معاشی ترقی کا ابہام۔۔۔زاہد سرفراز

معیشت کسی زندہ سماج کا وہ متحرک فعل ہے جو اپنے خول میں زندگی کی روح کو سمیٹے اسکی حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔
اس کے بغیر زندگی کا پہیہ گھومتا رہے یہ ممکن نہیں زندگی کا کارواں اسی کے سہارے آگے بڑھتا ہے یہ وہ ایندھن ہے جس کے بغیر زندگی کی گاڑی چل نہیں سکتی۔
سرمایہ دارنہ نظام کے معیشت دان یہ کہتے ہیں کہ ایک معیشت دان کا یہ کام ہی نہیں ہے کہ وہ سماج کے لیے کسی طرح کا کوئی درست معاشی نظام تجویز کرے بلکہ اسکا کام یہ ہے کہ وہ محض سماجی عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی نظام کی تشریح کرے اور یہ فرد پر چھوڑ دے کہ وہ اپنی معاشی سرگرمی کے لیے کونسے معاشی اصول اختیار کرتا ہے کیسی راہ عمل متعین کرتا ہے اور کس راستے پر چلتا ہے ۔یہی جمہوریت ہے اور اسی سے مساوات جنم لیتی ہے ۔یہی فکر حریت ہے اور اسی میں معاشرے کی بقاء کا راز پوشیدہ ہے جبکہ حقیقت میں یہ سب ان تصورات کی صورت میں ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر معیشت میں کچھ فیصلہ کن قوتیں ضرور موجود ہوتی ہیں جو ہر سماج میں اسکی معیشت کا تعین کرتی ہیں اصل میں اگر دیکھا جائے تو اس فریب خوردہ جمہوریت میں اور اسکی اختلافی سیاست کے سائے تلے جس آزاد معیشت کی اکثر دہائی دی جاتی ہے ایسی کوئی آزاد معیشت سرے سے موجود ہی نہیں اور نہ ہی ایسا ممکن ہے جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے۔

یہ وہ معاشی جھوٹ ہے جو کہیں صدیوں سے اس کثرت کے ساتھ مسلسل آج تک ایسے بولا جا رہا ہے کہ یہ اب سچ معلوم ہونے لگا ہے اسی فریب کی بنیاد پر موجودہ معیشت استوار ہے اور اسی میں ہمارے معیشت دان پی ایچ ڈی کرتے ہیں۔ سرمایہ داری نے جب ترقی کی اور مالیاتی سرمائے کے زور پر بینک کھڑے کیے تو بڑے پیمانے پر لوگوں کا پیسہ چند ہاتھوں میں سمٹ آیا جبکہ پہلے تو فقط سود اور حرام خوری یا کسی اور ناجائز طریقے سے دوسروں کا پیسہ اپنے پاس سمیٹ لیا جاتا تھا اب بغیر سود کے ہی آپ اپنا پیسہ خود بینک کے پاس لے جا کر جمع کروا آتے ہیں بلکہ الٹا بینک کو اپنے پیسے رکھنے پر سروس چارجز بھی ادا کرتے ہیں جبکہ کوئی اور آپکے پیسے سے کاروبار کرتا ہے اور روز بروز امیر ہوتا جاتا ہے اور آپکے فاقے لگے ہیں ۔جب یہ نام نہاد معاشی ترقی ہونے لگی تو نت نئے طریقہ پیدوار ایجاد ہوئے ایک سے ایک نئی چیز بنائی جانے لگی مگر یہ کیا زمین پر سے تو خریدار جیسے غائب ہی ہو گئے کیونکہ لوگوں کی قوت خرید گھٹتی چلی گئی۔۔۔

اس کمی میں مزید اضافہ کرنے کیلئے سود پہلے سے ہی میدان میں عمل میں موجود تھا فکس ڈیپازٹ اور سودی کٹوتیوں نے قومی معیشتوں کی کمر دوہری کر دی۔۔ قوت خرید کو متوازن رکھنے میں کسی حد تک محنت نے تو کردار ادا کیا مگر سرمایہ دار نے محنت کی قیمت کو کم ترین سطح پر متعین کر کے اس راہ کو بھی مسدود کر دیا۔ فیکٹریاں اشیاء تو کثرت سے بنانے لگیں مگر انکے خریدار کہاں سے آئیں گے اس سوال کا جواب سرمایہ داری کے پاس موجود نہیں۔۔

یہی وجہ ہے کہ معیشت جھٹکے کھانے لگتی ہے جسے کاروباری زبان میں مندی کا رجحان بھی کہتے ہیں جسکی وجہ سے معیشت تعطل کا شکار ہو جاتی ہے اور ملک تک دیوالیہ ہو جاتے ہیں ۔بالکل ٹھیک اس گاڑی کی مانند جو پیٹرول ختم ہونے پر جھٹکے کھاتے کھاتے بند ہو جاتی ہے پھر اگر کہیں سے تھوڑا بہت پیٹرول دستیاب ہو جائے تو وہ لے کر ڈالا جاتا ہے مگر چند قدم چلنے پر گاڑی پھر سے رک جاتی ہے ۔۔یہی سرمایہ دارانہ معاشی نظام کی حقیقت ہے۔

اس حقیقت کی مزید وضاحت کچھ یوں ہے کہ اشیاء تو کثرت سے بنائی جاتی ہیں مگر انکے خریدار موجود نہیں کیونکہ آبادی میں بڑھوتری کے باوجود لوگوں کے پاس ان اشیاء کو خریدنے کے لیے سرمایہ موجود نہیں ہوتا وہ بے چارے پیسے لائیں بھی تو کہاں سے لائیں کہ سرمایہ دار کے جدید ترین ترقی یافتہ طریقہ پیدوار سے کثرت سے بنائی جانے والی اشیاء کی منڈی کو سرمایہ فراہم کر سکیں کیونکہ نوکری تو ملتی نہیں اور کاروبار کے لے سرمایہ موجود نہیں اس حقیقت کو ایک شاعر نے کچھ یوں بیان کیا ہے۔۔
یہ ملیں اسی لیے کپڑوں کے ڈھیر بنتی ہیں کیا؟
کہ دختران وطن تار تار کو ترسیں۔
بے شک معیشت دان اسکا تعین نہ کریں کہ درست سماجی اور سیاسی معیشت کونسی ہوتی ہے۔۔۔

آئیں ہم اوپر بیان کیے گئے تجزیے کی بنیاد پر اسکا حل تجویز کرتے ہیں۔ معاشی ترقی کا اصل راز غربت مٹانے میں ہے لوگوں کی قوت خرید بڑھانے میں ہے۔ لوگوں کے پاس پیسے ہوں گے تو ہی وہ اشیاء خرید پائیں گے۔ اسکے لیے اوپر سمٹا ہوا سرمایہ نیچے دینا ہو گا ۔پرائیویٹ بینک ختم کرنے ہوں گے بلا سود قرضے دینے ہوں گے تبھی معیشت کا پہیہ رواں ہو گا تبھی سماج ترقی کرے گا وگرنہ انسان یونہی زیست کو ترسے گا زندگی یونہی سسکتی رہے گی۔۔

اٹھو کہ  سماج کو بدلیں ظلم کے اس رواج کو بدلیں۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *