• صفحہ اول
  • /
  • فیچرڈ
  • /
  • مکالمہ خصوصی: جسٹس فائز عیسٰی کا دوسرا خط ۔ مکمل اردو متن

مکالمہ خصوصی: جسٹس فائز عیسٰی کا دوسرا خط ۔ مکمل اردو متن

جناب صدر صاحب،

مورخہ ۲۸ مئی ۲۰۱۹ کو میں نے آپ کو (ایک خط) لکھا جس میں اپنے خلاف کسی ریفرینس کی بابت استفسار کیا گیا اور (درخواست کی گئی کہ) اگر ایسا ہے تو براہ مہربانی مجھے اس کی ایک نقل فراہم کی جائے۔ (تاہم) نہ آپ نے اور نہ ہی محترم وزیراعظم نے جنہیں اس خط کی نقل فراہم کی گئی تھی مجھے جواب دینے کی مہربانی (زحمت پڑھیے)کی، نہ ہی مجھے اس خط کی نقل مہیا کی گئی۔

صدارتی ریفرینس

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ ۲۰۹ (۵) کے تحت اگر صدر یہ رائے رکھتے ہیں کہ عدالت عظمی کا کوئی جج، ا۔ کسی جسمانی یا ذہنی معذوری کے باعث اپنی خدمات سرانجام دینے سے قاصر ہو، یا، ب۔ کسی نامناسب رویے کا مرتکب پایا جائے، تو وہ (صدر) سپریم جوڈیشل کونسل سے رابطہ کر سکتا ہے تاکہ (کونسل) معاملے کی تحقیقات کرے اور اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد صدر کو اپنی رپورٹ پیش کرے (آئین کی دفعہ ۲۰۹ شق ۶)۔ چونکہ میں کسی جسمانی یا ذہنی معذوری سے دوچار نہیں لہذا میرا گمان ہے کہ (مجھ پر) آئین کی دفعہ ۲۰۹ شق ۵-ب کا اطلاق کیا گیا ہے۔

جناب صدر، آئین کی دفعہ ۲۰۹ شق ۵ کا مذکورہ خلاصہ اس بات پر واضح اصرار کرتا ہے کہ تمام متعلقہ حقائق (سب سے) پہلے آپ کی خدمت میں پیش کیے جائیں تاکہ آپ کے پاس دلائل پر مبنی رائے استوار ہو سکے کہ میں مبینہ طور پر نامناسب رویے کا مرتکب پایا گیا۔ میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر یہ تمام شرائط پوری ہوچکی ہیں تو میں آپ کی جانب سے ریفرینس دائر کیے جانے کے حق پر ہرگز سوال نہیں اٹھاتا۔ (تاہم) جو سوال میں اٹھا رہا ہوں، جناب صدر، وہ یہ ہے کہ آیا آپ کو وہ تمام متعلقہ حقائق مہیا کیے گئے ہیں جن کی بنیاد پر آپ نامناسب رویے کے الزام کی بابت راسخ رائے قائم کرنے کے قابل ہو سکیں؟

معزز حکومتی اراکین کی جانب سے ایک جج نشانے پر

جناب صدر، (جوڈیشل) کونسل کی جانب سے نوٹس بھیجے جانے سے پہلے، یہاں تک کہ میرا جواب داخل ہونے سے پہلے ہی میرے خلاف ایک کیمپین کا آغاز کیا جا چکا ہے جس کا مقصد کونسل کی رائے کو تبدیل کرتے ہوئے غیر متعلقہ (تبدیل) کرنا تھا۔ شروعات میں اندرونی طور پر ریفرینس لیک کیا گیا تاہم جب یہ (کوششیں) مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکیں تو معزز حکومتی اراکین نے اپنے فرائض کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے ریفرینس کے ساتھ  منسلک دستاویزات ظاہر کرنی شروع کر دیں، وہ دستاویزات جو کونسل کی خصوصی تحویل میں ہونے چاہیے تھیں۔ جناب صدر، کیا یہ حقائق ایک واضح مقصد کی نشاندہی نہیں کرتے؟

جناب صدر، معزز وزیر قانون، وزارت اطلاعات کے سینیر ترین معزز ممبران، اور دیگر محترم حکومتی اراکین نے طے شدہ ریفرینس کے مخصوص حصے اور دستاویزات بانٹے اور ان کے بارے میں میڈیا سے گفتگو بھی فرمائی جس میں پریس کانفرنس کے دوران مذکورہ ریفرینس کو میرے خلاف احتساب کا شکنجہ کہنا بھی شامل رہا۔ کیا یہ مناسب رویہ ہے؟ کیا ایسا رویہ آئین سے مطابقت رکھتا ہے؟

سرکاری عہدے کا حلف نامہ

کسی بھی عہدے پر فائز ہونے سے پہلے صدر، وزیراعظم، وفاقی وزراء، ججوں اور دیگر (افراد) کے لیے آئین کے تیسرے شیڈول کے مطابق حلف اٹھانا ضروری ہوتا ہے، جن میں یہ (بات) شامل (ہوتی) ہے:

“کہ میں اپنے ذاتی مفاد کو دفتری معاملات یا دفتری فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہونے دوں گا، کہ میں آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی محفوظ رکھوں کا، اس کی حفاظت کروں گا اور اس کا دفاع کروں گا”۔

ججوں کو چھوڑ کر باقی صدر، وزیراعظم، وفاقی وزراء اور دیگر (افراد) کے حلف میں یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ:

“اور یہ کہ میں کوئی ایسا معاملہ جو میرے علم میں لایا جائے گا یا جو مجھے بحیثیت صدر پاکستان (وزیراعظم/وفاقی وزیر) بتایا جائے گا، بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی شخص سے رابطے پر یا اس کے علاوہ ظاہر نہیں کروں گا ماسوائے بحیثیت صدر پاکستان (وزیراعظم/وفاقی وزیر) میرے فرائض کے لیے درکار ہو”۔

جناب صدر، کیا معزز حکومتی اراکین جنہوں نے ریفرنس کو (عوامی سطح پر) ظاہر کیا یا اس کے بارے میں بات کی، نے اپنے عہدے کے سنجیدہ حلف کی خلاف ورزی نہیں کی؟

میرے خلاف دائرہ کردہ ریفرینس

جناب صدر، مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ آپ نے وزیراعظم کے ایما پر میرے خلاف کونسل کو ریفرنس بھیجا ہے۔ چونکہ مجھے ریفرنس کی نقل نہیں بھجوائی گئی لہذا میں محض فرض کر سکتا ہوں کہ اس میں وہ الزامات شامل ہیں جو لندن میں واقع میری اہلیہ اور اولاد کے نام جائداد سے متعلق ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ کیسے نکالا جا سکتا ہے کہ میں کسی نامناسب عمل کا مرتکب ہوا ہوں؟ درحقیقت اگر یہ الزام ہے تو میں اس الزام کا جواب (کونسل کا نوٹس ملنے کے بعد، اگر ملا تو)، کونسل کو داخل کروں گا۔

اطلاعات میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ مذکورہ جائداد کو میں نے اپنے ان گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا جو اِنکم ٹیکس آرڈینینس ۲۰۰۱ کی دفعہ ۱۱۶-۱-ب کے تحت داخل کروانے تھے۔ آرڈینینس کی دفعہ ۱۱۶-۱ کا آغاز ان سطور سے ہوتا ہے کہ:

“کمشنر اگر چاہے تو تحریری نوٹس کے ذریعے کسی بھی شخص کو انفرادی حیثیت میں نوٹس کی مذکورہ تاریخ پر طے شدہ و تصدیق شدہ شکل میں اپنی دولت کے گوشوارے بشمول ب۔ فرد، اہل خانہ، نابالغ اولاد اور دیگر منحصر افراد کے کسی بھی تاریخ یا نوٹس میں تحریر شدہ تاریخ تک کل اثاثہ جات اور واجب الادا ادائیگیاں شامل ہوں، مانگ سکتا ہے”۔

اولاً، مجھے کمیشنر کی جانب سے نوٹس موصول نہیں ہوا، دوم، میری اولاد نابالغ نہیں، اور یہ صورتحال کافی عرصے سے ایسی ہی ہے۔ سوم، نہ ہی میری اہلیہ اور نہ ہی میری اولاد مجھ پر منحصر ہیں۔ چہارم، دفعہ ۱۱۶-ا ہرگز پینل قانون نہیں کیونکہ دفعہ ۱۱۶-۳ کسی قسم کی ایسی تحذیف قابل تصحیح ہے۔

رضاکارانہ (معلوماتی)  اظہار

جناب صدر، مجھے اور میرے خاندان کو معزز حکومتی اراکین کی جانب سے بدنیتی کے ساتھ نامکمل حقائق اور اشاروں کے ذریعے بدنام کیا جا رہا ہے جو میرے اور میرے خاندان کے لیے تکلیف دہ ہے۔ اگر مقصد ہماری نجی زندگی پر حملہ آور ہونا، وجود نہ رکھنے والی سازش تخلیق کرنا، اور بار بار ہماری پرائیویسی کی خلاف ورزی کرنا ہی تھا تو مکمل حقائق کیوں پوشیدہ رکھے گئے؟ لہذا میں مجبور ہوں کہ جھوٹی اطلاعات کے خاتمے کے لیے تمام حقائق ظاہر کروں۔

میری اہلیہ عبدالحق کھوسو اور مرحومہ فلیسا کریرا، ایک ہسپانوی شہری کی دختر ہیں۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میری اہلیہ اور بچے اعلی تعلیم یافتہ اور خود انحصار ہیں۔ میری اہلیہ کی دیگر کئی اہلیتوں میں برونیل یونیورسٹی سے ڈگری اور ایسٹن یونیورسٹی سے سپیشلائزیشن شامل ہیں۔ میری ۳۱ سالہ بیٹی شادی شدہ اور ۳ بچوں کی ماں ہے۔ اس نے اپنا ایل ایل بی آنرز ایس او اے ایس سے مکمل کیا، بار پروفیشنل ٹریننگ کورس بی پی پی یونیورسٹی سے اور ایل ایل ایم یونیورسٹی کالج لندن سے مکمل کیا جس کے بعد اسے مڈل ٹیمپل بار کی دعوت دی گئی، جس کے بعد وہ میرے خاندان میں بیرسٹرز کی تیسری نسل بن گئی، میرے والد بلوچستان سے بیرسٹر بننے والے پہلے شخص تھے اور میری بیٹی صوبے (کی تاریخ) کی پہلی خاتون بیرسٹر ہے۔ میرے ۲۸ سالہ بیٹے نے سٹیفرڈشائر یونیورسٹی سے بی اے مکمل کیا اور پھر برک بیک، لندن یونیورسٹی سے ایم اے مکمل کیا۔

لندن جائیدادیں

حکومتی کھوجی یقیناً اس حقیقت سے واقف ہیں کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میرے بچے قانونی طور پر لندن میں کام کرتے رہے۔ معزز حکومتی اراکین کی جانب سے پھیلائی گئیں تفصیلات ان جائدادوں کی ہیں جن میں وہ (میرے بچے) اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتے تھے۔ یہ جائدادیں انہی کی ملکیت ہیں جن کے نام پر یہ قائم ہیں۔ ان (جائدادوں) کی ملکیت چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی، نہ انہیں کسی ٹرسٹ کے ذریعے خریدا گیا، نہ کسی مخصوص آلۂ کار کو استعمال کیا گیا اور نہ ہی کسی آفشور کمپنی کے ذریعے حاصل کی گئیں۔

میرے مالی معاملات

اپنے مالی گوشوارے ظاہر کرنا مجھ پر کسی طور فرض (یا ذمہ داری) نہیں، مگر میں ایسا رضاکارانہ طور پر کر رہا ہوں کیونکہ میری دیانتداری پر شکوک و شبہات اٹھائے جاچکے ہیں۔ میں پاکستان کے ٹیکس نظام سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہوں۔ مجھے آج تک نہ تو مذکورہ جائداد کے متعلق کوئی نوٹس موصول ہوا اور نہ ہی میرے بیوی بچوں سے متعلق۔ جب سے میں نے قانونی پیشہ اختیار کیا، میں تواتر کے ساتھ اپنے ٹیکس ریٹرن اور خود پر لاگو ٹیکس بھر رہا ہوں۔ میرے خلاف اِنکم ٹیکس محکمے کا کوئی واجب الادا مطالبہ موجود نہیں، اور نہ ہی میرے خلاف اِنکم ٹیکس سے متعلق کاروائی جاری ہے۔ میں پراعتماد ہوں کہ جس کسی نے بھی ریفرنس دائر کیا ہے، میرے مالی معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہوگا، مگر لگائے گئے متنازعہ الزامات کے مطابق کسی قسم کی خورد برد حاصل کرنے میں ناکامی سے دوچار ہونا پڑا ہوگا۔ تاہم مکمل جانکاری نہ دینے کے الزام سے بچنے کے لیے شاید مجھے یہ بتانا پڑے کہ واجب الادا رقم کی ادائیگی کا مطالبہ موجود ہے جو محکمے نے مجھے ادا کرنا ہے اور وہ ابھی بھی ادا نہیں ہوا۔

اگست ۵، ۲۰۰۹ کو چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ بننے سے پہلے میں پاکستان کی اولین قانونی فرمز میں سے ایک کا پارٹنر تھا، اور جو ملک میں سب سے زیادہ اِنکم ٹیکس دینے کی وجہ سے مشہور تھی۔ میری آمدن فرم سے جاری ہوتی تھی، فرم میں مجھ سے زیادہ حصہ رکھنے والے ایک سابق پارٹنر کو ۲۰۰۴ میں صدر پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ انفرادی ٹیکس دہندہ ہونے کے باعث ستارہ امتیاز جیسے عظیم اعزاز سے نوازا گیا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، چیف جسٹس کے عہدے پر ترقی کے وقت میری سالانہ آمدن پچھلے سال جب میں فرم پارٹنر تھا، میری جانب سے ادا کیے گئے اِنکم ٹیکس سے کم تھی۔ جناب صدر، کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ بھاری ترین اِنکم ٹیکس ادا کرنے والوں کو کٹہرے میں لایا جا رہا ہے اور وہ جن کا ٹیکس میں حصہ مایوس کن ہے، ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں؟

قابل احترام وزیراعظم

جناب صدر، اطلاعات یہ ہیں کہ کونسل کو پیش کیے جانے والا ریفرینس معزز وزیراعظم کی تاکید پر بھیجا گیا۔ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ وزیراعظم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کسی شخص کے بیوی بچوں کی ملکیت میں ہونے والی جائداد اِنکم ٹیکس محکمے کی معلومات میں لانا ضروری ہیں۔

بادی النظر میں ریفرینس کی بنیاد میری جانب سے ارادتاً اپنی اہلیہ اور خودمختار اولاد کی جائداد ظاہر نہ کرنا ہے۔ قانون کے مطابق یہ (جائدادیں) ظاہر کرنا ضروری نہیں لیکن وزیراعظم اس کے برعکس سوچتے ہیں۔ اس بنیاد پر، جناب صدر، میں یہ سمجھتا ہوں کہ معزز وزیراعظم نے اپنے تمام اِنکم ٹیکس ریٹرنز میں اپنی بیگمات اور بچوں کی ملکیت میں تمام جائدادیں ظاہر کی ہوں گی۔ اگر محترم وزیراعظم نے ایسا نہ کیا ہوتا تو یقیناً وہ آپ کو ریفرنس دائر کرنے کی تاکید نہ کرتے۔ جناب صدر، کیا اس بات کی یقین دہانی کی گئی تھی کہ آیا معزز وزیراعظم نے خود اپنی بیگمات اور بچوں کے نام جائدادیں اپنے ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر کی تھیں تاکہ یہ بات پختہ ہوسکے کہ ان کی تاکید ان کی اپنے علم اور عمل کے مطابق تھی؟ جناب صدر، کیا آپ معزز وزیراعظم سے استفسار فرمائیں گے کہ وہ مہربانی فرما کر اپنے تمام ٹیکس ریٹرنز کی نقول مجھے مہیا کریں جن میں انکو انہوں نے اپنی بیگمات اور بچوں کی بیرون ملک جائدادیں ظاہر کی ہیں؟

دباؤ ڈالنے کے ہتھکنڈے

جناب صدر، میرے منصفانہ مقدمے اور قانونی طریقہ کار کے قانونی حق کو کونسل کی جانب سے مجھے نوٹس ملنے اور میرے جواب داخل کروانے سے پہلے ہی پامال کیا جاچکا ہے۔ وہ معزز اراکین حکومت اپنے ارادوں سے باز رہیں جن کا خیال ہے کہ وہ مجھ پر دباؤ ڈال کر مجھ سے میرے اس حلف کی خلاف ورزی کروا لیں گے، جو مجھے “ہر طبقے کے شخص سے، قانون کے مطابق، بلا خوف و خطر، بغیر کسی مفاد، جانبداری یا عناد راست سلوک” کی تلقین کرتا ہے۔ غیر متوقع طور پر میرے والد قازی محمد عیسٰی آل انڈیا مسلم لیگ کے دیگر ممبران کے ساتھ قائداعظم کی رہنمائی میں آزادی اور پاکستان کے حصول کے لیے انتھک محنت کرتے رہے۔ میں ان کے نصب العین کو اس وقت بھ معنی نہیں کرسکتا جب مجھ سے کہیں بڑھ کر قیمتی شے داؤ پر لگی ہو۔

جناب صدر، میں اپنی ذات اور اپنے خاندان کے خلاف یہ اوچھے ہتھکنڈے برداشت کر بھی لیتا مگر کیا ان معاملات سے ایک غیر معمولی خطرے کے اشارے نہیں ملتے؟ کیا عدلیہ کی آزادی کو نظرانداز نہیں کیا جا رہا؟ اس بات کا یقین رکھیے، جناب صدر، کہ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا اور اپنے آئینی حلف کے مطابق “آئین کو محفوظ رکھوں گا، اس کی حفاظت کروں گا اور اس کا دفاع کروں گا”۔ اگر عدلیہ کی آزادی تباہ ہوئی تو آئین کے تحت عوام کو حاصل بنیادی حقوق کاغذ پر لکھے الفاظ سے بڑھ کر کچھ خاص نہیں رہیں گے۔ آئین کا تقدس میری اہم ترین تشویش ہے۔ آئین کی دفعہ ۵ کے مطابق “آئین اور قانون کی اطاعت ہر شہری کا ناقابل خلاف ورزی فرض ہے”، تاہم اس(عام شہری) سے کہیں بڑھ کر ان پر عائد ہوتی ہے جو سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔ جب آئینی طریقہ کار کی بارہا خلف ورزی کی جائے تو جمہوریت بادشاہت میں تبدیل ہوجاتی ہے، اور جمہور کی حکمرانی آمرانہ حکومت میں بدل جاتی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی استعداد کے مطابق وہ سب کچھ کریں گے جس سے یہ بات یقینی بنائی جائے کہ اس عظیم قوم کا آئین سب پر نافذ ہو۔ آخر میں ایک بار پھر میں ریفرنس کی ایک نقل مہیا کی جانے کی درخواست کروں گا۔

آپ کا مخلص
قاضی فائز عیسٰی
جج، سپریم کورٹ آف پاکستان

نقول:
۱۔ قابل احترام وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان
۲۔ رجسٹرار، سپریم کورٹ آف پاکستان

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *