مولویت ایک پیشہ۔۔۔رانا تنویر عالمگیر

 

مولانا کا مطلب ہوتا ہے ”میرے آقا“، ”میرے مددگار“ اور مولوی اُردو میں انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ صدیوں تک مُلّاکا لفظ عابد و زاہد اور عالم کے لیے استعمال ہوتا رہا لیکن پھر آہستہ آہستہ علم جامد ہوگیا، الفاظ کے خول رہ گئے جن میں سے معانی نکل گئے اور روایات کی ہڈیاں رہ گئیں۔ جن لوگوں سے توقع تھی کہ وہ دین و دانش کے علمبردار ہونگے، وہ بے روح مذہبیت کے اجارہ دار بن گئے، فقط جُبّہ و عمامہ وریشِ دراز دین داری کی علامت رہ گئے، علوم و فنون کی ترقی سے کوئی واسطہ نہ رہا، یہ لوگ زندگی کے حقائق سے بے تعلق اور بے گانہ ہوگئے اور اسلام کو یرغمال بنالیا۔

مولویوں کی کئی اقسام ہیں، جہادی مولوی، سیاسی مولوی، مسلکی مولوی۔ حقیقتاً جہادی اور سیاسی مولوی بھی مسلکی ہی ہوتے ہیں۔ پھر آگے مسلکی مولویوں کی کئی اقسام ہیں۔ ایک وہ مولوی صاحب ہیں جو نماز پڑھاتے ہیں،نکاح وجنازہ وغیرہ پڑھاتے ہیں۔یہ عام طور پر اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر فقط قرآن پاک حفظ کیے ہوتے ہیں اور درسِ نظامی وغیرہ بہت کم مکمل کیے ہوتے ہیں۔ دوسرے مولوی صاحب وہ ہیں جنہیں خطیب کہاجاتا ہے۔ یہ بھی کسی نہ کسی مسجد کے مستقل خطیب ہوتے ہیں۔ اس کے لئے علاوہ مناسب معاوضہ کے تحت جہاں بھی موقع ملتا ہے وہاں خطابت کے فرائض سرانجام دے آتے ہیں۔

مثلاًمسلکی حساب سے میلاد، سیرت النبیﷺکانفرس یا حضرت علیؑ کی یاد کی محفل وغیرہ ……یہ لوگ اپنے مسلک کی اُن باتوں میں ایکسپرٹ ہوتے ہیں جن کے ذریعے دوسرے مسلک سے اپنی قوم کو متنفر کیا جاتا ہے اور یہ سارا زور اپنی قوم کو انہی باتوں میں ایکسپرٹ بنانے میں لگاتے ہیں۔ مولویوں کی یہ قسم عوام میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔مسلکی مولویوں کی ایک قسم وہ ہے جو مدارس میں پڑھانے کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ یہ مولوی صاحبان مدارس کے نصاب میں ایکسپرٹ ہوتے ہیں مگر اُس کے ساتھ ساتھ مسلک میں بھی۔

آج مولوی صاحب جن کے پاس امام کا عہدہ ہے،یہ عہدہ مولوی صاحب کو علم و تقویٰ یا مجاہدہ وغیرہ کی بنیاد پر نہیں ملا بلکہ گاؤں دیہات اور شہروں کے عام لوگ جن میں پڑھے لکھے بھی ہیں اور ان پڑھ جاہل بھی،کی طرف سے عطا کیا ہوا ہے۔ مولوی صاحب کو امامت کا عہدہ عطا کرنے سے پہلے مولوی صاحب کی تقریر سنی جاتی ہے، اگر تقریر پسند آجائے تو مولوی صاحب کو امامت کا عہدہ عطا کردیا جاتا ہے۔ اکثر لوگوں کی چوائس خوبصورت آواز، ترنم اور قصے کہانیاں ہوتی ہیں،جس مولوی صاحب میں یہ خوبیاں پائی جاتی ہوں وہ امام بن جاتا ہے۔اس کے بعد مولوی صاحب کو لوگوں کے مزاج کا خیال رکھنا پڑتا ہے جیسے مزاج کے لوگ ہوں اُنہیں ویسی ہی تقریر سنانی پڑتی ہے کیونکہ ناراضگی کی صورت میں عہدے سے معطل کیے جانے کا اندیشہ ہوتا ہے اور یہی مُلّا ازم کی بنیاد ہے۔ اب وہ شخص جسے ہر وقت ملازمت سے فارغ کیے جانے کا اندیشہ ہو وہ کیا حق بیان کرے گا؟ چھوٹے چھوٹے مسائل پر مولوی صاحب کی چھٹی کروا دی جاتی ہے تو کیا یہ لفظ اِمام کی توہین نہیں ہے؟ اگر ممکن ہو تو علماء کی مشاورت اور تجویز سے اس عہدے کا نام بدل کر جو مناسب ہو وہ رکھ لیں۔مولوی کے اسلام میں ہر مسلک کے لوگ خود کو حق پرست اور باقی تمام مسالک کے لوگوں کو گمراہ، بے دین، مشرک، بدعتی اور گستاخ سمجھتے ہیں۔ ہر مسلک کے اندر بھی الگ الگ کافی فرقے بن چکے ہیں جو اپنے ہی مسلک کے اندر اپنی علیحدہ شناخت کے لئے جہدوجہد کر رہے ہیں اور اپنے ہی لوگوں سے باغی ہیں۔

یہ مولوی صاحبان اپنے فرقے کو صحیح اور مقبول ثابت کرنے کیلئے جس حدیثِ رسول ﷺ سے استدلال کرتے ہیں اُس میں 73فرقوں کا ذکر ہے مگر آج توا ن کی تعداد سینکڑوں سے تجاوز کر چکی ہے۔اصل میں مسلک دو ہی ہیں، مکتب امامت اور مکتب خلافت، مکتب خلافت کے تین بڑے گروہ ہیں۔بریلوی،دیوبندی اور اہلحدیث۔مکتب امامت والوں کو اہل تشیع کہا جاتا ہے۔ایک اعتبارسے صرف دو مسلک ہیں یاچار ہیں اور دوسرے اعتبارسے ان کی تعدادسینکڑوں سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔73پورے کیسے ہوتے ہیں اس کاجواب مولوی صاحب ہی دے سکتے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ہم سچا ھادی اور رسول تو نبی کریم ﷺ کو مانتے ہیں مگر بات صرف اپنے فرقے کے مولوی غلام رسول کی…… عقل والوں کیلئے سوچنے کا مقام ہے۔

مولوی کا اسلام چونکہ ایک پیشہ ہے اس لیے اس میں ہر تہوار، ہر عبادت اور ہر تقریب کا ریٹ مقررہے مثلاً نکاح، میلاد، سیرت النبی کانفرنس، نماز، تراویح، عید، جمعہ، جنازہ، رسمِ سوئم، دسواں، چالیسواں اور فتویٰ وغیرہ کا ہر جگہ اپنا اپنا ریٹ ہے، نذر و نیاز اس کے علاوہ ہے۔

جہاں تک وعظ کا تعلق ہے تو وہ صرف اُن موضوعات پر مبنی ہوتا ہے جن سے یا تو چندہ اکٹھا کرنا مقصود ہوتا ہے اور لوگوں کو ڈرا ڈرا کر چندہ اکٹھا کیاجاتا ہے یا پھر دوسری قسم کا وعظ لوگوں کو باقی فرقوں سے متنفر کرنے، اُن سے لڑوانے بھڑوانے اور کافر، مشرک اور بدعتی ثابت کرنے پر مبنی ہوتا ہے۔ وعظ کی ایک قسم نبی کریم ﷺ کی محبت پر مبنی نعت و واقعات پر بھی مشتمل ہوتی ہے مگر مقصد اُس کا بھی شکم ہی ہوتا ہے۔

نبی کریم ﷺ کے دورِ مبارک سے لے کر 400ھ تک عالمِ اسلام میں ایسے ایسے عالم پیدا ہوئے جنہوں نے پوری دنیا میں اپنا سکہ جمائے رکھااور ہزار ہا موضوعات پر ہزاروں کتابیں تصنیف کیں۔ قرونِ وسطیٰ میں مسلمان سائنسدانوں نے جن سائنسی علوم کی فصل بوئی تھی، آج وہ پک کر جوان ہوچکی ہے اور موجودہ دور اُسی فصل کو کاشت کرتے ہوئے اس سے گونا گوں فوائد حاصل کر رہا ہے۔ مسلمان جب تک علمی روش پر قائم رہے، سارے زمانے کے امام رہے اور جونہی علم سے غفلت برتی، مولویوں کے ہتھے چڑھے، ”ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے ماراٗٗٗ

اور آج حالت یہ ہے کہ ہمارے اسلاف کا علمی ورثہ اپنے اندر ہونے والے بے شمار اضافہ جات کے ساتھ اغیار کا اوڑھنا بچھونا ہے اور ہم مولوی کے پیچھے لگ کر اُن کے پیچھے علمی و ثقافتی اور سیاسی و معاشی میدانوں میں دَر دَر کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔مولوی نے مسلمانوں سے اسلام کو چھین لیا اور مذہب کو ہی اسلام بنا کر تھما دیا اور مذہب بھی اپنی ذاتی محنت و کاوش سے تخلیق کردہ، جیسا کہ اقبالؒ فرماتے ہیں

مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباء کی

جو دیکھیں اُن کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

ایک سائنس دان، مفکر یا محقق اپنی تمام زندگی مطالعہ، مشاہدہ اور تجربات میں گزار دیتا ہے اورا س دوران ہزاروں کتابیں پڑھتا ہے، اس کے باوجود وہ یہی کہتا ہے کہ مجھے اور جاننا ہے،مجھے مزید سیکھنا ہے، مجھے بہتر کچھ پڑھنا ہے اس لیے کہ میں ابھی بھی کچھ نہیں جانتا۔ مرتے دم تک ایسے لوگوں کی یہی سوچ ہوتی ہے اوروہ زندگی کے آخری لمحے پر بھی تشنہ کام رہتے ہیں اور جاننے، سیکھنے کی طلب اور حاصل کرنے کی جستجو اسی طرح قائم رہتی ہے جس طرح پہلے دن تھی جبکہ دوسری طرف اگر ہم مُلّا ازم کے کلچر پر نظر دوڑائیں تو اکثر مولوی صاحبان چند مخصوص کتابوں کا ہی مطالعہ کرتے ہیں ،لیکن خود کو علامہ، مولانا اوربے شمار دیگر القابات کا مستحق سمجھنے لگتے ہیں اور کہلواتے ہیں۔ مولانا کا مطلب ہے ”ہمارے آقا“یعنی وہ چند مخصوص کتابیں پڑھ کر دوسروں کو اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔

اس گروہ نے نہایت چالاکی کے ساتھ خود کو ایک اعلیٰ وارفع ہستی سے جوڑ لیا ہے اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ اس طرح کے لوگوں کی پیروی کر رہے ہیں، ان کی ذہنی سطح کا عالم کیا ہوگا؟ یہ حقیقت ہے کہ جو ایک بارمولوی کو پھنس گیا، اس کا مولوی کے چنگل سے نکلنا تقریباً ناممکن ہی ہوجاتا ہے۔ وہ ایک جیب میں جنت لے کر گھومتا ہے اور دوسری میں دوزخ، ایک طرف مومن ہونے کی سند عطا کرتا ہے اوردوسری طرف کافر ڈیکلیئر کرتا ہے۔

اکثرمولوی صاحبان جن مدارس سے تعلیم حاصل کرتے ہیں، اُنہیں میں بطور معلم و منتظم خدمات سر انجام دینا شروع کردیتے ہیں اور ان کے بارے میں یہ دعویٰ بھی سننے کو ملتا ہے کہ ان مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ سائنسی تعلیم، ریاضی، طبیعات اور کمپیوٹر کے مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو ٹی وی، اخبارات وغیرہ میں ایسا مولوی نظر کیوں نہیں آتا جسے ہم فخر سے عالم کہہ سکیں، جونوجوان ذہن کو جدید سائنس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سوالات کا ،شافی جواب دے سکے۔ مغرب نے جو ترقی کی ہے وہ وظیفے پڑھ کر نہیں، سائنس دانوں کے وظیفے لگا کر طے کی ہے۔ کاش ہمارے مدارس بھی ایسے مولوی پیدا کرنے شروع کردیں جو علم کے زور پرلوگوں کو مسلمان کریں نہ کہ مسلک کو بنیاد بنا کرکافر قرار دیں۔

قرآن پاک میں اللہ پاک نے پہلی قوموں کے زوال اور گمراہی کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ ان کے مولویوں نے اللہ کے احکامات صاف صاف لوگوں تک نہیں پہنچائے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:

”ترجمہ:  ”اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا جنہیں کتاب عطا کی گئی تھی کہ تم ضرور اُسے لوگوں سے صاف صاف بیان کرو گے اور (جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے) اُسے نہیں چھپاؤ گے تو انہوں نے اس عہد کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت وصول کرلی، سو یہ ان کی بہت ہی بری خریداری ہے (آلِ عمران ۷۸۱)

یہود و نصاریٰ کے عالموں کے متعلق قرآن کریم کا واضح ارشاد اس بات کی دلیل ہے کہ دین کے عوض قیمت وصول کرنا انتہائی گھٹیا فعل اور نقصان دہ سودا ہے۔ ہمارے مولوی صاحبان کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں جو دوسروں کو تو عذابِ الٰہی سے ڈرا ڈرا کر چندہ وصول کرتے ہیں مگر خود یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ کچھ نہیں ہوگا۔ آج دین فروشی اپنے عروج پر ہے۔ آج مولوی نے ہر مذہبی رسم و عبادت کی قیمت مقرر کر رکھی ہے۔ نماز سے لے کر جنازہ تک، عید سے فاتحہ خوانی اور نکاح تک، ہر رسم اور عبادت پر فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔  میلاد، سیرت النبی کانفرنس یا عظمت اہلبیت کانفرنس وغیرہ کیلئے وقت اور ریٹ مقرر ہیں اور لوگوں کو دین بھی وہ سکھایا جاتا ہے کہ بات واضح نہ ہو پائے اور لوگ آپس میں لڑتے رہیں تاکہ دوبارہ انہیں بلایا جائے اور وہ دوبارہ اپنی فیس میں اضافے کے ساتھ تقریر فرمانے آئیں،کتابیں بِکتی رہیں اورچندہ ملتا رہے۔

میں مولوی صاحبان سے پوچھتا ہوں کہ قرآن کریم میں جو یہود و نصاریٰ سے متعلق بارہا ارشاد ہوا ہے کہ ”انہوں نے تھوڑی سی قیمت کے عوض اللہ کی آیتوں کو بیچا“ کیا مراد ہے؟ کیا ہمارے مولوی قرآن کی آیتوں کو نہیں بیچ رہے؟ کیا مولوی قرآن کی آیت مکمل اور صحیح ہم تک پہنچا رہے ہیں؟ قرآن میں جو اللہ پاک فرماتا ہے کہ ”تفرقہ میں مت پڑو اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو“ کیا مولوی صاحب نے یہ آیت نہیں پڑھی؟ اگر پڑھی ہے تو کیوں اس کا پرچار نہیں کرتے؟ کیوں تفرقہ پھیلاتے ہیں؟ کیوں لوگوں کو آپس میں لڑواتے ہیں؟ایسے مسلمان کس طرح دنیا کو امن کا گہوارہ بنائیں گے جو روزانہ چھوٹی چھوٹی باتوں اور فروعی اختلاف پر ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہوں؟ ایسی ہی لادینی مذہبیت کے لیے حالی نے کہا تھا   ؎

فساد مذہب نے جو ہیں ڈالے، نہیں وہ تاحشر مٹنے والے

یہ جنگ وہ ہے جو صلح میں بھی یونہی ٹھنی کی ٹھنی رہے گی

مولوی شریعت میں بھی فقط ان باتوں کی ظاہری پابندی کرتے نظر آتے ہیں جس میں ان کے کسی مادی نقصان کا اندیشہ نہ ہو اور اگر نقصان کا خطرہ ہو تو وہ ان احکامات کو نظر انداز کردیتا ہے یا حسبِ منشا تاویل کرلیتا ہے۔حدیث ہو، تفسیر ہو یا فقہ، قدیم تحقیقات میں بھی وہ چیزیں لی جاتی ہیں جو جامد ہیں،انسان کی معلومات میں جو اضافہ ہوا ہے یا جو بدلے ہوئے حالات کا تقاضا ہے، اس کی روشنی میں کسی بات پر نظر ثانی کرنا حرام ہے جبکہ قرآن کی تعلیم ایک زمانے یا قوم کیلئے نہیں ہے، ہر زمانہ جب اس میں غوطہ لگائے گا تو اس کو نئے آبدار موتی ملیں گے۔

مولانا روم ؒفرما گئے ہیں: ”مُلّا اور فقیہہ ہڈیوں پر لڑتے ہیں“اور اقبال کے خیال میں یہ اُن ہڈیوں پر لڑتے ہیں جو نچوڑی ہوئی  ہیں۔دنیا جن چیزوں کو صدیوں پیچھے چھوڑ گئی ہے مولوی کی تعلیم میں ابھی تک وہ جوں کی توں ہیں۔تعلیم کے اعتبار سے مولوی چودھویں صدی ہجری میں نہیں چوتھی صدی میں رہتا ہے اور کولہو کے بیل کی طرح اس کی گردش کوئی فاصلہ طے نہیں کرتی اور وہ ایک قدم کسی صورت میں آگے نہیں بڑھتا۔جب دین کا یہ کام رہ جائے کہ ہر فروعی عقیدے کو معیار کفر و ایمان بنا کر لوگوں کو اسلام سے خارج کرنا ہے اور لڑوانا ہے تو دین کی اس سے بہتر حالت اور کیا ہوگی جو آج ہے۔مولوی کے دل میں انسانوں کی پستی اور ذلت کا حقیقت میں کوئی غم نہیں کیونکہ غمِ دین تو غمِ عشق ہوتا ہے، غمِ روزگار نہیں۔۔

 

 

Avatar
رانا تنویر عالمگیر
سوال ہونا چاہیے.... تب تک، جب تک لوگ خود کو سوال سے بالاتر سمجهنا نہیں چهوڑ دیتے....

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مولویت ایک پیشہ۔۔۔رانا تنویر عالمگیر

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *