• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مذہبی انتہا پسندی کا تاریخی جائزہ۔۔۔ مشتاق علی شان

مذہبی انتہا پسندی کا تاریخی جائزہ۔۔۔ مشتاق علی شان

پس منظر
بنیاد پرستی کے حوالے سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ اصطلاح خاص طور پر مسلم بنیاد پرستوں کے لیے وضح کی گئی ہے اور اس کی وجہ اہلِ مغرب کا تعصبانہ رویہ ہے جو وہ اسلام کی جانب رکھتے ہیں ، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس
ایسےbaptistis اورpres by terian ہے۔دراصل اس اصطلاح کا استعمال 19 ویں صدی میں شمالی امریکہ میں
فرقوں کے لیے ہو ا جو مسیحت کے پانچ بنیادی عقائد یعنی بائبل کے تمام غلطیوں سے پاک ہونے،جنابِ مسیح کے بنا باپ کے کنواری ماں کے بطن سے پیدے ہونے،جنابِ مسیح کی جانب سے تمام انسانوں کے گناہوں کا کفارہ ادا کیے جانے ،صلیب دیے جانے کے بعد دوبارہ پیدا ہونے اور بائبل کے تمام معجزات کے سچے ہونے اور ان کا کسی بھی قسم کے شک و شبے سے بالاتر ہونے پر یقین رکھتے تھے۔
یہ مسیحی فرقے ،ڈارون کے سائنسی نظریہ ارتقاءکو درست نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس کے برعکس یہ تخلیق کے مذہبی عقیدے پر یقین رکھتے تھے ۔ان مسیحی فرقوں کی خاص بات یہ تھی کہ یہ اپنے ان عقائد کے معاملے میں انتہائی سخت گیراور متشدد واقع ہوئے تھے اور وہ اس کے خلاف کسی قسم کی کوئی بات سُننا یا اس میں کوئی تبدیلی یا ترمیم کو برداشت نہیں کرتے تھے اور اسے لوگوں پر تھوپنے کے لیے طاقت اور جبر کے استعمال کو جائز سمجھتے تھے۔ان کے نزدیک اس کی راہ میں رکاوٹ بننے والا ہر ترقی پسند نظریہ یا انداز فکر قابلِ گردن زدنی جرم تھا ۔ ان کے بمبوجب سائنس سمیت نیشنل ازم، سیکولر ازم اور سوشلزم وغیرہ میں یقین رکھنے والے شیطان کے آلہ کار تھے ۔لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ انسانی تاریخ میں مذہبی بنیاد پرستی کا آغاز مسیحت سے ہوا ،بلکہ اس کا جائزہ لینے کے لیے ہمیں قدیم تاریخ کا جائزہ لینا ہوگا ،تاکہ ان محرکات کا پتہ چل سکے جو مذہبی بنیاد پرستی کے آغاز کا سبب بنے۔
دنیا کے قدیم مذاہب پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں انسان مظاہرِ فطرت کی پوجاکرتے تھے جس کے بعد آہستہ
آہستہ بہت سے دیوی دیوتاوں کی پرستش کا رواج ہوا۔ اُس دور میں یوں بھی ہوتا تھا کہ جب ایک مذہب کے ماننے والے کسی
دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو تسخیر کر لیتے تو ان کے بہت سے دیوتاوں کو بھی اپنے مذہبی دیو مالا میں شامل کر لیتے تھے ۔مثال کے طور پر عشتار جو قدیم بابل کی دیوی تھی ،اس کی پوجا مختلف مذاہب میں ہوتی رہی ۔اسی طرح جب آریا ہندوستان میں فاتح کی حیثیت سے آئے تو انہوں نے دراوڑوں کے بہت سے دیوی دیوتاوں کو اپنے مذہب میں شامل کر لیا۔کرشن جی، درگا اور خود شیو بھگوان کا اصل ماخذ قدیم دراوڑی مذہب ہی ہے۔
یعنی تاریخ کے اس دور میں ہمیں مذہبی بنیاد پرستی کا وجود نہیں ملتا ۔مذہبی بنیاد پرستی کا ابتدائی سراغ ہمیں اس وقت ملتا ہے جب بہت سے دیوتاوں کی جگہ ایک دیوتاکی پوجا یا عبادت کا آغاز ہوا۔ یہ سب کچھ ایک دن میں ہی نہیں ہو گیا بلکہ یہ تصور ارتقا کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد ایک دیوتا کی بادشاہت یا حاکمیت پر منتج ہوا ۔
ایک دیوتاکی عبادت کا تصور سب سے پہلے 1400قبل مسیح میں مصر کے بادشاہ اخناتن نے پیش کیا ۔اس نے سورج دیوتا ”آٹن“ کی عبادت کا فرمان جاری کیا اور اس کا مجسمہ بنانے پر پابندی عائد کردی۔لیکن یہ تجربہ کچھ زیادہ کامیاب نہیں رہا اور اخنا تن کی موت کے بعد دوبارہ باقی دیوی دیوتاوں کی پوجا رائج ہوگئی ۔اس کے 600سال بعد ایران میں زرتشت نے دو خداوں کا تصور پیش کیا ۔ ایک نیکی کا خدا جسے آہور مازدا کا نام دیا گیا ۔اور دوسرا برائی کا خدا جسے اہرمن کا نام دیا گیااوردنیاکی ہر برائی کو اس سے منسوب کر دیا گیا۔اسی طرح شیطان کا تصور یہودیت نے زرتشت مذہب کے اہرمن سے لیا جسے اس کے بعد آنے والے مذاہب نے بھی جاری رکھا ۔
اس صورتحال پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیت وہ پہلا مذہب ہے جس نے ایک خدا یعنی یہواہ کے تصور کو بڑے پیمانے پر بنی اسرائیل کی زندگیوں میں رائج کیا ۔لیکن اس سے قبل اس قسم کے جو تجربے کیے گئے اس میں کسی نے جبر سے کام نہیں لیا ۔یہ ابتدائی دور کے یہودی علماءہی تھے جنھوں نے یہواہ کے نام پر بے دریغ دوسرے دیوتاوں کا خاتمہ کیا اوراس کے نام پر بِلا تکلف انسانوں کی گردنیں کاٹیں۔ بعد میں آنے والے مذاہب کے پیرووں نے بھی یہی روش اپنائی ۔
بنیاد پرستی کی مشترکہ اقدار
بنیاد پرستی خواہ یہودی ہو ، مسیحی ہو، ہندو ہو ، مسلم ہو یا کوئی اور، ان میں کچھ قدریں مشترک ہیں۔ جیسے ایک” سنہری دور“ کا تصورجس کے مطابق جب مذہب اپنی اصل اور حقیقی شکل میں موجود تھا تو دنیا میں امن خوشحالی اور مسرت کا دور دور تھا ۔معاشر ے میں جیسے جیسے برائیاں بڑھتی گئی ںسنہرا دور دُور ہوتا چلا گیا ۔ یعنی ”سنہری دور“ کا چلے جانا معاشرے میں ہونے والی برائیوں کا نتیجہ ہے جنھیں ختم کر کے اس گم گشتہ ”سنہرے دور“ کو واپس لایا جا سکتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ برائی کیا ہے ،؟اس کا تعین اور خاتمہ کون کرے گا؟تو ظاہر ہے کہ بنیاد پرستوں نے ہی یہ بارِ گراں اپنے کاندھوں پر اٹھایا ہوا ہے۔ یہ دراصل تاریخ کے پہیے کو پیچھے کی طرف گھما کر ایک ایسے عہد میں لیجانے کی کوشش ہے جوکبھی رہا ہی نہیں ۔
اس کےعلاوہ بنیاد پرست اختلافِ رائے کو برداشت نہیں کرتے اور اپنے سوا باقی سب کو کافر،بدعتی اور مردود سمجھتے ہیں۔ چونکہ سارے بنیاد پرست اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ تبدیلی نیچے سے نہیں بلکہ اوپر سے لائی جاتی ہے اس لیے یہ جمہوریت اور عوامی رائے کی بجائے طاقت اور جبر کے ذریعے اپنے نظریات سماج پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کا تنظیمی ڈھانچہ بھی جمہوری نہیں ہوتا اور یہ آمریت پر یقین رکھتے ہیں۔اپنے آمرانہ پس منظر کی وجہ سے ہر جگہ بنیاد پرست یہ کوشش کرتے ہیں کہ انھیں کسی ڈکٹیٹر کی مدد حاصل ہو جائے۔ مثال کے طور پر جب 1964میں انڈونیشیا میں جنرل سوہارنے وہاں کے ترقی پسند اور سامراج مخالف رہنما احمدسوئیکارنو کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا اور امریکی سامراج کی آشیر باد سے کمیونسٹوں کا قتلِ عام شروع کیا تو وہاں کے بنیاد پرستوں نے اس کی مدد وتائید حاصل کرنے کے لیے اس کی بھرپور حمایت کی۔ جب1973میں لاطینی امریکا کے ملک چلی کے پہلے منتخب سوشلسٹ صدر سلوا دور الاندے کو قتل کر کے جنرل پنوشے نے اقتدار پر قبضہ کیا تو وہاں کے بنیاد پرستوں نے اسے خوش آمدید کہا ۔ اسی طرح پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کاخاتمہ کر کے جنرل ضیاءالحق نے مارشل لاءلگایا تو یہاں کے بنیاد پرستوں نے اس کی حمایت کر کے اس کی مدد و تائید حاصل کی۔ مارشل لاءکے کھیت میں بوئی گئی انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کی یہ فصل آج تک کاٹی جا رہی ہے ۔مذہبی بنیاد پرستوں اور فوجی آمروں کے گٹھ جوڑ کی ایک مثال برما بھی ہے جہاں کے بنیاد پرستوں نے فوجی آمریت کی مدد و تائید حاصل کر کے وہاں اقلیتوں کا ناطقہ بند کر رکھا ہے۔
بنیاد پرستوں میں ایک اور قدر مشترک یہ ہے کہ یہ جہاں بھی ہوتے ہیں اقلیتیں ان کا پہلا نشانہ بنتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقلیتیں سیاسی طور پر کمزور ہوتی ہیں اور اکثریت میں ان کے خلاف پائے جانے والے عمومی تعصب کے رحجانات کو بنیاد پرست باآسانی استعمال کرتے ہیں ۔جیسے ہندوستان میں ہندو بنیاد پرستوں نے مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف انھیں استعمال کیا۔ اسرائیل میں یہودی بنیاد پرستی کا بھی یہی ہتھیار ہے۔ پا کستان میں ”ذکری“فرقے سے لیکے لیکر اہلِ تشیع اور احمدیوں تک کے خلاف یہ سب کچھ ہوا اور کیا جا رہا ہے ۔ جب کہ سندھ میں بھی بڑے پیمانے پر ہندوں کو اس کا شکار بنایا جا رہا ہے جہاں میاں مٹھو جیسے کرداروں کے ہاتھوں وہ زندہ درگور ہیں اور دیگر مظالم کے ساتھ ساتھ آئے روز ہندو بچیوں کا اغوا ، جبری مذہب کی تبدیلی اور شادیاں معمول ہیں ۔حد یہ ہے کہ کم سن اور نابالغ ہندو بچیاں بھی بنیاد پرست جنونیوں سے محفوظ نہیں ہیں۔
تقریباَ سارے ہی بنیاد پرست عورتوں کے بارے میں رجعتی خیالات رکھتے ہیں اور ان پر طرح طرح کی پابندیاں لگاتے ہیں۔ان کے نزدیک عورت ”فاتر العقل “ ہے لہذا اسے گھر تک محدود کر دینا ہی درست ہے۔ ”حقوقِ نسواں“ ان کی لغت سے خارج ہے اورہر وہ عمل یااقدام جو عورت کو سماج میں اس کا جائز مقام دینے میں معاون ہواسے یہ شیطانی عمل سمجھتے ہیں۔ بعض اوقات اس معاملے میں بنیاد پرستوں کا رویہ مختلف بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایران میں کالج و یونیورسٹیوں کی طلبات سے لیکر کھیتوں اور کارخانوں میں کام کرنے والی انقلابی عو رتوں نے رضا شاہ پہلوی آمریت کے خلاف جدوجہد میں ہر محاذ پر کلیدی کردار ادا کیا تھا ۔اس کا دائرہ جلسوں،مظاہروں اور ہڑتالوں سے لیکر مسلح جدوجہد کے معرکوں تک پر محیط تھا ۔اس وقت تک ایران کے بنیاد پرست رہنما خمینی عورتوں کے خلاف نہیں تھے بلکہ ان کی جدوجہد کو عین اسلامی قرار دیتے تھے۔ البتہ انقلاب کے بعد جب خمینی برسرِ اقتدار آئے تو انھوں نے گھر سے باہر نکلنے والی عورتوں کو ”شیطان کی چیلی“ قرار دینے میں دیر نہیں کی۔اسی طرح افغانستان میں 1978میں برپا ہونے والے ”انقلابِ ثور“ نے صدیوں کی پا بستہ اور لب بستہ عورتوں کو ان کے جائز مقام پر متمکن کیا ۔لیکن اس انقلاب کو ناکام بنانے کے بعد جب وہاں بنیاد پرستی کا ظہورطالبان کی شکل میں ہوا تو پھر عورتوں کو ظاہر شاہ کے دور سے بھی صدیوں پیچھے دھکیل دیا گیا۔ عورتوں کے خلاف سب سے رجعتی قوانین کا مظاہرہ بھی سعودی عریبیہ کی بنیاد پرست مملکت میں کیا گیا ۔
بنیاد پرست ویسے تو سائنس کی ہر نئی دریافت اور جدیدیت کی مخالفت کرتے ہیں لیکن ضرورت ہو تو خود ذوق وشوق سے استعمال کرتے ہیں ۔ہندوستان میں جب لاوڈ اسپیکر نیا نیا آیا تو سارے مسلم بنیاد پرست فرقوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ”شیطانی آلہ“ قرار دیا ۔لیکن بعد ازاں یہی ان کا سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوا۔ شروع شروع میں اس کا نام ”آلہ صوتِ جہر“ رکھا گیا مگر یہ مشکل اور دقیق نام رائج نہ ہو پایا ۔ اسی طرح ٹیپ ریکارڈ، فلم اور انٹر نیٹ وغیرہ ہے جسے خوب استعمال کیا گیا اور اب بھی دھڑلے سے کیا جا رہا ہے۔

 

پاکستان میں مذہبی بنیاد پرستی کی جڑیں دراصل نوآبادیاتی دور کے متحدہ ہندوستان میں پیوست ہیں برِ صغیر کے سماج میں سیکولر اقدار کو روکنے اور مذہبی بنیاد پرستی کو بڑھاوا دینے اور اس کی جدید سیاسی شکل کی تشکیل کا کام برطانوی سامراج نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کیا ۔یہ ٹھیک اسی طرح تھا جیسے انھوں نے یہاں جاگیرداری کو رائج کیا ۔یہ برطانوی ہیتھے جنھوں نے 1905میں بنگال میں ”جدا گانہ طرز انتخاب“ متعارف کراتے ہوئے ہنداور مسلم سیاست کی طرح ڈالی۔یوں اپنی سامراجیت کو قائم رکھنے کے لیے انگریزوں نے ہندوں اور مسلمانوں کو نہ صرف تقسیم کیا بلکہ بلکہ بنیاد پرستی کو سیاسی تنظیمی شکل میں بھی تبدیل کر دیا ۔آر ایس ایس اور مسلم لیگ وغیرہ کا قیام اس کی بڑی مثالیں ہیں۔ بعد ازاں دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان کو تقسیم کیا گیا جو خود یہ ثابت کرتا ہے کہ یہاں کے سماج میں موجود حکمران طبقات نے برطانوی سامراج کی ہی حکمتِ عملی کو قائم رکھا۔یعنی ایک طرف اینگلو امریکن بنیاد پرستی تھی تو دوسری جانب ہندوستان کے بالائی طبقات کی ہندو اور مسلم بنیاد پرستی تھی۔جس کا نتیجہ آج تک بھگتا جا رہا ہے۔
قیامِ پاکستان کا ٹھیک وہی وقت تھا جب عالمی افق پر برطانوی سامراج کا سورج غروب ہو رہا تھا اور دوسری عالمگیر جنگ کے بعد سوشلزم ایک توانا قوت بنکر ابھر رہا تھا ۔جبکہ اب عالمی سامراج یعنی دنیا بھر کے سرمایہ داروں کی نکیل امریکا کے زیر پا تھی۔سوویت یونین اور دیگر سوشلسٹ ممالک کے خلاف سرد جنگ شروع کی گئی جس میں پاکستان کو ایک سامراجی اڈے اور یہاں کے حکمران طبقات ( بالخصوص فوج) کو آلہ کار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ویسے بھی مذہب کے نام پر بننے والی اس ریاست میں جمہوری ادارے اور جمہوریت کی بجائے آمرانہ شخصی نظام ہی مستحکم ہوا جس میں فوج کو مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔سیاست میں عوام کی عدم شرکت اور چند طبقوں کا حکومت اور ریاست کے تمام ذرائع پر قابض ہو جانے کے نتیجے میں عام لوگوں بھوک،بیماری،غربت اور جہالت کی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔بنیاد پرستی کے لیے بھلااس سے موزوں ماحول اور کیا ہو سکتا تھا۔سرد جنگ کے زمانے میں امریکی سامراج نے سوشلزم کے خلاف مذہبی انتہا پسندی کو خوب پروان چڑھایا ایشیائی،افریقہ اور لاطینی امریکا اس کی مثالوں سے بھرے پڑے ہیں۔
جب انیس سو اٹہترمیں افغان انقلاب آیا تو گویا پاکستان اس خطے میں مذہبی بنیاد پرستی کی ایک نرسری بن گیا۔اس وقت ضیاءالحق کی فوجی آمرانہ حکومت تھی جسے حسبِ سابق امریکا کی حمایت حاصل تھی۔اس دور میں مذہبی جنونیوں کوافغان انقلاب کے خلاف استعمال کیا گیا ۔امریکا نے اپنے مقاصد کے لیے ضیاءالحق کواستعمال کیا اورضیاءنے مذہب کو ۔جہاں تک بنیادپرستوں اور ضیاءالحق کا تعلق ہے تو دونوں نے ہی ایک دوسرے کو استعمال کیا ۔اپنے جوہر میں ضیاءبھی کوئی کم بنیاد پرست نہ تھا اس نے سرکاری طور پر مذہبی رسومات کی طرح ڈالی اور ایسے اقدامات کیے جو اس سے ہی مخصوص تھے۔ یہ ضیاءالحق ہی تھا جس کے دور میں مولوی حضرات کا ایک اجلاس اس لیے طلب کیا گیا تاکہ جنات کی قوت کو مسخر کر کے اس سے بجلی پیدا کی جاسکے۔ یہ خواب بہرحال شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا ۔
ہر چند کہ سرد جنگ کے تناظر میں پاکستان میں بنیاد پرستی کو جو فروغ ضیاءکے دور میں حاصل ہوا اور اسے سرکاری طور پر پروان چڑھایا گیا اس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی لیکن ایک المیہ یہاں کے سیکولر سویلین حکمرانوں کا بھی رہا ہے جنھوں نے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بنیاد پرستی کے بڑھانے میں کوئی کم کردار ادا نہیں کیا۔ مثال کے طور پر یہ ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے جنھوں نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا، جمعے کی چھٹی منظورکی ،شراب پر پابندی لگائی اور ایسے متعدد اقدامات کیے جن کے نتیجے میں بنیاد پرستی ہی پروان چڑھی۔ یہ روش بعد کے سیکولر سیاستدانوں نے بھی اپنائی اور اس کا مظاہرہ وہ آج بھی کرتے ہیں۔
امریکا کا جہاں تک تعلق ہے تو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد فوری طور پر اسے یہاں تیار ہونے والے بنیاد پرست جنونی لشکروں کی ضرورت نہ رہی ۔امریکی ڈالرز سے تیار ہونے والے یہ لشکر جو سوویت یونین کو ”توڑنے“ کے زعم میں مبتلا تھے انھیں اس وقت بڑا سہارا ملا جب افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہوئی۔اس دور میں افغانستان پر جو گزری سو گزری البتہ دنیا کو ان کے وسیع عزائم کی خبر نائن الیون کی صورت میں ہوئی۔ امریکا یہاں ہر فوجی آمر کی حمایت کرتا رہا ہے چاہے وہ ضیاءجیسابنیاد پرست ہو یا پرویزمشرف جیسا سیکولر آمر۔نہ صرف اتنا بلکہ وہ حسبِ ضرورت انھیں بنیاد پرست اور سیکولر بھی بنا سکتا ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکا نے دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ کیا تو اسے پاکستان میں بنیاد پرست کی بجائے ایک سیکولر آمر کی ضرورت محسوس ہوئی۔ پرویز مشرف کو سیکولر بننے میں کوئی دیر نہ لگی ہے ۔جب سامرج کے مفاد بنیاد پرستی کو پروان چڑھانا تھا تو یہ بنیاد پرستی کی پرورش کرتے رہے اور جب امریکا اس خطے میں بنیاد پرستی کے خلاف ہو گیا تو یہ بھی سیکولر ہو گئے ۔ کتے نہلانے اور گود میں کھلانے لگے۔ امریکی سامراج کی بنیاد پرستی کے حوالے سے ہر خطے میں الگ حکمتِ عملی رہی ہے۔ یہاں اگر بنیاد پرست اس کے دشمن ہیں تو لیبیا اور شام میں یہ اس کے دوست بن جاتے ہیں ۔ شام کی سامراج مخالف قوم پرست اور سیکولر حکومت اس کی دشمن ہے لیکن سعودی عرب اور اسرائیل جیسی بنیاد پرست حکومتیں اس کی دوست ہیں ۔ افغانستان، عراق، لیبیا اورمصر کو اسی بنیاد پرستی کی بھینٹ چڑھایا گیا ۔
پاکستانی ریاست کے حکمران طبقات (بشمول فوج ) کے سیاسی و اقتصادی مفادات عالمی سامراج کے ساتھ جڑئے ہوئے ہیں ۔ریاست کا یہاں آباد قوموں اور عوام کے ساتھ تعلق نہ ہونے کے باعث یہ اس کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ سماج کو سیکولر بنا سکے ۔آج یہاں جو بنیاد پرستی اور دہشت گردی ہے یہ اس ملک میں جمہوری، سیکولر اور قومی و طبقاتی آزادی کی تحریکوں کو کچلنے کا نتیجہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ پاکستانی ریاست کے مختلف حکمران گروہوں کے تضادات کا بھی اظہار ہے۔
چونکہ ہندوستان کی تقسیم بنیاد پرستی کی بنیاد پر ہوئی تھی اور پھر سامراج اور یہاں کے حکمرانوں کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں اسے مزید پروان چڑھایا گیا ۔ اس لیے یہاں بنیاد پرستی کا خاتمہ امریکی سامراج اور پاکستانی ریاست کے جوہر میں بنیادی تبدیلی یا پھر اس کے خاتمے سے ہی مشروط ہے ۔

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *