سہج پکے سو میٹھا ہو ۔ خواجہ احسان الحق

 بچپن سارا درج بالا عنوان اور اسی ڈگر کے دوسرے عنوانات کے تحت سبق آموز نصابی کہانیاں لکھتے، پڑھتے اور رٹتے گزر گیا کیونکہ وائی فائی اور آئی پیڈ میسر نہیں تھا اور ڈورے مون نے ابھی پکے گھروں اور کچے اذہان میں پنجے نہیں جمائے تھے۔ گھر سے باہر نکلتے تو والدین تاکید کرتے کہ بیٹا احتیاط سے دائیں اور بائیں دیکھ کے سڑک پار کرنا۔ مائیں صبح ناشتے میں دہی دستیاب کرنے کے لیے رات دودھ کو جاگ لگا کر سوتی تھیں اور لائف ٹائم شہرت حاصل کرنے کے لیے امانت علی خان یا نورجہان کی طرح ہنر کو ساری زندگی خون جگر سے سینچنا پڑتا تھا۔

لڑکپن میں قدم رکھا تو نئی صدی اور نئے کلچرکا سورج طلوع ہو چکا تھا۔ ڈسپوزایبل اور شارٹ کٹ کلچر نے ہر چیز کو لمحاتی بنا کر رکھ دیا اور “گزشتہ سے پیوستہ” سے گریزاں اس معاشرے میں بنیاد پرست کی خوبصورت اصطلاح طعنہ بن کر رہ گئی۔ نئے دور کی نئی تھرل اور ہر چیز سے کچھ عرصہ بعد بور ہو جانا، تبدیل کر دینا، زندگی ہو، سماج ہو یا کیریر، دوڑنا اور سرپٹ دوڑنا فیشن بن گیا۔ لمحاتی لطف کو طویل اور جہد مسلسل پر مبنی کامیابی کے سرور پر ترجیح مل گئی اور سہج پکے سو میٹھا ہو جیسے محاورے بھی زمانے کی دھول میں گم ہو کر آئوٹ ڈیٹڈ قرار پائے۔

کرکٹ کیریر کا آہستہ آغاز کرنے والے مصباح الحق نے جب ٹیم کی قیادت سنبھالی تو شارٹ کٹس کی عادی قوم میں ان کا نام ایک پھبتی بن چکا تھا۔ ٹک ٹک کے نام سے جانا جانے والا کھلاڑی جب کپتان بنا تو قومی ٹیم مصائب در مصائب کا شکار تھی۔ عالمی دنیا میں تنہائی، سپاٹ فکسنگ سکینڈل سے بدنام، اپنے ہی ملک سے در بدر، دوسروں کی سرزمین کو ہوم گرائونڈ کے طور پر استعمال کرتے، ایسے میں پیرانہ سال کپتان کو دیکھ کے ہر ایک کی یہی رائے تھی۔ خدا اس ٹیم پر رحم کرے۔ ان حالات سے تو کوئی جوان خون ہی لڑ سکتا ہے۔ ہم بحیثیت قوم ہمیشہ کسی کرشماتی لیڈر کے انتظار اور خواب میں رہتے ہیں جو پلک جھپکتے میں سب تبدیل کر کے رکھ دے۔ لیکن مصباح کا اپنا ہی سٹائل رہا۔ سب کی تنقید سے بے پروا، انتہائی غیر جذباتی انداز میں وہ تباہ حال اننگز کو دھیرے دھیرے تعمیر کرتا۔ اسی ڈگر پر وہ ٹیم کی تعمیر کرتا رہا۔ ظاہری طور پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ شائقین کو اچھل اچھل کر داد دینے کا موقع نہیں ملا۔ پرجوش لمحات آئے مگر بہت ہی کم۔ ایک غیر محسوس انداز میں آگے بڑھنے کا سلسلہ جاری رہا۔ اور آج جب وہ وکٹڑی سٹینڈ پر کھڑا ہے تو سب لوگ جوش سے پاک طمانیت بھرے انداز میں کھڑے ہو کر داد دے رہے ہیں اور کہ رہے ہیں۔ زبردست۔ بھئی یہ بہت ہی عمدہ کرکٹ ہے۔ یہی تو اصل ٹیسٹ کرکٹ ہے۔۔۔۔

لیکن اصل زبردست بات یہ داد نہیں ہے۔ اصل زبردست بات مصباح کا انداز ہے۔ کٹھن لمحات کو صبر سے جینے کا اور خوشی اور کامیابی کو دھیمے مزاج اور کھلے ظرف سے قبول کرنے کا۔ وہ جانتا ہے کہ کامیابی مقصد نہیں نتیجہ ہے، جہد مسلسل کا، عمل پیہم کا۔ پرانی کتھائوں کی طرز ایک پرسکون بوڑھے دماغ کی جوان خون پرغالب رہنے کے مثل۔ ایک صوفی کے مانند شانت اس کھلاڑی میں بہت کچھ ایسا ہے جو کٹھن حالات کی شکار پاکستانی قوم کو اس سے سیکھنا چاہیے۔ اپنے مسائل کو شارٹ کٹس سے حل کرنے کی بجائے ان مسائل کا ٹھوس، بتدریج اور دیر پا تدارک۔ مصباح کی قیادت ایک سبق ہے اور آفریدی کی قیادت بھی ایک سبق ہے۔ ان حکمرانوں کے لیے جو قوم کی بے عملی و بے حسی پہ شکوہ کناں ہیں۔ دیکھنا چاہیے کہ اگر ٹیسٹ میں ٹیم پہلے اور ون ڈے میں وہی ٹیم ساتویں نمبر پہ ہے تو سوائے قیادت کے دونوں ٹیموں میں کیا فرق ہے۔ اور آفریدی کے غیر ضروری چھکے پر اچھلتی اور مصباح کے گیند روکنے پر منہ بسورتی عوام کو بھی دیکھنا چاہیے کہ ہر سال تباہی مچاتے سیلاب میں ان کے درمیان بیٹھا حکمران اچھا ہے یا اپنے آفس میں بیٹھ کر اگلے سیلابوں کو روکنے کی منصوبہ بندی کرتا غیر جذباتی حکمران۔ جس دن ہمارے عوام اور حکمرانوں کو یہ باریک فرق سمجھ آگیا، اس دن ہم بھی وکٹری سٹینڈ پر ہوں گے اور دنیا ہمیں تحسین پیش کرے گی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”سہج پکے سو میٹھا ہو ۔ خواجہ احسان الحق

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *