• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • فلم بہر حال ایمان کی روشنی میں نہیں بن سکتی۔۔۔۔اسد مفتی

فلم بہر حال ایمان کی روشنی میں نہیں بن سکتی۔۔۔۔اسد مفتی

چند دن ہوئے اداکار ندیم کا ایک انٹرویو میری نظر سے گزرا جس میں وہ کہتا ہے کہ ۔۔۔۔۔اب اگر انڈیا کی ہر نئی فلم یہاں پاکستان میں آجاتی ہے اور بلا جھجھک ہر گھر میں دیکھی اور پسند کی جاتی ہے تو ایسے ہی ہماری فلمیں ادھر بھارت میں کیوں نہیں جاسکتیں ؟۔۔۔۔اور پھر کیوں نہ ہم ان کے ساتھ مل کر فلمیں بنائیں ۔۔اور ان کی مارکیٹ سے فائدہ اٹھائیں ۔
یہ ٹھیک ہے کہ ہمارے مقابلے میں ان کے کام میں تھوڑا ستھرا پن ہے،اس کی بڑی وجہ میرے نزدیک انڈیا میں تعلیم کا عام ہونا ہے ،ہمارے ہاں بھی تعلیم ہے تو سہی لیکن اتنی نہیں جتنی ایک فلم میکر میں ہونی چاہیے،اور فلم میکنگ ہے کام پڑھے لکھوں کا،کیونکہ یہ ایک آرٹ ہے اور اس میں جب تک  آپ  کا مختلف چیزوں بارے میں مطالعہ ،مشاہدہ اور مقابلہ نہ ہو اس وقت تک پرفیکٹ فلم بنانا ہر کسی کے بس کا کام نہیں ۔آگے چل کر میرا یہ دیرینہ دوست ایک سوال کے جواب میں کہتا ہے کہ یہ اچھا طریقہ ہے اس سے ہماری فلمی صنعت کو فنانشل طور پر بھی سہارا ملے گا۔اس کے علاوہ جو لوگ ہمیں دیکھ دیکھ کر اکتا چکے ہیں ،ان کو دوسرے ملک بھارت سے نئے چہرے دیکھنے کو ملیں گے،اور لوکیشن بھی نئی نئی دیکھنے کو ملیں گی، کیونکہ یہاں کے عوام مری اور سوات کی وادیاں دیکھ دیکھ کر بور ہوچکےہیں ،آرٹ فلم کے بارے میں ندیم کا نقطہ نظر ہے۔”آرٹ فلم کے لیے ابھی تک ہمارے ملک میں ماحول ذہنی طور پر تیار  نہیں کیا  گیا ہے ۔ہم نے تو ابھی تک اپنے عوام کو صاف ستھری اچھی کمرشل فلم بنا کر نہیں دی  ،آرٹ فلم کی بات تو قطعی ہی دوسری ہے۔

میرے حساب سے ندیم کے یہ نقطہ ہائے نظر بے حد حقیقت پسندانہ ہیں ،دونوں ملکوں یعنی پاکستان اور بھارت کے فلم میکرز کو آگے آنا چاہیے اور اس تنا تنی کے ماحول میں اداکاروں ،ہدایتکاروں ،فلم سازوں اور شاعروں ادیبوں کا فرض ہے کہ دونوں ملکوں میں دوستی کی داغ بیل ڈالیں ،فلم ایک ایسا میڈیم ہے جس کے ذریعے دوستی کی فضا صرف قائم بلکہ مضبوط کی جاسکتی ہے،کتاب کی اہمیت اپنی جگہ ہے تاہم اگر کتابوں کا انسانی زندگی اور عوامی رویہ پر کوئی فوری اور دیرپا دائمی اثر ہوتا تو اسلام کو امن و سلامتی کا مذہب اور قرآن کو  ضابطہ حیات سمجھنے والے مسلمان اپنے ہی بھائی بندوں کا خون نہ بہا رہے ہوتے ،ان کی جنگ و جدل سے 131 مسلم ملک صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہوتے۔
آج فلم میڈیم کے معنی بدل گئے ہیں ،بدل رہے ہیں یا بدل دئیے گئے ہیں ۔نتیجتاً پاکستان فلم میکرز کے سامنے بھٹکنے جیسی کیفیت آگئی جو فلم کو ایک اصلاح ،تعمیر و ترقی ،صحت مند تفریح اور بے سہارا و کمزور افراد کی آواز بلند کرنے کا ذریعہ جان اورمان  کر اس شعبہ میں آئے تھے اور آج تک مانتے چلے آرہے ہیں مگر یہ   نو آموز تو اور بھی تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں ۔ہم جانتے ہیں جو فلم کے میدان میں کچھ نیا کرنے آئے تھے مگر کرکچھ اور رہے ہیں ،

جیسا کہ ہم جانتے ہیں تقسیم ہند کے وقت ہندوستان فلم انڈسٹری کا بہترین ٹیلنٹ پاکستان چلا آیا تھا۔ جس میں شوکت میمن رضوی،ضہا سرحدی،خؤرشید انور،اجمل اسماعیل،فضلی برادران،ماسٹر غلام حیدر،فیروز نظامی،نورجہاں ممتاز شانتی وغیرہ شامل تھے۔مگر پاکستان جسے ہم مملکتِ خداداد کہتے ہیں میں ان تمام کا جادو محض اس لیے سر چڑھ کر نہ بول سکا کہ حکومت وقت نے فلم انڈسٹری کی بے جا سرپرستی شروع کردی جب حکومت وقت نے فلم انڈسٹری کی بے جا سرپرستی شروع کردی،جب حکومت اپنے اقتدار کا سنگھاسن بچانے کے لیے دشمنیاں پال لے تو فائدے کی بجائے نقصانات کا دروازہ کھلتا جاتا ہے۔پاکستان کی حکومت نے  بھارت دشمنی میں بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی لگا دی یا عائد کردی ،حکومت کے اس غیر ضروری اقدام سے مقابلے کا رجحان ختم ہوگیا ۔میں نے اس دور میں لکھا تھا کہ آپ تو بھارت پر پابندی کی بات کرتے ہیں فلمیں تو ہم اسرائیل کی بھی دیکھنا چاہتے ہیں ۔یہ تو آپ جانتے ہی ہیں مقابلے کے لیے کوئی فریق ہنکارہ نہ بھرے وہاں اچھے اچھوں کی صلاحیتوں کو زنگ لگ جاتا ہے۔اس زمانے میں پاکستانی فلموں کا مقابلہ بھارتی فلموں سے تھا   کہ دونوں ملکوں کی ثقافت اور زبان مشترکہ ہے لہذا آج میری پیڑھی کے لوگ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ جن دنوں پاکستان میں بھارتی فلمیں ریلیز ہوتی تھیں ان دنوں ہماری فلموں کا معیار قدرے بلند تھا ،پھر جب حکومتِ پاکستان نے”دشمن ملک”بھارت کی فلموں پر پابندی لگا دی تو پاکستانی فلمی صنعت میں صحت مندانہ مقابلہ ختم ہوگیا۔ اور پاکستان کی فلمساز و ہدایتکار غیر معیاری اور لچرفلمیں بنا کرمطمئن ہوگئےاور عوام بے چارے انہی پر اکتفا کرنے لگے کہ ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ ہی نہ تھا ،جب بری بری فلمیں بننے لگیں تو اچھی فلمیں بنانے کے لیے کون درد سر مول لے۔جب عوام بری فلموں سے ہی مطمئن ہوجائیں تو اچھی فلمیں بنانے کی طرف کسی کا دھیان کیوں جائے گا۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی فلم انڈسٹری ختم ہوکر رہ گئی ہے۔تاریخ نے انڈسٹری سے بدترین انتقام لیا ہے۔

اس ضمن میں جب فلم انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہونے چلی تھی تو میرے کچھ فلمی دوست جن میں ریاض شاہد،ولی سفیان آفاقی،حسن طارق،شباب کیرانوی،آغا طالش، علاؤالدین ،سدھیر ،سلطان راہی کیمرہ مین نبی احمد ،کامران مرزا اور فاضل ایڈیٹر رحمت علی وغیرہ کا خیال تھا کہ اگر بھارتی فلموں کی نمائش شروع ہوگئی تو پاکستانی فلم انڈسٹری بحران کا شکار ہوجائے گی ،اب اس کا کیا علاج کہ بھارتی فلموں کی نمائش کے بغیر بھی پاکستانی فلمی  صنعت ٹھپ ہوگئی۔فلم کا کمرشلی کامیاب یا ناکام ہونا ایک مختلف بحث طلب موضؤع ہے،اچھی فلم ہر مارکیٹ میں اپنی جگہ بناتی ہے۔کیا بھارت میں بری فلمیں ناکام نہیں ہوتیں ؟َکیا ہالی ووڈ کی ہر فلم کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیتی ہے؟۔۔۔ اگر فلم اچھی ہے  تو اسے دنیا کے ہر کونے میں سرپرستی ملے گی،ہاں مگر مملکتِ خداداد کشورِ حسین ،ملک شاد باد کی بات وکھری ہے،جہاں مورت،گدھا کتا سامنے آئے تو نماز ٹوٹ جاتی ہو وہا ں اچھی فلم کیسے بن سکتی ہے۔۔۔۔۔میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچیے۔۔۔۔
حدِ ادب کی بات تھی ،حدِِ  ادب میں رہ گئی
اس نے کہا کہ میں چلا،میں نے کہاکہ جائیے!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *