تیرا ککھ نہ رہوے نو گیارہ۔۔۔۔۔ احمد رضوان

سنہ ۲۰۰۱ میں اپنی پہلی ملازمت کے سلسلہ میں ساہیوال وارد ہوئے ابھی صرف چار ماہ ہوئے تھے اور مناسب رہائش کے بندوبست نہ ہونے اور زرعی تحقیقی فارم بالکل قریب ہونے کی وجہ سے میں اپنی کمپنی مالکان کے قریبی رشتہ دار اور ڈسٹری بیوٹر کی ذیلی کمپنی کے دفتر سے ملحقہ بنے رہائشی کمروں میں قیام پذیر تھا، مفت رہائش اور کھانا ان چند عیاشیوں میں سے سے ایک تھا جو ایک نئے نئے فارغ التحصیل اور پہلی بار گھر سے بے گھر ہوئے کے لیے نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھا. شہر سے باہر بائی پاس اور جی ٹی روڈ کے سنگم پر بنی یہ نئی نویلی خوبصورت عمارت اپنے عقب میں کھلے دیہی ماحول اور درختوں کے جھنڈ اور سامنے جرنیلی سڑک اور اس کے متوازی ریلوے لائن اور پھر اس کے ساتھ ساتھ بہتی لوئر باری دوآب کی نہر سرشام کسی اجاڑ ڈاک بنگلے کا سا تاثر پیش کرتی اور ویرانے کا ایک مکمل نمونہ۔ بہلاوے کے لیے سرکاری ٹی وی پر خبریں دیکھ لی جاتیں یا کوئی ڈرامہ یا کتابوں میں فرار ڈھونڈا جاتا. بہت ہولیا تو کمپنی کے ڈیسک ٹاپ پر کمپنی کی ای میل دیکھنے کے بہانے یاہو چَیٹ جو آخر کار چِیٹ میں ہی بدل گیا تھا، تقریباََ کسی سے بات کرنے کی کوشش کرلینا۔ انہی دنوں آن لائن ایک نئی دوست سے تعارف ہوا جو لاس انیجلس سے تھی اور اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی اور والد ایک کمرشل پائلٹ اور والدہ سکول میں استانی تھی۔ باتوں باتوں میں بات بڑھی اور دوستی خیالات ملنے کی وجہ سے پسندیدگی میں بدل گئی کم از کم میری طرف سے. روزانہ کی بنیاد پر جب دن وہاں چڑھتا اور ادھر رات کو چاند، تو صبح بخیر اور شب بخیر کے پیغامات کا تبادلہ ہوتا اور سارے دن کی رپورٹ دے کر دن بھر کے شیڈول پر ہلکی پھلکی بات چیت۔ ایک بار بیمار پڑی تو ہسپتال میں بھرتی کرلی گئی. جان کے لالے مجھے پڑ گئے. رجسٹرڈ ڈاک سے جلد از جلد صحتیابی کا کارڈ بھیجا جو ڈاک خانے جا کر اس کی دوست کو موصول کرنا پڑا تو استفساراََ پوچھا کہ رجسٹرڈ کیوں بھیجا؟ اس لیے کہ مجھے اپنے ملک کے ڈاک کے نظام پر اعتماد نہیں ۔۔۔۔۔۔ کدرے بن وچولا ۔۔۔۔کھو نہ لے ڈھولا۔ بہت متاثر ہوئی میرے خلوص سے۔ غرض لگتا تھا اب آیا کہ تب پروانہ لینڈ فرام دی بریو سے مگر صاحبو پھر ستمبر کی گیارہ آگئی ہجر کی رات کی طرح دو دلوں کے بیچ.

اس شام دن بہت گرم اور ہوا بالکل بند تھی اور شام حبس زدہ. رات کا کھانا کھا کر چہل قدمی کرکے بستر پر لیٹے کتاب کے ساتھ غنودیم غنودیم کا کھیل کھیلنے کی کوشش میں جاگو میٹی کی حالت میں تھا کہ را (راؤ) جو ایک اشتہاری تھا اور قتل کے مقدمہ میں مفرور و مطلوب، یہاں کمپنی کے مالک کا باڈی گارڈ بن کر رہ رہا تھا اور شیخوپورہ کے نامی گرامی راجپوتوں کی سفارش پر یہاں دندناتا پھرتا تھا. کسی کی مجال جو اسے کچھ کہہ سکے کہ ایک ٹانگ میں شانِ تیموری کا متبادل. اس نے بلا کی تیز زبان پائی تھی اور لگائی بجھائی میں طاق. کہتے ہیں لنگڑے میں ایک رگ زائد ہوتی ہے. پنجابی کہاوت کے مطابق جو اسے دیکھ کر سچ ہی لگتی تھی. خیر تمہید لمبی ہوگئی. شور مچاتا ہوا ٹی وی لاؤنج سے بھاگا بھاگا (لنگڑاہٹ ذہن میں رہے) آیا بھاجی بھاجی خبر آئی اے امریکہ اچ وائی جاز بلڈنگ نوں جا لگا۔ ہڑبڑا کر اٹھا اور خبر دیکھی تو ٹوئن ٹاور میں سے اٹھتا دھواں اور شعلوں کی لپٹ نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا. سی این این کے رپورٹر مٹی اور خون سے لتھڑے لوگوں کی تصاویر اور پس منظر میں فائر بریگیڈ اور پولیس کے گونجتے سائرن کسی بڑے خطرے کی گھنٹی بجا رہے تھے. جلدی جلدی کمپیوٹر آن کیا اور ادھر ادھر سے پتہ چلانے کی کوشش کی مگر کوئی خاص پتہ نہ چل سکا۔ چپکے ہو کر لیٹ رہے. بس کبھی کبھی را کی نعرہ مارتی آواز گونجتی ایناں دی…. ایہو کجھ ہی ہونا سی.

صبح ہر کسی کی زبان اور اخبارات کی چیختی دھاڑتی شہ سرخیاں ایک ہی کہانی بیان کر رہی تھیں کہ اب دنیا ۱۱ ستمبر سے پہلے اور بعد کے طور پر پہچانی جائے گی ۔۴ طیارے تباہ ہوئے. امریکہ میں صدر بش کو کانا پھوسی کرکے واقعے کے بارے بتایا گیا جب وہ کنڈر گارٹن میں بچوں کو اے فار امریکا اور بی فار بش کا سبق دے رہےتھے. باقی آگے کیا ہوا وہ تاریخ ہے کہ کیسے بش کی ایک کال پر مش لم لیٹ ہوگئے اور دونوں نے مل کر اسامہ کی تلاش میں میزائلوں کے بٹن پش کرنا شروع کر دیے اور لوگوں کی زندگی کا تورا بورا کرکے سب کا چھان بورا بنا دیا.

مگر صاحبو میرادکھ تو ذاتی ہے. جو سپنے آنکھوں میں سجا کر کولمبس کے دیس میں جا کر اپنا گھر بسا کر بسنے کے تھے ان کے ٹوٹنے کی گونج ایک ای میل سے ملی جس سے اس وقت کی امریکی نفسیات پر روشنی ڈالنے میں مدد مل سکتی ہے. لکھا ہوا تھا: دیکھنا اب ہم کیسے تم لوگوں کو نشانِ عبرت بناتے ہیں. ہم اپنی ساری طاقت تم لوگوں کو برباد کرنے پر صرف کر دیں گے. سب کچھ ختم سمجھو اور آئندہ رابطہ کرنے کی کوشش نہ کرنا۔

آنے والی ہر شام را مجھ سے ایک ہی سوال کرتا بھاجی بڑے دن ہوگئے کمپوٹر تے میماں دیاں فوٹواں دیکھے. کوئی حیلہ کرو. میرا ایک ہی جواب ہوتا: امریکہ والیاں نے بند کردتا نیٹ، ہن نئی آندیاں فوٹواں. بس میزائل آن دا انتظار کر.

احمد رضوان لائل پور کی مٹی میں گندھا ہوا صاحب دل شاعر اور نثرنگار ہے۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تیرا ککھ نہ رہوے نو گیارہ۔۔۔۔۔ احمد رضوان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *