طنز و مزاح میری نظر میں ۔ حکیم فاروق سومرو

طنز تنقید ہے۔ صدائے احتجاج ہے۔ دشنامِ یار ہے۔ تبصرہ ہے۔ تازیانہ ہے۔ اس کا مقصد اصلاح ہے۔دوسرے کی پگڑی اچھالنا ہے۔ اپنے احساسِ برتری کا مظاہرہ کرنا ہے۔بے ہودہ اشیا اور اشخاص کا مضحکہ اڑانا ہے۔ مزاح میں مبالغہ ہے، مشغلہ ہے، مہتابی ہے، انار ہے، پھلجھڑی ہے۔ اپنے آپ پر ہنسنے کا نام ہے۔چٹکی لینا ہے۔ہمدردانہ نقطہ نظر سے انسانی کمزوریوں کو بے نقاب کرنے کا فن ہے۔ طنز نگار تو سرجن ہوتا ہے۔قصاب ہوتا ہے۔احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے۔کچھ نہ کہہ کر سب کچھ کہنے کے فن میں ماہر ہوتا ہے۔بد دماغ ہوتا ہے۔بے درد ہوتا ہے۔بے لحاظ ہوتا ہے۔رشید احمد صدیقی ہوتا ہے۔کرشن چندر ہوتا ہے۔فکر تونسوی ہوتا ہے۔بس یوں سمجھئے ؎ کچھ نہ کہہ کر بہت کچھ کہہ دیا کرتے ہیں لوگ مزاح نگار ہنسوڑ ہوتا ہے۔خوش طبع ہوتا ہے۔شگوفہ چھوڑتا ہے۔گُل کترتا ہے۔دور کی کوڑی لاتا ہے۔اپنی تحریروں سے ہمیں چونکاتا ہے۔پطرس بخاری ہوتا ہے۔شوکت تھانوی ہوتا ہے۔عظیم بیگ چغتائی ہوتا ہے۔شفیق الرحمٰن ہوتا ہے۔مشتاق احمد یوسفی ہوتا ہے۔کرنل محمد خاں ہوتا ہے۔ مجتبٰی حسین ہوتا ہے۔یوسف ناظم ہوتا ہے۔یونس بٹ ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا باتیں عموماً طنز و مزاح کے بارے کہی جاتی ہیں۔ان سب کی مناسب مثالیں پیش کرنا صرف اس حالت میں ممکن ہے جب آدمی ڈاکٹر وزیر آغا ہو یا خواجہ عبد الغفور ہو۔تاہم تین امثال جو بے ساختہ یاد آگئی ہیں، وہ یوں ہیں (الف) ایک فوجی جرنیل ابراہم لنکن سے بحث کر رہا ہے۔ جب لنکن نے اس کی ہر دلیل کو رد کر دیا تو اس نے برہم ہو کر کہا، “مسٹر پریذیڈنٹ ! کیا آپ مجھے بیوقوف سمجھتے ہیں؟” لنکن نے مسکرا کر جواب دیا “میں تو آپ کو بیوقوف نہیں سمجھتا لیکن ممکن ہے میں غلطی پر ہوں۔” (ب) ایک پروفیسر صاحب جن کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگری تھی، تقریر کررہے تھے۔کسی مسخرے نے شرارتاً پوچھا ” کیا آپ مویشیوں کے ڈاکٹر ہیں؟” کہا “کیا جناب کی طبیعت ناساز ہے؟” (ج) وہ شیفتہؔ کہ دھوم تھی حضرت کے زہد کی ۔۔۔ میں کیا کہوں کہ رات مجھے کس کے گھر ملے طنز و مزاح نگار چونکا دینے والی بات کرتا ہے۔یہی اس کا فن ہے۔اس پر دو نثری اور ایک شعری مثال حاضر ہے۔ (الف) خوبصورت عورتیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک وہ جو واقعی خوبصورت ہوں، دوسرے وہ جنہیں از راہِ اخلاق (یا مذاق) خوبصورت کہا جاتا ہے۔ (ب) شاعر تین قسم کے ہوتے ہیں۔ اول وہ جنہیں خود ان کے علاوہ کوئی دوسرا شاعر تسلیم نہیں کرتا۔ دوم وہ جو ایک دو غزلیں کہنے کے بعد دعوٰی کرتے ہیں؎ دیکھیں اس سہرے سے کہہ دے کوئی بہتر سہرا اور تیسرے وہ جو عمر بھر عروسِ سخن کو سنوارنے کے بعد بھی دبی زبان سے اعتراف کرتے ہیں ؎ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا (ج) نجد سے بھاگا تو بھاگا بھی اونٹ قبلہ کی طرف ۔۔۔ دُم کے پیچھے قیس تھا آگے خدا کا نام تھا (ظریف لکھنوی) طنز و مزاح نگار اپنے آپ پر ہنسنا اور دوسروں کو ہنسانا جانتا ہے۔یہی اس کا آرٹ ہے؎ اُن کو حالی بھی بلاتے ہیں گھر اپنے ۔۔۔ دیکھنا آپ کی اور آپ کے گھر کی صورت. شگوفے چھوڑنا طنز و مزاح نگار کا بنیادی کام ہے۔ایسے شگوفے وہ اپنے گرد و پیش کی زندگی سے بٹور لیتا ہے۔اور ایسی بات بناتا ہے کہ اپ گھوم جائیں۔جیسے (الف) وہ شخص واقعی خوش نصیب ہے جو اپنے آپ سے محبت کرتا ہے کیونکہ اس کا کوئی رقیب نہیں ہوتا۔ (ب) بیوی وہ ہوتی ہے جو شوہر کی ان تمام مصیبتوں میں اس کا ساتھ دیتی ہے جو کبھی پیدا نہیں ہوتیں اگر وہ اس سے شادی نہ کرتا۔ (ج) ایک اطالوی عقل مند لگتا ہے اور واقعی عقل مند ہوتا ہے۔ ایک ہسپانوی عقل مند لگتا ہے لیکن دراصل بیوقوف ہوتا ہے۔ ایک فرانسیسی بیوقوف لگتا ہے لیکن دراصل عقل مند ہوتا ہے۔ ایک انگریز بیوقوف لگتا ہے اور واقعی بیوقوف ہوتا ہے۔ ایک ضروری بات کہ ہر ذہین طنز و مزاح نگار جدت پسند اور روایت شکن ہوتا ہے، اس لیے وہ فرسودہ موضوعات پر طبع آزمائی کرنے سے احتراز کرتا ہے۔وہ تب تک قلم نہیں اٹھاتا جب تک اسے کوئی تازہ بہ تازہ موضوع نہیں سوجھتا۔یہی وجہ ہے کہ اچھی مزاحیہ تحریریں کمیاب ہوتی ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *