پہلے Cavendish experiment کے ذریعے 2 اشیاء کے درمیان کشش ثقل کو نوٹ کیا گیا ، لہٰذا فلیٹ ارتھرز کے اعتراضات صرف بغضِ سائنس پر مبنی ہیں۔

اعتراض116: پوری انسانی تاریخ میں کوئی بھی ایسا تجربہ انجام نہیں دیا جاسکا جس کے ذریعے کہا جائے کہ کم ماس والی شے بڑی ماس والی شے کے گرد گھوم رہی ہے ۔
جواب: فلیٹ ارتھرز چونکہ سیٹلائیٹ کے وجود کے بھی انکاری ہیں، اسی خاطر ان سب حقائق کا انکار کرکے پوری نسل انسانی کو مُوردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔کسی بھی اچھی دوربین سے ISS (انٹرنیشنل سپیس اسٹیشن) کا نظارہ کیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ ہمارا چاند، یا دیگر سیاروں کے چاندوں کا ٹیلی سکوپ سے مشاہدہ کیا جاسکتا ہے جو اپنے سیاروں کے گرد محو گردش ہیں۔

اعتراض117: نیوٹن نے یہ بھی تھیوریاں پیش کیں کہ سمندر میں آنے والے مدو جزر چاند کی وجہ سے ہیں، اگر بڑی چیز چھوٹی کو اپنی جانب کھینچتی ہوتی تو زمین چاند کی نسبت 87 گنا بڑی ہے تو کیسے چاند اپنی کشش ثقل کا اثر زمین کے سمندروں پر ڈال سکتا ہے؟
جواب: ہمیں بے جا اعتراضات اٹھانے سے پہلے نیوٹن کے قوانین کو سمجھنا چاہیے انہوں نے کہا تھا کہ ہر ماس رکھنے والی چیز کشش ثقل رکھتی ہے چھوٹی چیز کم کشش ثقل رکھتی ہے جبکہ بڑی چیز زیادہ کشش ثقل رکھتی ہے، اس کشش ثقل کے باعث بڑی چیز چھوٹی پر جو force ظاہر کرے گی ہم وہ معلوم کرسکتے ، زمین چونکہ چاند کو اپنے گرد گھومنے پر مجبور کررہی ہے تو اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ چاند کی کشش ثقل ختم ہوگئی ہے ۔ چاند کی اپنی کشش ثقل موجود ہے اور وہ زمین پر موجود اشیاء کے اوپر اس کا اظہار ہلکا سا کرسکتا ہے، لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ چانداپنی کشش ثقل کے باعث زمین کو مدار سے ہٹا دے۔

اعتراض118: چاند کی رفتار اور ولاسٹی ایک جیسی رہتی ہے تو پھر چاند کو ہر وقت ایک ہی جیسا اثر رکھنا چاہیے مگر ایسا نہیں ہوتا، نیز چاند کی جادوئی کشش ثقل کا اثر صرف سمندر پر ہی کیوں ہوتا ہے زمین کے بقیہ پانی کے ذخائر پر کیوں نہیں ہوتا؟
جواب: مد و جزر عموماً اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب سورج اور چاند زمین کے ایک ہی جانب ہو یا ایک دوسرے کے مخالف، اس دوران سمندر کے پانی کو سورج اور چاند دونوں کھینچتے ہیں جس کے باعث مدو جزر بنتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ اس کا اثر بڑی جھیلوں پر ہوتا ہے ،چھوٹے تالاب اور جھیل کو تو چھوڑیں زیرِ زمین موجود تجربہ گاہ Large Hadron Collider پر بھی اس کا دورانِ تجربات اثر دیکھا گیا ہے۔

اعتراض119: عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ چونکہ بقیہ سیارے ،ستارے گول ہیں اسی خاطر زمین بھی گول ہے، زمین کو سیارہ کہنا غلط ہے ، زمین پھیلا ہوا ایک میدان ہے، آسمان پر نظر آنے والے ستاروں سیاروں کی ناسا نے جعلی ویڈیوز بنا کر ہمیں گول دکھائی ہیں اصل میں سب ڈسک کی طرح کے نظر آتے ہیں۔
جواب: اس اعتراض میں فلیٹ ارتھرز اپنے نظریات کا پرچار کرنے میں مصروف ہیں، کسی بھی اچھی ٹیلی سکوپ کے ذریعے ہم بقیہ سیاروں، ستاروں کا معائنہ اور ان کی گردش سمجھ کر جواب حاصل کرسکتے ہیں کہ یہ گول ہیں یا چپٹے ہیں۔

اعتراض120: لفظ سیارہ “Planet” دراصل لاطینی لفظ Planum یعنی سیدھا سے لیا گیا ہے ۔ اور زمین کو Earth Plane سے Earth Planet بنا کر پیش کر دیا گیا ہے۔
جواب: ہمیں حقائق پر بات کرتے ہوئے اس سےمنسلک ثبوتوں کو مدِنظر رکھنا چاہیے ۔ اشیاء کے ناموں میں تو وقت کے ساتھ رد و بدل ہوتا رہتا ہے۔اگر اسی بحث میں پڑ جائیں گے تو ایسے بہت سی اشیاء ہیں جن کے نام دیگر اشیاء سے اخذ کیے گئے ہیں ۔ یہ ایک انتہائی غیر سائنسی اعتراض ہے ۔
جاری ہے!

قسط نمبر 6 میں موجود اعتراضات کے جوابات پڑھنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجئے
https://www.mukaalma.com/22006

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”فلیٹ ارتھ حقیقت یا افسانہ؟۔۔محمد شاہزیب صدیقی/قسط7

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *