ہم چوں ما دیگرے نیست۔۔۔التمش خان

فارسی زبان کی ایک کہاوت ہے” ہم چوں دیگرے نیست “یعنی کہ مجھ جیسا کو-ئی نہیں. یہ اور ان جیسے سینکڑوں متکبرانہ جملے دنیا کی ہر زبان میں موجود ہیں اور فخر و غرور کے موقع پر لوگ ان کا استعمال کرتے ہیں۔ محاورے کی حد تک تو بات درست ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں رونما ہونے والے حادثات یا وقتی انقلابات سے ایک طرح انسانی عقل و شعور کی تربیت بھی ہوتی ہے۔
ہر واقعے کے پیچھے کچھ اسباب ہوتے ہیں اور ہر انقلاب کی کامیابی یا ناکامی کے پیچھے ایک چھپا سبق ہوتا ہے، ایک داستان ہوتی ہے جس کی جزئیات پر اگر غور کیا جائے تو انسان اپنے مستقبل میں اس قسم کے حادثات کا تدارک کرسکتا ہے۔ مثلاً ایک تحریک اٹھتی ہے جس کے بال و پر بہت جلد نکل آتے ہیں۔ نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر انسانوں کا ایک ریلا اس تحریک کو سپورٹ کررہا ہوتا ہے مگر نئی دلہن کی آئو بھگت کی طرح چار چھ دن بعد وہ سمندر آہستہ آہستہ تھم رہا ہوتا ہے اور پانی کا وہ شور صرف آہٹوں میں بدل رہا ہوتا ہے۔ پھر ایک دن اس تحریک کے بانی اور قائد اکیلے ہی نکل پڑتے ہیں جانب منزل ۔۔۔ ان کی تدبیر انہیں تنہا کر جاتی ہے اور وہ انقلاب طوفان کے بعد پانی کے اس ریلے سا دکھتا جو زمین پر آہستہ آہستہ رینگ کر نکل رہا ہوتا ہے۔ اس رونما ہونے والے واقعے کے پیچھے کوئی پوشیدہ راز ہے جس کی وجہ سے یہ چڑھتی تحریک ایک دم سے دب گئی۔ بات تحریک اور انقلاب سے ہی چل پڑی سو ہمارے ہاں سیاسی انقلابات کے علاوہ ہزاروں دیگر انقلابات بھی وقوع پذیر ہوتے ہیں اور بالآخر کامیابی یا ناکامی سے دو چار ہوجاتے ہیں بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہر انسان کے سینے میں روزانہ مختلف تحریکیں اور انقلابات اٹھتے ہیں۔۔۔۔ یا تو وہ برپا ہوجاتے ہیں یا پھر دب جاتے ہیں۔

چودہ سو سال پہلے بھی ایک تحریک اٹھی تھی، عرب کی سرزمین پر ایک انقلاب برپا ہوا تھا۔ لوگ اپنے ہی جگر گوشوں کے خون میں ہاتھ رنگے جارہے تھے اور وہ تحریک ایک مدت تک چلتی رہی اور پھر کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ میرا مطلب ہے اللہ تعالٰی کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت ایک تحریک ہی تو تھی۔ جنگیں لڑی گئیں اور اس راہ میں اپنے ہی قبیلے والوں کے خلاف صف آراء ہونا پڑا۔ سو اس تحریک کی کامیابی کی ایک ہی وجہ اللہ تعالٰی نے اپنے رسول سے مخاطب ہو کر بیان فرمائی۔ جنگ احد کے موقع پر مسلمانو کو اولا فتح ہوئی اور پھر وہی فتح شکست میں بدل گئی۔ خاتمہ پر اللہ تعالٰی نے اپنے رسول کی تعریف فرمائی اور قیادت و سیادت کا بہترین راز سمجھایا:
“ولو کنت فضا غلیظ القلب لاانفضوا من حولک”
آیت کے اس ٹکڑے میں کسی بھی پروگرام، ادارے، جماعت کی کامیاب قیادت کا راز ہے۔
“اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر آپ ترش رو اور سخت دل ہوتے تو یہ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے پاس سے چلے جاتے یعنی کہ آپ کے اخلاق اچھے ہیں تبھی جمے ہوئے ہیں”

ممکن ہے تحریکوں یا اداروں کی ناکامی کی دوسری وجوہات بھی ہوں، مگر میں نے جتنا مشاہدہ کیا، ہر ناکام ہونے والی تحریک یا ادارے کے پیچھے اس کے بانی کی خود سری، بد اخلاقی متکبرانہ لب و لہجہ اور خود کو انسانیت کے مقام سے ماورا خیال کرنا ضرور ہوتا ہے۔ قائدانہ صلاحیتیں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہیں اور یہی لوگ کشتی کو پار لگادیتے ہیں۔

آپ کے پاس جاہل، بے شعور، کم عقل، نالائق لوگ آئیں گے، آپ انہیں شعور دیں گے، ان کی تربیت کریں گے اور پھر یہی لوگ نظم سنبھالیں گے لیکن اگر آپ اپنے شاگردوں سے متکبرانہ انداز میں بات کر کے انہیں شرم اور عار دلاتے رہیں۔ انہیں کچھ سکھانے کے بجائے ان پر طنز کے نشتر چھوڑتے رہیں تو دنیا تنگ نہیں اور علم یا جماعتوں کی بھی کمی نہیں، وہ کسی دوسرے آدمی کی تربیت میں چلے جائیں گے “ہم چوں دیگرے نیست” کا نعرہ لگانے والے تقریباً اکیلے ہی جانب منزل نکلتے ہیں۔
آپ اپنی اداؤں پہ خود ہی غور کریں۔ اگر آپ ایک کامیاب استاد، قائد، رہنما بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو اس علم یا فن کا کیا فائدہ جس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ ظاہر ہے ہر آدمی تو ماں کے پیٹ سے ارسطو اور افلاطون بن کے نہیں آتا، آپ ان کی حوصلہ افزائی کریں گے، ان کی ہمتیں بڑھائیں گے، انہیں احساس کمتری کا شکار ہونے نہیں دیں گے تو یہی لوگ کل آپ کا سرمایہ بنیں گے۔ صرف تنقید کرنے سے کیا حاصل؟ کوئی بھی ادارہ یا جماعت چلانا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ سو ہم چوں دیگرے نیست کا نعرہ چھوڑیئے پھر دیکھیں دنیا کتنی قدر کرتی ہے۔

یہاں ایک دنیا بسی ہے، لوگ اپنی جہالت پر تا آخر قائم رہ سکتے ہیں مگر کسی متکبر استاد کے پاس جا کر ان کی کڑوی کسیلی ہمیشہ نہیں سن سکتے۔ یہ دنیا صرف امیدوں پر قائم ہے۔ آپ اگر کسی کا بھلا نہیں چاہتے تو کوئی بات نہیں مگر کسی سے ان کی خوشی چھیننے کی خواہش نہ پالیں۔ آپ لوگوں کو گالیاں دیں انہیں برا بھلا کہیں اور پلٹ کر ان سے آداب کی خواہش رکھیں تو یہ یقیناً آپ کی بھول ہے، یا آپ حد سے زیادہ سادہ ہیں یا انجام سے باخبر ہوتے ہوئے بھی آنکھیں چرانے والے۔ آپ اپنے اخلاق بڑھائیں، جواب میں محبتیں ہی ملیں گی۔

(التمش خان کراچی میں مقیم اور تدریس سے وابستہ ہیں۔ خیبر کے جلال اور سندھ کی حلاوت نے انکی تحریر کو بھی جاذب بنا دیا ہے۔)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *