داستانِ زیست۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط8

تعارف:

محمد خان چوہدری کا تعلق چکوال کے ، بجنگ آمد کے  مصنف کرنل محمدخان کے قبیلہ سے ہے، جن کی چھاپ تحریر پر نمایاں ہے، میجر ضمیر جعفری بھی اسی علاقے سے ہیں انکی شفقت بھی میسر رہی، فوج میں تو بھرتی نہ ہو سکے لیکن کامرس میں پوسٹ گریجوایشن کر کے پہلی ملازمت فوج کے رفاعی ادارے میں کی، پھر اِنکم ٹیکس کی وکالت کی، لیکن داستان نویسی میں چکوال کی ثقافت حاوی ہے، مکالمہ  پر  ان کی دو درجن کہانیاں چھپ چکیں ہیں  ، آج کل داستان زیست قسط وار بیان کر رہے ہیں۔

گزشتہ قسط

اتنی دیر میں ویٹر کھانا لے آیا ، بوتل بھی خالی ہو چکی تھی، کھانا مل کے کھایا، شاہ اتنی دیر غائب رہا،ہم نے ذہن پہ زور ڈالا ، لیکن موزوں نسخہ کیسے یاد آتا جب تک علامات، شبہات اور کچھ اتصال بارے تفصیل نہ ہو۔۔۔
ہم اٹھ کے کھڑے ہوئے تو فرحی نے ہاتھ تھام لیا، وہ بھی اٹھی، یوں کہ ہم متصل تھے،اس کی آنکھوں کے ڈھیلوں کا رنگ گاڑھا ہو گیا، بولی، پلیز ہلپ می، ناں ۔۔

کمر کو  بازو  کے گھیرے میں لیتے ہوئے   اس کے ماتھے اور ہماری چھاتی کے کرنٹ منطبق تھے ۔۔۔۔ہم نے کہا۔۔کل انٹرکان میں لنچ کے بعد یہاں یا مناسب جگہ ملتے ہیں، دعا کرو نانی شہراں کے نسخوں والی ڈائری مل جائے۔
وہ تو چُپ رہی لیکن اس کا رُوں رُوں آمین آمین کہہ رہا تھا۔۔

آٹھویں قسط
شام ہوئی ، تھکن سے زیادہ خُمار تھا، شارٹس اور ٹی شرٹ پہنے راکنگ چیئر پہ بیٹھے جھولے لیتے، سائیڈ ٹیبل پہ  پیناسونک کا سٹیریو ڈبل سپیکر والا ٹیپ ریکارڈر ، رائل سلیوٹ کی بوتل، جگ گلاس سب بندوبست اے ون تھا۔۔۔۔
بس وقفے سے فریج سے آئس کیوب لانی پڑتی، ویسے ڈرنک کرنے کا بہترین اصول  ہے کہ کم پیو، اکیلے پیو، اور آہستہ  آہستہ پیو، ہمیں یہ پتہ ہے اور سنگل پیگ بھی آدھے گھنٹے میں سپ کرتے ختم کرتے ہیں، لیکن  ہمارے ہاں ڈرنک کا عمومی انداز سکھ بھائیوں جیسا ہے، پہلے بڑے گھونٹ سے سر میں ٹھاہ کی آواز لگنی چاہیے۔۔۔
میچیور  سکاچ یا کسی اور وہسکی کو تو سپ کرنا ہوتا ہے، لتا منگیشکر کے لندن پروگرام کی کیسٹ لگائی ، اس میں سارے پرانے گانے وہی تھے جو ہم ہاسٹل میں ریڈیو پر سنتے تھے، ہر گانے کے موسیقار ، دھن کے راگ،اس پہ  لفظ بٹھانے والے شاعر کا نام ، فلم اور جس اداکارہ پر گانا فلمایا گیا ، اس وقت تو سب یاد ہوتا تھا۔۔۔۔بلکہ مینا کماری پر فلمائے شکیل امروہی کے لکھے اور نوشاد کی موسیقی دینے سے جڑے واقعات بھی معلوم ہوتے تھے ۔اب یہ معلوماتی خزانہ کچھ گُڈ مڈ ہونے لگا تھا۔پھر بھی ہم مدھو بالا، مینا کماری ، ریکھا کے ساتھ محو رقص رہے، پیگ ختم ہو گیا، کیسٹ کی ایک سائیڈ بھی تمام ہوئی ۔
وہاں  سے اُٹھے ، پلیئر بند کیا، واش روم گئے، آئینے میں اپنا تمتماتا چہرہ دیکھا، لگا کہ فرحی بھی ہمیں دیکھ رہی ہے۔۔۔پتہ نہیں  کیوں منہ پہ  پانی کے چھینٹے مارے، تولیہ تو باہر برآمدے میں بندھی ڈوری پر لٹکا تھا، برآمدے میں تھے  کہ مانوس سے کار کے ہارن بجنے کی آواز آئی ، گیٹ کھولا، سامنے جی ایم صاحب کی گاڑی تھی۔۔
انہوں نے اترتے  وقت قہقہہ لگاتے ہوئے  کہا ، ہم شرط جیت گئے،فرنٹ سیٹ پہ  ہمارے یار خاص ، پی ٹی وی کے  انجینئر صاحب تھے، پچھلی سیٹ سے جی ایم کا ملازم اترا، اسکے ہاتھ میں ایک بڑا ڈونگہ اور کچھ برتن تھے۔۔۔ہم حیران، پریشان اور خوش ہو گئے۔
راجہ صاحب نے بتایا کہ ہماری شرط یہ لگی تھی ، تم گھر ہو گے یا نہیں، انجینئر صاحب کی ضد تھی کہ نہیں  اور مجھے یقین تھا کہ  تم گھر ہی  ہو گے، انجینئر صاحب دو ہفتے سے سکیسر میں تھے، ٹی وی ٹرانسمیٹر کی تنصیب کرانے گئے تھے۔
اس سے پہلے مری ٹرانسمیٹر جہاں بجلی بند ہونے سے اکثر ٹی وی پر انتظار فرمائیے  کا شزرہ دکھائی  دیتا، اسے ٹھیک کرتے رہے، بہت قریبی رفیق اس غیر حاضری کی وجہ سے ہمارے استعفی سے بے خبر تھے۔
اب بیٹھک میں محفل جمی، راجہ صاحب کو شک تھا کہ ہمارے پاس کراکری نہیں  ہو گی،اس لئے برتن ساتھ لائے۔۔۔شرط میں ہارنے والے نے ڈنر دینا تھا، اور وہ بھی لالکرتی بازار کی مشہور دیسی گھی کے تڑکے والی دال کے ساتھ۔
ملازم کو ڈونگہ اور دھجی دے کے بازار بھیجا، دال والا ہوٹل سرگودھا کے ایک چاچے کا تھا، دال وہ خود پکاتا، گاہک کو اس کے سامنے دیسی گھی جو اس کے تھڑے کے ساتھ پڑے ٹین میں ہوتا فرائی  پین میں تڑکا لگا کے دیتا، نان ساتھ تندور سے گاہک خود لیتا، ٹیبل اور کرسیاں تھیں ، لوگ وہاں بیٹھتے، زیادہ  تر خود اپنے برتن لاتے اور دال گھر لے جاتے، لنچ پہ  صدر تک بڑے افسر بھی چاچے پاس آتے ۔ ایک ہیلپر تھا، جو برتن سمیٹنے اور دھونے کا کام کرتا باقی سب سیلف سروس۔
ملازم کھانا لینے گیا، ہم نے گلاس، برف پانی میز پہ سجا دیا،ملازم ایک شاپر کچن میں چھوڑ گیا، ڈرائی  فروٹ اور میوے تھے۔وہ بھی ٹرے میں رکھے ہوئے ۔
بوتل ٹائٹ بند تھی، راجہ صاحب کو تھمائی  کہ”سر آپ اس کی سیل کھولیں”۔۔۔۔

مال روڈ راولپنڈٰی

راجہ صاحب تو گھاگ تھے، انجینئر کو مخاطب کرتے کہا، آج کل تمہارا دوست کھلی سیل کو بند کرنے کا کام کرتا ہے۔
یار ایک زبردست نگ اسے مل گیا ہے،ہم نے پیگ بنائے ،چیئرز کی صدا بلند ہوئی ۔
ہماری آپس میں بے تکلف دوستی اور راز و نیاز تھے، فرحی کی کہانی راجہ صاحب نے چسکہ لے لے کی سنائی  ، بوتل آدھی ہو گئی۔۔
راجہ صاحب نے اچانک مجھ سے پوچھا، دن کی ڈیٹ کیسی رہی ، ہم سٹپٹا گئے۔۔ آپکو کیسے پتہ ؟
مسکرا کے بولے ، سڑک سے ہوٹل کے اندر پارکنگ نظر آتی ہے، آفس سے نکلنے کے دو گھنٹے بعد بھی تمہاری یہ سرخ  ڈڈُو کار وہاں تھی، اب انجینئر صاحب کو گزشتہ دنوں کی واردات جزئیات کے ساتھ سنانی پڑیں ، کہیں جھول آئی  تو باس نے فوری لقمہ دے دیا۔۔
پھر دونوں سنجیدہ ہو گئے، مشورہ بلکہ حکم صادر ہوا، صبح فرحی کے ٹیسٹ چیک اپ ہونے چاہئیں، ڈی این سی بھی کرا دینا چاہیے، باس نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ اس سے شادی کر لو ۔۔
ہم نے گفتگو سفارت خانے کی طرف موڑ دی۔۔
پہلا مسئلہ رہائش کا تھا، لالکرتی سے روزانہ اسلام آباد آنے جانے کے ساتھ اس مکان کے اصل کرایہ دار دبی زبان میں ایک بھائی  کے واپس آنے کا تذکرہ کر چکے تھے، تفصیلی بات کے دوران انجینئر نے چاندنی چوک کے پاس بی بلاک کی ایک کوٹھی میں ہزار روپے ماہوار پہ سنگل بیڈ روم رہائش کی حامی بھر لی، ملک صاحب کا گھر تھا جو ٹی وی کو لائٹس سپلائی  کرتے تھے۔
جی ایم صاحب تھری اپ ہو چکے، جیب سے کاغذ نکالا، جو میرے فائنل ڈیوز کا حساب تھا، فرمانے لگے اتنے قرضے اور ایڈوانس ملک کے نہیں، جتنے تم نے لے رکھے ہیں، کار رشید فورمین لینا چاہتا ہے ایڈوانس کا بقایا اس کے نام ہو گا۔۔۔
نقد چھ ہزار دینے کو تیار ہے، باقی سارے حساب جمع کر کے بنک اوورڈرافٹ نکال کے گیارہ ہزار سات سو کا چیک صبح مل جائے گا۔
شُکر ہے ملازم دال روٹی لے آیا، ورنہ میری فضول خرچی پر دونوں محترم رات بھر لیکچر دیتے۔
کھانا بلکہ دال میز پہ  مختلف رنگ و نسل کی پلیٹوں میں سرو ہوئی  ، نان ہاتھ میں پکڑے کھانا کھایا گیا۔۔۔ملازم ہوشیار نکلا وہ ہوٹل پہ خود کھا کے آیا، اس نے برتن سمیٹے ، ون پیگ ایچ فار روڈ کی ہم نے صدا دی،کہ میزبان کا یہ میکداتی فرض ہے۔۔
راجہ صاحب کچھ کہنا چاہتے تھے ، لیکن چُپ تھے، میں نے چھیڑا کہ آپ نے کیسے فتوی دیا ، فرح پریگننٹ نہیں  !
کہنے لگے اس کے چہرے پر وہ پیلاہٹ کی جھائیں نہیں  نظر آتی، کوئی  اور مسئلہ ہو گا، تم پہلے صفائی  ستھرائی  تو  کرا لو، ویسے بہت اعلی ذوق کی خاتون ہے، تم دوستی کر لو وہ ٹھیک ہو جائے گی۔
میں نے دوبارہ چھیڑا آپ کچھ چھپا رہے ہیں ، ساتھ انجینئر کی ” آہو “۔۔ بھی بلند ہوئی۔
راجہ صاحب نے لمبی سانس لی توقف کیا، پھر کہا، اگلے ہفتے میں بھی یہ جاب چھوڑ رہا ہوں۔۔
ہم دونوں کا تراہ نکل گیا، انجینئر نے پہل کی، بولا، سر آپ اس ادارے میں سب سے زیادہ تنخواہ دار ہیں۔
میں نے گرہ لگائی ، آپ کی سویلین میں سب سے زیادہ عزت ہے،سر وجہ بتائیں۔ مجھے گھور کے دیکھ کے کہا ” تُم”۔۔۔
اب یہ تو اتنا سخت شاک تھا ، میں کھڑا ہو گیا، بولتے آواز رندھ گئی، سر آپ میرا استعفی روک دیتے،مجھے منع کر دیتے، میں جنرل صاحب سے ملنے تک استعفی واپس لے سکتا تھا، ایمبیسی سے معذرت کر لیتا!

راجہ صاحب کی صدر میں رہائش گاہ ۔مسز ڈیوس پرائیوٹ ہوٹل انیکس۔

انجینئر نے تائید کی، کہ آپ میرے واپس آنے تک اسے روکتے پھر مل کے فیصلہ کرتے، یہ جہلم کی بجائے یہیں ہیڈ آفس ٹرانسفر کرا لیتا،سر۔۔۔
راجہ صاحب نے پٹیالہ پیگ خود بنایا، صرف برف ڈالی، ہیوی آئس آن راکس پیگ سے دو گھونٹ لئے اور فرمایا  زیادہ جذباتی نہ ہوں۔ یہ مجھے بہت عزیز ہے، بلکہ پراجیکٹ میں یہ میرا ورکنگ ہینڈ ہے ورنہ اتنے ریٹائرڈ فوجیوں کے ساتھ میرا  گزارہ نہیں  ہو سکتا، لیکن اسے موقع  ملا، مجھے خوشی ہوئی  کہ میرے ہوتے عزت وقار سے یہ رخصت ہو رہا ہے۔
میں تو دو ماہ سے سوچ رہا ہوں کراچی جا کے اپنی کنسلٹنسی فرم اسٹیبلش کروں ،یہ سوچ بھی آئی  کہ اسے ساتھ لے جاؤں لیکن اس کے لئے مناسب نہیں  لگا، میں خوش ہوں ،اب چلتے ہیں۔۔۔
مجھے مخاطب کرتے تاکید کی کل آفس سے ڈیوز لے لو، کار کا رشید سے طے ہو جائے گا، فرحی کو مت بھولنا،انجینئر سے کہا کل اس کی رہائش کا بندوبست ہونا چاہیے۔۔
ملازم نے برتن اٹھائے، انجینئر بھی ساتھ اور وہ لوگ چلے گئے،
بہت دیر اس بات پہ  غور کیا کہ اگر اب فرشتے نہیں  آتے تو ان کی جگہ راجہ صاحب جیسے انسان ڈیوٹی کرتے ہیں۔

ہم نے دھیان بٹانے کے لئے بک شیلف کھول لی، نچلے خانے میں ایک نیلے کپڑے کا بستہ پڑا تھا، جھاڑ کے کھولا۔۔۔۔نانی شہراں کے نسخوں والی ڈائری مل گئی تھی۔۔
تلاش کرتے نسوانی ماہواری ڈسٹرب ہونے کے علاج کا نسخہ سامنے آیا، میتھیلیٹڈ سپرٹ اور چند جڑی بوٹیوں کے  دو مکسچر کی ترکیب تھی، ساتھ نوٹس میں لڑکیوں کی غلط کاری کی عادات اسباب اور علامات کا ذکر تھا۔۔
ڈائری  پر نشانی لگا کے سائیڈ ٹیبل پہ  رکھ دی۔۔سونے سے پہلے دعا کی، اور ذہن میں طے کیا کہ کل سارے معاملات نپٹانے ہیں۔
جاری ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *