بچوں کو اس جہنم سے کب آزادی ملے گی؟۔۔۔۔کاشف حسین سندھو

میں اپنی بات پہ قائم ہوں، پشتون اور سرائیکی علاقے ( بعض کے نزدیک سندھ اور بلوچستان بھی )بچہ بازی کا گڑھ ہیں اور اسکی وجہ مرد عورت میں موجود فطری کشش کو روکنا ہے۔ جہاں خواتین کو بہت زیادہ پردے کی پابندیوں میں رکھا جاتا ہے وہاں یہ عمل زیادہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرائیکی علاقے کا میں رہائشی ہوں اور پشتونوں کے بارے  میں بھی ایسی ہی باتیں سننے میں آتی ہیں ۔۔ (لونڈے بازی اور ہم جنس پرستی میں فرق رکھیے لونڈے بازی یا بچے بازی معصوم کم عمر بچوں کو کسی بالغ کیجانب سے ورغلا کر زیادتی کا نام ہے۔ بعد میں یہ بچہ عادی ہو جاتا ہے جبکہ ہم جنس پرستی مغربی تصور ہے جس میں دو لوگ باہمی رضامندی سے ساتھ رہتے ہیں اور عموماً یہ لوگ بالغ ہو کر ادھیڑ عمری تک بھی میاں بیوی کی طرح ساتھ رہتے ہیں۔ ہمارے مذہبی دوست ان دونوں کو ملا کر یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہ ایک ہی چیز ہے) اگر یہ ایک ہی طرح کا عمل بھی فرض کر لیا جائے تو بھی آپ ایک اسلامی معاشرہ ہونے کے دعویدار ہیں جبکہ مغرب کسی مذہبی اخلاقیات کا پابند نہیں۔۔
اپر پنجاب میں بھی حالیہ دو دہائیوں میں یہ وباء  عام ہوئی ہے مگر ابھی تک کلچر کی شکل نہیں لے سکی۔ کلچر سے مراد یہ ہے کہ بچے بازی اسٹیٹس بن جائے اور شاعر گلوکار تک اپنی شاعری گلوکاری میں اسے بیان کرنے لگیں ۔آج اس بچے نے خودکشی کی ہے یہ دلیر تھا اپنی جان لے گیا مگر لاکھوں بچے یہ نہیں کر پاتے، کچھ نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں کچھ عادی ہو جاتے ہیں اور کچھ اسٹاک ہوم سینڈروم کا شکار بن جاتے ہیں۔ اس سینڈروم کا مطلب ہے کہ کسی ظلم کا شکار ہونے والے شخص کو ظالم سے محبت ہونے لگتی ہے اور وہ یہی ظلم خود بھی کرنے لگتا ہے ۔

جب عورت اور مرد کی غیر فطری دوری کی بات کی جائے تو بھائی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زنا کی ترغیب دی جا رہی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے مرد عورت کی شکل پہ رِیجھتا ہے یہ فطری شے ہے عشق کا اظہار کرے یا صرف دیکھے یا اس سے شادی کرے، اسکی جبلی تسکین مکمل ہو جاتی ہے۔۔۔ یہی معاملہ عورت کا ہے مگر جب یہ نہیں ہو پاتا تو محاورے میں غصہ کسی اور پہ نکل جاتا ہے یہ ” کسی اور ” ہمارے معاشرے میں معصوم بچے بچیاں ہیں۔ مرد اور عورت کے بیچ موجود غیرفطری دوریاں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انکے الگ الگ اسکولز، تعلیمی ادارے، لیڈیز پارک اور انکے اختلاط پہ موجود پابندیاں ختم کرنا ہونگی ۔آپ بھلے ملائشیا کی طرح حجاب ہی میں سہی مگر عورت کو مرد کے ساتھ برابر پروان چڑھائیں، اختلاط پہ پابندی نہ لگائیں، یہ بچہ بازی والی بیماری دم توڑنے لگے گی۔۔۔ اپنے بچوں بچیوں کو اعتماد دیں ،انہیں ملنے جلنے سے مت روکیں البتہ انہیں یہ سمجھاتے رہیں کہ انکے جسم کے فطری تقاضے کیا ہیں اور انہیں کیسے ،کب اور کس رشتے میں بندھ کر پورا کرنا بہتر ہوتا ہے۔آپ انہیں ایک دوسرے سے الگ رکھ کر وہ اعتماد کبھی نہیں دے پائیں گے جو انہیں مخلوط تعلیم اور مخلوط معاشرے میں نصیب ہو گا ۔انہیں ایک دوسرے سے دور رکھ کر آپ ان میں وہ curiosity جنم دے دیتے ہیں جو کسی بچے کو کسی شے میں دلچسپی لینے سے روکنے سے پیدا ہوتی ہے ۔۔بچہ تجسس میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اسکی کھوج کے لیے غلط رستے اختیار کرنے لگتا ہے۔ آپکو بے اعتباری کس شے کی ہے ؟ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ لڑکے لڑکیوں کو abuse کرنے لگیں گے ؟۔۔۔

دیکھیے آپ اس بات کو خود پہ محمول کر رہے ہیں آپکی پرورش جس سماج میں ہوئی ہے وہ مرد و عورت کو الگ رکھ کر پرورش کرنے والا سماج ہے۔۔ آپکا بچہ اگر اس سماج میں پروان چڑھے گا جس میں بچے بچیاں بچپن ہی سے کوایجوکیشن اور اختلاط والی سوسائٹی میں پلیں گے تو انکی نفسیات میں آپکی طرح شوہدا پن نہیں ہو گا (اب آپکو شوہدے کا مطلب بتانے کی مجھے بالکل ضرورت نہیں) ایسا بچہ خود بھی کسی کی بہن بیٹی کے ساتھ اپنی زندگی کی ابتداء ہی سے رہنا سیکھے گا اور اسے یہ بھی پتا ہو گا کہ اسکی بہن بیٹی ماں بھی کسی اور ادارے میں دوسرے مردوں کے ساتھ پڑھ رہی ہیں یا کام کر رہی ہیں آپ اسے اپنے جیسا فرض کرنے کی غلطی نہ  کریں۔ مرد عورت کا مخلوط ماحول ہی صحتمند معاشرے کا ضامن ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *