مسلمان۔سانول عباسی

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں ہم جو دعویدار ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، کبھی سوچا ہے مسلمان ہونا کسے کہتے ہیں، مسلمانیت کن خصوصیات کی متقاضی ہے، مسلمان ہونے کے لیے کون کون سے اوصاف کا اہتمام کرنا انتہائی ضروری ہے۔ مومن تو خیر بہت دور کی بات ہے اس کا تو ہمیں مفہوم ہی نہیں معلوم کہ مومن کی شان کیا ہے، ہم تو مسلمانیت سے بھی لگتا ہے ابھی کوسوں دور ہیں۔

آج کل کے مسلمانوں کی اکثریت بت پرست ہے اور اگر دیکھا جائے تو اس دنیا میں سب سے بڑا مشرک گر کوئی ہے، تو وہ مسلمان ہے۔ ہم نے طرح طرح کے بت تراشے ہوئے ہیں اور تمام عمر ایک انتہائی زیرک پجاری کی طرح انہیں پوجتے رہتے ہیں اور نسل در نسل ان بتوں کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔ ماضی بعید کے بت پرست تو یہ کہتے تھے کہ ہم جانتے ہیں، یہ کچھ نہیں کر سکتے ہمیں کسی قسم کا کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتے، صرف خدائے بزرگ و برتر کے سامنے یہ ہمارے سفارشی ہوں گے۔ مگر مسلمانوں کے تراشیدہ بت نہ صرف خدائی میں شریک ہیں بلکہ خدانخواستہ خدا مجبور ہے، ان بتوں کی خواہشات کا کہ وہ ہمارے تراشیدہ بتوں کی مرضی کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتا، کس کو بخش دینا ہے اور کس کو دوزخ کے گھڑھوں میں ڈالنا ہے خدا منتظر رہتا ہے، ہمارے بتوں کے اشاروں کا، تو اسی لیے ہماری قوم خدا سے زیادہ بتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے چکر میں رہتی ہے۔

کتنے مزے کی بات ہے کہ ہم ایسی قوم ہیں جنہیں صرف اور صرف جہد مسلسل اور فقط عمل کی تلقین کی گئی ہے۔ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم جن کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے ان کی زندگی پہ نظر دوڑائیں تو تمام زندگی انتہائی قسم کی مسلسل جدوجہد میں مصروف نظر آتی ہے، انہوں نے اپنی تمام عمر دن رات کی انتھک محنت و کوشش سے اللہ کی وحدانیت کی پہچان کرانے میں صرف کر دی ہر روز ایک نئے چیلنج اور نئی مخالفت کا سامنا رہا، کرب کی انتہائی کیفیتوں سے گزر کر انہوں نے انسانیت کی فلاح و بہبود سے متعلق اللہ کا ایسا نظام حیات متعارف کروایا، جس میں کوئی انسان مفلوج و غلام نہیں، تمام انسانوں کو پھلنے پھولنے و نشونما کے یکساں مواقع میسر ہوں، انسان جو فطرت کی ہر چیز کے آگے سجدہ ریز تھے، انسان کے دگرگوں حالات سے انسانیت بھی شرمندہ تھی، اسے اٹھا کے کائنات کی اعلی بلندیوں پہ براجمان کر دیا، انسان جو کائنات میں خود کو سب سے کمتر سمجھتا تھا، کائنات میں سب سے افضل ہو گیا، کائنات جو کبھی انسان کے لیے خدا کا درجہ رکھتی تھی، اسے مسخر کرنا شروع کر دیا اور مظاہر قدرت کو اپنے قابو میں کرنے لگ گیا۔

ہم کیا ہیں جس کو بھی ماضی و حال میں کچھ بہتر دیکھتے ہیں، اس کا بت بنا کے اسے پوجنا شروع کر دیتے ہیں اور ہاتھ پہ ہاتھ دھرے معجزات کے منتظر رہتے ہیں؟ جن کو قیامت تک کے لیے وحدانیت کی پہچان کرانے کا کام سونپا گیا وہی شریک بناتے پھرتے ہیں۔ ہر کسی نے اپنا اپنا بت تراشا ہوا ہے صبح سے شام اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں، اور باقیوں کے تراشیدہ بتوں کی ہجو کرتے رہتے ہیں، اور یہی تفرقہ بازی کی بنیاد ہے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جنہیں وحدانیت کی پہچان کرائی گئی، جنہیں کھول کھول کر حقیقتِ وحدانیت کے متعلق بتایا گیا، قیامت تک کے لیے ان کی رہنمائی کے لیے ایک پیغام دیا گیا جس کی روشنی میں یہ اپنا راستہ دیکھ سکتے تھے،کہیں بھٹک نہیں سکتے تھے۔ مگر اس بت پرستی کی روش نے اس کلام سے بہت دور کر دیا ہے ہر کسی نے اپنے اپنے بتوں کو آگے کیا ہوا ہے اور اپنی خواہشات نفس کو ان سے منسوب کر کے انسانیت کی تکذیب کرتے رہتے ہیں۔ضروری ہے کہ اب اس روش کو تبدیل کیا جائے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھاما جائے۔

سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *