مذہبی قائدین کی تربیتی ورکشاپس ۔۔۔۔ محمد حسین

ادارہ امن و تعلیم، اسلام آباد کے زیر اہتمام مذہبی قائدین کے لیے منعقدہ تین روز پر مبنی ایڈوانس ورکشاپس کا حالیہ سلسلہ اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ ان ورکشاپس میں مظفرگڑھ، ملتان اور بہاولپور کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے 50 ایسے قائدین نے شرکت کی جو اس سے پہلے ادارہ امن و تعلیم کی بنیادی تربیتی ورکشاپ برائے آئمہ و خطباء اور بین المذاہب قائدین میں شرکت کر چکے تھے۔

ان تربیتی ورکشاپس میں شرکاء کو سمعی بصری اور عملی سرگرمیوں اور تجربات و خیالات کے باہمی تبادلے کے ذریعے تربیت دی گئی ۔ ہر ورکشاپ شرکاء کے باہمی تعارف اور اعتماد سازی کی سرگرمیوں سے شروع ہو کر سماجی تعمیر و ترقی کے لیے لائحہ عمل پر اختتام پذیر ہوئی۔ شرکاء میں سے ہر ایک نے اپنی انفرادی ذمہ داری اور ٹیم ورک کے تحت پروگرام مرتب کیے ہیں اور مجموعی طور پر وہ آئندہ دو مہینے میں مذکورہ تینوں اضلاع میں کم و بیش ۵۰ پروگرام منعقد کریں گے۔

ان ورکشاپس کا بنیادی مقصد علاقائی اور ضلعی سطح کے قائدین کے لیے امن و ہم آہنگی کے پروگرام کے انعقاد اور تربیتی امور میں بطور ٹرینر استعداد کارمیں اضافہ کرنا ہے۔ ان ورکشاپس میں ضلعی و علاقائی سطح پر ایسی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے مطلوبہ مہارتوں پر ان کی تربیت اور مشق کرنے کی کوشش کی گئی۔ چنانچہ قائدین کے لیے منعقدہ ان ایڈوانس ورکشاپس میں متنوع اور متعدد موضوعات شامل کیے گئے جن میں سابقہ ورکشاپ سے سیکھی گئی مہارتوں اور تجربات اور انفرادی و معاشرتی سطح پر ان کی اطلاق کے حوالے سے انعکاسی تاثرات، ٹیم بلڈنگ، سماجی تعمیر و ترقی کے لیے منصوبہ بندی، بطور ٹرینر سیشن پیش کرنے کی عملی مشق، سماجی سرگرمیوں کے انعقاد کے عملی مراحل اور انتظامی ضروریات کا جائزہ، سماجی سرگرمیوں کے انعقاد کے اثرات اور خدشات کا جائزہ جیسے موضوعات شامل تھے۔

مذکورہ موضوعات پر سمعی بصری، عملی و گروہی سرگرمیوں پر مشتمل ان ورکشاپس کو شرکاء نے مفید اور وقت کی اہم ضرورت قرا ردیا۔ انہوں نے پاکستان میں مذہبی و سماجی ہم آہنگی اور مکالمے کے فروغ کے لیے ادارہ امن و تعلیم کی کوششوں کو بہت سراہا اور اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ادارے کی ان کوششوں کو ضلعی اور تحصیل کی سطح پر مزید آگے بڑھائیں گے۔ چنانچہ انہوں ورکشاپ کے اختتام تک ۵۰ ایسی سرگرمیوں کے انعقاد کا مکمل شیڈول مرتب کر کے پیش کیا، شرکاء نے اس مشترکہ عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ تعمیری کوششوں اور خطبات کے ذریعے اپنی اپنی عبادت گاہوں کو امن و آشتی اور محبت و احترام کے فروغ کے مراکز بنائیں گے۔ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی بلا تفریق مسلک و مذہب مدد کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں گی ۔ نیز وہ باہم مل کر مذہبی تہواروں کو مشترکہ طور پر منانے، باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے اور سماجی و مذہبی تنازعات کو حل کرنے میں اپنا قائدانہ کردار ادا کریں گے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *