گریبان میں جھانکیں برائے مہربانی۔۔۔۔عارف خٹک

آج میں نے ایک مضمون لکھا۔جس میں، میں نے پی ٹی ایم میں موجود شرپسندوں کی طرف اِشارہ کیا۔ مگر پی ٹی ایم کے مجاہدین نے جس طریقے سے میری ماں اور خاندان کو ٹارگٹ کیا۔ اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ ان مجاہدین سے فقط یہ پوچھ لیں کہ پشتون قوم کی موجودہ اہم حقوق اور ضروریات کیا ہیں۔ تو آگے سے چرس کا کش لگا کر ایک نعرہ مستانہ بلند کریں گے “آزادی”۔ اس کے بعد ان کا علم کہیں گھاس چرنے چلا جاتا ہے۔ لہذا ایسوں سے گلہ کرنے کا تُک بھی نہیں بنتا۔

میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں،کہ منظور پشتین ایک امن پسند اور محّبِ قوم و وطن انسان ہے۔ میری خواہش تھی،ہے اور رہے گی کہ تحریک کی باگ ڈور منظور سنبھالے۔ یہ میرے لئے بھی قابلِ قبول ہے اور دوسرے امن پسند لوگوں کی بھی یہی ترجیح ہے۔ آج کے کمنٹ باکس دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ کم عقل دوست سے عقل مند دشمن ہزار درجے بہتر ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسے سطحی پیروکاروں کی موجودگی میں تحریک تو دور کی بات،بندہ آرام سے خودکشی بھی نہیں کرسکتا۔
فوج یا ریاست کو گالی دینے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور جھانکیے،کہ آپ خود کتنے پانی میں ہیں۔
جذباتی باتوں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ لہٰذا اپنی گالیاں سنبھال کر رکھیےگا۔ ان کی ضرورت آپ کو آگے پڑے گی۔
آپ کا دوسرا الزام کہ میں فوج کو کچھ نہیں کہتا۔تو جناب فوج کو میرے کہنے یا نہ کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مشرف نے ہزاروں پاکستانیوں کا قتل عام کرکے پرائی جنگ میرے ملک کے اندر لڑی۔ میں تو ایک عام اور بے بس سا بندہ ہوں۔ آپ کے سیاسی مبارزین نواز شریف، عمران خان، مولانا فضل الرحمن، زرادری، اسفندیار اور اچکزئی نے اس کا کیا اُکھاڑ لیا؟۔ سب اس کی کاسہ لیسی کرتے رہے ہیں۔جب کہ میرے اور آپ جیسے بے بس اور کمزور ان کو بددعائیں دے دے کر نہیں تھکتے۔

وجہ بتادوں؟

ان کے سپورٹرز میرے اور آپ جیسے بے شعور اور جذباتی لوگ ہیں۔ ہم نے ہمیشہ شخصیات کی پُوجا کی ہے۔ ہم وہ ڈگری ہولڈر جاہل ہیں۔ جنہوں نے کتاب کو رٹا مار کر ازبر کیا ہے۔ آپ میں سے کتنے لوگ ہیں جنھوں نے آئین کو پڑھا اور سمجھا ہے؟یقیناً ایک فی صد سے بھی کم ہوں گے۔

مُجھ پر ایجنٹ یا دلال کا الزام لگا کر آپ بری الذّمہ نہیں ہوسکتے۔ آپ کو بھی اپنا احتساب کرنا ہوگا۔ اور اس بات کا عہد کرنا ہوگا،کہ آئندہ اپنی نسلوں کو تعلیم سے بہرہ مند کرائیں گے۔ ان کے لئے یونیورسٹیاں بنوائیں۔ منظور کی طرح گراؤنڈ سے لیڈرشپ پیدا کریں۔ بُردبار،متین اور باشعور نوجوانوں کو آگے آنے کا موقع دیں۔
فوج کا کیا ہے؟
پی ٹی ایم کی ابتدا میں امریکہ کی بجائے چین کی خارجہ پالیسی چل رہی تھی۔تو ڈیوہ اور مشعال ریڈیو آپ کی آواز بن کر دنیا کے سامنے آپ سے زیادہ رو رہا تھا۔ اب خارجہ پالیسی میں واپس امریکہ آگیا۔سو آپ کے سویلینز کی گرفتاری پر مشعال اور ڈیوہ کی زبانوں کو تالے لگ گئے ہیں۔
یہاں مظلوم سے زیادہ ضروری اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ لہٰذا مُنہ کھولنے سے پہلے یہ ضرور سوچیے گا،کہ کہیں آپ کی ایک جذباتی گالی اور ہتک آمیز بات پانچ کروڑ پشتونوں کے مستقبل کو داؤ پر تو نہیں لگا رہی۔

فرنود عالم کی طرح بات کا اختتام کروں گا کہ دلیل اور مکالمہ جہاں ختم ہوجاتے ہیں۔تو وہاں ماحول کو خراب کرنے سے بہتر ہے،کہ زوردار قہقہہ لگا کر  اپنا ہاتھ سامنے والے کی طرف بڑھا دیں،کہ دے تالی۔۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *