عمران تیرے جانثار، بے شمار ۔۔۔۔ اصغر علی

SHOPPING
SHOPPING

جناب وکیل بابو نہ جانے کس ترنگ میں آکر گدھے اور گھوڑے کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے پر آمادہ ہوئے۔ یہ بھی نہ سوچا کہ شیر اور شیر لکھنے میں بے شک ایک جیسے ہیں لیکن معنی میں زمین و آسمان کا تفاوت ہے۔ وزن شعری برابر کرنے کیلئے معانی کا خیال نہ رکھنا بندے کو شاعرتو بنا سکتا ہے مگر ویسا ہی شاعر جیسا کہ معین اختر کے ایک ڈرامے میں ایک بے تکا شاعر جواپنا کلام سناتے ہوئے کہتا ہے:
سینے میں دور دور تلک برف سرد ہے
امید ہے سفید میرا چہرہ زرد ہے
کہاں ایک یک چشم ، خواہشات کا مارا، اپنے ذاتی فائدوں کے تار عکنبوت میں کسی شکار شدہ مکھی کی طرح لٹکنے والا کم ظرف جج اور کہاں کروڑوں دلوں پر راج کرنے والا امیدوں کا استعارہ، فدائے ملت عمران خان ۔۔۔۔ کن کو کن سے ملا بیٹھے وکیل صاحب !

اس میں کوئی شک نہیں کہ نئے سویرے کی امید پر پاکستانی قوم نے اس کم ظرف جج کیلئے بڑی قربانیاں دیں، گولیاں کھائیں، جیلیں کاٹیں، آنسو گیس کے شیل برداشت کیے، لاٹھی جارج سہے ۔۔۔۔ مگر وہ بدبخت جب بحال ہوا تب قوم کو سمجھ میں آیا کہ ولی آں نیست کہ دنیا دوست دارد۔ کوئی بھی لالچی، مفاد پرست، اپنی ذاتی خواہشات کا اسیر، مال و دولت کا طلب گار قارون تو بن سکتا ہے مگر لیڈ رنہیں بن سکتا۔ وہ کانا دجال قارون بننے کی چکر میں تھا اور ہم اسے موسیٰ سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا تھے۔

مگر دوسری طرف نگاہ ڈالیں ۔۔۔۔ جس نے قوم سے لیا نہیں ہے مگر دینے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔۔۔ وہ جس کی زندگی جہد مسلسل کی ایک تابناک تاریخ ہے، جس کے شعلہ بار سینے میں اس قوم کا درد ایسے ہلکورے لے رہا ہے جیسے ہانڈی آگ پر پڑی ہو اور اس کی جوش کھانے کی آواز پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو سنائی دیا کرتی ہے۔ مگر اس کے درد کا شور تو قوم کا بچہ بچہ سن رہا ہے۔ اس کی آنکھوں میں جلنے والے امید کے چراغوں نے لاکھوں نوجوانوں کو مایوسی کے مرگ آلودہ اندھیروں سے نکال کر ایک تابناک زندگی کی پرامید دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسا لیڈر قسمت والوں کو ملتا ہے ، ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر نوحہ کناں رہتی ہے تب جاکے چمن میں ایسا دیدہ ور جنم لیتا ہے۔

SHOPPING

وہ ایک فائٹر ہے جس نے ہارنا نہیں سیکھا ۔۔۔ اور اس نے قوم کو بھی یہی سکھایا ہے کہ ظلم کے خلاف جبر کے خلاف اور اتیاچار کے خلاف ہتھیار ڈالنا خود کشی کے برابر ہے ۔۔۔ وہ کہ جس نے ہماری ادھوری کہانی وہیں سے شروع کردی ہے جہاں سے پاکستان بنانے والوں نے چھوڑ دی تھی ۔۔۔۔ اس کا موازنہ کرنا ہے ، تو نیلسن منڈیلا سے کرتے ، طیب اردگان سے کرتے ، مہاتیر محمد سے کرتے ، مائوزے تنگ سے کرتے ۔۔۔۔ مگر یہ کیا وکیل بابو کہ آپ نے اس کا موازنہ چند ٹکوں کی خاطر اپنی پہاڑ جیسی عزت کو دائو پر لگانے والے ایک بے عدل منصف سے کرڈالا ۔۔۔۔۔
رکھئیو غالب ہمیں اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *