• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ڈاکٹر حسن منظر کے افسانوں کا نوآبادیاتی تجزیہ۔۔۔غلام قادر چوہدری

ڈاکٹر حسن منظر کے افسانوں کا نوآبادیاتی تجزیہ۔۔۔غلام قادر چوہدری

دوسری جنگ عظیم کے بعد نو آبادیات کے نام سے ایک نئی سامراجی اصطلاح وجود میں آئی۔  نو آبادیات ایک ایسا سفاک اور استبدادی رویہ ہوتا ہے جس کے تحت طاقتور ملک چھوٹے اور کمزور علاقوں کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیتے ہیں۔ ان کا سیاسی، معاشی، ثقافتی ہر طرح سے استحصال کیا جاتا ہے۔ نوآبادیاتی تنقید اور فکر کو عام انسان تک پہنچانے میں مورخین اور خاص طور پر ادیبوں کا بہت بڑا اور اہم کردار ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔  انہی کی وجہ سے نوآبادیاتی نظریات، ان کی باقیات اور ان کے ثقافتی اور سازشی ہتھکنڈوں سے عام قاری کو شناسائی ہوئی۔

نو آبادیاتی قوتوں اور مقامی لوگوں کے تصادم سے جو نظریہ پیدا ہوا اسے آئیڈیالوجی کا نام دیا گیا۔ اور اسی تصادم کے نتیجے میں تقریباً 50 کی دہائی میں “تیسری دنیا” کی ایک نئی اصطلاح وجود میں آئی۔

نو آبادیات اور استعماریت لازم و ملزوم ہیں، کیونکہ استعماریت وہ تصور ہے جسے نوآبادیاتی نظام کے ذریعے روبہ عمل لایا جاتا ہے۔

نوآبادیاتی نظام کی ابتدا مصر اور یونان سے ہوئی۔ پھر ایک وقت میں روس، برطانیہ، فرانس اور ڈچ نوآبادیاتی قوتیں تھیں۔

ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی آڑ میں انگریزوں نے اس کا آغاز کیا۔

جب انگریز اس خطے میں آئے تو اپنے مفادات کے لئے انہوں نے تین چیزوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا، روپیہ، مذہب اور جنس۔

تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمان نے جب بھی مار کھائی ہے ان تینوں کی وجہ سے کھائی ہے۔ یہ سوچ نسل در نسل سفر کرتی رہی۔ تقسیم کے بعد ایک نوزائیدہ ملک جو، وجود میں ہی مذہب کی بنیاد پر آیا تھا۔ یہ سوچ ختم ہو جانی چاہیے تھی، لیکن بالادست طبقے میں یہ ختم نہیں ہوئی۔ ہم اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ ہم آزاد ہو گئے ہیں لیکن انگریز یا نوآبادیاتی قوتیں یہاں سے بظاہر جانے کے باوجود یہیں موجود اور ہم پر قابض ہیں۔ یہ چیز ڈاکٹر حسن منظر کے افسانوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

ڈاکٹر حسن منظر ، جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں، برصغیر کی تقسیم کے واقعات کے عینی شاہد ہیں۔ انہوں نے اس پُرآشوب دور میں انسان سے روا رکھی جانے والی ناانصافی اور اسی کی مجبوری کا بہت گہری نظر سے مشاہدہ کیا ہے۔

ڈاکٹر  صاحب کے اپنے الفاظ ہیں۔

“کسی بھی رست خیز کے کریہہ مناظر  اور تلخ سوانح کو فنی تشکیل دے کر ہر تخلیقی صلاحیت رکھنے والا باشعور ادیب اپنے احتجاج کا مظاہرہ کرتا ہے۔ کم تر درجے کے ادیب کے حصے میں ان واقعات میں صرف لذت، دہشت سے الفت اور نفرت کے الاؤ کو بھڑکانے والا ایندھن آتا ہے۔ ویت نام کی لامتناہی جنگ عظیم سے جو امریکی فکشن رائٹرز اور فلم سازوں کو یافت ہوئی وہ مواخر الذکر صنف میں آتی ہے۔”

اب اگر اسی کو کسوٹی جان کر تجزیہ کیا جائے تو ڈاکٹر صاحب اپنے کردار اور شعور کی بلندیوں پر اس نو آبادیاتی نظام کے آکٹوپس کی طرح پھیلے ہوئے منحوس پنجوں کے خلاف احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں بالادست طبقے کے خلاف ایک مزاحمت کی لہر  موجود ہے لیکن زیر دست طبقہ کی سکت بھی ان سے ڈھکی چھپی نہیں۔ لہذا ناانصافی اور جبر کے خلاف مزاحمت کے باوجود ان کے کردار اس جبر کا خاتمہ نہیں کر سکتے، بلکہ اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔

“زیادہ دن نہیں ہوئے” ، “چھٹکارا” اور “ناشکرے” اس کی بہترین مثالیں ہیں۔

ان کا افسانہ “زیادہ دن نہیں ہوئے”  ایک ایسی کہانی ہے جو جنسی وحشت کے گرد گھومتی ہے۔ ایک ایسا پولیس افسر، جس کے لئے یہ بہیمیت ایک معمول کی بات تھی۔ جو ان وارداتوں کو متاثرہ فریق کی عزت کے نام پر، ہمدردی کی آڑ میں دبا دینے کا عادی تھا اور شرافت کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھا۔

برائی کی سرپرستی کرنے والا بھی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ انسان اپنی پستی میں اس حد تک گر سکتا ہے۔

اس کے اعصاب چٹخنے لگتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب اس میں ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ صدیوں سے اس خطے میں نسل در نسل استعماریت کے باوجود کوئی ایک لمحہ ایسا بھی آسکتا ہے جب مضبوط سے مضبوط شخص بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور وہیں سے محکوم طبقے کی بحالی شروع ہو سکتی ہے۔

نوآبادیاتی پسے ہوؤں کو اٹھایا جا سکتا ہے، اگر کوئی اٹھانے والا ہو۔

“چھٹکارا” ایک شاہکار افسانہ ہے ڈاکٹر صاحب کا۔ “یاسو” کے مالکان استبدادی اور نوآبادیاتی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو محکوموں کو کسی بھی قسم کی رعایت دینے کے قائل نہیں۔ دوسری طرف”یاسو” کا کردار انسانیت کی بلندی کا مظہر ہے۔ اور جب وہ مالکان کے کھانے کا سامان لانے کی بجائے ایک پلے کی جان بچانے کے لئے اسے اٹھا لاتا ہے، تو اسے بہت مار پڑتی ہے۔

اور نوآبادیاتی نظام میں ہرممکن کوشش یہی ہوتی ہے بقول فیض

“چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے”

لیکن اپنی تکلیف سے زیادہ اسے اس بات کی فکر ہے کہ وہ ننھا سا پلا کیا کھائے گا اور رات کہاں گزارے گا کیونکہ اسے گھر کے اندر آنے کی اجازت نہیں ملی۔

ڈاکٹر صاحب کے فن کی معراج یہ ہے کہ جیسے محکوم قوموں کے حاکم بدلتے رہتے ہیں اسی طرح”یاسو” کے سابقہ مالکان بھی کئی تھے جن میں صرف ایک قدر مشترک تھی کہ وہ حاکم تھے اور “یاسو” کو ان کے مفادات کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑا تھا حتی کہ اب وہ اپنا آپ بھی بھول جانے کو تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب نوآبادیاتی قوتوں کے زیر اثر کوئی قوم اپنے آپ کو بھول جانے پر مجبور کر دی جائے تو اس وقت اس میں بیداری کی لہر پیدا ہونے کے واضح امکانات ہوتے ہیں۔ کوئی ایک واقعہ بھی صورتحال کو طرفین میں سے کسی کے بھی حق میں پلٹ سکتا ہے۔

نوآبادیاتی حکومت اور زیر استحصال طبقے کی طرح “یاسو” اور اسکے مالکان کے درمیان کھنچاؤ نے نفرت کو جنم دے دیا تھا۔ یہ نفرت اس حد تک بڑھ جاتی ہے جب انسان نتائج سے بے پرواہ ہو جاتا ہے۔ اور ایک دن “یاسو” مالک کے لڑکے کی طرف سے دی جانے والی گالی برداشت نہیں کر سکتا اور جوابی گالی دے کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ اس کا کندھا لگائی جانے والی ضربوں سے دکھ رہا ہوتا ہے۔

اب یہاں پر اصولاً اس کے مصائب ختم ہو جانے چاہئیں اور اسے آزاد ہو جانا چاہیے۔ لیکن جب نوآبادیاتی دور نے آپ کی منزل کو دھندلا دیا ہو تو آپ کا ہر قدم آپ کو منزل کے قریب کرنے کی بجائے دور بھی کر سکتا ہے۔

اور یہی “یاسو” کے ساتھ بھی ہوا۔ اسے اپنی منزل یعنی نانی کے گھر کا پتہ نہیں تھا کہ مالکان نے سوچی سمجھی سکیم کے تحت اسے اس قابل ہی نہیں رہنے دیا تھا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اور اس کا غمگسار کتے کا پلا دونوں بھوکے پیاسے دریا کے کنارے زندگی سے چھٹکارا حاصل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کی ایک کامیابی نو آبادیاتی نظام کے خلاف نوجوان نسل میں ایک سوچ پروان چڑھانا ہے۔ گو انفرادی طور پر ہم اس نظام کے خلاف کچھ کر سکنے کی بجائے اس کا ایک حصہ بنے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود کچھ ذہن اس پر سوال اٹھاتے ہیں اور اگر ان کو پراپر گائیڈنس مل جائے تو کچھ بعید نہیں کہ معاشرہ میں سدھار کے آثار نظر آنے لگیں۔ لیکن بات وہی ہے کہ یہ انفرادیت نہیں بلکہ اجتماعیت کا تقاضا کرتا ہے۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو سکے تو وہی جاگتا ذہن خلجان میں مبتلا ہو کر غلط راہ پر بھی جا سکتا ہے۔ “یاں تو کوئی فریاد نہیں سنتا کسو کی” کا افتخار اسی چیز کا شکار ہے۔

اور جب کسی جبر کو مسلسل سہتے سہتے ذہن میں اس کے خلاف مزاحمت پیدا ہونے لگے لیکن اپنی بے بسی کا احساس اس سے شدید تر ہو جائے تو ڈاکٹر صاحب کے الفاظ میں معاشرے ٹوٹنے لگتے ہیں، ریزہ ریزہ ہونے لگتے ہیں۔

ڈاکٹر حسن منظر کے افسانے ان کی حساسیت اور اخلاقی اقدار سے محبت   کو واضح کرتے ہیں  کہ وہ ہمارے گردو پیش رونما ہونے والے واقعات کو کس گہرائی میں جا کر دیکھتے ہیں اور کہیں بھی ہونے والی زیادتی کا ازالہ چاہتے ہیں۔ بنیادی طور پر وہ انسانیت کی سربلندی کے قائل ہیں اور اس کی راہ میں پیدا ہونے والی ہر رکاوٹ کے خلاف لکھنا، بولنا ان کا نصب العین نظر آتا ہے۔

Ghulam Qadir Choudhry
Ghulam Qadir Choudhry
​غلام قادر سیالکوٹ میں مقیم ایک نوجوان جو اپنے آپ کو لکھاری سے زیادہ ادب کے طالب علم کہتے ہیں۔ واجبی سی تعلیم، ایک چھوٹا سا کاروبار اور ادب سے ڈھیر دلچسپی۔ کالج میگزین میں بھی لکھتے رہے۔ سیالکوٹ کے مقامی جریدے میں بھی ان کے کچھ مضامین چھپ چکے ہیں۔ مثبت تنقید اور اختلاف رائے کو فریق مخالف کا حق سمجھتے ہیں۔​

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *