حب شیرانی نہیں، بغض فضل الرحمن کیا جارہا ہے۔۔۔”یوسف خان

کل “مکالمہ” پہ رعایت اللہ صدیقی صاحب کا مضمون لگا۔ محترم یوسف خان نے اس کا جواب دیا ہے۔ آئیے مکالمہ کیجیے۔ 

محترم دوست انعام رانا صاحب نے جب سے “مکالمہ” کے نام سے ویب سائٹ بنائی ہے اور مکالمہ کی دعوت عام دی ہے، کچھ احباب کو گویا موقع ہاتھ آگیا کہ وہ پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت کو اپنی ذاتی خواہشات کا نشانہ بنائیں۔ حد تو یہاں تک کردی گئی کہ اپنی ذہنی آسودگی کے لئے جماعت ہی کی ایک سینئر رھنماء اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین مولانا محمد خان شیرانی کو بطور کاندھا استعمال کرکے فائرنگ کی جارہی ہے، کل “مکالمہ” پر ایک تحریر نظر سے گزری مولانا فضل الرحمن اور مولانا محمد خان شیرانی کے اختلاف کے عنوان سے، ویسے تو اس طرح کے بے بنیاد پروپیگنڈوں کے جواب کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی لیکن چونکہ صاحب تحریر نے تحریر کی ابتداء میں ہی ایک پیمانہ وضع کردیا تو سو اس لئے اب اس تحریر کا ہم اسی پیمانے میں جواب دے رہے ہیں۔ امید ہے کہ جواب سے تشفی ہو گی۔

کہا یہ جا رہا ہے کہ مولانا محمد خان شیرانی ” عمر اور تجربہ” میں” قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن” سے بڑے ہیں اس لئے وہ قیادت کے زیادہ حقدار ہیں۔ جناب عالی اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آپ نے ایک پیمانہ مقرر کردیا اس لئے کہ جب اختلاف رائے میں پیمانہ مقرر ہوجائے تو بات کو سمجھنا اور سمجھانا آسان ہوجاتا ہے۔  آنجناب نے پیمانہ مقرر کیا ہے “عمر اور تجربہ”، تو جناب من، آپ دنیا کی مختلف اقوام کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے آپ کو نظر آئے گا کہ قیادت کا انتخاب عمر میں بڑھوتی کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ تجربہ معاملہ فہمی، دور اندیشی اور قائدانہ صلاحتیوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، آپ کے طے کردہ پیمانہ کی روشنی ہم یہ بات تسلیم کر لیتے ہیں کہ مولانا محمد خان شیرانی عمر میں اور تجربہ میں بڑے ہیں۔ لیکن ٹہرئیے اگلی بات سنئے(پیمانہ آپ کا ہے نتیجہ ہم بتاتے ہیں )،  پھر تسلیم کرلیجئےکہ مولانا محمد خان شیرانی اپنے تجربے اور عمر کی بنیاد پر کبھی بھی غلط فیصلہ نہیں کریں گے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مولانا محمد خان شیرانی نے اپنے تجربہ ہی کی بنیاد پر “نوجوان مولانا فضل الرحمن ” کے ہاتھ پر اس وقت بیعت کرلی تھی جب جمعیت اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہی تھی۔ اگر تب مولانا محمد خان شیرانی کا انتخاب مولانا فضل الرحمن تھا تو آج آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ مولانا محمد خان شیرانی کے تجربہ و عمر کو بنیاد بنا کر آپ جمعیت کی قیادت پر رکیک حملے کریں۔ صرف اسی پر بس نہیں بلکہ مولانا محمد خان شیرانی 1985 سے لے کر آج تک اپنے اسی تجربہ کی بنیاد پر ثابت کرتے آئے ہیں کہ ان کا تجربہ کہتا ہے کہ قیادت کا حقدار آج بھی مولانا فضل الرحمن ہے۔

جناب عالی آپ نے بات کی کہ مولانا محمد خان شیرانی کا ہمیشہ سے مولانا فضل الرحمن سے اختلاف رہا ہے۔ تو پھر تو آپ جناب کو جمعیت کو داد دینی چاہیے تھی کہ جمعیت پاکستان کی واحد سیاسی پارٹی ہے کہ جس میں اختلاف کی اجازت بھی ہے اور احترام بھی — کہ اس جماعت کے رھنماء بلا جھجھک اپنے مؤقف پر اظہار خیال کرتے ہیں یہ جمعیت علماء اسلام ہی ہے کہ مجلس عمومی کے اجلاس میں مولانا محمد خان شیرانی اپنے تحفظات بیان کرتے ہیں اور امیر جماعت ان کے تحفظات کو مکمل طور پر سنتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ عمر اور تجربے میں اپنے سے کئی گنا بڑے سیاسی لیڈر (جاوید ہاشمی) کو کہنی مار کر جماعت سے نکال دیا جاتا ہے۔

آپ نے بات کی کہ مولانا عطاء الرحمن صوبائی الیکشن ہارنے کے باوجود بھی سینیٹ کے لئے منتخب ہوجاتے ہیں۔ میرے پیارے بھائی، سب سے پہلے آپ کی دیانت کو سلام پیش کرتا ہوں کہ اور آپ کے پوائنٹ پر آنے سے قبل چند باتیں تحدیث نعمت کے طور پر ذکر کرنا چاہتا ہوں کم از کم آپ نے یہ اعتراض کرکے جانے یا انجانے میں جمعیت کے “جمہوری جماعت ہونے ” کا تو اعتراف کرلیا، اور یہ بھی اعتراف کرلیا کہ جمعیت میں جمہوریت اس قدر مضبوط ہے کہ جمعیت کے الیکشن میں کوئی سفارش یا تعلق نہیں دیکھا جاتا یہاں مولانا فضل الرحمن کا بھائی الیکشن ہار بھی سکتا ہے اور مولانا فضل الرحمن پانچ سے زائد بار بلا مقابلہ امیر بھی منتخب ہو سکتا ہے۔

 اب آپ کہیں گے یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہوتی ہے تو جناب من اگر مولانا فضل الرحمن اسٹیبلشمنٹ بنا کر جماعت پر قبضہ کئے بیٹھا ہوتا تو مولانا فضل الرحمن کا بھائی کبھی کے پی سے جماعتی الیکشن نہ ہارتا۔ اگر جمعیت میں صوبائی سطح پر کوئی دھڑا بندی کا ماحول ہوتا تو پینتیس سال سے زائد صوبائی امارت پر فائز رہنے والے مولانا محمد خان شیرانی کبھی بھی صوبائی امارت کا انتخاب نہ ہارتے میں شکرگزار ہوں آپ کا کہ آپ نے جمعیت کے جمہوری جماعت ہونے پر مہر ثبت کردی۔ جہاں تک بات ہے مولانا عطاء الرحمن کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کی تو آپ کو یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمن ٹکٹوں کی تقسیم کے منصب پر نہیں بلکہ امت مسلمہ کی ترجمانی کے منصب پر فائز ہیں ٹکٹ کے دینے یا نہ دینے کا اختیار کے پی کے کی صوبائی جماعت کے پاس تھا اور اسی صوبائی جماعت نے ہی انہیں ٹکٹ جاری کیا تھا۔

مضمون میں بات کی گئی مولانا لطف الرحمن کے پی اسمبلی کے ممبر ہونے کی؛  یہ سوال آپ کو جماعت سے نہیں کرنا چاہیے بلکہ PK-66 کی عوام سے کرنا چاہئیے کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے بھائی کو کیوں اسمبلی میں بھیجا اور اگر آپ کو عوام سے اپنے ممبر اسمبلی کے انتخاب کے اختیار پر سوال اٹھانے کا حق نہیں ہے تو براہ کرم اپنا جواب بھی اسی جگہ ڈال دیجئے جہاں سے یہ سوال آیا تھا۔

آپ نے مولانا کی دوسرے بھائی ضیاء الرحمن کے بارے اعتراض کیا تو آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ ضیاء الرحمن نے اپنا کیرئر پی ٹی سی ایل سے ملازمت میں شروع کیا تھا اپنی قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر ترقی کے زینے چڑھے ہیں ہم اس سے قبل بھی کئی بار متعدد فورمز پر یہ بات رکھ چکے ہیں کہ کوئی بھی شخص اگر یہ سمجھتا ہے کہ ضیاء الرحمن کو خلاف ضابطہ و قانون ترقی دی گئی ہے اس کے لئے ہائیکورٹس سے لے کر سپریم کورٹ کے دروازے کھلے ہیں آئیے اپنے آپ کو سچا ثابت کیجئے لیکن ہم جانتے ہیں کہ نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔ اگر آج ضیاء الرحمن ایک سرکاری نوکری کررہا ہے تو جان لیجئے یہ بھی مولانا فضل الرحمن کی پاک صاف سیاست پر واضح دلیل ہے آخر کونسا پاکستان کا ایسا لیڈر ہے جو ملک کا معروف سیاستدان ہو پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ مؤثر پارٹی کا قائد ہو اور اس کا بھائی ایک معمولی سی سرکاری نوکری پر ملک و قوم کی خدمت کررہا ہو

جہاں تک مولانا عبید الرحمن کے ڈسٹرکٹ کونسل کے ممبر ہونے کی بات ہے، تو جناب عالی کیا ڈسٹرکٹ کونسل کا ممبر بننے کے لئے کسی سیاسی رھنماء کا رشتہ دار ہونے کی ضرورت ہے یا اس کے لئے آئین و قانون میں کوئئ ضابطہ بھی موجود ہے؟؟؟ اور یاد رکھئے اگر صرف سیاسی رھنما کا بھائی ہونا ہی کافی ہوتا کسی عہدے کے لئے تو مولانا فضل الرحمن اپنے بھائیو عبید الرحمن اور ضیاء الرحمن کو ڈسٹرکٹ کونسل یا ڈی سی نہ لگواتا بلکہ وہ چاہتا تو ان کو گورنر کے عہدے پر بھی بٹھا سکتا تھا۔ عجیب بات ہے آخر انصاف کا کیا پیمانے مقرر کررکھا ہے آنجناب نے

 مجھے بتائیں تو سہی کہ مولانا فضل الرحمن کا بھائی سرکاری نوکری کرے تو آپ کے نزدیک حرام ؟وہ ڈسٹرکٹ کونسل کا ممبر بن جائے تو آپ کے نزدیک حرام ؟ وہ الیکشن لڑے عوام کے سامنے خود کو پیش کرے کہ مجھے خدمت کے لائق سمجھتے ہو تو منتخب کرو عوام منتخب کرے لیکن آپ کے نزدیک اس کا انتخاب بھی حرام ؟ مولانا فضل الرحمن کا بیٹا مدرسہ میں پڑھائے تو آپ کے نزدیک حرام ؟ مولانا فضل الرحمن کا بیٹا الیکشن جیت جاتا تب بھی آپ کے نزدیک حرام ہی ٹہرتا اگر وہ الیکشن ہار گیا تب بھی وہ آپ کے نزدیک حرام ہی رہا؟ مجھے بتائیگ کہ کیا کوئی ایسی پوسٹ یا جاب ہے بھی جو مولانا کے بھائیوں اور بیٹوں کے لئے آپ کے نزدیک حلال بھی ہو؟

انصاف کا کیا دوغلا پن ہے کہ ایک سیاسی لیڈر آٹھ سیٹیں  بیک وقت الیکشن ہار جائے لیکن وہ پھر بھی ہیرو رہے۔ وہ چار چار ماہ اسمبلی کو گالیاں دیتے رہیں لیکن ان کی تنخواہ اور کمائی حلال رہے جو اپنے علاقے کی عوام کے لئے چوبیس گھنٹے زندگی وقف کرچکے ہوں ان کے لئے سب کچھ حرام ؟

 آپ نے آخری نکتہ میں جمعیت کے دستور میں ترمیم کی بات کی۔ بظاہر آپ نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ دستوری ترامیم شاید پہلی مرتبہ ہوئی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر جمہوری سیاسی پارٹی وقت کی نزاکت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق اپنے منشور و دستور میں ترمیم کرتی رہتی ہے اور جمعیت علماء اسلام بھی چاہے حضرت درخواستی کی امارت کا دور ہو یا اس سے قبل کا وقت کے تقاضوں کے مطابق دستور میں ترمیم کرتی رہی ہے، بلکہ حضرت قائد محترم کی امارت ہی کے دوران کئی مرتبہ دستور میں بنیادی تبدیلیاں ہوئیں اور ان تبدیلیوں میں حضرت شیرانی صاحب دامت برکاتہم کا باقاعدہ حصہ رہا ہے لہذہ آج کیسے یہ کہا جا سکتا ہے کہ حالیہ دستوری ترامیم کسی شخصیت یا ذات کی ذاتی خواہشات پر مبنی ہیں، جبکہ پورے ملک کی مجلس عمومی نے باقاعدہ ان کی منظوری دی ہے۔

اگر اب بھی آپ جماعت پر یا قیادت پر اعتراض کرتے ہیں تو صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ یہ

“حب شیرانی نہیں بلکہ بغض فضل الرحمن بول رہا ہے”

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *