خود احتسابی۔۔۔۔عارف خٹک

میرا ایک فارمولہ ہے۔جب میں کسی کے ساتھ دُشمنی کرتا ہوں، یا گر کوئی میرا دشمن بن جاتا ہے۔تو میں اُس کے طاقت کے مرکز کو پرکھتا ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ جو شخص میرا دُشمن ہے اُس میں اور مُجھ میں فرق کیا ہے۔ اُس کی طاقت کی بُنیاد کہاں ہے۔ میں جب تقابل  کرلوں،تو میں اُس کی طاقت کو ٹارگٹ کرتا ہوں۔ اگر مُجھ میں اتنی قوت ہوئی،تو میں اسے ویلکم کہتا ہوں، ورنہ اپنی کمزوریوں کا اعادہ کرکے اپنی طاقت اتنی بڑھا دیتا ہوں کہ ہم دونوں کی طاقت کا توازن برابر ہوجائے۔ یاد رکھیے  طاقت کا توازن امن کیلئے بہت ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ کولڈ وار کے بعد جب ہمارے کندھوں پر بیٹھ کر امریکہ نے روس کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا اور بین الاقوامی طاقتوں کے بیچ طاقت کا توازن خراب ہوا۔ تو اس کا سب سے بڑا نقصان ہمیں ہی اُٹھانا پڑا۔ لہٰذا دُشمن کو کوسنے اور ہمدردیاں سمیٹنے کےلئے آپ کے آنسو کام نہیں آتے۔ آپ کا طاقتور بننا بہت ضروری ہوتا  ہے۔ طاقت جذبات سے نہیں حکمت عملی اور بروقت منصوبہ سازی سے حاصل ہوتی ہے۔

میں جنریشن ایکس ہوں۔ میں نے تار فون سے لیکر اینڈرائیڈ کا زمانہ دیکھا ہے۔ میں نے افغانستان روس کی  جنگ کی تباہ کاریاں اور اسکے ما بعد اثرات کا قریبی مُشاہدہ کیا ہے۔ میں نے عراق امریکہ کی جنگ اور پھر عراق کی بربادی دیکھی ہے۔ میں نے اپنے سامنے افغانستان کو تخت  و تاراج ہوتے دیکھا ہے۔میں نے ان سب عوامل میں پاکستان کے بخوبی کردار کو بھی دیکھا ہے۔ اور اسی کردار میں پاکستان کو خود لہُو لہُو ہوتے بھی دیکھا ہے۔ انسانی المیے کی غم ناک اور کرب ناک  ہجرت  دیکھی ہے۔ میں نے دو نسلوں کو رُلتا ہوا دیکھا ہے۔ ان حالات میں ہم جیسے پشتون بچے وقت سے پہلے بالغ ہوئے۔

نام پر کلک کرکے گزشتہ تمام تحاریر پڑھی جاسکتی ہیں ۔۔۔ عارف خٹک

9/11 کی شام میں آج بھی یاد کرتا ہوں،تو میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ میں اُس پشتون دوست کو نہیں بُھول سکتا۔جو میرا روم میٹ تھا اور اس کی تالیاں اور خوشی بھرے نعرے کہ آج امریکہ تباہ ہوگیا۔یہ کہہ کر وہ جب میری طرف دیکھنے لگا،تو میرا فق ہوتا چہرہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ شکایتی لہجے میں مُجھ سے پُوچھا آپ کو کوئی خوشی نہیں ہورہی؟۔۔۔
جواباً میں فقط اتنا بول پایا کہ اب آپ کا کاونٹ ڈاؤن شروع ہوگیا ہے۔ بربادی آپ کا مقدر بن چکی ہے۔ میں اب بچوں کو یتیم، ماؤں کو خالی گود، باپ کو بیٹے کی لاش پر بین کرتے اور اقوام کو تباہ ہوتا دیکھ رہا ہوں۔ جس میں کسی کا کوئی قصور نہیں ہے۔

بالآخر عراق نے اپنی میزائل ٹیکنالوجی تباہ کردی،مگر تباہی اس کا مقدر ٹھہری۔ افغانستان کو تخت  و تاراج کردیا گیا۔ جس کی 99 فی صد آبادی کو یہ علم نہیں تھا،کہ پیٹنا گون کس ملک کا شہر ہے۔اور 9/11 کسے کہتے ہیں مگر حیرت انگیز طور پر اُن کو 9/11 اور پینٹاگون کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ پچھلے 19  برسوں میں مُجھے ایک بھی افغانی یا عراقی نہیں ملا،جس نے اپنے ممالک کا مقدمہ لڑا ہو۔ وجہ آگے جاکر بیان کرتا ہوں۔

میرے پشتون دوست  آج کل نوحہ کناں ہیں،کہ ان کے علاقوں کو تباہ وبرباد کردیا گیا۔ پے  درپے فوجی آپریشنوں نے اُنھیں ایک انسانی المیے سے دوچار کرڈالا۔ اُن کی پوری ایک نسل طیاروں کی گھن گرج، خودکش دھماکوں اور دہشت گردی کے الزامات تلے پل کر جوان ہوئی ہے۔جو ایک تلخ حقیقت ہے۔ میرے دوست اس کا الزام دوسروں پر لگا رہے ہیں۔ جو کہ ایک دوسری ننگی حقیقت ہے۔ پرویز مشرف جب پرائی جنگ کو اپنے ملک اندر لے کر آرہا تھا تو اس وقت سب کو اس بات کا اندازہ تھا کہ کابل کی آگ اس بار ہمیں خاکستر کر کے ہی رہے  گی۔ اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔

میں پشتون ہوں میں بات کروں گا اپنے قبیلے کی۔ ہم بطور قوم ایک انتہاء پسند قوم ہیں۔ ہمیں اگر مسجد میں دس منٹ کےلئے کسی جہادی کے سامنے بٹھا دیا جائے۔تو خودکش جیکٹ پہننے میں ہم ایک منٹ بھی نہیں لگاتے۔ اور مسجد سے باہر لے جاکر کسی بائیں بازو کے ہاتھ دیا جائے،تو الحاد کا سب سے بڑا مقدمہ ہم ہی لڑنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہماری تباہی میں سب سے بڑا ہاتھ ہمارے مزاج کا ہے۔ ہم اعتدال اور توازن سے بہت دُور ہیں۔ 9/11 کے بعد جب صوفی محمد نے جہاد کا نعرہ بلند کیا،تو ہزاروں نوجوانوں نے اُس کی آوازپر لبیک بول کر افغانستان کا رُخ کیا۔ جن کی لاشیں آج بھی دشتِ لیلیٰ  افغانستان میں بے گور وکفن پڑی ہوئی ہیں۔ کسی نے صوفی محمد سے پُوچھا کہ ہمارے بچے کہاں ہیں؟مگر ان کے والدین آج بھی خود کو تسلی دے کر خوش ہورہے ہونگے کہ اُن کے بچے جنت میں مزے کررہے ہوں گے۔لیکن اُن کی مائیں رو رو کر اندھی ہوچکی  ہیں۔

اس کے فورا ً بعد وزیرستان میں مسلح دھڑے بندیاں جنہوں نے شریعت کا بہانہ کرکے وہ وہ داستانیں رقم کیں کہ تاریخ بھی اُس پر شرمندہ رہے گی۔ ہمارے ریاستی ادارے وقتی مفادات کیلئے ان سب کو بڑھاوا دیتے رہے۔ بالآخر بات اس نہج پر پہنچ گئی،کہ آج لوگ ریاست کو انہی اداروں کی وجہ سے ٹارگٹ کرنے لگ گئے ہیں۔
وزیرستان ان سب کاروائیوں کیلئے بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ اسلحہ کی کُھلم کھلا دستیابی، مقامی طور پر اسلحے کی پیداواری  صلاحیت اور وہاں کےمزاج کی تُندی نے ایک بہترین نرسری کا کام کیا۔ مقامی لوگوں کی مذہب پسندی کو جس طریقے سے بڑھاوا دیا گیا وہ بذات خود وہاں کے مذہبی نمائندوں کا ایک معاشرتی جرم تھا۔

9/11 سے پہلے افغان جہاد نے جہاں اس خطے کو کھلے عام اسلحے کی منڈی بنا دیا تھا۔وہاں وزیرستان کے کچھ مخصوص خاندانوں کو وار لارڈ بنا دیا گیا۔ جو ملکی اور غیر ملکی اداروں کیلئے بطور سہولت کار کام کرتے رہے۔
ہم ان حقائق سے پردہ پوشی کررہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم اپنا احتساب کریں۔ بحیثیت قوم ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے  کہ کیا وجوہات ہیں؟کہ ہم خطے میں موجود دوسری اقوام سے پیچھے ہیں۔ مگر شترمرغ کی طرح سر ریت میں چھپا کر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاید طوفان سے ہم محفوظ ہوگئے ہیں۔

الزام در الزام کے کلچر سے ہمیں نکلنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو پڑھانا ہوگا۔ مزید ایموشنل بلیک میلنگ سے نکلنا ہوگا۔ ہمیں ان خوابوں سے اب نکلنا ہوگا جو ہمارے رہنما ہمیں دکھائے جارہے ہیں۔ اگر اپنی خوابوں کی تعبیر سچ ثابت کرنی ہے تو پانچ منٹ بیٹھ کر اپنا احتساب کرلیں۔مجھے یقین ہے کہ زمانہ آپ کا ہوگا۔ حال بھی اور مستقبل بھی۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *