معصوم فرشتہ مومند اپنا لہو کہاں تلاش کرے ۔۔۔۔نصیر اللہ خان

عصوم قاریہ “فرشتہ مومند” اپنا لہو کہاں تلاش کرے ۔حافظ قران اور اوپر سے دس سال کی بچی ۔ہائے اللہ ،ابھی تو کھیلنے کھودنے کے دن تھے ۔ جانور نما انسان نے اس کی ریپ کرکے بعدازاں جلا کر مار دیا ۔ اف کیا عذاب ہے ۔ سنتے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ عذاب آنے کے نشاندہی ہوچکی ہے کیونکہ یہاں تو سارا سسٹم ہی ناکارہ ثابت ہوچکا ہے ۔ اگر یہ پہلا واقعہ ہوتا تو رونے پیٹنے کا عمل شائد اتنا شدید نہیں ہوتا ۔ زینب کے بعد علیشا اور اس قسم کے لگ بھگ ساڑھے چار ہزار کیسز ہمارے مجموعی ضمیر اور جنسی نفسیات کو آشکارا کرنے کے کافی ہونا چاہئے تھا ۔حکمران طبقہ ، میڈیا ، دانشور اور فلسفیوں کو اس قسم کی نفسیات کو بانپنا چاہئے تھا ۔ کیا ہمارا معاشرہ مکمل زوال پذیر ہوچکا ہے؟ کیا یہاں احساس نام کی کوئی شئے وجود نہیں رکھتا ہے؟ کیا ہمارے حکمران طبقہ ، میڈیا ، دانشور اور فلاسفر ردی کی ٹوکری میں ڈالنے قابل نہیں ہے؟ سیاست دان تو خیر سے کسی قابل ہی نہیں کہ وہ کوئی قانون ہی بنادیتے ۔کیا سماج کو بدلنے کا قرینہ کسی دانشور یا مذہبی پیشوا کے ساتھ موجودہے؟ یاد رکھئے ایسے ہیجان زدہ دوسرے الفاظ میں کینسر زدہ معاشرے زوال پذیر ہوتے ہیں ۔ ترقی کے خواب دیکھنا چھوڑئیے ۔ یہاں موت کا سوال ہے ۔جلد یا بدھیر موت ان کی دہلیز پر دستک دینے آہی جاتی ہے۔کیاآپ سمجھتے ہے کہ ہمارا سماج جنسی ہیجان کا شکار نہیں ہوا ہے؟ کوئی تو عقلی وجوہات ہے جس کی وجہ سے حیوان نما انسان بلکہ یوں کہے شیطانوںکا ٹولہ معصوم فرشتوں کو نوچنے آجاتے ہیں۔حیوان بے چارے تو معصوم اور بے شعورہوتے ہیں ۔ان پر الزام ٹھیک نہیں۔ کوئی کس طرح جنسی لذت میں اتنا آگے بڑھے کہ معصوم فرشتوں کو مار دے۔ اول الذکر کو ہی صحیح اور ٹھیک ثابت ہی نہیں کیا جاسکتا الّا کے اس کو مارا جائے الامان والحفیظ ۔

فرشتہ مومند کیس میں مجموعی ملکی نظام ، قانون ، عدالت ، پارلیمنٹ ، ادارے ، تفتیش کے نظام میں سوچنے اور سمجھنے کے لئے بہت سا مواد میسر ہے ۔ کسی صاحب اختیار کو فرصت ہو تو وہ سوچے ۔ہمارے حکمرانوں کو یہ زحمت ناگوار گزرتی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ یہ کاالانعام یعنی جانوروں کا معاشرہ ہے ۔ سوچنے سمجھنے کا یہاں کوئی یارا نہیں ہے۔عقل کو خاطر میں نہیں لایا جاتا ہے۔ بس ائی ایم ایف سے قرضہ کس طرح لینا ہے؟ ایمنسٹی کس کو دینی ہے؟احتساب کا بے معنی رٹ لگا کر کس طرح عوام کو مزید بے وقوف بنایا جاسکتا ہے؟ یہی سطحی باتیں روزانہ دہرائی جاتی ہے۔اور اس کو سیاست کا نام دیا جاتا ہے ۔گہرائی میں سماج کی ذہنیت کو سمجھنے اور اس کے کل ضروریات حل کرنے کا کسی کے پاس کوئی حل موجود نہیں ۔ اور یہ اس لئے موجود نہیں کہ ہر کوئی ایسے موقع کے تلاش میں اپنا نو من تیل نکالنا چاہتا ہے ۔ خداراں سوچئے ہم کہاں جار ہے ہیں ۔ہماری منزل کہاں ہے؟کب تلک ہم یوں ہی من حیث القوم بٹکھتے جائیں گے ۔اندازہ لگائے عین دار الحکومت اسلام آباد کے وسط میں وزیر اعظم کے گھر سے کچھ دوری پر ، ریاست مدینہ میں نزدیکی پولیس والوں کا یہ حال ہے کہ وہ گمشدگی کی ایف آئی تک نہیں کاٹنا چاہتی ہے۔ آخر کہاں پراپنی شکایت ریکارڈ کرائی جائے ؟ کوئی تو سننے والا نہیں ۔واہ بھائی واہ ہم نے پولیس کو بااختیار بنا کر یہی تیر مارنے تھے ۔قصداً عمداً تاخیری ایف ائی آر درج ہونے سے کیس کمزور ہوتا ہے ۔سب کو پتا ہونا چاہئے ۔دوسری طرف ہسپتال والے پوسٹ مارٹم نہیں کرتے ۔کیوں جناب ڈاکٹر صاحب موجود نہیں ۔مسیحا انکاری ہےکیوں، اس کو اجازت جو نہیں ہے۔بھلا پوسٹ مارٹم کرنے کے لئے کس سے اجازت درکار ہوتی ہے؟ہم بھی سنے تم بھی سنو۔آپ کو معلوم ہے یہا ں ہر کام کسی جنات سے اجازت لے کر کیا جاتا ہے۔جو معصوم فرشتے کے والدا اور بھائی کے ڈھارس بندھانے اور اس کے تسلی کے لئے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں ۔وہ غداز ٹہرائے جاتے ہیں۔سبجان اللہ کیا منطق ہے ۔ ڈھنگ کا کام کرنے والا یہاں مجنوں ، دیوانہ ، غدار اور پاگل لگتا ہے ۔ اپ نے دیکھا یہی ہماری نفسیات ہے ۔

اب دیکھتے ہیں کہ جب قانون و ائین نام کی کوئی شے یہاں مملکت خداداد میں موجود نہیں۔برائے نام ادارے مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قصہ ہے۔اب حالات یہ ہے کہ یہاں تو سیکورٹی اور معیشت کی ذمہ داری خود ہی لوگوں کو اٹھانا ہوگا۔ کسی پر بھروسہ نہیں رہا۔ سیاست کو سیاست تک رہنے دیتے تو مسئلے حل ہونے تھے۔ لیکن یہاں ہر مسئلے کو سیاست زدہ اور اپنے فائدے اٹھانے کے لئے سیاست کئے جاتے ہیں۔ سیاست خدمت ہے اور خلق خدا کے خدمت کے ذریعے اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی حاصل کی جاسکتی ہے لیکن یہاں اپنے ذاتی فائدے کے لئے سیاست کی جاتی ہے یہاں ہمارا شیوہ ٹہرا۔اس لئے مروجہ سیاست سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ ایسے میں مذہبی بہروپئے سیاست بیزارلوگوں کا شکار اسانی سے کرسکتی ہے ۔بہر حال سیاست ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے حقوق کی جنگ لڑی اورجیتی جاسکتی ہے۔ خیال رہے کسی مذاق ، اور دھوکہ باز کےآلہ کار نہ بن جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اخلاقی اور اصولی سیاست ہی ہمیں دوام تک پہنچاسکتی ہے۔ اپنا نکتہ نظر پیش کرنا ہر کسی کا حق ہے۔ اس پر قدغن لگانے سے مسائل مزید پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں۔

ایسے حالات میں میرا ماننا ہے کہ ریاستی مشینری مکمل طور پر ناکارہ ہوچکی ہے۔ اس کو تبدیل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔وہ تبدیلی نہیں جس سے لوگوں کی چیخیں نکل جائے۔ قانون کے مطابق ہر ادارے کو اپنے دائرہ اختیار کے اندر کام کرنا مہذب دنیا کا شیوہ ہوتا ہے۔ لیکن مملکت خداداد میں ہر ادارہ دوسرے ادارے کے کام میں ٹانگیں اڑانا اپنا صوابدیدی اختیار مانتے ہیں ۔یہاں قانون کا مطلب وہی ہوتاہے جو کوئی صاحب اختیار نافذ کرنا چاہتا ہے ۔ یہ انصاف کے ساتھ کھلا کھلواڑ ہے۔قانون عوام کی مرضی اور خوشی ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی ہے لیکن دراصل ہمارے قانون ساز ٹھیکداری کرنے، روڈ بنانے ، کھمبے لگانے،ٹرانسفارمر لگانے ، راستوں کے مرمت کرنے ، پاِئپ لگوانے ، اپنے بزنس کو بڑھانے وغیرہ جیسے کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ درحقیقت پارلیمنٹ کا کام قانون سازی ہے لیکن اس میں کوئی قانون کو سمجھنے اور قانون سازی کا اہل ہوگا تو ہی وہ بنا سکے گا ۔ یہاں صرف مستری ، بابو اور ٹھیکدار قسم کے قانون ساز لوگ آجاتے ہیں۔ جس کو قانون کے شد بد بھی نہیں معلوم ہوتے ۔اب آتے ہیں عدلیہ کے طرف جس کاکام قانون کی تشریح ہے ۔ اب اگر بنظرغائر دیکھا جائے تو عدلیہ کے ساتھ منسلک تما م عملہ خصوصاً لرنڈ جج صاحبان صرف درخواستوں پر غور کرتے ہیں ۔اکثرقانون کے تشریح کی جاتی ہے لیکن اس کے روح کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ حکومت کو قانونی سقم دکھانا چاہتے ہی نہیں ۔بیشتر اوقات کوئی سفارش نہیں بھیجتی ۔اس مد میں عدالت قانون کی تشریح کیا، اس کوختم یا اپنے مرضی کے مطابق نافذ العمل کرنا چاہتی ہیں ۔ ختم شُد

نصیر اللہ خان
نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *