کھلی آنکھیں۔۔۔۔اورنگزیب وٹو

میں شیکسپئر  کو جلا رہا ہوں۔میں نے اپنی فیورٹ شرٹ بھی جلا دی ہے۔میرے سامنے خلیل جبران کا ادھ جلا پورٹریٹ پڑا ہے۔ایلس واکر کے ناول کے پچاس صفحے میں نے غسل خانے میں بہا دیے ہیں۔ بین اوکری کے ساتھ کھنچوائی تصویر پھاڑ کے پھینک دی ہے۔ میں ایسا کیوں کر رہا ہوں یہ مجھے بھی معلوم نہیں اس وقت پانچ گھنٹے ہونے کو ہیں جب مجھے اپنی زندگی کی سب سے بڑی کاميابی ملی ہے۔مجھے شہر کی بہترین جامعہ میں پڑھانے کا موقع  اور بھاری معاوضہ دیا جا رہا ہے اس سے پہلے کبھی اس قدر قابل فخر موقع نصیب نہیں ہوا مگر۔

یہ دیکھو کافکا،مجھے نفرت ہے۔میں کافکا کی کہانی The Metamorphosis کو اپنے نوکیلے دانتوں سے ادھیڑ رہا ہوں۔میرے منہ سے جھاگ نکل رہی ہے۔میں اپنی پیاری الماری کو گرانے لگا ہوں۔میں پوری قوت سے، ٹانگوں کے پورے زور اور پنجوں کی پوری طاقت سے اسے ریزہ ریزہ کر دینا چاہتا ہوں ۔الماری کے شیشے پر میرے پنجوں کے نشان پڑ چکے ہیں۔اب میں تھک چکا ہوں۔میں بستر کے کونے پر کھلی آنکھوں سے سونے کی کوشش کر رہا ہوں۔مجھے کل سے اپنا کام بھی شروع کرنا ہے۔میرے کام کی پذیرائی ایک شاندار مستقبل کی نوید ہے۔میری آنکھوں کے سامنے آج کا ناقابل فراموش دن گھوم رہا ہے۔آج پانچ بجے صبح میں نے اٹھ کر خدا کا نام لیا،دعا مانگی فائل اٹھائی بہترین سوٹ پہنا اور بس میں بیٹھ کر شہر کو روانہ ہوا۔میں سفر کرتا گیا پیر کا تعویز ٹٹولا مولوی کا وظیفہ دہرایا انگریزی بولنے کے لیے اپنی دیسی زبان میں روانی پیدا کی دماغ حاضر رکھنے کو چائے پی اور دل کے سکون کی خاطر درود پڑھتا گیا۔بس میں چلتے ٹی وی کی سکرین پر نظر پڑی تو واہگورو جی کے خالصہ کا ورد بھی کر دیا۔میرا ساراسفر اپنے آپ کو آنے والے چند منٹوں کے لیے تیار کرنے میں گزرا۔یہ چند منٹ سالوں کے انتظار کے بعد آنے والے تھے۔بالآخر ڈر اور شوق میں مبتلا منزل تک پہنچ گیا۔اب چند گھنٹوں بعد مجھے وہ منظر یاد آتا ہے تو ساری حسیات آنکھوں میں سمٹ آتی ہیں۔مجھ سے چند قدم دور ایک قلعے نما کمرے میں میری زندگی پر قادر خدائی انسان موجودتھے۔اب اس کامیابی کے بعد میں جس قدر ان کی بڑائی کے سامنے خود کو چھوٹا محسوس کر رہا ہوں،ان کے سامنے شاید اس سے بھی کہیں زیادہ دل مرعوب تھا۔بار بار شرٹ کی سلوٹیں ٹائی کی لمبائی اور چہرے کی عاجزی کو درست شکل دینے کی کوشش کر رہا تھا۔میرے سامنے بیٹھے لوگ بھی قسمت آزمائی کے لیے آۓ تھے۔ان میں سے کچھ کے چہرے بھکاریوں جیسے تھے اور کچھ کے رنگ زرد تھے۔ اسی دوران مجھے معلوم نہیں کہ میں پہچان نہیں سکا یا میری آواز بلانے والوں تک نہ پہنچی میرا نام دو بار پکارا گیا۔اپنا نام سنتے ہی میرے دل اور دماغ کی نہ جانے کیا کیفیت ہوئی کہ میں نے اپنی جگہ سے ہلنے سے صاف انکار کر دیا۔میں نے کرسی کو پوری طاقت سے پکڑ رکھا تھا اور اپنی دانست میں عزرائیل بھی اس وقت مجھے اس سے الگ نہیں کر سکتا تھا۔مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں کیسے اپنے مستقبل کے مالکوں کے سامنے لایا گیا مگر میری حالت اس جانور کی سی  تھی جو لڑتے لڑتے بے حال ہو کر میدان سے بھاگتا ہے مگر لوگ اسے پکڑپکڑ پھر میدان میں دھکیل دیتے ہیں۔میری ذہنی حالت اس قدر خراب ہو چکی تھی کہ مجھے اپنے سامنے بیٹھے مہذب دنیا کے کامیاب لوگ بد ترین آدم خور معلوم ہو رہے تھے۔مجھے ان کے سروں پر بالوں کی بجائے کانٹے دکھائی دے رہے تھے۔ایک چڑیل کے ہونٹ خون سے بھرے ہوۓ تھے اور اس کے ناخنوں پر گوشت صاف دکھائی دیتا تھا۔میں وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا کہ کوئی مجھے جھنجھوڑ کر ہوش میں لے آیا۔میرے حواس بحال کرنے کے لیے مجھے پانی دیا گیا۔اب میں اپنے ہوش و حواس میں انکے سوالات کا سامنا کر رہا تھا۔اچانک انکے سوالات کے دوران میرے ہاتھ مڑنا شروع ہو گئے،زبان باہر نکل آئی اور میں نے ان کے پاوں چاٹنا شروع کر دیے۔میں نے پوری محنت سے سب کے پاوں چاٹے اور اپنی قابلیت ثابت کر دی۔سب میری اہليت کے بھرپور قائل ہو چکے تھے اور مجھے داد دے رہے تھے۔ مجھے اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی مل چکی تھی۔میں کھلی آنکھوں سے سونے کی کوشش کر رہا ہوں۔مجھے اپاہچ پاسکل اور مجذوب ہیملٹ سے نفرت ہو چکی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *