زمین سو سال پہلے تک خوفناک سیارہ تھی۔۔۔ضیغم قدیر

وہ سیارہ جہاں صرف ہیضے کی وجہ سے سو سال میں چار کروڑ سے زائد لوگ مرے،جہاں صرف بیسویں صدی میں چیچک کی وجہ سے تین سو ملین جی ہاں تیس کروڑ لوگ مرے۔
وہ سیارہ جہاں مردہ خوری کی وجہ سے ایک انجان بیماری پھیل چکی تھی جسے اس سیارے کے لوگوں نے جادو کا نام دے رکھا تھا۔ اور پھر ان لوگوں کو مار دیا جاتا تھا۔
یہاں اگر ایک شخص آٹھ بچے پیدا کرتا تھا تو اس میں سے بمشکل دو یا تین شادی کی عمر تک پہنچتے تھے۔ یہاں ابھی بھی ملیریا ہر منٹ میں دو بچے مار رہا ہے۔اور سالانہ شرح اموات دس لاکھ ہے، مطلب آج سے سو سال پہلے صورتحال اس سے بھی بھیانک تھی۔انیس سو باون میں فقط امریکہ میں پولیو کی وجہ سے تین ہزار اموات ہوئیں۔
مگر پھر ایڈورڈ جینر آیا اس نے دنیا کی سب سے پہلی ویکسین بنائی اور وہ چیچک جس نے بیسویں صدی میں تین سو ملین لوگ مارے تھے اسکا خاتمہ انیس سو اسی تک پوری دنیا سے ہوچکا تھا۔ اب ہیضہ بھی بہت کم جگہوں پہ ہوتا ہے کیونکہ ہمارے پاس اس کے خلاف بھی ویکسین ہے۔ ہمارے جینے کے بہتر انداز کی وجہ سے اب ہماری عمریں جو پہلے سنتالیس سال تک جا پاتی تھیں اب ستر سال تک پہنچ چکی ہیں۔ ہماری دنیا میں اس وقت پولیو کے کیس ختم ہوچکے ہیں۔ پچھلے سال پولیو کے صرف تینتیس کیس آئے جبکہ وہیں انیس سو اٹھاسی میں سالانہ چار لاکھ کیس سامنے آئے تھے۔
یہ ایک خوفناک سیارہ تھا۔ یہاں بھوک کا خوف تھا تو وہیں بیماری کا ڈر مگر پھر ہم نے علم میں انویسٹ کرنا شروع کردیا اور نتائج سب کے سامنے ہیں۔ گو مسائل اور بیماریاں اب بھی ہیں لیکن ان کی شدت پہلے والی نہیں ہے ۔ آج دنیا کی اسی فیصد سے زائد آبادی بھوکی نہیں سوتی بلکہ کھانا کھا کر سوتی ہے۔ ہمیں معاش، گھر بار کاا تنا ڈر نہیں جتنا ہمارے بڑوں کو تھا۔ ہم اپنے پہلوں سے اچھی زندگی جی رہے ہیں۔ ہمارے آباء کے لئے ٹھنڈی ہوا بہشت تھی اور آج چوبیس گھنٹے ہمارے گھر میں پنکھے چل رہے ہوتے ہیں۔ پہلے سفر کرنا کوفت سمجھا جاتا تھا، آج ہم شوق سے سفر پر نکِلتے ہیں۔ پہلے علم نہیں تھا آج علم ہے۔ آج ہماری گلیاں پکی اور صفائی اپنے اجداد سے بہتر ہے ہم صاف پانی پیتے ہیں۔ ہمیں شکر ادا کرنا چاہیئے کہ ہمارا سیارہ پہلے کی طرح بھیانک نہیں ہے۔ گو خامیاں ابھی بھی لاکھوں ہیں لیکن ہم پھر بھی ایک بہتر انداز میں زندگی جی رہے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *