شبر زیدی ” ایک اور ناکام تبدیلی”۔۔۔علی اختر

تبدیلی سرکار نے کچھ عرصہ پہلے ایف بی آر کے چیئر مین کے طور پر ملک کے سینئر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ محترم شبر زیدی صاحب کا تقرر کیا ہے ۔ بے شک انکی قابلیت پر کوئی  اعتراض نہیں ۔ یقیناً  وہ کارپوریٹ سیکٹر کی طرف سے ٹیکس بچانے یا کم سے کم ٹیکس ادا کرنے کے سارے طریقوں سے واقف ہونگے کہ  ساری عمر یہی ایڈوائزری کی ہے ۔ میں یہاں دانستہ ٹیکس چوری کا لفظ نہیں لکھ رہا کہ  ٹیکس کنسلٹنٹ کا اصل کام ٹیکس پلاننگ کرنا اور سکھانا ہے ناکہ  چوری ۔ سو امید ہے کہ  ٹیکس کی کلیکشن کے طریقے کار اور حجم میں خاطر خواہ ترقی ہوگی۔

ہاں ایک اور بات کہ  کیا اس سے ملکی معیشت پر کوئی  خاص فرق پڑے گا ؟۔۔۔تو اسکا جواب “نفی ” میں ہے ۔ اسکی “نہ “کی  پہلی وجہ یہ کہ  شبر زیدی کوئی  ایکونومسٹ یا ریولوثنری   سوچ کے حامل آدمی نہیں ہیں ۔ انکے مقاصد بھی وہی پرانے روایتی لوگوں والے ہونگے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصول کرنا ہے ۔ ریونیو بڑھانا ہے ۔ ڈاکیومنٹیشن   کرنی ہے اور بس ۔ یہ ساری پرانی باتیں جب سے پاکستان بنا ہے ہو رہی ہیں اور ہم ان سب اقدامات کے باوجود معاشی طور پر پیچھے ہی جاتے جا رہے ہیں ۔ تو اس وقت کچھ ایسے انقلابی اقدامات درکار ہیں جو ہمارے معاشی مسائل کو حل کرنے میں مددگار ہوں ۔

پہلا سب سے بڑا مسئلہ کہ  لوگ ٹیکس کیوں نہیں دینا چاہتے ۔ تو جواب واضح ہے کہ  جب بدلے میں کچھ نہ ملے تو لوگ ایویں ہی پیسے کیوں دیں ۔ سوچنے کی بات ہے کہ  اس ملک میں ایسے بہت سے ادارے ہیں جو عوام کی امداد پر چلتے ہیں ۔ ایدھی صاحب کی مثال ہمارے سامنے ہے جنہوں نے دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایمبولینس سروس قائم کی اور وہ بھی عوامی امداد سے ۔ دوسری جانب وہی عوام حکومت چلانے کے لیے  پیسے دینے کو تیار نہیں ۔ اسکی وجوہات پر میں بحث نہیں کرونگا کہ  یہ سب کے سامنے واضح ہے ۔ کسی ایک آدمی کی ایمانداری، مخلص ہونے یا شوکت خانم ہسپتال بنانے سے کچھ نہیں ہوتا جبکہ نیچے کا سارا اسٹاف ،ساری حکومتی مشنری کرپٹ ، نا اہل اور خود غرض ہو ۔ دوسری طرف جب عوام کو صحت ، انصاف ،امن و امان ، سفری و کاروباری سہولیات نہ ملیں یا ملتی نظر نہ آئیں تو ایسے میں لوگوں سے کس منہ سے اور کس کام کے لیئے پیسہ وصول کیا جا رہا ہے یہ جسٹیفائی  کرنا مشکل ہو جاتا ہے تو کچھ توجہ اس مسئلے کے حل کی جانب بھی ۔۔

دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ  ٹیکس کلیکشن کسی بھی ملک کی معاشی سرگرمیوں کا ہی ایک حصہ ہوتا ہے ۔ اکونومک سسٹم میں ایک کا خرچ دوسرے کی آمدنی بنتا ہے اور دوسرے کا خرچہ تیسرے کی آمدنی ۔ پیسہ جتنے ہاتھ بدلے اتنا ہی  ضرب   ہوتا ہے اور اتنا ہی ٹیکس بھی جنریٹ ہوتا ہے ۔ دیکھا جائے تو پاکستان کی موجودہ معاشی سرگرمیوں کے مقابلہ ٹیکس کی کلیکشن اتنی بری بھی نہیں ہے۔ اگر ٹیکس کی کم وصولی یا ٹارگٹ پورے نہ ہونے کا رونا رویا جائے تو دوسری جانب یہ بھی تو دیکھا جائے کہ  ہم گنے کے بجائے بھگاس سے رس نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ کلیکشن کے لیے ضروری ہے کہ  ملک میں معاشی و کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے ۔ اسکے علاوہ انڈائریکٹ یعنی سیلز ٹیکس  میں تو ہم فقیروں اور بستر مرگ پر پڑے مریضوں تک سے ٹیکس وصول کر رہے ہیں ۔اب ٹیکس ڈائریکٹ ہو یا ان ڈائریکٹ جانا تو حکومت کے خزانے ہی میں ہوتا ہے۔

ہمارا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ  ہم حقیقت کی دنیا سے دور ایک تخیلاتی دنیا میں وقت گزارتے ہیں ۔ اربوں کی فارن انویسٹمنٹ ملک میں لانے کی باتیں کرتے ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ  ملک میں موجود پیسہ بہت عرصہ سے باہر شفٹ ہو رہا ہے ۔ رشوت خوری ، نا مناسب حالات ، مہنگی توانائی اور ناقص پالیسیوں کے سبب ٹیکسٹائل سمیت بہت سی انڈسٹری دوسرے ممالک میں شفٹ ہو چکی اور باقی ہو رہی ہے ۔ رہی سہی کسر دھرنوں اور سول نافرمانی کی تحریکوں کی بدولت پوری کی جا چکی ۔ جو کسی مجبوری کے تحت کا م کر بھی رہے ہیں تو حکومتی ادارے بجائے تحفظ و سہولت فراہم کرنے کے محض اپنے پیسے بنانے میں مصروف ہیں ۔

ویسے کتنی  کرپشن ایف بی آر میں خود ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ  اگر شبر زیدی اسکا دس فیصد بھی ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہی انکا بہت بڑا کارنامہ ہوگا ۔ باقی معاشی مسائل پر پھر کبھی تفصیل سے لکھیں گے ۔ اللہ ہمارے ملک پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔آمین

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *