• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • افغانستان سے متعلق امریکی اسٹریٹجی میں داعش کا کردار۔۔۔علی محمدی

افغانستان سے متعلق امریکی اسٹریٹجی میں داعش کا کردار۔۔۔علی محمدی

افغانستان میں دہشت گردانہ حملے کوئی نئی بات نہیں اور 2001ء میں امریکی مداخلت کے بعد ایک جنگی ہتھکنڈے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ لیکن گذشتہ چند ہفتوں میں انجام پانے والے دہشت گردانہ حملے معمول سے ہٹ کر تھے جو وسعت اور نوعیت کے اعتبار سے ماضی میں انجام پانے والے واقعات سے بہت زیادہ شدید تھے۔ گذشتہ ہفتے منگل کے دن پکتیا میں پولیس ہیڈکوارٹر پر خودکش بم دھماکے ،کے بعد اس ہفتے اتوار تک انجام پانے والے دہشت گردانہ واقعات کی تعداد کم از کم سات ہو چکی ہے جن میں دو سو سے زائد افراد جاں بحق جبکہ سینکڑوں دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔

اتنی بڑی تعداد میں دہشت گردانہ حملے ان چار فریقی امن مذاکرات کا جواب قرار دیئے جا رہے ہیں جو دو ہفتے پہلے عمان کے دارالحکومت مسقط میں شروع ہوئے اور طالبان اور داعش نے ان مذاکرات سے اپنی مخالفت کا اعلان کیا تھا۔ افغانستان میں دہشت گردانہ واقعات میں اضافے کی ایک اور وجہ موسم بھی ہے کیونکہ موسم سرما کا آغاز ہونے والا ہے اور اس سے پہلے اس قسم کے واقعات میں شدت آ جاتی ہے۔ ان دو وجوہات کے علاوہ بعض ماہرین افغانستان سے متعلق امریکہ کی جدید جنگی اسٹریٹجی کی جانب بھی اشارہ کر رہے ہیں۔ افغانستان میں بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ واقعات دو لحاظ سے امریکی اسٹریٹجی سے مربوط قرار دیئے جا رہے ہیں۔

پہلا لحاظ یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے افغانستان میں ہوائی حملوں کی شدت میں اضافہ اس بات کا باعث بنا ہے کہ طالبان اور داعش بھی ردعمل کے طور پر اپنی دہشت گردانہ کاروائیوں اور اقدامات میں اضافہ کر دیں۔ شائع ہونے والے اعداد و ارقام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ماہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے افغانستان میں انجام پانے والے ہوائی حملوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس ماہ ہوائی حملوں کی تعداد 2012ء میں انجام پانے والے حملوں کے برابر ہو چکی ہے۔ یاد رہے 2012ء کا سال ہوائی حملوں کی سب سے زیادہ تعداد کا سال ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے افغانستان میں ہوائی حملوں کی شدت میں اضافہ اس وقت عمل میں آیا جب نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست کے مہینے میں افغانستان سے متعلق اپنی نئی اسٹریٹجی کا اعلان کیا۔ دوسری طرف طالبان اور داعش نے اپنے افراد کا مورال بڑھانے کیلئے جوابی کاروائی کے طور پر دہشت گردانہ اقدامات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

لیکن ایسا سوچنا کہ طالبان اور داعش کی جانب سے دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ محض امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ہوائی حملوں میں اضافے کا ردعمل ہے بہت سادگی ہو گی۔ حال ہی میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دو دہشت گرد حملے انجام پائے۔ پہلا حملہ داعش کی جانب سے انجام پایا جس میں کابل کی مسجد امام زمانہ (عج) کو نشانہ بنایا گیا جبکہ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر دوسرا حملہ طالبان کی طرف سے انجام پایا جس میں مارشل فہیم کی ملٹری اکیڈمی کو نشانہ بنایا گیا۔

ان دو دہشت گردانہ حملوں اور ماضی میں انجام پانے والے حملوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ طالبان ہمیشہ کی طرح حکومتی مراکز کو اپنا ٹارگٹ بنا رہی ہے جبکہ داعش فرقہ وارانہ اقدامات میں ملوث ہے اور فرقہ واریت پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ تکفیری دہشت گرد گروہ نے افغانستان میں فرقہ وارانہ جنگ شروع کرنے کیلئے مساجد، امام بارگاہوں اور اہل تشیع کے پروگرامز کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ داعش سے درپیش خطرہ اس قدر شدید تھا کہ افغان حکومت نے شیعہ محافظین کو محدود پیمانے پر اسلحہ بھی فراہم کیا ہے تاکہ وہ اپنے مذہبی مقامات اور پروگرامز کی حفاظت کر سکیں۔

افغان حکومت کا یہ طریقہ کار کافی حد تک موثر ثابت ہوا اور اس سال محرم میں مجالس عزاداری اور جلوس داعش کے حملوں سے محفوظ رہے ہیں۔ اگر داعش اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گئی تو افغانستان میں ایسی شدید فرقہ وارانہ جنگ شروع ہو جائے گی جس کا کوئی نقطہ اختتام قابل تصور نہیں اور نہ ہی اس سے بچنے کا کوئی راہ حل نظر آتا ہے۔ ایسی صورت میں امریکی حکام کے پاس افغانستان میں فوجی موجودگی کا بہترین بہانہ فراہم ہو جائے گا۔

اسی حقیقت کو بھانپتے ہوئے افغانستان کے بعض سیاسی ماہرین نے داعش کے مسئلے پر خاص توجہ دینے پر زور دیا ہے۔ دو تین ہفتے پہلے افغانستان کے سابقہ صدر حامد کرزئی نے برطانوی تحقیقاتی ادارے رائل ریسرچ سنٹر کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں واضح طور پر امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ افغانستان میں سرگرم داعش کی مدد کرنے میں مصروف ہے۔ اسی طرح ایک ہفتہ پہلے افغانستان پارلیمنٹ کے اراکین نے ایک مشترکہ بیان میں واضح کیا کہ امریکہ ایک طرف افغانستان کے شمال میں طالبان کے خلاف شدید فوجی اقدامات کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف دہشت گرد گروہ داعش کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ آزادی سے دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دیتا رہے۔

لہذا افغانستان میں نئی امریکی اسٹریٹجی کے تحت ہوائی حملوں میں اضافے کا مقصد طالبان عناصر کو نشانہ بنا کر داعش کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ کھل کر فرقہ وارانہ شدت پسندی پر مبنی کاروائیاں انجام دے سکے۔ اس نئی امریکی اسٹریٹجی کا مقصد داعش کے ذریعے افغانستان میں فرقہ واریت کو فروغ دینا ہے اور امریکی اسٹریٹجی میں داعش کا کردار بھی درحقیقت یہی ہے۔ امریکہ افغانستان میں ایک طولانی مدت جنگ کا آغاز چاہتا ہے جس کے بہانے ہمیشہ کیلئے اس ملک میں اپنی فوجی موجودگی کا مستقل بہانہ فراہم کر سکے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *