منٹو کی اذیت کا احساس ۔ رحمن عباس

“If liberty means anything at all, it means the right to tell people what they do not want to hear.”
151George Orwell
**
سعادت حسن منٹو کی ذہنی کیفیت ،محرومیوں اور اذیتوں کا شدید احساس اس رات ہوا جب ارتھر روڈ جیل کی تاریکی میں،میں نے خود کو بے بس محسوس کیا تھا۔ چند سعادت مندوں کی نوازش کے سبب میرے پہلے ناول ’نخلستان کی تلاش ‘ پروہی الزام لگایا گیا تھا جس طرح کے الزامات منٹو پر متواتر لگاکئے۔ اردو معاشرے میں اس بات پر شاید کم توجہ دی گئی ہے کہ کسی تخلیقی فنکار کو اپنے معاشرے میں جب مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی ذہنی اور فکری کیفیت کیا ہوتی ہے۔ فنکار کے دل اور دماغ پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فنکار کے سماجی اور معاشرتی رشتوں میں کون سی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ اس کے فنی رویے اور افکار پر کیا اثرات ہوتے ہیں۔ کیا اردو فکشن کی گزشتہ ستر اسی برسوں کی تاریخ میں اس بات پر سنجیدگی سے غور کیا گیا ہے کہ ہمارے معاشرے نے جو سلوک عصمت چغتائی،منٹو اور خواجہ احمدعباس کے ساتھ کیا اس کے محرکات کیا تھے۔ کون سے عوامل ان ذہنی رویوں کے پس پردہ کام کرتے ہیں۔ ہم ایک ملٹی کلچرل جمہوری ملک میں رہتے ہیں جہاں چالیس فی صد سے زیادہ اردو معا شرہ غربت کی لکیر کے نیچے سسک سسک کر زندگی بسر کر رہا ہے۔ جنس سب سے سستا کموڈتی میں بدل گئی ہے اور انسانی رشتوں کی گانٹھ اس قدر پے چیدہ ہوگئی کہ اسے بہشتی زیور کے نسخوں سے سلجھا یا نہیں جا سکتا۔ ہماری زبان، ہماری اقدار اور ہمارا تصورِ جمال مٹنے کی کگار پر ہے۔ پھر بھی ہم مشرق وسطیٰ کی وادیوں میں اوندھے منہ لیٹے،قروں وسطی ٰکے دیباچے چاٹ رہے ہیں۔ اس صورت حال میں ادب کا مطالعہ کیا معنی رکھتا ہے اور ادب کن موضوعات کا احاطہ کرے گا۔ اس عہدِ مرگِ روشنی میں سعادت حسن منٹو کی زندگی، اس کی اذیتوں اور اس کے تحریر کردہ ادب کی معنویت کیا ہے؟
جب ادیب کو معاشرہ ذہنی، معاشی، اور جسمانی اذیت میں مبتلا کرتا ہے تو سب سے پہلے ادیب کے دل میں ایسے معاشرے کے تعلق سے ایک احساس بے گانگی جنم لیتا ہے۔ یہ ایک فطری ردِعمل ہے۔ ارتھر روڈ جیل کی اس ہولناک شب میں، میرا دل بھی اردو معاشرے کی کج روی سے خود کو بے گانہ محسوس کر رہا تھا۔ اس بے گانگی میں صرف منٹو میرے ساتھ تھا۔ میں نے اسے مغموم، رنجیدہ اور اداس ایک کونے میں بیٹھا ہوا محسوس کیا۔ میں آج تک یہ طے نہیں کر سکا ہوں کہ وہ میرا وہم تھا یا پھر واقع منٹو کی روح وہاں آن موجود تھی۔ ’ منٹو کی پیشانی کا چوکٹھا اس کے دماغ کی طرح عظیم ہے اور عجیب و غریب بھی۔ با لعموم ذہین آدمیوں کی پیشانی کا چوکٹھاان تصویروں سے زیادہ ملتا جلتا ہے جو مغربی مصور شیطان سے منسوب کرتے ہیں۔ یعنی فراخ ماتھا اور بال کنپٹیوں کے قریب سے پیچھے کی طرف غائب ہوتے ہوئے۔ منٹو کا ماتھا شیطان سے ملتا جلتا نہیں ہے۔ منٹو کا ماتھا مستطیل ہے۔ سیمیں پردے کی طرح، نیچے سے کم فراخ ہے اور اوپر سے زیادہ اور بال سیدھے لانبے گھنے ہیں۔ اور آنکھوں میں وحشی چمک ہے ایک بے باک درشتی ہے۔ ایک ایسی سوجھ بوجھ ہے جیسے منٹو موت کے دروازے کے اندر جھانک کر لوٹ آیا ہو۔ ‘(سعادت حسن منٹو، کرشن چندر)
منٹو کو اردو معاشرے نے کئی بار زندہ درگور کرنے کی کوشش کی۔ جس کے ذمے دار وہ لوگ بھی تھے جنھیں اس کی تحریروں میں فحاشیت نظرآتی تھی اور وہ لوگ بھی جو ادب کے امام صاحب ہونے کا سونگ رچ کر منٹو کو مطعون کر رہے تھے۔ منٹو کا اصرار تھا کہ اس کی تحریریں فحش نہیں ہیں اور بعد میں بیشتر مقدمات میں کورٹ نے بھی منٹو کو بری کر دیا تھا۔ جن مقدمات میں نچلی عدالتوں میں فیصلہ اس کے خلاف ہوا تھا ان میں ہائی کورٹ نے اسے بری کردیا تھا۔ لیکن اس پورے تماشے میں منٹو کو معاشی اور ذہنی اذیت سے تو گزرنا ہی پڑا۔ اس کی روح اور اس کا دل اردو معاشرے کی ستم ظریفی سے یقیناًگھائل ہوا ہوگا۔ اس بات پر میں نے پہلے ایسی سنجیدگی سے غور نہیں کیا تھا۔ لیکن اس شب جب اس کی مغموم روح ٹکٹکی باندھے میری طرف متواتر دیکھ رہی تھی،ا س کی اذیت کا احساس ایک درد کی صورت میرے سینے میں پیدا ہوا۔ مجھے لگا میرے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی ہے اور میری آنکھوں میں ہلکا اندھیرا پھیل رہا ہے۔ ممکن تھا کہ میں بے ہوش ہو جاتا۔ اس کے چہرے کی اداسی کے باوجود ایک الہامی سی چمک اس کی آنکھوں میں اس رات بھی تھی اور یہ چمک بالکل ویسی ہی تھی جب وہ کرشن چندر سے پہلی بار ملا تھا۔ میں نے سرگوشی کی سی کیفیت میں اس کی چمکتی ہوئی آنکھوں کی طرف دیکھ کر اس سے پوچھا:’کیاگزری تھی تم پر جب۔ ۔ ۔ ؟‘
چمکتی آنکھوں نے میری جانب دیکھا پھر اس کے لب کھلے۔ ’دماغ کی کچھ عجیب ہی کیفیت تھی،سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کروں۔ لکھنا چھوڑ دوں یا احتساب سے قطعاً بے پروا ہو کر قلم زنی کرتا رہوں۔ ( اس نے جیل کی دیوار پر انگلیاں پھیریں۔ ایک لمحہ خاموش رہا۔ گویا کچھ سوچ رہا ہو۔ پھر اس نے کہا)سچ پوچھئے تو طبیعت اس قدر کھٹی ہوگئی تھی کہ جی چاہتا تھا کوئی چیز الاٹ ہو جائے تو آرام سے کسی کونے میں بیٹھ کر چند برس قلم اور دوات سے دور رہوں۔ دماغ میں خیالات پیدا ہوں تو انھیں پھانسی کے تختے پر لٹکادوں۔ الاٹمنٹ میسر نہ ہو تو بلیک مار کیٹنگ شروع کردوں یا نا جائز طور پر شراب کشید کرنے لگوں۔ (یکایک اس کے چہرے پر مسکراہت ابھری۔ اس نے اپنا ہاتھ دیوار سے ہٹایا میرے کندھے پر رکھا اور پھر کہا)آخر الذکر کام میں نے اس لیے نہ کیا کہ مجھے اس با ت کا خدشہ تھا کہ ساری شراب میں خود پی جایا کروں گا۔ خرچ ہی خرچ ہوگا۔ آمدن ایک پیسے کی بھی نہ ہوگی۔ بلیک مارکیٹنگ اس لیے نہ کرسکا کہ سرمایہ پاس نہ تھا۔ ایک صرف الاٹ منٹ ہی تھی جو کارآمد ثابت ہو سکتی تھی۔ ( اس سے پہلے کے میں الاٹ منٹ کے بارے میں پوچھتا اس نے خود ہی کہہ دیا) آپ کو حیرت ہوگی مگر یہ واقع ہے کہ میں نے اس کے لیے کوشش کی۔ پچاس روپے حکومت کے خزانے میں جمع کرکے میں نے درخواست دی کہ میں امرتسر کا مہاجر ہوں۔ بے کار ہوں۔ اس لیے مجھے کسی پریس یا سنیما میں حصہ الاٹ فرمایا جائے۔ (گنجے فرشتے۔ سعادت حسن منٹو)
***
(سعادت حسن منٹو کے والد غلام حسن منٹو کشمیری تھے اور امرتسر میں ایک بڑے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کی پہلی بیوی جا ن بی بی سے ان کے چار لڑکے اور ایک لڑکی تھی۔ جان بی بی اختلال حواس کا شکار ہوگئی تھی۔ غلام حسن منٹو نے لاہور میں سردار بیگم سے دوسری شادی کرلی۔ دوسری بیوی سے ان کے دو بچے تھے۔ اقبال بیگم اور سعادت حسن منٹو۔ کہا جاتا ہے کہ والد بہت ہی سخت آدمی تھے اور ان کے مزاج سے تنگ آکر وہ ممبئی بھا گ آیا تھا۔ منٹو کی ماں سردار بیگم کی اس کے والد کے ساتھ دوسری شادی تھی اور جس گھر میں وہ آئی تھی وہاں پہلے ہی سے پانچ سوتیلے بچے اس کے منتظر تھے۔ یہ بھی کہا جا تا ہے کہ منٹو کے والد کا خاندان اس کی ماں کو پسند نہیں کرتا تھا اور غلام حسن منٹو کا بھی ان سے رویہ کچھ ایسا اچھا نہیں تھا۔ منٹو کے جاننے والوں اور اس کے دوست اور سوانح نگار ابو سعید قریشی کے مطابق منٹو بچپن ہی سے ایک سہما ہوا بچہ تھا۔ سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے اپنا آپ ظاہر نہ کرسکتا تھا۔ اور وہ اپنی شخصیت کا اظہار باہر گلی کوچوں میں کرتا تھا۔

اس مختصر سے سوانحی احوال سے ہم اس بات کا بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ منٹو کا بچپن کس گھٹن میں گزرا ہوگااور منٹو کی ذہنی ساخت پر اس کے کیا اثرات ہوئے ہوں گے۔ ’مرد ، عورت اور سماج ‘اس تثلیت میں انسانی جبلت کے اسرار دریافت کرنے کا جو احساس ہمیں اس کی بیشتر کہانیوں میں ملتا ہے ،اس کا ایک سرا اس کی خاندانی زندگی کی تلچھٹ میں بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔
منٹو نے جب لکھنا شروع کیا تب ہمارے معاشرے کے احساسِ جمالیات اور تصورِ اخلاقیات کو جواز بنا کر چند ادبی پنڈتوں نے اس کے خلاف ایک محاذ کھو ل دیا تھا جس کے سبب منٹو کو وہ راحت اور فراست نصیب نہ ہوئی جو اس کے گم شدہ بچپن، منتشر رشتوں، ادھے ادھورے باپ اور زندگی کی ٹھکرائی ہوئی ماں کے دکھ کو کم کرتی۔ معاشی بدحالی اور کرم فرماؤں کے سبب ہونے والی اذیت اس کے ذہن اور باطن کو بری طرح متاثر کئے تھی۔ اس اندوہناک نفسیاتی صورت حال کا علاج اس کے پاس کثر تِ شراب کے کچھ اور نہ تھا۔ اس کا اعتقاد مذہب، سیاست، اور تاریخ میں نہیں تھا جو بیشتر لوگوں کے لیے تریاق کا کام کرتے ہیں۔ منٹو کا سینہ آدمی کی باطنی اور جبلیاتی کیفیتوں سے معمور تھا جنھیں سماج اور معاشرتی حالات جنم دیتے ہیں۔ منٹو کا فن ان افرادکی ذات میں پوشیدہ اور گم شدہ انسانیت کا متلاشی تھا جن کو سماج جنم دے کر فراموش کر دیتا ہے۔ کرشن چندر نے بجا لکھا ہے کہ ’’ وہ اردو ادب کا واحد شنکر ہے جس نے زندگی کے زہر کو خود گھول کر پیا ہے اور پھر اس کے ذائقے کو اس کے رنگ کو کھول کھول کے بیان کیا ہے۔ لوگ بدکتے ہیں۔ ڈرتے ہیں مگر اس کے مشاہدے کی حقیقت اس کے ادراک کی سچائی سے انکار نہیں کرسکتے۔ زہر کھانے سے اگر شنکر کا گلا نیلا ہوگیا تھا تو منٹو نے بھی اپنی صحت گنوائی ہے۔ ‘ (سعادت حسن منٹو۔ کرشن چندر)
منٹو ادب اور آرٹ کی معنویت کو جس سنجیدگی سے سمجھتا تھا س کی مثال اردو ادب میں بہت زیادہ نہیں ملتی۔ اس لیے جب چند افراد نے اس کی کہانیوں پر عریانیت اور فحاشی کے الزامات لگائے تو اس نے ان کے بہتان کو ماننے سے انکار کردیا اور دو ٹوک کہہ دیا ’’کسی ادب پارے کے متعلق ایک اخبار کے ایڈیٹر ایک اشتہار فراہم کرنے والے اور ایک سرکاری مترجم کا فیصلہ صائب نہیں ہو سکتا۔ بہت ممکن ہے یہ تینوں کسی خاص اثر، کسی خاص غرض کے ماتحت اپنی رائے قائم کر رہے ہوں اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ تینوں حضرات رائے دینے کے اہل ہی نہ ہوں۔ ۔ ۔ ۔ کسی بڑے شاعر، کسی بڑے افسانہ نگار پر صرف وہی آدمی تنقید کر سکتا ہے جو تنقید نگاری کے فن کے تما م عواقب و عواطف سے آگاہ ہو۔ ‘‘

منٹو نے ہمت کے ساتھ اپنے حریفوں کا مقابلہ کیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ اس کی خود اعتمادی تھی۔ اسے احساس تھا کہ وہ ادب تخلیق کر رہا ہے۔ ادب جس کی اخلاقیات بنیادی انسانی اخلاقیات ہیں۔ کسی عقیدے کی بھٹی کا نظام نہیں۔ اس لیے منٹو نے واضح طور پر اشارہ دیا ہے کہ’’ مجھے اخباروں کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہنا ہے جن میں ہفتوں بلکہ مہینوں حکومت اور رعایا کو اخلاقیات کے سبق دئے جاتے ہیں۔ افسوس صرف اتنا ہے کہ یہ پرچے ایسے لوگوں کی ملکیت ہیں جو عضوِ خاص کی لاغری اور کجی دور کرنے کے اشتہار تو خدا اور رسول کی قسمیں کھا کھا کر شائع کرتے ہیں لیکن اپنے ایڈیڑوں کی ٹیڑھی بھینگی ٹانگوں اوران کی جھکی ہوئی کمروں کے متعلق خیال نہیں کرتے۔ ‘‘
***
منٹو کو اپنی تحریر اور اسلوب پر اعتماد تھا۔ انگریزی، روسی اور چینی ادب کا اس نے خاطر خواہ مطالعہ کیا تھا۔ عقائد کی دیواریں اتنی بلند نہ تھیں کہ اس کی جسارت کو روک سکتیں۔ قدرت نے اسے وہ نظر عنایت کی تھی جو ایکسرے کا کام انجام دے سکتی تھی اور اپنے ساتھ اس جواں حوصلے کو لے کر پیدا ہوا تھا جس سے وہ ہر منظر، واقعے اور جذبے کو بیان کر سکتا تھا۔ اس کے کردار، ماحول اور حالات کی ستم ظریفی کے باوجود زندگی کا اثبات کرتے ہیں اور اسفل ترین سطح پر بھی انسانی جبلت کی موجودگی پر اصرار کرتے ہیں۔ اپنے ایک دوست سید امجد سے اس نے کہا تھا کہ ’ میں انساں ہوں۔ وہ انسان جس نے انسانیت کی عصمت دری کی تھی۔ جس نے فنا کو بادہء ہر جام بنایا تھا جس نے دوسری اجناس کی طرح انسان کے گوشت پوشت کو دکانوں پر سجا سجا کر بیچا تھا۔ میں وہی انسان ہوں جس نے پیغمبروں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے۔ مجھ میں وہ کمزوریاں اور خوبیاں موجود ہیں جو دوسرے انسانوں میں ہیں۔ ‘ (منٹو ایک نفاست پسند۔ سید امجد الطاف)
منٹو کے اندر موجود یہی آدمی دوسرے افراد کی زندگیوں اور ان کے دل کی کیفیتوں کو محسوس کر تاہے۔ اس نے یقیناًسماج کی سب سے مکروہ مانے جانے والی عورت (طوائف) کی زندگی کی کئی جھلکیاں پیش کیں لیکن کون ہے جو کرشن چند ر کے اس ریمارک کو غلط ثابت کرے کہ ’’منٹو نے موجودہ سماجی نظام کے اندر بسنے والی طوائف کی زندگی کے چھلکے اتار کر الگ کر دئیے ہیں اس طرح کہ اس افسانے میں نہ صرف طوائف کا جسم بلکہ اس کی روح بھی ننگی نظر آتی ہے۔ ایک شیشے کی طرح آپ اس کے آرپار دیکھ سکتے ہیں۔ دیکھ رہے ہیں کس بے دردی اور سفاکی سے منٹو نے اسے ننگا کیا ہے لیکن اس بد صورت خاکے کا ہر رنگ بدصورت ہوتے ہوئے بھی ایک نئے حسن کی تخلیق کرتا ہے۔ (سعادت حسن منٹو۔ کرشن چندر) اسی بات کو ممتازشرین نے دوسرے لفظوں میں یوں کہا تھا کہ ’زندگی کے زہر کو اپنے افسانوں میں سموتے ہوئے منٹو سنکی بن گیا تھا۔ ‘ یہ سنکی رویہ معاشرے کے زوال کے احساس سے پیدا ہونے والی ایک ذہنی کیفیت کا اظہار بھی ہے۔
***
اندھیر ی کورٹ سے ارتھر روڈ جیل تک جو لوگ پولس وین میں میرے ہمسفر تھے۔ ان میں سے ایک نے مجھ سے پوچھا: ’کیارے؟ کیا بڑبڑارے لا ہے ؟ ‘ دوسرے نے اس کی طرف دیکھ کر جواب دیا۔ ’ پہلی بار آئلا لگتا ہے۔ ‘
دونوں مسکراتے ہوئے ایک طرف بیٹھ گئے۔ منٹو اپنی جگہ پر ہی بیٹھا ہو ا تھا۔ میں نے دوبارہ اس کی طرف دیکھا۔ وہ مسکرایا۔ اس کے چہرے پر جو مسکراہٹ کی لکیریں ابھریں تو مجھے یوسف ظفر کے کچھ جملے یاد آئے جو منٹو کی ناگہانی موت کے بعد منعقد ایک تعزیتی جلسے میں اس نے ادا کئے تھے۔ اس نے کہا تھا’ منٹو مجموعہ اضداد، منٹو داخلی طور پر نہایت ہی معقول۔ نہایت ہی معصوم، نہایت ہی شریف انسان ہے۔ اس کی نظر ہر انسان کے دل کو ٹٹولتی ہے۔ وہ ماحول کا نقاد ہے انسانیت کا نقاد ہے۔ وہ افسانہ نگار ہی نہیں بذات خود ایک افسانہ ہے۔ گھر میں وہ ایک مخلص خاوند،اپنی بچیوں سے محبت کرنے وال۔ اپنے دوستوں کا دلدادہ، اپنے دشمنوں سے پورے جوش سے ٹکر لینے والا، اپنی تعریف سن کر بے حد خوش ہونے وال، اپنی مذمت سے آگ بگولا ہوجانے والا، ایک مکمل انسان ہے۔ ایسے انسان سے قریب تر ہونے کے لیے کون بے تاب نہ ہوگا۔ مکمل انسان جو اپنی کمزوریوں پر پردہ نہیں ڈالتا۔ جو دل کھول کر بات کر تا۔ صاف دلی سے ملتا ہے اور محبت سے کام لیتا ہے۔ (تاثرات، یوسف ظفر)
میں نے سوچا کیوں نہ دو چار سوالات منٹو سے کروں۔ میں نے پوچھا کتنا قابو تھا آپ کو اپنے قلم پر؟
وہ ہنس پڑا۔ چند ساعتوں بعد اس نے کہا: ایک مرتبہ بمبئی میں کرشن چندر نے کہا تھا: ’منٹو اپنے قلم پر قادر ہے۔ ‘
میں نے پوچھا پھر آپ نے کیا جواب دیا تھا۔
’مگر میرا قلم مجھ پر قادر ہے اور اسی لیے میں لکھتا ہوں۔ ‘ اس نے کہا۔

مجھے ہنسی آئی۔ وہ بھی مسکرایا۔
میں نے پوچھا: ’آپ کی زندگی کیسی گزری اور کون سی باتیں آپ کو پریشان رکھتی تھیں؟
منٹو دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا۔ ارتھر روڈ جیل میں اب شور کم ہو رہا تھا۔ چند پرانے قیدی چھوٹے چھوٹے گروہ میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ منٹو نے ایک لمبی سانس لی اور کہا۔ ’میری( موجودہ) زندگی مصائب سے پر ہے۔ دن رات مشقت کرنے کے بعد بمشکل اتنا کماتا ہوں جو میری ضروریات کے لیے کافی ہے۔ یہ تکلیف دہ احساس ہر وقت مجھے دیمک کی طرح چاٹتا رہتا ہے۔ اگر آج میں نے آنکھیں میچ لیں تو میر ی بیوی اور تین کم سن بچیوں کی دیکھ بھال کون کرے گا۔ میں فیشن نویس، دہشت پسند، سنکی، لطیفہ باز اور رجعت پسند سہی لیکن ایک بیوی کا خاوند اور تین لڑکیوں کا باپ ہوں۔ ان میں سے اگر کوئی بیمار ہو جائے اور موزوں و مناسب علاج کے لیے مجھے درد کی بھیک مانگنی پڑے تو مجھے بہت دقت ہوتی ہے۔ (منٹو ایک نفاست پسند۔ ۔ سید امجد الطاف)
یہ بات اس کے کئی دوستوں نے لکھی تھی اور میں پڑھ چکا تھا کہ منٹو اپنی بیوی اور بچیوں سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ دوستوں کو عزیز رکھتا تھا۔ معاملات میں انتہائی نفاست پسند واقع ہوا تھا۔ اس کے مزاج میں wit اور گفتگو میں بر جستگی تھی۔ اس کا ذہن بغاوت آمادہ اور روح احتجاج پسند تھی۔ جس کے لیے اردو معاشرہ نہ اس وقت آمادہ تھا نہ آج پوری طرح سے تیار ہے۔ کیا کہ محض اتفاق ہے کہ آج سے ستر پچھتر سال پہلے سعادت حسن نے جوگیشوری (بمبئی) کے ایک کالج میں اپنا مضمون پڑھا تھا جس میں اس نے ادب اور اس پر لگائے گئے الزامات کا دفاع کیا تمام تھا اور اسی جو گیشوری کی ایک کالج میں میرے ناول میں ان باتوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی جن کا دفاع منٹو کر چکا تھا۔ ان سات دہائیوں میں دنیائے ادب کس قدر بدل گئی ہے لیکن ایسا لگتا ہے ’ محمود آباد کے راجہ صاحب، حیدر آباد کے شاعر ماہرالقادری اور بمبئی کے دوا فروش حکیم مرزا حیدر بیگ جنھوں نے منٹو کے لٹریچر کے خلاف ریزولیوشن پاس کیا تھا اور جن کی حرکت کومنٹو نے ’بے کار‘ قرار دیا تھاکسی نہ کسی صورت آج بھی زندہ ہیں۔ ایسا لگتا ہے ایک تاریک کھائی ہے جس میں اردو معاشرہ گزشتہ ایک صدی سے ناگفتہ حالت میں پڑا ہوا ہے۔ معاشرے کو جب بھی اصل صورت حال کا احساس دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ تو نہ صرف بات ماننے سے انکار کرتا ہے بلکہ اس حقیقت کا احساس دلانے والے کی جسارت پر ہی برانگیختہ ہو جاتا ہے۔ انگریزی میں اس حالت کو vertigo کہتے ہیں۔ یہ زوال کا ایک پڑاؤ ہے جہاں اپنی حالت کو بدلنے کی خواہش سے آدمی ماورا ہو جاتا ہے۔ اپنی حالت کو نعمتِ خداوندی تصور کرتا ہے۔ جب کہ منٹو جس دل کو لے کر پیدا ہوا تھا اس کا گمان تھا اور درست تھا کہ ’ زندگی کو اس شکل میں پیش کرنا چاہیے جیسے کہ وہ ہے، نہ کی جیسی تھی یا جیسے ہوگی۔ اور جیسے ہونی چاہیے۔ ‘‘(مکتوب بہ نام احمد ندیم قاسمی نومبر ۳۸ء نقوش منٹو نمبر)
۱۹۴۷ میں منٹو نے لکھا:’’ زمانے کے جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اگر آپ اس سے ناواقف ہیں تو میرے افسانے پڑھیے۔ اگر ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ نا قابلِ برداشت ہے۔ مجھ میں جو برائیاں ہیں وہ اس عہد کی برائیاں ہیں۔ میری تحریر میں کوئی نقص نہیں۔ جس نقص کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے وہ دراصل موجودہ نظام کا نقص ہے۔ میں ہنگامہ پسند نہیں ہوں۔ میں لوگوں کے خیالات اور جذبات میں ہیجان پیدا کرنا نہیں چاہتا۔ میں تہذیب و تمدن اور سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو ہے ہی ننگی۔ میں اسے کپڑے پہننانے کی کوشش نہیں کرتا، اس لیے کہ یہ میرا نہیں درزیوں کا کام ہے۔ (لذتِ سنگ۔ لاہور ۱۹۴۷ء)
لیکن منٹوکا یہ پیغام آج بھی ہمیں غفلت سے جگا نہیں پایا ہے۔ ہمارے ادب سے تقاضے وہ ہیں جو ادب کا کام نہیں ہے۔ اس کے باوجود منٹو خوش نصیب تھا کہ اس کے ساتھ بہت سارے قلم کار تھے اور اسی عہد میں ہاجرہ مسرور نے انتہائی سخت موقف منٹو کی حمایت اور تحریر کی آزادی کے باب میں لیا تھاجس پر آج بھی غور وفکر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
ہاجرہ مسرور نے بڑی جرات سے آرٹ میں عریانی اور اور تلذذ کو جائز قرار دیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں’اس سلسلے میں منٹو پر الزام رکھا جاتا ہے کہ وہ عریانی پر اتر آتے تھے اب یہ الگ بحث ہے کہ عریانی کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟ اتنا ضرور کہوں گی کہ آرٹ اور ادب کے بڑے بڑے شاہکاروں پر بھی یہ الزام عائد ہوتا ہے۔ مگر للہ کوئی اتنا تو بتائے کہ عریانی میں ایک دلکشی، ایک بے داغ معصومیت، ایک رنگ، ایک راگ، نہیں ہوتا جو تخلیق اور نسلِ انسانی کی بقا کے مقدس تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے فطرت کی طرف سے ودیعت کیا گیا ہے۔ اب تو یہ محض ضد کی بات ہے کہ کوئی محترم یا محترمہ دس بچوں کے ماں باپ بن کر بھی لذتیت اور عریانی کے نام سے بھڑکیں اور اپنے جگر گوشوں کو ’ سفلی جذبات‘ یا سی قسم کے دوسرے نجس الفاظ کا نتیجہ قرار دیں۔ مگر بحث بھی منٹو کے مخصوص فنی رنگ سے کوئی خاص تعلق نہیں رکھتی کیونکہ منٹو صاحب کو میں جس قدر پڑھ سکی ہوں (کچھ چھوڑ کر) اس میں (خصوصاً طوائف سے متعلق افسانوں میں اکتسابِ لذت یا ویسا بننے کی اکساہٹ نہیں ہوتی۔ میں نے جہاں تک منٹو صاحب کے مشہور معروف عریاں کرداروں کا مطالعہ کی ہے ، میرا خیال ہے کہ کوئی بھی نارمل انسان انہیں پڑھ کر لذت حاصل نہیں کرسکتابلکہ جنسی فعل کے خلاف ایک شدید قسم کی نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔
(نقوش منٹو نمبر، صفحہ ۳۳۷)

***
میں نے منٹو سے پوچھا :’ناقدین کے بارے میں آپ کا کیا خیا ل ہے؟‘
اس نے بغیر کسی تردد کے کہا:’تم جانتے ہو میں ساری عمر نقادوں سے دور بھاگا ہوں۔ یہ صحیح ہے کہ بعض نقاد بھی مجھ سے دور بھاگتے ہیں۔ اصل میں یہ لوگ وہ ہیں جو بگڑے ہوئے افسانہ نویس اور بگڑے ہوئے شاعر ہوتے ہیں۔ یہ لوگ آبِ تخلیق سے محروم ہوتے ہیں تو تنقید میں علامہ بن جاتے ہیں۔ مجھے اس سب سے خدا واسطے کا بیر رہا ہے۔ اس لیے کہ جب یہ قلم ہاتھ میں لے کر بیٹھے ہیں تو اچھی بھلی چیز میں سو سو عیب نکالتے ہیں۔ لیکن ان حضرات کو اپنی تحریر کے عیوب کا کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ خدا کے لیے مجھے ان بے تحاشہ لکھے پڑھوں سے بچانا۔ ۔ ۔ ادب تبھی ترقی کرے گا کہ جو نقاد کہے، اس کا الٹا کیا جائے۔ ۔ ۔ جب تک نقاد تخلیق کی قوت سے مالا مال نہیں ہوں گے ان کی تحریروں میں نہ توازن پیدا ہوگا اور نہ واقعت کے ساتھ خلوص۔ ‘ (منٹو کا ایک خط محمد طفیل کے نام۔ نقوش افسانہ نمبر۵۰۔ ۴۹،صفحہ ۳۵۶)
میں نے کہا آپ کی ایک بات بڑی حد تک درست ہے اور پھر میں نے اسے بتایا کہوارث علوی جو ان کے عاشق ہیں انھوں نے نقادوں کے بارے میں لکھا ہے کہ’ نقاد شاہی حرم کا وہ خواجہ سرا ہے جو اختلاط کے سب گر جانتا ہے لیکن خود کچھ کر نہیں سکتا۔ (کیا نقاد ادب کا غیر اہم آدمی ہے۔ وارث علوی) اس جملے کو سن کر وہ بہت دیر تک ہنستا رہا۔ کچھ دیر بعد میں نے اس سے پوچھا:’اذیت بھری زندگی میں موت کا ڈر بھی تو آپ کے ساتھ رہا ہوگا؟‘
منٹو نے برجستہ کہا:’ موت میرے لیے( اب) تمام رعنائیاں کھو چکی ہے۔ اب میں موت سے نہیں ڈرتا۔ (منٹو ایک انسان : احمد شجاح پاشا)
منٹو کی موت ایک بڑا سانحہ تھی۔ کئی لکھنے والے دل برداشتہ ہوئے تھے۔ ایک تعزیتی جلسے میں حمید اختر نے کہا تھا:’وہ طبعی موت نہیں مرا۔ اسے مار ڈالا گیاہے۔ اسے مارنے والوں میں سب سے زیادہ ہاتھ اسے کے دوستوں کاہے۔ اچھے اور برے دونوں قسم کے دوستوں کا۔ برے دوستوں نے اس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا اور اس کی دشمنی کے لیے اس کے ساتھ مل کر اسے برباد کرتے رہے اوراچھے دوستوں نے اس سے کنارہ کشی اختیار کر کے اسے مار ڈالاہے۔ (منٹو زندہ ہے۔ حمید اختر)
سب جانتے ہیں کہ منٹو کی ناگہانی موت کے لیے شراب ذمے دار ہے۔ لیکن اس کے دوست حمید اختر کا خیال کچھ اور تھا۔ ’اس کی زندگی میں جہاں محرومیاں ہی محرومیاں ہیں۔ اسائش کی محرومیاں، محبت کی محرومیاں، محبوبہ کی محرومی، اچھے مکان کی محرومی اور ضروریات زندگی سے محرومی ، کہاں کہاں یہ محرومی راستہ روک کر کھڑی رہتی ہے۔ سنگدل، بے مہر اور ظالمانہ محرومی سے ٹکرمارکر انسان شراب نہیں پیئے گا تو کیا کرے گا۔ اب یہ دوسری بات ہے کہ منٹو اور منٹو کی طرح کے دوسرے لاکھوں لوگ اچھی شراب سے بھی محروم رہتے ہیں۔ اس سے کسک اور بڑھتی ہے اور نتیجہ جو ہوتا ہے ،وہ ظاہر ہی ہے۔ (منٹو زندہ ہے۔ حمید اختر)
منٹو کا شراب کے ساتھ پیچیدہ رشتہ تھا۔ ہمیں عام طور پر ایسا لگتا ہے کہ اس کی گھائل روح کو ایک فرار در کار تھا۔ جو بیان منٹو کے بھتیجے حامد جلال نے دیا ہے اس کی روشنی میں اس خیال کو بھی تقویت ملتی ہے کہ شراب منٹو کا انتخاب تھی۔ ’ بستر مرگ پر منٹو ماموں نے شراب کے سوا کوئی اور چیز نہیں مانگی، انھیں بہت پہلے معلوم ہو چکا تھا کہ شراب ان کی جانی دشمن ہے اور وہ اسے موت کا ہم معنی سمجھنے لگے تھے۔ جس پر جسمانی فتح کسی صورت میں ممکن نہیں ہے جس طرح موت کے آگے کوئی انسان پیش نہیں پاسکتا اسی طرح منٹو ماموں شراب کے سامنے بالکل بے بس ہوتے تھے لیکن ان کی فطرت چونکہ ہمیشہ سے باغیانہ تھی اس لیے انھوں نے موت سے بھی بغاوت کی تھی۔ انھیں شکست سے نفرت تھی خواہ وہ موت کے سامنے ہی کیوں نہ ہو اور یہی وجہ تھی کہ وہ موت سے تنہائی میں آنکھیں چار کرنا چاہتے تھے۔ جہاں کوئی انھیں مرتا
نہ دیکھ سکے جہاں کوئی ان کی شکست کا نظارہ نہ کر سکے۔ (سعادت حسن منٹو۔ ضیاء شاہد)
منٹو کی موت ایک نفیس آدمی کی موت تھی۔ ایک ایسا آدمی جس کا دل انسانیت کے دکھ، آدمی کی صورت حال اور مرد اور عورت کے بنیادی تقاضوں اور ان کی فطرت سے معمور تھا۔ منٹو نہ صرف ایک درد مند فنکار تھا بلکہ نہایت ہی باوقار شخصیت کا مالک تھا جو دوسروں کے دلوں میں بہت جلد اپنے لیے جگہ بنا لیتا تھا۔ اس بات کا ثبوت اس کے ایک قریبی دوست کے مندرجہ ذیل بیان میں بھی ملتا ہے :’ میں نے منٹو کو بہت قریب سے دیکھاہے۔ گھنٹوں اس کے ساتھ بیٹھ کر میں نے اس کی دلچسپ اور سنسنی خیز گفتگو سنی ہے اور اس کی ہر حرکت کا بہ نظرِ غائر مطالعہ کیا ہے۔ اس نے کبھی مجھ پر یہ اثر نہیں چھوڑا کہ وہ قنوطی ہے۔ حالانکہ اس کے بہت سے قارئین یہی سمجھتے ہیں۔ اس کی تحریریں دنیاجہان کی گندگیوں سے آلودہ ہو تی تھیں لیکن وہ خود ایک صاف ستھرا آدمی تھا۔ اس کی عادتیں بڑی پاک صاف تھیں اور زندگی سے متعلق اس کا نظریہ انتہائی صاف ستھرا اور صحت مند تھا۔ (منٹو ایک انسان۔ احمد شجاح پاشا ۲۱۲)
اس سادہ نفس آدمی کے اند ر ایک باغی روح تھی جس کا بچپن اس کے لیے ایک قید خانہ تھا۔ کہانی وہ واحد کینواس تھا جس پر منٹو اپنے اندر کے زہر، محرومی اور بے چینی کو پیش کر
سکتا تھا۔ وہ سادے ورق پر بسم للہ کے اعداد سب سے پہلے لکھتا اور پھر ایک تسلسل میں سرکنڈوں کے پیچھے،ٹوبہ ٹیک سنگھ، ہتک،موذیل، باپو گوپی ناتھ،کالی شلوار،بو، دھواں، ٹھنڈا گوشت، اوپر نیچے درمیان،اور نیا قانون کے کردار ہمارے سامنے اپنی دنیاؤں کی نیکی و بدی کے ساتھ بغیر کسی لالی پاؤڈر کے وارد ہوتے ہیں۔ منٹو بنیادی طور پر انسانیت کا شارح تھا۔ اسے معلوم تھا اس کا کام اصلاحی حکایات تحریر کرنا نہیں ہے۔ اسے احساس تھا کہ ادب سے سماج کی براہ راست تبدیلی کا کام نہیں لیا جا سکتا۔ اس نے لکھا تھا کہ’ جو چیز جیسی ہے اسے من وعن کیوں نہ پیش کیا جائے۔ ٹاٹ کو اطلس کیوں بنایا جائے، غلاغت کے ڈھیر کو عود وعنبر کے انبار میں کیوں تبدیل کیا جائے۔ حقیقت سے انحراف کیا بہتر انسان بننے میں ہمارا ممدو ومعاون ہو سکتا ہے۔ ( مقدمہ’ٹھنڈا گوشت‘) منٹو محض جنسی اور نفسیاتی شعور رکھنے والا افسانہ نگار نہیں تھا بلکہ تیسری دنیا کے افراد کی محرومی اور سیاسی شعور بھی اس کے افسانوں کا ایک اہم جز ہے۔ غلام ستگیر ربانی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ’منٹو کا انسان آزادی پسند ہے اور وہ نفی کرتا ہے اس استحصال، جنسی اجارہ داری اور معاشرتی جبر کی جس کا شکار آج بھی تیسری دنیا کے عوام ہیں۔ (سعاد ت حسن منٹو۔ ضیاء شاہد) منٹو کے قریبی مانے جانے والے باری علیگ نے لکھا ہے۔ ’رجعت پسندی اور سمی نقطء نظر کے خلاف منٹو نے ہمیشہ نغاوت کی۔ اس نے اپنے تخیل کو قابل قبول بنانے کے لیے کبھی پردہ یا تمثیل کا سہارا نہیں لیا۔ اس نے ہمیشہ بے باکی سے اپنا نقطہء نظر پیش کیا۔ (چند مہینے امرتسر میں۔ باری علیگ)
***
ارتھر روڈ جیل کے اس کونے میں جہاں میری ملاقات منٹو سے ہوئی تھی وہاں پھر میر ی آنکھ کب لگی مجھے یاد نہیں۔ مجھے یہ بھی صاف طور پر یاد نہیں کہ یہ میرا خواب تھا یا خودکلامی تھی۔ دوسرے دن میری ضمانت ہوگئی۔ ساجد رشید مجھے لینے جیل کے اندر آئے تھے جس کے سبب پولیس اہل کاروں نے فوراً ضروری کاغذات تیار کئے۔ باہر محمد اسلم پرویز اور آصف خان کھڑے تھے۔ کچھ دیر ان لوگوں سے بات چیت ہوئی پھر میں میری اہلیہ زاہدہ پروین کے ساتھ گھر آگیا۔ گھر پہنچ کر اسی شام میں نے منٹو کی وہ تحریریں پڑھیں جو اس نے مقدمات کے بارے میں یا مقدمات کے زیر اثر لکھی تھیں۔ ان کو پڑھ کر میرا گمان یقین میں بدل گیا کہ منٹو کا دل بہت دکھی اور روح مجروح تھی لیکن وہ بہت بہادر تھا۔ اس کے دل میں حریفوں سے نفرت کے لیے گنجائش نہیں تھی۔ وہ اپنے حریفوں کو فراڈ اور بے وقعت تصور کر کے انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیتا تھا۔ لیکن میں نے اس روز طے کر لیا تھا کہ میں منٹو کے نہ کئے گئے احتجاج کو ان افراد کے دروازے تک لے جاؤں گا۔ میرے دوسرے ناول ’ ایک ممنوعہ محبت کی کہانی‘ کا ایک پس منظر وہ احتجاج بھی ہے۔ یہ ناول اس ثقافتی یلغار کی طرف ایک ہلکا سہی اشارہ تو ہے جو ایسے افراد کو جنم دینے میں ایک کردار ادا کرتا ہے جو مشرق وسطی کی ثقافت کی بنیاد پر اخلاقیات کے ایک ایسے نظام کو دوسروں پر بہ جبر نافذ کر نا چاہتے ہیں جن میں خود ان کی وابستگی سوالیہ نشان ہوتی ہے۔ جن لوگوں کو ادب میں فحاشیت نظر آتی ہے انھیں ادب نہیں پڑھنا چاہیے۔ وہ آزاد ہیں اپنی پسند کی چیزیں پڑھنے کے لیے۔ ایسے افراد کو ثانیہ مرزا کی ٹانگیں بھی نہیں دیکھنا چاہیے جنھیں اس با ت کا خدشہ ہو کہ اس سے ان کے اندر شہوت کا جذبہ پیدا ہوگا، اور نہ ہی ایسے افراد کو مادھوری دکشت کا رقص دیکھنا چاہیے جس سے ان کے دماغ میں مادھوری کا عکس برہنہ ہو کر ان کا جسم علق انگیز ہو جائے۔ میں ایسے لوگوں سے ہمدردی رکھتا ہوں اور انھیں کہتا ہو ں کہ آپ اپنی زندگی اپنے طور پر گزارنے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ صرف ادب کا احتساب کرنے کی بدگمانی میں مبتلا نہ ہوں۔ میرا ایمان ہے ادب کی اخلاقیات مذہب کی اخلاقیات سے نہ صرف الگ بلکہ ممتاز بھی ہیں۔ اس لیے اپنی اخلاقیات کی دکان کے پراٹھے دوسروں کے منہ میں ٹھونسنے کی کوشش نہ کریں۔ (لکم دینکم)
منٹو کے دکھ اور سے اس کے سینے کی جلن کو ممتاز حسین، سردار جعفری اور فیض پوری طرح نہیں سمجھ سکے اس بات پر مجھے افسوس کم ہے لیکن سجاد ظہیر اور عزیز احمد کو بھی ترقی پسندی کا بھوت اس قدر مجبور کر سکتا ہے کہ وہ منٹو کو مطعون کریں یہ بات تکلیف دہ ہے۔ اس تکلیف کے باوجود جوبات مثبت ہے وہ کرشن چندر، عصمت چغتائی، ہاجرہ مسرور، ممتاز مفتی،احمد ندیم قاسمی، یوسف ظفر، محمد حسن عسکری اور ممتاز شیرین کا منٹو کا اعلانیہ دفاع کرنا ہے۔ ان ادیبوں نے نہ صرف منٹو کا ساتھ دیا بلکہ اس کے کرب کو اسی شدت سے محسوس کر نے کی کوشش بھی کی۔
منٹو کی معنویت کی تلاش کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ منٹو کاشعور اور ادب ہماری مشترکہ تہذیب کے دفاع کا سب سے اہم ہتھیار ہے۔ اردو کی تہذیب قلی قطب شاہ، سراج آورنگ آبادی، میر تقی میر، غالب، یگانہ، رسوا، پریم چند، عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی، غلام عباس اور سریندر پرکاش کی تہذیب ہے جس میں ملا عمراور اسامہ بن لادن کے نظریات کی تبلیغ کرنے والوں کے لیے نہ ماضی میں کوئی جگہ تھی نہ مستقبل میں ہوگی۔
منٹو کی روح امینِ روحِ انسانیت تھی۔ اسے اپنے وقت کے نیروز سے زخم خوردہ تو ہونا تھا۔ جابر، ریاکار، ماضی پرست، نفس پرست اور روشن خیالی کے دشمنوں نے جب پیغمبروں کی عظیم روحوں کو ایزا پہنچانے سے گریز نہیں کیا تو برہنہ باطن آدمی پر وہ نشتر چلانے سے پیچھے کیوں ہوتے۔ لیکن تاریخ کا احتساب ان حضرات کی مکاری سے پراگندہ نہیں ہوسکتا۔ آج منٹو زندہ ہے فحاشی کے الزامات سے تو وہ جتے جی ہی بری ہو گیا تھا۔

منٹو کے ساتھ ہمارے معاشرے نے جو سلوک کیا وہ افسوس نا ک ہے۔ اس کے جسم کے ساتھ ساتھ ہم نے اس کی معصوم روح کو بھی گھائل کیا۔ اس کے بعض مضامین سے اس کی یہ بے اماں روح جھانکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اس کا آرٹ زندگی کا اثبا ت کر تا ہے اسی لیے تلخ و تند بھی ہے۔ وہ اقبال کی طرح درسِ تلاشِ رنگِ رائیگاں نہیں دینا چاہتاتھا کہ زندگی کیسی گزاری جائے یا مردِ مومن کی تخلیق کے اجرائے ترکیبی کیا ہیں۔ وہ تو سیدھے سادھے انداز میں صرف یہ دکھاتا ہے کہ زندگی کیسی اسفل ہوگئی ہے۔ فرد کتنا بے معنی اور حقیر ہو گیا ہے۔ اسے اقبال کی عظمت اور اپنے آرٹ کا فرق معلوم تھا اسی لیے وہ اقبال صاحب کو ’اقبال مرحوم‘ کہتا تھا۔ ایک جگہ اس نے شاید اسی سبب کہا تھا کہ ’ اگر میری موت کے بعد میری تحریروں پر ریڈ یو اور لائبریر یوں کے دروازے کھول دیے گئے اور میرے افسانوں کو وہی رتبہ دیا گیا جو اقبال مرحوم کے شعروں کو دیا جا تا ہے تو میر ی روح سخت بے چین ہوگی۔ ‘
منٹو کا آرٹ احساسِ انسانیت کا آرٹ ہے۔ تاثر کی سطح پر یہ آرٹ چے خف اور موپاساں کی طرح تہہ دار ہے۔ منٹو ایک دریچہ ہے جس سے جھانک کر آپ آزادی سے پہلے اور بعد کے چند برسوں کی زندگی ، انسانی جبلت اور اس کے اسفل درجات کو محسوس کر سکتے ہیں۔ منٹو ایک الاؤ تھا، زندگی جس کے گرد بیٹھ کر ماتم کنا ں تھی۔ منٹو ایک نشہ تھا جس میں آگہی کی معراج ممکن ہے۔ منٹو ایک صدائے بیاباں تھا جس میں زندہ افراد کی روحوں کا نوحہ سنا جا سکتا تھا۔ اسی بناء پر منٹو نے کہا تھا کہ ’ وہ ایک ایسا انسان ہے جو صاف اور سیدھی سڑک پر نہیں چلتا، بلکہ تنے ہوئے رسے پر چلتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اب گرا، اب گرا، لیکن وہ کمبخت اب تک نہیں گرا۔ شاید گر جائے، اوندھے منہ کہ پھر نہ اٹھے لیکن میں جانتا ہوں کہ مرتے وقت وہ لوگوں سے کہے گا میں اسی لیے گرا تھا کہ گراوٹ کی مایوسی ختم ہو جائے۔ (دھڑن تختہ: محمود ہاشمی)
کیا آپ محمود ہاشمی کی اس بات سے متفق نہیں؟

رحمن عباس ہندوستان سے معروف ناول نگار ہیں۔ ان کا پہلا ناول ’نخلستان کی تلاش‘ ۲۰۰۴ میں شائع ہوا جس کی وجہ سے ان پر فحاشی کا مقدمہ درج ہوا جو دس سال بعد ختم ہوا ۔ اسکے علاوہ آپ ” ایک ممنوعہ محبت کی کہانی”، “خدا کے سائے میں آنکھ مچولی ” کے بھی مصنف ہیں۔ آپ نے “بہترین کتاب” کا انعام ملک میں ادیبوں اور سماجی مفکروں کے قتال پر ریاستی حکومتوں کے سرد رویے کے خلاف احتجاجاً واپس کیا۔ ’روحزن‘ رحمن عباس کا تازہ ترین ناول ہے جس کا شماراردو ادب کے اہم ناولوں میں کیا جانے لگا ہے۔ گوپی چند نارنگ نے’ روحزن کو اردو ناول میں ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *