• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • شام، امن سے جنگ تک/ دنیا کے کلاسیکل حسن والے شہر دمشق کا سفر/سلمٰی اعوان۔۔قسط1

شام، امن سے جنگ تک/ دنیا کے کلاسیکل حسن والے شہر دمشق کا سفر/سلمٰی اعوان۔۔قسط1

کوئی ایک بار تھوڑی اکثر وبیشتر ایک سوچ سوال کرتی ہے۔ بہت بار یہ خیال سوالیہ صورت میں مُجھ سے باتیں کرتا ہے کہ آخر میرے اندر سکون کیوں نہیں ہے؟ کیا میں کسی مضطرب لمحے کی پیداوار ہوں۔ آخر بے چینی اور اضطراب ہمہ وقت کسی پیسہ بٹورنے والی محبوبہ کی طر ح کیوں مجھے گھیرے رکھتا ہے۔
جب چھوٹی تھی تب بھی اندر جیسے پارہ بھرا رہتا تھا۔بس تاک  میں رہتی تھی کہ کب گھر کے لوگ کاموں میں مصروف ہوں اور میں آنکھ بچا کر باہر نکلوں۔لُور لُور پھرتی۔اردگرد کے محلوں،ان کے لوگوں،وہاں کے بچوں بارے میری معلومات بڑی ثقہ بند قسم کی ہوتیں۔چوتھی پانچویں میں پڑھنے والے لڑکے لڑکیوں میں کون دلیپ کمار ہے؟کون نرگس بنی ہوئی ہے۔ کون سی کامنی کوشل ہے؟مجھے سب کا علم ہوتا۔
میری دادی بڑی عاجز رہتی تھیں۔میرے اِن لچھنوں پر بڑے لتّے لیا کرتی تھیں۔سُتّی رہ جاویں(یعنی سوتے میں ہی پار ہوجاؤ)جیسی دعا یا بددعا دینا بھی معمول کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔یہ اور بات ہے کہ یہ بددعا مجھے گھی شکر بن کر لگتی کہ میں ہر صبح چاق و چوبند اٹھتی۔
جب ذرابڑی ہوئی تب اس میں اور شدت آگئی۔ اور جب اسفار کا سلسلہ شروع ہوا ہمیشہ جی چاہتا تھا کہ کہیں نہ کہیں بھاگی پھروں۔خجل ہوتی رہوں۔ ایک سفر سے نپٹتی تو دوسرے کے لئے تڑپنے لگتی۔ہر دم اُچھل پیڑے جونکوں کی طرح چمٹے رہتے۔


روس سے واپس آئی۔ اس پر لکھنے سے نپٹی۔ اب خود سے پوچھتی ہوں۔کہاں چلنا ہے؟ کہیں بھی سوائے ٹامیوں اور سامیوں کے دیس کے ۔باقی سب جگہیں قبول ہیں۔پر مصیبت ساتھی کی۔ہمیشہ ساتھ چلنے والی نے مہم جوئی دکھا دی تھی۔نازُک سی نئی نویلی گاڑی کا دیو جیسے ٹرک سے پیچا لڑا دیا۔اُس نے وہ پٹخنیاں دیں کہ چھٹی کا دودھ یاد آگیا تھا۔چلو جان تو بچ گئی مگر جس انداز میں رگیدی گئی اس نے منجی پر مہینوں کے لئے ڈال دیا تھا۔
’’اب میں کیا کروں؟ کِس کھوں کھاتے میں گروں؟کہاں جاؤں؟‘‘
ایسے میں اخبار کاایک اشتہار نظر سے گزرا۔شام اور عراق کے لئے زیارتی کارواں ۱۵ جولائی کو روانگی۔ادائیگی ایک لاکھ پچیس ہزار۔
یہ زیارات کا پیکج تھا۔ شام وعراق کی مقدس جگہیں محترم تو سبھی مسلمانوں کیلئے ہیں۔یوں شیعہ مسلک کیلئے ذرا خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
بہت سی سوچوں نے گھیرا ڈال دیا۔ترجیحات کا فرق غور طلب تھا۔
مذہبی معاملات میں بُہت لبرل ہوں ۔خدا کو ربُ المسلمین نہیں رب العالمین جانتی ہوں۔انسانیت پر ایمان رکھتی ہوں اور تہہ دل سے اِس پر یقین ہے کہ مذاہب کی یہ رنگا رنگی اوپر والے کی اپنی تسکین طبع کیلئے ہے اور یہ تنوع اُسے حد درجہ محبوب ہے۔


اس لئے آپ اور میں کون ہیں اپنے عقیدے اور مسلک پر غرور کرنے والے؟
ایئرپورٹ پر تھوڑی سی پریشانی ہوئی۔شُکراً کہا کہ میاں ساتھ نہیں آئے تھے۔ایسی بدنظمی دیکھتے تو وہیں لعن وطعن کے تبّروں سے تواضع شروع کردیتے۔
پہلاپڑاؤ بحرین ہوا۔خوبصورت شہر پرشےئن گلف کے دہانے سے کِسی جادوئی اسرار کی مانند پھوٹتا ہوا نظرآیا۔ایئرپورٹ کیا تھا۔ایک پورا شہر ۔دنیا جہان کی نسلوں اور قوموں سے بھرا پڑا۔ خلقت کا ایک اژدہام۔
فلپائن کی پھینی پھدکڑ ڈھڈورنگی(چپٹی ناک اورمینڈک جیسے رنگ والی)لڑکیوں کے ٹولوں نے آدھا ہال سنبھالا ہوا تھا۔باقی کا آنبوسی بنگلہ دیشی لڑکیوں اور عورتوں کے قبضے میں تھا۔شلوار قمیض اور قمیض پاجاموں کے علاوہ ساڑھی تو قسم کھانے کو ایک کے بھی تن پر نہ تھی۔
1969ڈھاکہ یونیورسٹی میں اپنا زمانہ طالب علمی یاد آیا تھا۔ ایک ماہ میں ہی اُٹھتے بیٹھتے میرے کلاس فیلوز نے ’’تماں کے خوقی ناہیں(تم بچی نہیں ہو)بنگال آئی ہوتمہیں ساڑھی پہننی اور بنگالی بولنی چاہئے‘‘ جیسے طعنوں سے چھلنی کرنا شروع کر دیا تھا۔لباس اور زبان کیلئے اُن کی بے تکی محبت، کریز اور تعصّب خوفناک حدوں کو چھُوتا تھا۔ میں نے بھی فی الفور یہ دونوں کام کرنے میں ہی اپنی سلامتی اور عافیت جانی تھی۔


وقت کتنا بدل گیا تھا۔بنگلہ دیشی عورت ملکی معیشت مضبوط کرنے میں کِس درجہ سر گرم ہے۔
متحدہ عرب امارات کی چھ امیر ریاستوں اور مشرق وسطیٰ کے کھاتے پیتے ملکوں میں یہ غریب عورتیں اور لڑکیاں ایجنٹوں کی وساطت سے محنت مزدوریاں کرنے جا رہی تھیں۔تیسری دنیا کے غریب لوگوں کا مقدّر۔یہاں کوئی تین گھنٹے کا پڑاؤ ہوا۔گیٹ نمبر 31سے دمشق کیلئے ہمیں داخل ہونا پڑا۔
اِس بین الاقوامی ہوائی اڈے پرجہاں دنیا جہاں کے مسافروں کواُن کی پروازوں کیلئے پروقار انداز میں عربی ،انگریزی اور ہندی میں بلایا جارہا تھا۔میں خودسے کہے بغیر نہ رہ سکی تھی کہ یوں تو اِن عرب امارات کے ہم سے محبت کے دعوے بڑ ے ہیں۔ مگر ہماری زبان اُردو کیا اِس قابل نہیں کہ اُسے بھی یہاں پذیرائی ملتی۔
یہیں میں نے اُس مدھو بالا کو دیکھا تھا۔ثروت شجاعت شیخوپورہ کالج کی پروفیسر۔ہنستے ہوئے میں نے پوچھا تھا۔’’کوئی قرابت داری اُس خاندان سے۔‘‘
کھلکھلا کر ہنس پڑی۔زندہ دل خاتون تھی۔
جہاز میں دہکتے لبوں،چمکتے رخساروں، نین کٹارا سی آنکھوں اورچھ فٹی مٹیار جٹیوں جیسی جتنی عورتیں بھی نظر آئیں کم و بیش سب شامی تھیں۔میرے بائیں ہاتھ ساتھ بیٹھنے والی بھی ایسے ہی قد کاٹھ اور رنگت والی تھی۔ ہا ں البتہ دائیں ہاتھ بیٹھی خاتون خاصی عمر رسیدہ تھی۔ افسو س تو یہ تھا کہ جتنی بوڑھی تھی اُتنی ہی تنک مزاج بھی تھی۔ کہیں ہمسائیگی کے ناطے کسی بھول چوک یا کسی کو تاہی پر کوئی رعایتی نمبر دینے پر مائل ہی نہ تھی۔ کسی ظالم ساس کہ بہو آٹا گوندھتے ہوئے ہلتی کیوں ہو؟ جیسا سفاکانہ رویہ اپنائے ہوئی تھی۔ چاہتی تھیں کہ پتھر بن جاؤں یا کسی بت کی طرح سیٹ پر سج جاؤں۔
خدا کا شکر تھا کہ بائیں ہاتھ بیٹھنے والی ڈشکری حسینہ قد کاٹھ چھ فٹ کو چھوتا اور رنگت سیندور ملے میدے جیسی اور اللہ کا احسان کہ اخلاق کے اعتبار سے بھی صورت جیسی ہی تھی۔کوئی نک چڑھی ہوتی تو تین گھنٹے کیلئے میرا تو سانس لینا مشکل ہوجاتا۔یوں وہ علم کے میدان کی بھی اچھی شہسوار تھی کہ دمشق یونیورسٹی میں جغرافیہ کی استاد تھی۔
بچے جہاں کے بھی ہوں اُنکے کھیل بھی ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔سامنے والی سیٹ پر بیٹھی شامی بچی گڑیا کے ساتھ کھیلتی ،کبھی اُسے کپڑے پہناتی، کبھی پھول تاروں سے سجاتی نظر آئی تھی۔لڑکا صورت سے بھائی جان  معلوم پڑتا تھا وہ بھی موبائل پر گیمیں کھیلتا تھا۔


سامنے چلتے ٹی وی پر عربی فلم میں وہی پُرانے رنڈی رونے تھے۔خط پھاڑنے اور مرد کی محبت میں پاگل ہونے کے منظر۔مرد کی بیوفائی،عورت کا چہکوں پہکوں رونا،جیبوں کی تلاشی۔
واش روم کیلئے اٹھی تو چلتے چلتے ٹھٹھکی۔ایک فلپینو لڑکی روتی تھی۔دلداری کی تو جیسے ٹھیس لگ جائے آبگینوں کو والا معاملہ ہو گیا تھا۔دو نّنھی منی معصوم صورتیں چھوڑ کر آئی تھی۔ یاد نے زور مارا تو موتیوں کے ہار پرونے لگی۔
اب دلاسا اورتسلّی کے دو بول ہی تھے ناغریبوں کے مقدّر۔
گلف ایر لائن کی فضائی میزبانیں بلاشبہ مقابلہء حسن میں بھیجی جانے والی تھیں۔مرد بھی اتنے ہی خوبصورت اور وجیہہ تھے مگر ساتھ ہی فارغ البال بھی ۔جی چاہتا تھا ایک کراری چپت کھوپڑیوں پرلگاؤں۔ کیسا مزہ آئے؟
کھانے میں بریانی تھی۔کمبختوں کے پاس کشمش کا قحط تھا۔ سارا زور پیاز پر تھا۔گارنش گویا مردے کے منہ پر مکھن ملنے کے حساب میں جاتی تھی۔سبزیوں کی ڈش بے سوادی اور میٹھا اُس سے بھی زیادہ بے سوادا۔
فضائی میزبانیں جتنی حسین اور طرحدار، خدمت اور کارکردگی میں اتنی ہی نکّمی اور نالائق۔کھانے کی ٹرے ہمیں سونپ کر انہیں اٹھانا ہی بھول گئی تھیں۔ بوڑھی خاتون کی بڑبڑاہٹ مسلسل جاری تھی ۔ میں نے پاکستانی خاتون کا اچھا تاثر اُبھارنے ، خدمت خلق کی مد میں نمبر بنانے کی چکر بازی میں ان کی ٹرے اٹھائی ۔ سلیقے کا فقدان تو جیسے میرے وجود کی پور پور میں ازلی رچا بسا ہے۔ کوجے پن سے پکڑی ٹرے جیسے کسی آوارہ کٹی پتنگ کی طرح لہرا سی گئی۔قہوے کی پیالی میں سے بچا تھوڑا ساقہوہ خاتون کے اوپر گر ا اور تھوڑے سے نے بائیں طرف والی ہمسائی کے سکرٹ کو بھی آلودہ کیا۔
بڑھیا نے چلاّنا شروع کر دیا تھا۔ تاہم خاتون نے انہیں عربی میں متحمل رہنے کی بات کی۔ میں جو شرمندہ شرمندہ سی معذرت کی تصویر بنی کھڑی تھی۔ مجھے بھی انگریزی میں کہا۔
’’خیر ہے۔ ایسا ہو جا تا ہے۔‘‘ میں نے دل میں خو دکو لعن طعن کی۔خیر سے چلی تھیں بڑی سوشل بننے۔
ایک عظیم اور قدیم تہذیبی گہوارہ ملک شام کے دارلخلافہ دمشق کی پہلی جھلک جہاز کی کھڑکی سے اڑتی ہوئی آنکھوں سے آٹکرائی تھی۔
اس کا پہلا منظر ہی بڑا دلربائی والاتھا۔جیسے دُنیا سے کٹے پھٹے کِسی صحرا میں پہاڑیوں کے پاؤں سے ناف تک کے دامن میں بچیوں نے کھیلتے کھیلتے گڑیوں کے خوبصورت گھروندے یہاں وہاں سجا دئیے ہوں۔ درختوں کی قطاریں اپنی لمبائی چوڑائی اور تناسب کے اعتبار سے بڑی موزوں اور منفرد سی دکھتی تھیں۔ درختوں کے یہ سلسلے کہیں کھیتوں جیسا تاثر اُبھارتے کہ لگتا تھا لائنوں میں شجر کاری کی گئی ہے۔ کہیں ایک بڑے سے صحرا میں ان کا پھیلاؤ جیسے میدان میں سبز کنکریاں جا بجا بکھری ہوں۔
چٹیل ریگستانی میدان میں جبل قاسیون اور چامchamپیلس ہوٹل کی اولین جھلک بھی میں نے اُس شامی خاتون کی نشاندہی پر ہی دیکھی تھی۔
میں نے باہر دیکھا تھاشہر کے بیچوں بیچ گزرتی لمبی شاہراہ حافظ الاسد روڈ جیسے کوئی موٹا تازہ اژدھا پھنکارتے مارتا ہو۔ یا جیسے کسی طباق سے نسوانی چہرے کے سر کی لمبی لشکارے مارتی مانگ۔
تین گھنٹے کے اِس سفر میں میں نے اُس حُسن کی مورتی سے شام کے متعلق کافی اسباق پڑھ لئے تھے۔


پہلی جنگ عظیم کے خاتمے تک جغرافیائی لحاظ سے شام ایک بڑا ملک تھا۔لبنان،اردن،عراق اور فلسطین سب اس کے حصّے سلطنت عثمانیہ کی علمداری میں تھے۔ انگریزوں اور اتحادیوں کی سازشوں نے اس کے حصّے بخروں کیلئے بڑی گھناؤنی چالیں چلیں۔اِس سرزمین کو مختلف ٹکڑوں میں اپنے حواریوں میں بانٹ دیا۔
یہ کمبخت انگریز اور اُن کے چچیرے ، ممیرے بھائی بند منحوس، اول درجے کے شازشی، لعنتوں کے مارے بڑے ہی تخریبی ہیں۔ حال ہو یا ماضی ملکوں ملکوں پھڈے ڈالے رکھتے ہیں۔
ذرا کسی نے سر نکالنے کی کوشش کی، کہیں کسی کی کمزوری نظر آئی۔ بس اس کا تیا پانچہ کر نے پر کمر کس لی۔عراق کے ساتھ کیا ہوا؟لیبیا کا خانہ خراب کیا۔ایران پر بھی دانت بڑے تیز تھے پر وہ بھی لوہے کے چنے نکلے۔ بڑی کڑوی سوچیں تھیں میری۔
ڈاکٹر زُخرف کے لہجے میں دُکھ کی چبھن تھی کہ اس کا خوبصورت خدوخال والا ملک جو کہیں سوریہ اور کہیں بلادالشام کہلاتا تھا ۔ صدیوں پرانی تہذیبوں کا والی وارث ، قدیم ترین مذاہب کا گڑھ اور عظیم ترین اثاثوں کا حامل کیسے اس بندر بانٹ کے نتیجے میں بے ڈھبا سا ہوگیاتھا۔
دراصل یہ ملک زمانوں سے ہی اپنے قریبی اور ذرا پرے کے ہمسائیوں کے لئے بڑی کشش کا باعث رہا۔ مغرب میں قیصر روم کی اس پر ہمیشہ رال ٹپکی ۔ آئے دن چڑھائی کئے رکھتا۔ کچھ ایسا ہی حال کسریٰ ایران کا تھا۔ وہ بھی اسے سکون سے رہنے نہیں دیتے تھے۔
تاریخ ، جغرافیہ چونکہ اس کے گھر کی لونڈی تھی۔ تعارف ہونے پر پہلا سبق تو فوراً ہی شروع ہوگیا تھا۔ گو کچھ سبق تو میں بھی گھر سے پڑھ کر چلی تھی۔
تاہم جب اُ س نے تاریخ کا پٹارہ کھولا۔ برطانیہ اور اس کے حامی موالیوں کے لتّے لینے شروع کئے۔ میں نے توجہ اُ سکے رخساروں سے اُٹھا کر اُس کے لبوں پر لگا دی۔
’’کیسے بندر بانٹ کی انہوں نے ہمارے علاقے کی۔ اتنی خوبصورت شکل والے ملک کو ٹیڑھا میڑھا تکونا اور مثلث نما کر دیا۔ ‘‘
ڈاکٹر زُخرف کو تو اُس کے ٹیڑھے میڑھے اور تکونے ہونے کا دکھ ہی برداشت نہ تھا۔
ہائے آج پاس ہوتی تو پوچھتی زُخرف بتاؤ نا اب۔ کیسے کھنڈر بنا دیا ہے انہی لوگوں نے ایک بار پھر اِسے۔وہی پرانے شاطر، کھلاڑی۔ وہی امریکہ اورروس کی تناؤ اور ضدیں۔وہی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں۔ وہی مشرق وسطیٰ کو تباہ وبرباد کرنے کے منصوبے۔ عراق، لیبیا اور اب شام کا قیمہ بن گیا ہے۔
میر ی سماعتو ں میں زُخرف کی آواز گونجی ہے۔
’’تاریخ میں مجھے شریف مکہ سے جتنی نفرت ہے اتنی شاید ہی کسی اور کردا ر سے ہو۔ ‘‘
اپنی ہی ذات کے ٹکڑے جب ہمسائے بنے تو جنوب میں فلسطین اور اُردن،لبنان مغرب میں، 175کلومیٹر لمبی پٹی بحیرہ روم کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔
اور وہ ہماری نوحہ خوانی کی تاریخ کا ایک بڑا کردار ’’فرات‘‘ ترکی کے ارارات پہاڑوں کی جھیل سے نکل کر اسے سیراب کرتا مشرق میں واقع عراق میں داخل ہوتا ہے۔ شمال میں ترکی۔ لبنان بارڈر کے ساتھ اس کی سب سے اونچی چوٹی2814 میٹر بلند ’’ہرمن ‘‘ ہے۔
شام کی سرزمین صحرا، میدانوں ، پہاڑوں، جنگلوں اور چراگاہوں سے بھرپور ہے۔ چودہ صوبوں میں منقسم جس کے شہر تدمیرPalmyra، حلب Aleppo اور بصریٰBosrahاپنے ماضی کے شاندارورثوں کے ساتھ دنیا کی تاریخ میں بڑے نمایاں ہیں۔ حلب یعنی الیپوتین ہزار قبل مسیح کا شہرقنطرہ Al.Quntira ، درا، طرطوس، حمص اور لاطاکیہ سب تاریخی حوالوں سے اپنی پہچان رکھتے ہیں۔


دمشق کی بات چھوڑئیے۔ دمشق سٹیڈلDamascus Citadel گویا شہر کا موتی ہے۔ اس کا لینڈ مارک ہے۔شام کے جنوب مغرب میں واقع ایک بڑا میٹرو پولٹین شہر جس کے شہری کوئی سوا لاکھ کے قریب ہیں۔
کٹھ پتلی بادشاہت سے گزرتا کمیونسٹ سوشلسٹ چکروں میں الجھتا حافظ الاسد کے بعد اس کے ڈاکٹر بیٹے بشار الاسد کی صدارت میں ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے۔
بشار کے بارے میرے ایک سوال پر ڈاکٹر زُخرف نے کہا تھا۔
’’بہت سمجھدار اور لوگوں میں ہردل عزیز ہے۔مُلک کو تیزرفتاری سے ترقی کی جانب لے جارہا ہے۔ہمہ وقت لوگوں سے رابطے میں رہتا ہے۔‘‘
تب یعنی 2008ء میں شام بڑا پر سکون ملک تھا۔ سیکولر ملک جہا ں مسلمان ، عیسائی، آرتھووڈوکس ، آرمینائی ، دروز سبھی عقیدوں کے لوگ مل جل کر رہتے تھے۔ کہیں یہ اس وقت میرے گمان کے کسی حصے میں بھی نہ تھا کہ بہت ساری دیگر وجوہات کے ساتھ صدا م کی زبانی کلامی حمایت کرنے پر اس کے پر کاٹنے اور اسے تباہ کرنے کے منصوبوں پر کام شروع ہوگیا ہے۔ اور اُس کی وہ سمجھداری جس کے گن ڈاکٹر زخرف گا رہی تھی اُس کی تباہ کن حماقتوں میں بدلنے والی ہے اور وہ اقتدار کے لئے اپنے ہی لوگوں کو خون میں نہلانے والا ہے۔
جہاز لینڈ کررہا تھا۔میں نے اپنی حسین ہم سفر کا شکریہ ادا کیاکہ جس نے شام سے میرا ابتدائی تعارف کروادیا۔
ایئرپورٹ اتنا شاندارنہ تھا جتنا میں توقع کررہی تھی۔
ایک تو گہما گہمی بھی کچھ خاص نہ تھی۔ دوسرے امیگریشن والے نرے لونڈے لپاڑے۔ سُست توجوتھے سو تھے مگر کام میں طریقے سلیقے کا بھی فقدا ن تھا۔
میرا اٹیچی کیس ہی نہیں مل رہا تھا۔ میں بوکھلائی پھرتی تھی ۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ کہیں پچھلے جہاز میں نہ آ رہاہو۔ پر میرے دل کو قرار نہ تھا۔ خدا کا شکر ہی تھا کہ کوئی آدھ گھنٹے بعد مل گیا۔ خیر سے گروپ کے ایک بندے نے اپنا سمجھ کر اسے اپنے سامان میں گھسیڑ لیا تھا۔


باہر گاڑیاں کھڑی تھیں۔ شام بہت خوبصورت تھی۔ سونے رنگی دھوپ میں رعنائی تھی اور تھم تھم کر چلنے والی ہواؤں میں بانکپن تھا۔ گردوپیش کے منظروں میں صحرائی حسن کی لالیاں تھیں۔ ایئر پورٹ شہر سے باہر تھا۔ کوئی تیس بتیس کلومیٹر کا درمیانی فاصلہ تھا۔
پڑاؤ زینبیہ میں ہوا۔ دمشق سے دس کلومیٹر جنوب کی سمت پر زینبیہ کا علاقہ حضرت زینب کے نام نامی سے مشہور ہے۔درمیانے درجے کے ہوٹلوں،بازاروں اور رہائشی مکانوں کی وجہ سے متوسط زائرین کی کثرت ہے جو یہاں ٹھہرتے اور دنوں رہتے ہیں۔
کمروں کا حساب کتاب اور کس نے کس کے ساتھ نتھی ہونا ہے اس کا فیصلہ ابھی مشکل تھا کہ پتہ چلا تھا کہ جب تک وہ فلائٹ جو پیچھے رہ گئی ہے نہیں پہنچ جاتی اس وقت تک تعین ذرا مشکل ہے۔ یہ اور بات تھی کہ بڑے کمروں میں رشتہ دار عورتوں نے ممکنہ تعداد کے پیش نظر خو د ہی اپنے گروپ ترتیب دے لئے تھے۔
میں اکیلی گواچی گاں کی طرح مختلف کمروں کا جائزہ لیتی ایک ایسے کمرے میں گھس گئی جہاں اے سی چلتا تھا ۔تین عورتیں بستروں پر چڑھی بیٹھی باتوں میں مشغول تھیں۔ قدرے معقول لگتی تھیں۔کمرے جس کی کھڑکیاں باہر سڑک پر کھلتی تھیں ، میں نے اسی سے باہر دیکھا تھا۔ سڑک کے پار پھیلے قبرستان نے فوراً توجہ کھینچ لی تھی۔
پہلے تو میں نے جھٹکا کھایا۔چند لمحے ساکت کھڑی رہی۔سچی بات ہے قبرستان تو ہمیشہ دل دہلانے والے منظروں کے عکاس ہوتے ہیں۔پھر وہیں کھڑے کھڑے ہنگامی فیصلہ ہوگیا کہ جو مرضی ہو اِس کمرے میں تو قطعی نہیں ٹھہرنا، بلکہ اِس ساری قطار کے ہر اُس کمرے میں جہاں سے اٹھتے بیٹھتے یہ منظر نظرآئے مجھے نہیں قبول۔
ریاست بہاولپور کے نواب کی نور بیگم یاد آگئیں کہ جس کے لئے نواب نے نہایت عالیشان محل بنوایا تھا۔جس کی تعمیری خصوصیت یہ تھی کہ اس میں سیمنٹ اور سریا کی جگہ چاول، دال ماش، چونے ، پٹ سن اور چکنی مٹی کو پیس کر اُسے استعمال میں لایا گیا۔ ایک دن کی بیاہی دلہن کا ڈولا رات گئے محل میں اُترا۔صبح دم کھڑکی کے پردے ہٹا کر دریچے سے باہر جھانکا تو اُسے سامنے قبرستان نظرآیا۔نور بیگم نے پاؤں پٹخے۔غصّے سے کھولتے اور تنتناتے پالکی میں سوار نواب کے لئے پیغام دیا کہ اُسے قبرستان میں نہیں رہنا۔ اور یہ جا وہ جا۔


تاہم چند لمحوں کی نظر بازی میں کوئی حرج نہیں تھا۔بڑا طریقے سلیقے والا لگ رہا تھا۔بیگ سے دوربین نکالی۔آنکھوں پر چڑھائی۔ارے واہ قبروں کا سنگ مر مر، درمیانی ترتیب، پھول، درخت سبھوں میں اگر بہت دل آویزی نہیں تھی تو بھی ہمارے ہاں جیسی پھنبڑ پھوسی والی صورت بھی ہرگز نہ تھی۔ متاثر کرنے والی حالت ضرور تھی۔یوں ہمارے ہاں کے بھی بعض قبرستان بڑے خوبصورت سے ہیں۔سندھ کا مکلی،حسن ابدال کا کہ مغل بادشاہوں،اُن کے امراء اور درباریوں کی کشمیر کے لئیے گزرگاہ اسی راستے سے تھی۔موت برحق ،شہزادے، شہزادیوں نے بھی اللہ کو پیارا تو ہونا ہی ہوتا ہے۔ بادشاہوں کے بھرے خزانوں میں سے کچھ تھوڑا بہت اِن جوانا مرگ لوگوں پر لگنا بھی ضروری۔تو بہت سی شاندار قبریں ہیں وہاں۔
کمرے میں اے سے کی ٹھنڈک نے لطیف سی خنکی بکھیری ہوئی تھی۔
’’ہائے ایسے میں اچھی سی چائے کا ایک کپ مل جائے تو خدا کا کتنا شکر ادا کروں۔‘‘
مگر اس خواہش کا اس ماحول میں پورا ہونا مشکل نہیں ناممکن سا تھا کہ کون اٹھ کر کنوئیں میں بوکا ڈالے گی۔اوّل تو جان پہچان ہی نہیں۔اگر بے شرم بن کر اپنی بزرگی کا واسطہ دے کر ایک کپ کے لئیے درخواست کربھی دوں تو بھئی جیسی چائے کی طلب ہے وہ تو اِس ماحول میں ممکن نہیں کہ بڑی جھٹکی سی فضا ہے۔یہ جو میرے سامنے بیٹھی تین عورتیں آپس میں گپ شپ کررہی ہیں۔میڑک، ایف اے پاس ضرور ہیں۔ مگر چائے بنانے اور پینے کے نفیس ذوق سے عاری دکھتی ہیں۔
مغرب کے قریب یکدم ماحول کی قدرے خاموش فضاؤں میں بڑا زوردار قسم کا ارتعاش پیدا ہوا۔ کچھ لوگوں کی ہمارے کمرے میں تانکا جھانکی بھی شروع ہوئی جس نے بتایا کہ خیر سے باقی ماندہ لوگ بھی پہنچ گئے ہیں۔


اِن تانکا جھانکی کرنے والوں میں دو چہرے ایسے تھے جنہوں نے فوراً توجہ کھینچی تھی۔ ایک چالیس(40) پنتالیس (45)کے ہیر پھیر میں اچھے نقش ونگار اور قدرے فربہی مائل بدن کی عورت جو لب ولہجے سے پڑھی لکھی لگی تھی۔ دوسری نوجوان، خوبصورت تیز طرار اور چلبلی سی لڑکی تھی۔ ہواکے کسی معطر جھونکے کی طرح دونوں نے ایک دروازے سے انٹری دی۔ السلام وعلیکم کی ذر ا زور دار گونج سے کمرے میں شور پیدا کیا اور پھر دوسرے دروازے سے نکل کر میرے لئے یہ پیغام بھی چھوڑتی گئیں کہ اِس بھالیکے میں نہ رہنا کہ قافلے میں سب ماٹھے اور ھما شما جیسے لوگ ہی ہیں۔ کچھ اچھااور بڑھیا مال بھی ہے۔
مجھے کس کے ساتھ رہنا ہے؟ اِس کا بھی فیصلہ ہوگیاتھا۔ خدا کا شکر تھا کہ مجھے بھی اچھا لگا۔تھوڑی دیر قبل انٹری دینے والی اُدھیڑ عمر نسرین اُردو میں ایم اے ایم فل۔کلام اقبال کی عاشق بڑی ہی شریف الطبع، روشن خیال، میری روم میٹ بنی۔ چھوٹا سا کمرہ بھی ہم دونوں کو مل گیا۔ دو تین برتن بھانڈے بھی عنایت ہوگئے۔ رکابی ، تھالی، مگ ، گلاس ، چائے کے لئے ایک پین بھی مل گیا تھا۔
اب سوچا چل کر دودھ پتی لائیں۔ نسرین تھکی ہوئی تھی۔ اُسے آرام کا کہتے ہوئے میں نے کمر کَس لی۔ شکر کہ لفٹ تھی۔ لفٹ میں کھڑا لڑکا صورت سے بڑا اپنااپنا سا لگا۔ تیرا کو میرا کو والی گلابی اردو بولا تو معلوم ہوا کہ اڑیسہ کے کِسی گاؤں سے ہے۔نام وجیا وادہ۔مذہباً ہندو اور عادتاً اپنی خوش خلقی،میٹھے بولوں اور بھولی سی سلونی صورت سے فوراً دل میں اُتر جانے والا۔عرصہ تین سال سے یہیں زینبیہ میں تھا۔
گھر اور گھر والے تو یاد نہیں آتے جیسے میرے بونگے سے سوال پر آنکھیں بھر سی گئیں۔میرے ممتا بھرے کلیجے پر جیسے کِسی نے گھونسہ مارا ۔فوراً سینے سے لگایا۔ ماتھا چوما۔
’’ہائے ری میّا، غریبی کے دُکھ۔‘‘
اسی سے پتہ چلا تھا کہ شیعہ مسلک سے متعلق لوگوں کا زیادہ رحجان اسی علاقے میں قیام کرنا ہوتا ہے۔ ایرانی لوگوں کے بہت بڑے بڑے ہوٹل بھی یہاں ہیں۔ پاکستانیوں کی اکثریت بھی یہیں رہنے اور ٹھہرنے کو پسند کرتی ہے کہ سستا ہے۔
دکانوں ،اشیاء اور ان کی قیمتوں بابت میرے کچھ جاننے پر کہ وہ تھوڑی سی راہنمائی کردے جیسی خواہش کی تکمیل کے لئے پیارا وجیا وادہ ساتھ چلنے پر فوراً تیار ہوگیا۔میں نے خود ہی منع کیا کہ یقیناًکہیں کام سے جارہا ہوگا۔میری ہمدردی میں بیچارے کو مالکوں کی لعن طعن اور پھٹکار ہی نہ کھتے پڑجائے۔
سڑک پر آئی اور ملحقہ بازاروں کا چکر لگایا تو معلوم ہوا کہ یہ تو بذات خود ایک شہر ہے۔ دکانیں برقی روشنیوں سے جگمگاتی اور سٹرکیں جہازی سائز گاڑیوں کے دوڑنے بھاگنے کے شور سے گونجتی تھیں۔گاڑیوں کے شیشوں سے جھانکتے چہروں کی دل آویزی کہیں قدموں کو روک لیتی تھی ۔ کشادہ گلیوں میں زیر تعمیر عمارتوں کے سلسلے تھے۔
کچھ ایسی ہی صورت سڑکو ں پر چلتی سیاہ لبادوں میں لپٹی گل رنگ چہروں کی تھی۔


چال ڈھال چہرے مہروں او راندازواطوار سے یہ زیادہ ایرانی نظر آتے تھے۔
دس ڈالر کھلے تھے وہی اس وقت تبدیل کروائے۔ کرنسی نوٹوں پر سیرین پاؤنڈ کا نام۔ تاہم خرید وفروخت میں لیر ا بولنا استعمال ہوتا تھا۔ 10ڈالر کے 450لیرا ملے۔گھر پر فون کی کوشش کی۔رابطہ نہ ہوا۔ سوچا صبح سہی۔
چیزیں زیادہ مہنگی نہ تھی۔ مکھن، جام ، ڈبل روٹی، بسکٹ سب ہی خرید لیں ۔ دودھ کی بوتل پینتیس لیرا کی تھی۔
جب میں گھومتے پھرتے دکانوں کا جائزہ لیتی تھی تو دفعتاً قالینوں کی ایک دکان نے مجھے متوجہ کیا تھا۔اُس میں دھرے اور سجے سامان کے حسن و ترتیب میں ایک نفاست اور ذوق نظر آتا تھا۔میں چار پوڈے چڑھ کر دکان میں داخل ہوئی تو خوشی ہوئی کہ کونے میں بیٹھا ہوا شخص خاصا معزز اور انگریزی میں بھی ٹھیک ہی تھا۔ساتھ بیٹھے چار اُسی کے رنگ ڈھنگ کے لوگ یقیناًیار دوست ہوں گے ، خوش گپیوں میں مگن تھے۔ میں نے قریب جا کر تعارف کروایا۔ پاکستان کا جان کرسب کا اظہاربس عامیانہ سا تھا۔ نہ گرم جوشی تھی اور نہ ہی سرد مہری محسوس ہوتی تھی۔
اب باتیں ہونے لگیں۔میرے لئے شام کا یک جماعتی نظام جو تقریباً ساڑھے چار دہائیوں سے مسلسل جاری تھا خاصا حیران کن تھا۔بعث پارٹی ہی سارے میں زمانوں سے پردھان بنی نظر آتی تھی۔عراق ہو،لیبیا یا شام اسی پارٹی نے جھنڈے گاڑے تھے۔اختلاف رائے رکھنے کا کیا لوگوں میں شعور نہیں تھایا بدلتے رحجانات کے زیر اثر یا دُنیا میں ہر سطح پر جو سیاسی ،معاشی اور معاشرتی تبدیلیاں وقوع پذیر ہورہی تھیں اُن سے کسی نہ کسی انداز میں اثر پذیری شامی لوگوں کے مقدر میں نہ تھی۔فکری سوچوں پر جمود اور بانجھ پن کی سی کیفیت تھی۔کیا بات ہے؟ اور میں نے یہی نوکیلے سوال کر ڈالے تھے۔ چند لمحوں کے لئے سب خاموش تھے۔ پتہ نہیں مرکزی کرسی پر بیٹھے شخص کے سوا سوال کسی نے سمجھے بھی تھے؟ مگر نہیں یہ میری خام خیالی تھی۔ اُن سب کی انگریزی اچھی تھی اور جواب کی بجائے طنزسے بھرا سوال میری طرف آیا تھا۔
’’آپ کیا شامیوں کو کوڑھ مغز سمجھتی ہیں؟ ‘‘ ایک لمحہ رکنے کے بعد مرکزی کرسی والا بولا تھا۔


دراصل ہمارا دشمن اسرائیل ہے۔ ہم ہر صورت اپنی ہر سوچ اور وفاداری حکومت سے وابستہ رکھتے ، اُسے اپنا بھرپور تعاون دیتے ہوئے اپنا علاقہ اپنی گولان کی پہاڑیاں اس سے واپس لینا چاہتے ہیں۔اسی لیے یہاں سیاست اور سیاسی پارٹیاں اتنی فعال نہیں۔
بلا کے یقین اور اعتماد سے بات کرنے والے کو معلوم نہیں تھا کہ جو عورت سوال پوچھ رہی ہے اُ س نے دمشق کی گلی گلی کوچہ کوچہ پھرنا ہے۔ سوال کرنے ہیں اور کہیں نہ کہیں اندر کی بات سامنے آہی جانی ہے۔ہاں البتہ یہ ضرور محسوس ہوا تھا کہ اس کا جنرل نالج بہت کمزور اور ملکی سیاست سے آگہی کا شعور بس بڑا واجبی سا تھا۔یوں خاصا کاروباری دِکھتا تھا کہ جب میں نے اُس سے قالین بافی پر بات کی۔ اُس نے اس موضوع پر ایک پورا انسائیکلوپیڈیا کھول دیا۔جس میں بہرحال میری دلچسپی کا کوئی سامان نہ تھا۔اب مجھے قالینوں کی دکان تھوڑی کھولنی تھی۔
جاری ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *