کٹی پتنگ۔۔۔۔عبیداللہ چوہدری

پہاڑ پر گھر بنا کر رہنا ایک ایسی خواہش تھی کہ کمبخت پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہی تھی۔ چھوٹا بیٹا ابھی بچہ ہے، بڑھتی عمر، بلڈ پریشر اور پھر نئی جگہ پر فریش سٹارٹ ۔۔۔ ان سب حقائق اور خدشات پر دو حرف بھیج کر اس سال مار گلہ پہاڑی سلسلہ کے دامن میں ایک گھر بنا ہی لیا۔ پہاڑ پر سیر کیلئے جانا اور وہاں گھر بنانا بالکل دو مختلف تجربات کا تقابلی جائزہ ابھی جاری تھا کہ گزرے جمعہ کے دن بچے کو او لیول کے پیپر دلوانے کیلئے صبح سویرے اسلام آباد چلا گیا۔ میں محسوس کر رہا تھا کہ صاف ہوا اور آکسیجن کی بہتات سے اب نیند اچھی آنے لگی تھی۔ مگر اب بھی کبھی کبھی چند سوچیں بے چین کرنے چلی آتی ہیں – میں نے کوئل کے قدرتی الارم کے ساتھ ساتھ اپنے مو بائیل پر ۶:۳۰ ، ۶:۴۵ اور ۷:۰۰ بجے کے تین الارم لگائے ۔ پہلے ہی الارم پر آنکھ کھل گئی اور تیسرے الارم تک میں تیار ہو کر صبح کی چائے پی رہا تھا۔ چائے کا کپ رکھ کر میں جلد ہی اسلام آباد کیلئے روانہ ہو گیا۔۸ بجے بیٹے کو امتحانی مرکز چھوڑ کر پروگرام تھا کہ ۹:۳۰ کے بعد ۳ عدد بینکوں میں اپنے پلاسٹک بٹوے ( کریڈٹ کارڈز ) کی پے منٹ جمع کرواوں گا اور پھر واپسی پر بیٹے کو لے کر لنچ گھر آ کر ہی کروں گا۔ اب ۸ بجے اور ساڑھے نو بجے کے درمیان ڈیڑھ گھنٹہ ۔۔۔ کہاں اور کیسے گزاروں ؟ گاڑی سٹارٹ کی اور سوچتے سوچتے چل پڑا۔ بریک ایف ٹین ۲ کی مارکیٹ میں ایک مشہور اور ماڈرن ناشتہ پوائنٹ پر لگی۔ سوچا عیاشی کرتے ہیں اور آج سری پائے کا ناشتہ کرتے ہیں۔

ہال میں ایک صاحب اکیلے ناشتہ فرما رہے تھے اور باقی سب میز خالی تھے۔ میں بھی ایک میز پر بیٹھ گیا۔

صاحب : گرمی کا موسم آ گیا ہے اب ہم صرف سنڈے کو پائے بناتے ہیں۔ باقی سب ہے جو حکم کریں۔ اب وقت بھی گزارنا تھا اور بھوک بھی لگ رہی تھی! سوچا لاہوری نا سہی کرانچی والا ناشتہ کر لیتے ہیں ۔ سنگل سادہ نہاری کا آڈر دے کر میں ایک بار پھر سے حالات کا جائزہ لینے لگ گیا۔

اتنے میں ایک اور اکیلی خاتون آئی اور تیسرے ٹیبل پر بیٹھ کر اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور پھر ناشتے کا مینیو پڑھنے میں مشغول ہو گئی۔ میں نے ناشتہ شروع کیا تو پہلے سے بیٹھے صاحب کی مسلسل گھورتی آنکھوں سے تنگ آ کر میں نے پریشانی میں انہیں ہاتھ کے اشارے سے سلام جٹر دیا۔ پھر کیا تھا وہ صاحب جو غالباً  تین بار چائے پی کر اپنا بل بھی دے چکے تھے میری ٹیبل پر آ کر بیٹھتے ہی بولے میرا نام احمد ہے اور میں USA سیٹزن ہوں ، basically پیچھے سے میں کراچی سے ہوں مگر آجکل اسلام آباد سیر کیلئے آیا ہوا ہوں۔
میرا بیٹا کامران بھی میرے ساتھ آیا تھا مگر وہ تین دن قبل یعنی ہمارے آنے کے چوتھے روز ہی ڈائریا کا شکار ہو کر واپس USA چلا گیا ہے۔
آپ اسکا علاج کرواتے؟ کیا عمر ہو گی کامران کی؟
۲۵ سال کا ہے۔
( ڈائریا تو کوئی وجہ نا ہوئی ۔۔میں بڑبڑایا۔۔)
کیا کہا آپ نے؟
جی وہ میں کہہ رہا تھا گرل فرینڈ کے بغیر رہنا مشکل ہوتا ہے ۔۔اسی لئیے واپس بھاگ گیا ہو گا۔ ( ۷۰ سال کے باپ کا بھی خیال نہیں کیا، میں پھر بڑبڑایا)
جی ویسے تو میری دو بیٹیاں بھی ہیں۔ ایک شادی شدہ اور دوسری اپنی ماں کے ساتھ رہتی ہے؟
تو کیا آپ ان کے ساتھ نہیں رہتے؟
جی وہ چارسال قبل میری بیگم نے طلاق لے لی تھی۔ مگر ہیں وہ بہت اچھی خاتون۔ لاہور سے تعلق ہے ان کا۔
بہت افسوس ہوا ۔ کچھ اور بتائیے اپنے بارے میں۔( میں نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا ابھی ۳۰ منٹ تھے میرے پاس)
جی میں ایف ایس سی کے بعد ہی امریکہ چلا گیا۔ وہاں سے الیکٹرونکس میں انجینئرنگ  کی پھر امریکی دفاعی ادارے میں ملازم ہو گیا۔ وہاں سے ہی ریٹائرڈ ہوا ہوں۔
(امریکہ میں ریٹائرمنٹ ۶۵ سال کی عمر میں ہوتی ہے) تو پھر ایک سال بھی اکھٹے گزارنا مشکل ہو گیا تھا آپ کا؟ میں نے ٹھاہ کر کے سوال داغ دیا؟ سوال کرتے ہی شرمندگی بھی محسوس ہوئی؟ احمد صاحب کے بارے میں کئی سوال بھی ذہن میں گھومنے لگے؟
کون ہیں یہ؟ میرے ساتھ کیوں فرینک ہو رہے ہیں؟ ابھی پیسے تو نہیں مانگ لیں گے؟ کیا یہ سچ بھی بول رہے ہیں؟ آخر ماجرا کیا ہے؟
جی وہ بہت اچھی خاتون ہیں۔ بس میں فوجی نوکری میں سب سے کٹ گیا تھا۔ کوئی دوست بھی نہیں بنا سکا۔ گورا بن نہ  سکا اور دیسی وہاں تھا ہی نہیں۔ کراچی اور رشتہ دار بھی چھوٹ گئے۔ اب آبائی گھر فروخت کرنے آیا تھا۔ ۲ ماہ ترکی۔ ایک ماہ بحرین گزارہ اب مکان کی رقم مل گئی ہے تو اسلام آباد دیکھنے چلا آیا!
کب تک اسلام آباد دیکھیں گے؟
معلوم نہیں؟ کیلیفورنیا میں بھی میں ایک ہوٹل میں ہی رہتا تھا۔ بڑی مہنگائی ہو گئی ہے۔ کمرے کا کرایہ ہی ۲۰۰۰ ڈالر ہے۔ یہاں ڈالر کے بدلے کافی پیسے مل جاتے ہیں۔ سوچتا ہوں یہاں ہی کوئی ٹھکانہ کر لوں۔ معلوم نہیں کب تک یہاں رہوں گا۔ صحت اچھی ہے مگر پھر بھی خوف رہتاہے۔ آپ نے بھی نہاری کھائی! مجھے بھی پائے نہیں ملے! عمران خان کی حکومت ہے! کچھ اچھا ہونے کی امید ہے!
بڈھا پاگل ہے؟ کیا بکے جا رہا ہے۔ میں من ہی من میں خود کلام ہوا۔ پھر مجھے اس پر ترس آ گیا۔ چلیے میں آپ کو گیسٹ ہاؤس چھوڑ دیتا ہوں۔ اگر پائے کھانے ہیں تو ۲ بجے تیار رہیے گا۔ میں بیگم کو کہہ دونگا وہ پائے تیار کر دیں گی۔
احمد صاحب نے ہاں کرنے میں سیکنڈ بھی نہیں لگایا اور گاڑی میں بیٹھ کر بولے چلیے  ۔
خیر بینک سے فارغ ہو کر بیٹے کو امتحانی مرکز سے ساتھ لیا اور احمد صاحب کو باتوں باتوں میں بتا دیا کہ میں شہر سے تھوڑا دور رہتا ہوں اور ابھی چند ہفتے قبل ہی شفٹ ہوا ہوں تو گھر ابھی سیٹنگ کے مراحل میں ہے۔ ( پائے آڈر کرتے وقت میں نے وعدہ کیا تھا کہ مہمان کو یہ ضرور بتانا ہے۔) اس بات کو “گھریلو مرد” اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
یہ لیں جی گھر آ گیا ۔ احمد صاحب کیلئے معاملہ آسان نا تھا ۳۰ عدد سیڑھیوں کا مرحلہ طے ہوا تو احساس ہوا “ریلنگ” جلد لگوانا پڑھے گی۔
پانی پیجئے ۔
منرل واٹر ہے؟
جی بور کا پانی ہے؟
شکریہ میں رسک نہیں لے سکتا! چائے پی لوں گا ۔

 پہلی شرمندگی۔۔ بیٹے کو کہا فوراً  دوکان سے منرل واٹر کی بوتل لے کر آئے۔ چائے کے بعد ایک گھنٹہ مزید گفتگو ہوئی جس میں نہ  تو ربط تھا اور نہ  ہی معلومات۔ مجھے وقت گزارنا تھا کہ پائے تیار ہو جائیں اور احمد صاحب کے پاس بہت ساری باتیں کرنے کا وقت ہی وقت تھا۔ – واہ واہ ۔ مزہ آ گیا ۔ احمد صاحب نے پائے ایسے کھائے جیسے یہ دنیا کے آخری پائے ہوں اور اس کے بعد اس ڈِش پر بین لگ جائے گا۔ شام ہونے کو تھی۔ میں احمد صاحب کو ریور واک ( نندی واک) پر لے گیا۔ ہر دو منٹ بعد ۵ تصویریں ۔ اور پھر شاٹ کٹ سے واپسی ۔ رات دس بجے رابطے میں رہنے کا وعدہ دے کر انہیں واپس گیسٹ ہاؤس چھوڑ آیا۔ چھوڑنے کے تھوڑی دیر بعد ہی شکریہ کا کرٹسی میسج وصول ہو گیا۔ اگلا دن مصروف گزرا اور فون بھی ( اللہ کے کرم سے ) بس خاموش ہی رہا ۔ تیسرے دن صبح میسج چیک کرنے شروع کیے تو ۲۸ گھنٹے قبل کا احمد صاحب کا میسج دیکھ کر حیرانگی ہوئی۔۔ اللہ خیر کرے ۔۔ میں نے میسج پڑھا تو انہوں نے رمضان میرے گھر گزارنے کی خواہش کا اظہار کیا ہوا تھا۔ گھنٹہ بھر غور و فکر کے بعد بیگم کو بتایا تو حیرانگی ہوئی ۔۔۔ کوئی مسئل نہیں۔ ہم ایڈجسٹ کر لیں گے انہیں بلا لو مگر ( رولز آف دا ہاؤس اچھے سے بتا دینا) ۔ برنچ کے بعد فون ملایا اور میسج کا جواب وقت پر نہ دینے پر معذرت کی۔ – میں نے سوچا آپ مصروف ہوں گے ۔ رمضان آ رہا ہے۔ اب ہوٹل سارے بند ہونگے ۔گیسٹ ہاؤس کا کچن بس نہ  ہونے کے برابر ہے۔ آپ کا جواب بھی نہیں آیا تو میں نے کل صبح واپسی کی ٹکٹ کروا لی ہے۔ ۷۵۰ ڈالر میں ۔ بڑی اچھی ڈیل مل گئی۔ وہاں بھی ہوٹل میں ہی رہوں گا۔ اب ہو سکتا ہے کہ بڑی عید کے بعد آنا ہو ۔ ہم واٹس ایپ پر کنکٹڈ رہیں گے۔ اب آیا تو سیدھا آپ کے گھر آؤں گا۔ -تین بچے، بیوی چھوڑ گئی۔ بچے اور خاندان والے پوچھتے نہیں۔ صرف پینشن پر گزارہ۔ اور زندگی کہ بس ایک کٹی پتنگ۔ کب کہاں ۔ کچھ معلوم نہیں ۔ بس ہوا کی مرضی کہ اور اوپر اٹھا لے ، کس سمت لے جائے، اور کب زمین پر پٹخ دے۔نجانے آنے والے سالوں میں آسمان پر کتنی کٹی پتنگیں ہوں گی؟ ہر طرف رنگ برنگی پتنگیں – میں تو یہ سوچ کر ہی کانپ گیا!

عبیداللہ چودھری
عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *