• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • ڈاکٹر خالد سہیل کی نظم “بوڑھی آنکھیں “پر میرے سوال کی وضاحت۔۔۔فیصل فارانی

ڈاکٹر خالد سہیل کی نظم “بوڑھی آنکھیں “پر میرے سوال کی وضاحت۔۔۔فیصل فارانی

ڈاکٹر خالد سہیل اور اُن کی تخلیقات کے ساتھ میری عقیدت کا رشتہ گزشتہ ستائیس سال پرانا ہے اتنا پرانا کہ جب پہلی بار اُن کا ایک افسانہ “ اپنے دور کے یوسف کی ماں “ انڈیا سے شائع ہونے والے ایک ادبی مجلہ میں شائع ہوا اور مجھے اس افسانے کے مندرجات سے اختلاف ہوا تو سوچا کہ اختلاف کرنے کے بجائے اُس افسانے کے جواب میں ایک افسانہ لکھا جائے جو اسی انڈین ادبی مجلے “شاعر” میں شائع بھی ہوا
خالد سہیل کی شاعری اور افسانوں کا مَیں شروع سے ہی مداح رہا ہوں اور آج بھی ہوں ۔ اُن کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی وجہ سے ہی خالد سہیل کے مقابلے میں مجھ جیسے جونئیر شاعر اور افسانہ نگار اتنی ہمت کرسکتا ہے کہ ان کی کسی نظم پر کوئی سوال کرنے کی جرات کرسکے، اور یہ خالد سہیل کی محبت اور خلوص ہی ہے کہ وہ مجھ جیسے جونئیر لکھنے والوں کے کسی بھی سوال کا جواب بہت محبت سے دیتے ہیں ۔

خالد سہیل کی نظم “ بوڑھی آنکھیں “ پر میرے سوال کو بالکل ہی مختلف انداز سے دیکھا اور پڑھا گیا ہے
مجھے اِس نظم کے نفسِ مضمون پر کوئی اعتراض نہیں ، کوئی سوال نہیں
خالد سہیل نے ایک شاعر کے طور پر اپنی ماں کی محبت اور اپنی ہجرت کے حوالے سے اس نظم میں جو کچھ کہا ، مَیں ایک قاری ہونے کے ناطے اسے سمجھ رہا ہوں اور اس سے متفق بھی ہوں ۔
یہ بھی مانتا ہوں کہ شاعر اپنی نظم میں کسی بھی سوال کا جواب دینے کا پابند نہیں ہوتا۔
شاعر کوئی جواب نہ بھی دے تب بھی مَیں اِس نظم کے ایک خاص حصے کے حوالے سے اپنا یہ سوال ایک ذہین قاری کے ساتھ ضرور شئیر کروں گا

ذہین قاری ، خالد سہیل کی اِس نظم “ بوڑھی آنکھوں “ کا یہ حصہ پھر سے دیکھیں :

“ میری ماں کی اندھی محبت
میرے پاؤں کی زنجیر بنی تھی
مَیں نے اُس زنجیر کی خاطر
ہجرت کا اک زہر پیا تھا “

جب محبت پاؤں کی زنجیر بن جائے تو اس کا مطلب کیا ہوتا ہے ؟

اُس محبت کی زنجیر کی خاطر ہجرت کرلی جائے ؟ محبت کی زنجیر پاؤں میں اسی لئے ڈالی جاتی ہے کہ جس سے محبت ہے وہ کہیں دُور نہ جا سکے

میرا سوال اس نظم کے نفسِ مضمون کے متعلق ہرگز نہیں تھا بلکہ کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ ماں کی وہ محبت جو
“میرے پاؤں کی زنجیر بنی تھی “
اس حوالے سے نظم میں الفاظ کے چناؤ پر تھا

پھر سے پڑھیں :

“میری ماں کی اندھی محبت
میرے پاؤں کی زنجیر بنی تھی
میں نے اُس زنجیر کی خاطر
ہجرت کا اک زہر پیا تھا “

میرا سوال اس نظم میں صرف الفاظ کے مناسب چناؤ کے حوالے سے تھا

اگر ماں کی محبت پاؤں کی زنجیر بن گئی تھی یعنی ماں کی محبت کی زنجیر کہہ رہی ہے کہ کہیں دُور نہیں جانا لیکن شاعر اسی محبت کی زنجیر کی خاطر ہجرت پر مجبور ہوجاتا ہے

خالد سہیل کو اس محبت کی زنجیر کی خاطر نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے اُس محبت کی زنجیر کو توڑنے کی وجہ اس نظم میں بیان کرنا چاہئے تھی ۔
اور اس نظم میں ایسی کوئی وجہ مجھ جیسے قاری کو نظر نہیں آ رہی

اگر کسی وجہ سے ماں کی محبت کی زنجیر جو اُس نے اپنے بیٹے کے پاؤں میں ڈال رکھی تھی، شاعر بیٹے نے اگر اپنی نظم میں اپنی ہجرت کو اُس محبت کی زنجیر کی خاطر نہیں بلکہ اگر اُس زنجیر کو توڑ کر ہجرت کی بات کی ہوتی تو یہ سوال کھڑا ہی نہ ہوتا

امید ہے کہ ان تفصیلات کے بعد نظم میں مناسب الفاظ کے چناؤ کے حوالے سے میرے سوال کو درست سمت میں سمجھا جائے گا

فیصل فارانی

فیصل فارانی
فیصل فارانی
تمام عُمر گنوا کر تلاش میں اپنی نشان پایا ہے اندر کہِیں خرابوں میں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”ڈاکٹر خالد سہیل کی نظم “بوڑھی آنکھیں “پر میرے سوال کی وضاحت۔۔۔فیصل فارانی

  1. فیصل فارانی کی بات میں وزن ہے ۔ الفاظ کے چناؤ کا بس سوال ہے ۔۔ ڈاکٹر صاحب کے خواب یا ان کی امی کی خواہش یا قربانی کی بات ہی نہیں فارانی کے سوال میں اٹھائی گئی ۔۔ بات کو خواہ مخواہ پچیدہ کیا جا رہا ہے ۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *