ہمارے اندھے اور کم عقل قوم پرست۔۔عارف خٹک

میں نے کسی پنجابی، سندھی، بلوچ یا کشمیری کو بنوں، کوہاٹ، کرک اور خیبر ایجنسی میں دکان کے ترازو میں کچھ تولتے ہوئے نہیں دیکھا۔ مگر ملک وال، گوجرہ، رتو ڈیرو، جیکب آباد اور ہر جگہ پشتون کو کاروبار کرتے ضرور دیکھا ہے۔ بلکہ میرے پچیس ہزار پشتون تو سندھ سانگھڑ میں لاکھوں ایکڑ اراضی کے مالک ہیں۔ اور مقامی سندھی ان کی زمینوں پر مزدوری کرتے ہیں۔ میں نے آج تک کسی سندھی یا پنجابی کو اس بات پہ احتجاج و اعتراض کرتے نہیں دیکھا،کہ پشتون ان کی سرزمین پر حاکم بنے بیٹھے ہیں۔ میں نے کسی پنجابی کو آج تک یہ کہتے ہوئے بھی نہیں سُنا،کہ پشتون بے غیرت ہوتے ہیں۔ مگر ہر روز اپنے حجروں میں، بازاروں اور سیاسی جلسوں میں، میں نے پنجابیوں کا نام بطور گالی دیتے ضرور سُنا ہے۔

آپ کسی قوم پرست سے بات کرتے ہیں،تو وہ پشتونوں کا رونا شروع کردےگا۔ کہ پشتونوں کےساتھ ظُلم ہو رہا ہے،ان کی حق تلفی ہورہی ہے،ہمیں حقوق مانگنے نہیں چھیننے ہوں گے۔ دراصل یہ سب کُچھ ان کی فطری انتہاء پسندی ہے۔ ان پشتون قوم پرستوں کا وہی حال ہے،جو دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں نے ہولوکاسٹ کے نام پر پوری دُنیا کو بلیک میل کرکے کیا۔ میں نے ہمیشہ پنجاب کے محمود فیاض کو پشتونوں کے لئے لڑتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے پنجابی ثمینہ ریاض کو پشتونوں کو انصاف دلانے کے لئے خوار ہوتے دیکھا ہے۔مگر ایسے لوگ آپ کو اس لئے نظر نہیں آئیں گے۔کہ بغض ،انتہاپسندی اور نفرت کی جو کالی پٹی آپ کی آنکھوں پر باندھی گئی ہے۔ اس پٹی کے دوسرے پار آپ کےلئے دیکھنا ناگوار اور نامُمکن ہے۔
حالیہ اسلام آباد واقعے میں فرشتہ بیٹی کے ساتھ جو کُچھ ہوا۔وہ کسی پشتون بچی کےساتھ نہیں،بلکہ میرے گُھٹن زدہ معاشرے کے مُنہ پر ایک کالک ملی گئ۔ لیکن جس طرح سے پشتون قوم پرست اس مسئلے کو نسل پرستی کا نام دے رہے ہیں۔وہ ان کی گھناؤنی سازشوں کا ایک غلیظ رُخ ہے۔ یہ سارے وہ گھناؤنے کردار ہیں۔جن کو انسان سمجھنا تو دُور انسانیت سے جڑا سمجھنا بھی ایک ناقابل معافی جُرم ہے۔ فرشتہ شہید کےلاشے کو اپنے مفادات کی خاطر جس طرح یہ قوم پرست بھنبھوڑ رہے ہیں ۔واللہ خود کو پشتون کہتے بھی ہوئے شرم آرہی ہے۔ گلالئی اسماعیل جیسی عورت جس کا کام جُھوٹ مُوٹ کی پریزینٹیشنز اور رپورٹس جمع کروا کر فنڈز لینا ہوتا ہے۔وہ پشتون ولی کے منہ پر یہ کہہ کر کالک مل گئی ہے۔کہ وزیرستان میں فوجیوں نے عورتوں اور لڑکوں کا جنسی استحصال کیا۔

وزیرستان کے لوگوں کی غیرت کا میں پندرہ سال سے گواہ رہا ہوں۔ جہاں عزتوں کے بدلے سر اُتارے جاتے ہیں۔لیکن آج میرے ہی پشتون گلالئی اسماعیل کی گالیوں پر تالیاں بجا رہے ہیں۔
ان پشتون قوم پرستوں کا بس نہیں چلتا،کہ اپنی اولاد کو ننگا کرکے بیچ بازار لا کھڑا کردیں۔اور دُنیا کو یہ بتا سکیں ،کہ دیکھو اس ریاست نے ہماری کیا حالت کر دی ہے۔ اگر اس کو آپ قوم کی خدمت یا پشتون ولی کہتے ہیں۔تو مولانا بجلی گھر صاب کی اس بات سے پھر آپ قطعاً انکار نہیں کرسکتے۔کہ میں نے آپ جیسے اُونچے شملوں والے پشتونوں کو طوائف کا حُقہ پانی تازہ کرتے دیکھا ہے۔

اگر آپ کو مُعتدل اور بُردبار پشتون دانشور دیکھنے ہیں۔تو آئیے، آپ کو عبدالمجید داوڑ، میاں آصف عرف وسی بابا، حیات پریغال، ہارون وزیر، نجیب آغا، عابد آفریدی، افتخار محمد داجی اور اورنگزیب محسود سے ملوا دوں۔ جو پشتونوں کا اصل چہرہ ہیں۔

ان انتہاء پسند پشتون قوم پرستوں کا بس نہیں چلتا،کہ کلمہ بھی پشتو میں ہی پڑھیں۔اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ثابت کردیں کہ آدم علیہ السلام کا تعلق بھی کاکڑ یا یوسفزئی قبیلے سے تھا۔

میرا دوست عبدالمجید داوڑ کہتا ہے،کہ ان کا بس نہیں چلتا کہ سات کروڑ پشتونوں کو چھوڑ کر دُنیا کے باقی پانچ ارب ترانوے کروڑ انسانوں کو قبروں میں لٹا دیں۔اور اس کے بعد ان کی قبروں پر پشتون ولی کا جھنڈا گاڑ دیں۔اور اپنی فتح کا اعلان کر دیں۔

آئی شرمیدلو

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ہمارے اندھے اور کم عقل قوم پرست۔۔عارف خٹک

  1. سوات میں تمام بیکریز پنجابی بردران کے ھیں مردان میں اکثریت مٹھاییوں کی دوکانیں پنجابیوں کی ھے کتنے اور گنواوں سوات میں تو گھر لیے ھیں باغات لیے ھیں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *