اردو کے نام پر سرکاری ادارے۔۔۔۔اسلم ملک

اردو کے حوالے سے سرکاری اداروں کے بارے میں کمیٹی کی سفارش کے بعد اخبارات اور سوشل میڈیا میں کافی کچھ آیا ہے۔ کچھ دوستوں نے میری رائے بھی پوچھی ہے۔

میری مخلصانہ ذاتی رائے پہلے بھی یہی تھی جو اس کمیٹی کی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ادارے محض پبلشنگ ہاؤس بن کر رہ گئے ہیں۔ پبلشنگ ہی کرنی ہے تو نیشنل بک فاؤنڈیشن کی کارکردگی سب سے اچھی ہے۔ پبلشنگ اس کے ذریعے کی جائے ۔ اب اردو سائینس بورڈ کے موجود سربراہ کے سوا دوسال کے عرصے میں 63 کتابیں چھپی ہیں،ان میں بھی صرف 45 نئی ہیں۔ وہ بھی زیادہ تر ادارے سے باہر کے مصنفین کی۔ ادارے کے ملازمین کی تعداد 50 سے زیادہ ہے۔ فکشن ہاؤس ایک نجی ناشر ہے، اسے کوئی گرانٹ نہیں ملتی۔ کل دس افراد کام کرتے ہیں، بیشتر فیملی کے ہی ہیں ، اس نے ایک سال میں 200 سے زیادہ کتابیں چھاپیں اور میرے خیال میں سب سے ارزاں بھی۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کی رفتار بھی اتنی ہی تیز ہے۔ فاؤنڈیشن ٹیکسٹ بکس چھاپ کر کما بھی رہا ہے، جس کی وجہ سے بہت کم قیمت پر عمدہ کتابیں فراہم کررہا ہے.
اردو سائنس بورڈ کا مینڈیٹ ، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، سائینسی موضوعات پر کتابیں چھاپنا ہی ہے لیکن جیسے اس کے سربراہ محض نوازنے کیلئے بنائے جاتے ہیں ، ویسے ہی کتابیں بھی کسی کو نوازنے کیلئے چھاپی جاتی ہیں۔۔ اس کی فہرست کتب کے کچھہ اندراجات دیکھ  لیں ، ان کتابوں کا سائینس سے کیا تعلق ہے ؟
اردو لغت بورڈ کا کام خدا خدا کرکے مکمل ہوگیا ہے۔ اب ڈیجیٹائزنگ وغیرہ جیسے کاموں کا ٹھیکہ دینا ہوگا یا آؤٹ سورسنگ ۔یہ بورڈ کے عملے نے نہیں کرنا۔محکمے کا کوئی سیکشن آفیسر کرسکتا ہے۔بورڈ میں اب روزانہ یا ماہانہ کی بنیاد پر تو کوئی کام نہیں ہونا، سالانہ نظر ثانی ظاہر ہے اعلیٰ ماہرین کرسکتے ہیں، بورڈ کے ملازمین نہیں۔ اس کیلئے چار پانچ ماہرین کی کمیٹی بنادی جائے، جس کا سہ ماہی یا ششماہی اجلاس ہوتا رہے۔اس بورڈ کا وجود اب ایسے ہی ہوگا جیسے ازراہِ عقیدت مینار پاکستان کمیٹی یا مزار قائد کمیٹی کو برقرار رکھا جائے۔

یہ بالکل صائب تجویز ہے کہ یہ سب ادارے ، سب سے بڑے ادارے ، ادارہ فروغِ اردو میں ضم کردئیے جائیں۔ اردو سائینس بورڈ کو ادارہ فروغِ اردو کا لاہور آفس بنادیا جائے ، اور لغت بورڈ کو کراچی آفس ۔ ان دونوں کے موجودہ سربراہ ، ادارہ فروغِ اردو کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام جاری رکھیں۔ ان کی مدت کے چند ماہ رہ گئے ہیں۔ ان کے بعد ریزیڈنٹ ڈائریکٹر ان کے مستقل ملازمین میں سے ترقی دے کر بنائے جائیں۔ آخر انہیں ترقی کا موقع کیوں نہ ملے ؟ ان دفاتر کے عملے کو ریٹائرمنٹ تک کسی کام لگائے رکھا جائے ۔
سائینسی مسودے بھی ادارہ فروغِ اردو ماہرین سے منظور کراکے معاوضہ یا اعزازیہ ادا کردیا کرے اور چھاپنے کیلئے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے حوالے کردے ، بس۔
اکادمی ادبیات سمیت مذکورہ تمام اداروں کی مطبوعات ان دفاتر میں فروخت کیلئے موجود ہونی چاہئیں بلکہ مجلس ترقیٔ ادب، ادارہ ثقافتِ اسلامیہ، قائداعظم اکیڈمی، اقبال اکیڈمی ، انجمن ترقیٔ اردو اور تمام یونیورسٹیوں کی مطبوعات بھی ان کی ایجنسی لے کر ان دفاتر میں فروخت کی جانی چاہئیں ۔ لوگوں کو بھی یہ فائدہ ہوگا کہ انہیں سب اداروں کی تمام مطبوعات ان دفاتر سے مل سکیں گی، جن کا حصول اس وقت بہت مشکل ہے۔۔ ان اداروں کو سرکاری ادارے کے ساتھ لین دین میں بد معاملگی کا کوئی خدشہ نہیں ہوگا۔
اردو سائینس بورڈ ، اردو لغت بورڈ اور ادارہ فروغِ اردو کی بھی تمام کتب چھاپنے کیلئے نیشنل بک فاؤنڈیشن کو سونپی جائیں ، جس کا پرنٹنگ، پبلشنگ اور مارکیٹنگ کا اچھا نیٹ ورک بن گیا ہے۔ اتنے سارے ادارے ایک ہی کام کیوں کرتے رہیں ؟

دیکھیں یہ سائینس کی کتابیں ہیں ؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *