غزل۔۔۔۔فیصل فارانی

جو  مِرے  جیسا  ہی   پاگل  سا ہُوا  کرتا  تھا

اب کسے میری طرح پھرسے کرے گا پاگل

ہوش نہ  آئے تو خوش بختی ہی ہوگی ، ورنہ

ہوش کی آگ میں کیسے یہ جلے گا پاگل

ہوش والو ! مجھے  مدہوشی میں گُم رہنے دو

ہوش میں آگیا تو کیسے جئے گا پاگل

عقل  کی راہ پہ چاہتے ہو کہ مَیں ساتھ چلوں ؟

چھوڑ کر عشق و جُنوں کیسے چلے گا پاگل

اس لئے اُس کو دِکھاتا نہیں آنسو اپنے

ہنستے ہنستے وہ مجھے پھر سے کہے گا “ پاگل “

فیصل فارانی
فیصل فارانی
تمام عُمر گنوا کر تلاش میں اپنی نشان پایا ہے اندر کہِیں خرابوں میں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”غزل۔۔۔۔فیصل فارانی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *