لڑکا موٹا چل جاتا ہے لیکن لڑکی نہیں ۔۔۔۔علی اختر

نوٹ : یہ تحریر  میاں جمشید صاحب کی تحریر کے جواب  میں لکھی گئی ہے!

لڑکا موٹا ہو تو چل جاتا ہے مگر لڑکی نہیں۔۔۔میاں جمشید

ہمارے خطے میں چند موضوعات بہت مشہور ہیں ۔ جب آپکے پاس لکھنے کو کچھ نہ ہو تو ان میں سے کوئی موضوع اٹھائیں اور لکھ ڈالیں ۔ جیسے “کرپشن” ۔اب سبھی جانتے ہیں کہ ملک میں تقریباً سبھی اداروں میں ، وزارتوں میں کرپشن اور رشوت عام ہے ۔ سرکاری اداروں سے وابستہ لوگ اور عوام دونوں ہی رشوت کے اس قدر عادی ہیں کہ اب یہ روٹین کی بات بن گی ہے یعنی کوئی  نوٹس ہی نہیں لیتا لیکن پھر بھی آپکو ہر دوسری تحریر اس موضوع پر ملے گی ۔

اسی ضمن میں ایک اور موضوع “عورت کی مظلومیت” ہے ۔ جب سے کیمرہ اور فلم ایجاد ہوئی  بر صغیر کی ہر دوسری فلم کا یہی موضوع ہوتا ہے ۔ حتی کہ اردو زبان کے پہلے ناول ہونے کا اعزاز رکھنے والے مرزا ہادی رسوا کے ناول “امرا و جان ادا” کی کہانی سے لے کر آج تک اس موضوع پر سینکڑوں ناول ، افسانے، مضامین لکھے جارہے ہیں اور آئندہ بھی لکھے جاتے رہیں گے ۔

اسی ضمن میں لڑکی کے موٹے ہونے کی وجہ سے شادی نہ ہونے پر آج ایک مضمون دیکھا ۔ لب لباب یہ تھا کہ لڑکا چاہے موٹا ہو کوئی  بات نہیں لڑکی اسمارٹ ہونی لازمی ہے ۔ تو بھائی  لوگ یہ لڑکی دیکھنے اور پسند کرنے والی رسم بھی تو عورتوں ہی کے دم سے آباد ہے ۔ وہی تو لڑکی کے گھر سموسے کھاتے ہوئے اس  کا سٹی سکین ، ایکسرے ، بائیومیٹرک وغیرہ کرتی ہیں ۔ یہ آنٹیاں ناصرف خود اس اسٹیج سے گزر چکی ہوتی ہیں بلکہ آگے انکی بیٹیاں بھی یہ سب جھیل رہی ہوتی ہیں ۔ دوسری جانب جن کی بیٹی اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے ریجیکٹ ہو رہی ہوتی ہے وہ بھی اپنے بیٹوں کے لیے سلم لڑکی کی تلاش میں ہوتی ہیں ۔ پس تو ثابت ہوا کہ عورت کے ساتھ ہونے والی اس نسل در نسل نا انصافی کی ذمہ دار بھی عورتیں ہی ہیں ۔

صاحب مضمون نے خواتین کو مظلوم بنانے کے لیے یہ تک کہہ دیا کہ موٹاپے کی وجہ بھی موروثیت اور ماں کے دودھ کا اثر بتا کر عورت ہی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ ارے بیچاری عورتیں ہر جگہ چکی میں گیہوں کی طرح پس رہی ہیں۔ ہائے ہائے دیکھو تو کتنا ظلم ہے ۔

میرےبھائی ! آج تک کتنے آدمی آپکو ملے جنہوں نے اپنی بیویاں موٹاپے کی وجہ سے گھر سے نکال دی ہوں ۔ میں نے تو کبھی کوئی نہیں دیکھی۔ بلکہ دیکھا گیا ہے کہ  شادی سے پہلے جو لڑکیاں موٹاپے کے خوف سے لوکی کے شوربے اور چپاتی پر گزارہ کر رہی ہوتی ہیں شادی کے بعد زندگی کا اولین مقصد پورا ہوتے ہی پراٹھے اور بریانی پر آجاتی ہیں ۔ اور دوسرا مقصد یعنی ایک دو بچوں کے بعد جب پوری طرح یقین ہو جاتا ہے “اب یہ کہیں نہیں جاتا۔” تو ناشتے میں ملائی اور رات کو دودھ کے ساتھ پاوبھر دیسی گھی کا اضافہ ہو جاتا ہے ۔ نتیجہ ، شوہر بیچارہ شادی کے تین چار سال بعد ہی بیوی کے نام پر “گاڈزیلا” لے کے گھوم رہا ہوتا ہے لیکن مجال ہے کہ  چوں کر جائے ۔ بیچارہ قسمت کا لکھا سمجھ کر صابر و شاکر رہتا ہے اور اسی کے ساتھ ساری زندگی گزار دیتا ہے ۔

مجھے تو لگتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ ہونے والا اس نوعیت کا ظلم دراصل مکافات عمل ہے ۔ مثال کے طور پر اگر کسی عورت کی نندیں اسے تنگ کرتی ہیں تو وہ بھی کسی کی نند ہونے کی صورت میں کی گئی  نا انصافی کی سزا بھگت رہی ہوتی ہے یا اگر ساس ظلم کرتی ہے ، راشن پر تالا لگاتی ہے ، ڈانٹ ڈپٹ اور بیٹے سے آئے دن شکایات کرتی ہے تو دوسری جانب مظلوم بھی کل ساس بن کر اپنا حساب سود سمیت چکتا کر لے گی ۔ میرے بھائی دراصل یہ ایک قبائلی جنگ ہے جس میں باپ کا بدلہ بیٹا لیتا ہے ۔ اس ضمن میں میرا اور آپکا کردار محض سڑک پر ایکسیڈنٹ کے بعد کھڑے ہونے والے لوگوں کا ہے اور کچھ نہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *