میں خدا کو نہیں مانتا ۔۔۔۔۔علی اختر/قسط5

ترکی زبان کے کورس “تومر” میں میرے ساتھ اکثریت شامی، یمنی اور فلسطینیوں کی تھی ، پھر ایرانیوں کا نمبر تھا ۔ سیاہ فام کیمرونی اور صومالی بھی چند ایک تھے ۔ رشین اور آزری بھی ۔ چائنا کے سنکیانگ کے ترک ، اور ایک آدھ افغانی بھی ۔ واحد میں پاکستانی تھا ۔ عرب سارے ہمزبان ہونے کے باعث ایک گروپ میں تھے اور ایرانی الگ گروپ میں ۔ واضح رہے کہ  یہ ایرانی سیاہ چادروں والے نہیں تھے بلکہ پھٹی جینز، جسم پر ٹیٹو اور ہم جنس پرستی کی حمایت کرنے والے بگڑے ہوئے ایرانی تھے ۔ جنکی ایران میں کوئی  جگہ نہیں تھی ۔

یہ ایک الگ تجربہ تھا ۔ الگ الگ ممالک ، کلچر کے لوگوں کے ساتھ ملنا ، انکی زبان ، لباس ، رہن سہن کا مشاہدہ ۔ سب سے الگ یہ کہ  ایک ایسے استاد سے ترکی زبان سیکھنا جو خود ترکی کے علاوہ کوئی  زبان نہیں سمجھتا ۔ لیکن “یوسف حوجا ” تھے بہت ہی اچھے انسان ۔ بہت محنت سے پڑھاتے ۔ کلاس میں لوگوں کو محظوظ بھی کرتے ۔ ہنسی مذاق بھی کرتے ۔ مجھے اندازہ ہوا کہ   وہ ترک کلچر اور ترکی کے علاوہ باہر کی دنیا یا زبانوں کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں اور سکھانے کے ساتھ ساتھ سیکھنے کی بھی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ جب کوئی  اپنے ملک یا کلچر کے بارے میں کوئی  بات کرتا تو بہت تجسس سے سنتے اور مزید سوالات بھی کرتے ۔

میں خدا کو نہیں مانتا ۔۔۔علی اختر/قسط 4

یوسف حوجا کی طرح میں نے زیادہ تر ترکوں کو ایک کوزے  میں بند پایا ۔ اسکی بڑی وجہ انگریزی کا نا جاننا تھا ۔ یا صرف ترکی زبان ہی کا بولنا اور اسمیں تعلیم حاصل کرنا تھا ۔ بہت سے پاکستانی لوگوں کی طرح میں بھی انگریزی میں تعلیم کے خلاف ہی بولتا تھا لیکن ملک سے باہر وقت گزار کر میرا یہ نظریہ یکسر تبدیل ہو گیا ۔ انگریزی ہی نہیں خواہ کوئی  بھی زبان ہو اسکا سیکھنا فائدہ مند ہی ہے ۔ ہاں بس محض ایک زبان کو عقل مندی، اسٹیٹس، یا پڑھے لکھے ہونے کا معیار سمجھنا اور اپنے ہی ہموطنوں کے درمیان اسکا فخریہ استعمال ایک بیکار اور غلامانہ سوچ کے سوا اور کچھ نہیں ۔ بہر حال انگریزی سمجھنا اور بولنا ہمیں بہت سی جگہ لوگوں سے بات چیت میں مدد دیتا ہے ۔ ساتھ ساتھ انٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹس اور تجزیات کو فورا ً سمجھ لینے میں بھی ہم دوسروں سے بہت آگے ہوتے ہیں ۔

یہاں یہ بھی مشاہدہ میں آیا کہ  ایران کی لڑکیاں ناصرف بہت خوبصورت ہیں بلکہ جب وہ اپنے مخصوص لچکدار سے لہجے میں فارسی بولتی ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کانوں میں کو ئی  رس گھول رہا ہے ۔

میری مادری و پدری زبان اردو ہے ۔ لشکر کی زبان ۔ اسکی ابتدا بھی مختلف زبانوں سے مل کر ہوئی  ۔ حتی کہ  اسکا اپنا نام بھی ترکی زبان کے لفظ “اوردو” سے مستعار ہے جسکا مطلب لشکر ہے ۔ آج بھی ہم کسی بھی زبان کا لفظ بغیر کسی حیل و حجت کے اپنی روز مرہ کی زبان میں شامل کر لیتے ہیں ۔ جبکہ ترک موجودہ دور کی ایجادات کو بھی اپنی زبان کے نام دیتے ہیں ۔مثلاً”کمپیوٹر” کو اردو میں کمپیوٹر ہی کہا جاتا ہے لیکن ترکوں نے الگ نام “بلگسیار” متعارف کرا کر اسے اپنایا ۔ ایسی کئی  مثالیں میں دے سکتا ہوں لیکن موضوع سے دور ہو جاؤنگا ۔

مختصر یہ کہ  کچھ ہی دن میں سبھی کے ساتھ اچھی خاصی دوستی ہو گئی  ۔ عرب اپنے ممالک میں جاری خانہ جنگی کے باعث یہاں آئے تھے ۔ ایرانی روزگار اور آزادی جبکہ دیگر افراد بھی روزگار اور بہتر مستقبل کے لیئے یہاں موجود تھے ۔

میری ایرانیوں اور عربوں دونوں سے ہی اچھی دوستی تھی ۔ وہ حیران تھے کہ  میں ان دونوں کی زبان پڑھ اور لکھ سکتا ہوں ۔ ایرانیوں کو میں وقتا ً فوقتاً فارسی اشعار سنا کر حیران کر دیتا تھا ۔ ایک بار صبح کی کلاس میں جب میری ایک کلاس میٹ “مریم” کلاس میں داخل ہوئی تو میں نے بے ساختہ مولانا جامی کا ایک فارسی شعر اسکی جانب اچھالا ۔
صبح دم چوں رخ نمودی شد نماز من قضاء
سجدہ کے باشد روا چوں آفتاب آید بیروں
(تم نے صبح صبح اپنا چہرہ دکھا کر میری نماز قضا کروادی ۔ بھلا آفتاب نکلنے کے بعد سجدہ کیسے جائز ہو سکتا ہے)
شعر سنتے ہی وہ بیساختہ واپس آئی اور مجھ سے پوچھا کہ  کیا میں جانتا ہوں کہ  اس شعر کا مطلب کیا ہے ۔ میں نے اثبات میں جواب دیا تو مسکرا کر اپنی جگہ بیٹھ گئی  پھر کلاس کے آخر میں اس نے مجھ سے پوری غزل اپنے رجسٹر میں نقل کرائی ۔

اسی طرح ایک اور موقع پر جب ہماری کلاس کو اپنے سے اگلے درجے کی کلاس کے طالب علموں سے ملوایا گیا تو ایک ایرانی سینئر اسٹوڈنٹ نے جو کے دبئ میں رہ کر کچھ اردو سیکھ چکا تھا مجھے ٹوٹی پھوٹی اردو میں مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔ “اقبال کا کوئ شعر سنا ۔ ” اور جواب میں میں نے علامہ اقبال کے کچھ فارسی اشعار کلاس میں سنائے ۔

دم چیست ۔ پیام است شنیدی نہ شنیدی
در خاک تو یک جلوہ عام است نہ دیدی
دیدن دگر آموز، شنیدن دگر آموز

اس سینئر اسٹوڈنٹ سمیت دیگر ایرانی اور افغانی اسٹوڈنٹس بھی کچھ دیر کو یہ کلام سن کر مبہوت ہو گئے ۔ اسکے بعد میری کچھ اور دھاک کلاس میں بیٹھ گئی تھی ۔ گو بات آپس میں انگریزی ہی میں ہوتی تھی ۔ لیکن ایرانیوں سے دوستی کچھ زیادہ ہی ہو چکی تھی ۔ اب وہ میرا انتظار کرتے ۔ ملتے تو ہنسی مذاق کرتے ۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *