نقاب اتر رہا ہے۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

یہ لاش دراصل فرشتہ کی نہیں تھی ، یہ اس تعفن زدہ معاشرے کی لاش تھی جو اندرونی طور پر بے حس اور کھوکھلا ہو چکا ہے۔ کتابی طور پر ہمارا معاشرہ سنہری اقدار اور روایات میں لپٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس معاشرے کو مکمل طور پر ڈھانپ کے رکھا گیا ہے۔ جو کچھ اندر موجود ہے، بس اچھا ہے۔ اس کے اندر ہولناک برائیوں کا وجود تک نہیں۔ مگر اس اجلے معاشرے کے چہرے سے وقتاً فوقتاً نقاب سرکتا رہتا ہے۔

کمسن معصوم بچی فرشتہ کے ساتھ پیش آنے والے انسانیت سوز سانحے پر کہاں کہاں پے معاشرے کی بے حسی سامنے آئی ؟

15 مئی کو فرشتہ کے گم ہونے پر اس کے والد نے اسلام آباد کی گلیوں کو چھان مارا۔ آخر جب کہیں سے سراغ نہ ملا تو اس نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا۔ وہ پولیس اسٹیشن پہنچا، صاحب لوگوں کے سامنے روداد بیان کی کہ اس کی فرشتہ کھو گئی ہے۔ صاحب بولے: “کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی ”

نقاب ذرا سا سرکا ؟۔۔۔۔

بیچارہ ریڑھی پر  سبزی فروخت کرنے والا، فرشتہ کا والد چار دن تک چکر کاٹتا رہا۔ آخر کار پانچویں روز مہمند ایجنسی سے آنے والے جرگے کے دباؤ پر ایف آئی آر درج ہوئی۔ ظاہر ہے ایک سبزی فروش کی اتنی جرات کیسے کہ سفارش کے بغیر اپنی کمسن بچی کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کرے !

نقاب ذرا مزید سرکا !

اگلے دن فرشتہ کی لاش قریبی جنگل سے ملی۔ اس کی  لاش کو جنگل جانوروں نے نوچ ڈالا تھا۔ مرنے سے پہلے فرشتہ کو انسانوں نے نوچا، اور مرنے کے بعد جانوروں نے !فرق صرف اتنا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور جانور عقل نہیں رکھتے۔

نقاب اترنے لگا ہے !

ورثا نے لاش سڑک پر رکھ کر پولیس کے رویے اور نااہلی کے خلاف مظاہرہ کیا اور ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ سوشل میڈیا حرکت میں آیا۔ معصوم فرشتہ کی تصویر سوشل میڈیا پر پھیلنے لگی۔ دل رکھنے والے لوگ احتجاج کرنے لگے۔ معروف صحافیوں نے بھی آواز اٹھائی۔ الیکٹرانک میڈیا پر بھی خبر چلنے لگی۔ ایک معروف نجی نیوز چینل کا ٹکر سوشل میڈیا پے سامنے آیا جو کچھ ہوں تھا: “فرشتہ کے والد کا تعلق افغانستان سے ہے، حعلی شناختی کارڈ بنوا رکھاہے، ذرائع۔” ظاہر ہے جو افغانستان سے ہو اور اوپر سے جعلی شناختی کارڈ بھی بنوا رکھا ہو، ہر کسی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اس کی کمسن بیٹی کے ساتھ جو چاہے  کرے۔  بھلے زیادتی کرکے قتل کرے اور لاش جنگل میں جانوروں کے سامنے پھینک آئے !

تعفن زدہ سوچ کی بو باہر آنے لگی ہے !

پھر دیکھا کہ کچھ انسان لسانی تعصب کو ہرممکن ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک جگہ دیکھا کہ جنوری 2018 میں درندگی کا شکار ہونے والی معصوم ‘زینب’ اور ‘فرشتہ’ کے کیس کا موازنہ کیا گیا تھا۔ بہت کوشش کی کہ دونوں کیسز میں ریاست اور عوام کے رویے کا فرق جان سکوں۔ ڈھونڈنے سے بھی کچھ نہ ملا۔ بس وہی تعفن زدہ معاشرہ، ایک معصوم بچی،درندگی، نااہل انتظامیہ، بے بس والدین، سوشل میڈیا پے احتجاج اور حکومت پر دباو۔ آخر کار حکام بالا بھی نوٹس لینے لگے۔ کاروائی کا آغاز ہوا۔ دونوں سانحات میں یہی کچھ تھا۔ ہاں البتہ اس بار معاشرے کے بے حس لوگ ‘لسانیت’ کا تڑکا بھی لگا رہے ہیں۔

اور سننے میں آرہا ہے کہ قریبی عزیز اس سانحے میں ملوث ہیں۔ لیجیئے ! یہ بھی ہمارے معاشرے کا ہی خاصہ ہے جہاں پر ایسے واقعات میں اکثروبیشتر قریبی لوگ ہی ملوث ہوتے ہیں۔

نقاب اتر چکا ہے! اس سانحے کے اور بھی بہت سے سماجی، معاشرتی اور نفسیاتی پہلو ہیں۔

مختصراً، ہمارا معاشرہ ایک لاش کی مانند ہے جسے ہر درندہ اپنی استطاعت اور حیثیت کے مطابق نوچ رہا ہے۔ زینب کیس میں بھی یہی ہوا تھا۔ مجرم کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔ اور معاشرے  پر ‘سب ٹھیک ہوگیا’ کا غلاف چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعددرندگی کے بے شمار واقعات سامنے آتے رہے۔ مستقبل میں بھی سامنے آتے رہیں گے۔ معاشرے کا نقاب اترتا رہے گا۔ پھر سے ڈھانپنے کی کوشش بھی کی جاتی رہے گی۔ ایسے واقعات تب تک نہیں رکیں گے جب تک معاشرے کے اندر موجود فاسد مواد کی نشاندہی کرکے اسے صاف نہیں کیا جاتا۔

کیونکہ انسانوں کی بستی میں درندگی کا شکار ہونے والا نہ یہ پہلا ‘فرشتہ’ تھا اور نہ آخری !

ڈاکٹر کاشف رضا
ڈاکٹر کاشف رضا
کاشف رضا نشتر میڈیکل یونیورسٹی سے ابھرتے ہوئے نوجوان لکھاری ہیں۔ وہ اپنی شستہ زبان،عام فہم موضوعات اور انوکھے جملوں سے تحریر میں بے پایاں اثر رکھتے ہیں۔ان کی تحریریں خصوصاً نئی نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *