مجاز۔۔جواں مرگ شاعر انقلاب/آصف جیلانی

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گردش دوراں کی بھول بھلیوں میں ہم مجاز کے انقلاب آفریں فن کے محاسن کو فراموش کرتے جارہے ہیں اور ایک رجحان تراش شاعر کی حیثیت سے انہوں نے اردو شاعری کو فکر و نظر کی جو نئی راہیں دکھائیں اور جو نقوش انہوں نے چھوڑے ہیں ان کو صحیح طورپر پرکھا نہیں گیا۔

بر صغیر کی یہ خوش نصیبی ہے کہ آزادی کی طویل جدوجہد کے دوران اسے سیاست دانوں’ دانشوروں’ شاعروں اور ادیبوں کی ایسی ضو فشاں کہکشاں نصیب ہوئی جو اس سے پہلے اس سرزمین کو نہ تو دیکھنے کو ملی اور نہ اب دور دور تک ایسی کہکشاں کے آثار نظر آتے ہیں۔
موجودہ دور تہی دست دور ہے۔ اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہم اب تک اس روشنی سے اپنے ذہنوں کو جگمگائے ہوئے ہیں جو یہ کہکشاں اپنے پیچھے چھوڑ ی ہے۔

اسرارالحق مجاز اسی کہکشاں کے ایک تابندہ ستارہ تھے۔ انہوں نے اس دور میں آنکھ کھولی جب اردو شاعری پر روایت پسندی کی گرد اٹی ہوئی تھی اور اسی روایت پسندی کے خلاف سر سید ’ حالی اور محمد حسین آزاد نے علم بغاوت بلند کیا اور نئی راہ کی نشان دہی کی تھی۔ یہ دور ترقی پسند ادب کی تحریک کا نقیب تھا جس نے بر صغیر میں سماجی انقلاب اور زندگی کی حقیقی مقصدیت کی فکر بیدار کی۔مجاز کے ہم عصروں میں جذبی ’ مخدوم ’ جعفری’ ساحر اور فیض نمایاں تھے۔
مجاز کی زندگی ادھوری رہی اور دنیاوی اعتبار سے ناکام و نامراد ۔۔ لیکن اپنی مختصر زندگی میں انہوں نے اردو شاعری کے لئے جو ورثہ چھوڑا ہے وہ ایک شاعر کامل کا ورثہ ہے۔ آہنگ’ شب تاب اور ساز نو اس کا ثبوت ہیں۔

مجاز نے اپنی زندگی کا سفر ضلع بارہ بنکی کے قصبہ ردولی سے ۱۹۱۱ میں شروع کیا۔ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ سے گریجویشن کے بعد ۱۹۳۶ میں وہ آل انڈیا ریڈیو کے جریدہ آواز کے مدیر کے عہدہ پر فائز ہوئے۔۔۔
کہتے ہیں کہ دلی میں وہ ایک خاتون کے عشق میں گرفتار ہوئے جس میں نامراد رہے اور سخت مایوسی کے عالم میں اپنے آبائی شہر لکھنو کی گود میں پناہ لی۔
اسی زمانہ میں مجاز نے اپنی شہرہ آفاق نظم “آوارہ”لکھی۔۔۔
شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارا پھروں
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پر آوارہ پھروں
غیر کی بستی ہے کب تک در بدر مارا پھروں
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں

گو یہ نظم عشق میں ناکامی پر مجاز کے یاس و غم کی غماز ہے لیکن دراصل یہ اس دور کے نوجوانوں کے جذبات کی عکاس ہے۔ ایک طرف غلامی کے دور کا جبر واستبداد اور دوسری طرف آرزؤں اور امنگوں کی راہیں مسدود۔۔ یہ نظم آ ئینہ ہے اس دور کے نوجوانوں کی ذہنی کیفیت کا۔۔۔
یہ روپہلی چھاؤں یہ آکاش پر تاروں کا جال
جیسے صوفی کا تصور جیسے عاشق کا خیال
آہ لیکن کون جانے کون سمجھے دل کا حال
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں

پھر اس زمانہ کے نوجوانوں کی جھنجھلاہٹ یوں عیاں ہے۔۔۔
جی میں آتا ہے یہ مردہ چاند تارے نوچ لوں
اس کنارے نوچ لوں اور اس کنارے نوچ لوں
ایک دو کا ذکر کیا سارے کے سارے نوچ لوں
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں

اور پھر بغاوت پر آمادہ ہیں۔۔۔
مفلسی کے یہ مظاہر ہیں نظر کے سامنے
سینکڑوں سلطان و جابر ہیں نظر کے سامنے
سینکڑوں چنگیز و نادر ہیں نظر کے سامنے
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
لے کر اک چنگیز کے ہاتھوں سے خنجر توڑ دوں
تاج پر اس کے دمکتا ہے جو پتھرتوڑ دوں
کوئی توڑے نہ توڑے میں ہی بڑھ کر توڑ دوں
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں

اسی زمانہ میں مجاز کی غزلوں کا پہلا مجموعہ”آہنگ” شائع ہوا جس نے پورے ملک میں تہلکہ مچا دیا۔ اس کے انتساب میں انہوں نے لکھا۔۔۔ فیض اور جذبی کے نام جو میرے دل و جگر ہیں۔۔۔۔۔سردار اور مخدوم کے نام جو میرے دست و بازو ہیں۔
لیکن چند سال بعد ۱۹۴۰ میں وہ پہلی بار نروس بریک ڈاون کا شکار ہوئے جس کے بعد ان کے بہت سے چاہنے والوں نے انہیں پاگل سمجھ کر ان سے نظریں پھیر لیں۔
نروس بریک ڈاؤن سے سنبھلنے کے بعد مجاز بمبئ چلے  آئے جہاں وہ انفارمیشن بیورو سے منسلک ہوئے لیکن وہاں ان کا دل نہ لگا اور لکھنؤ جا کر لکھنؤ یونی ورسٹی میں سبط حسن اور سردار جعفری کے ساتھ قانون کی تعلیم کے لئے داخلہ لیا لیکن یہ سب چھوڑ چھاڑ کر دلی کی ہارڈنگ لائبریری میں نائب لائبریرین کی ملازمت اختیار کر لی۔
۱۹۴۵ میں مجاز کو پھر ایک بار اس وقت نروس بریک ڈاؤن ہوا جب ان کی شادی طے ہو ئی تھی لیکن عین وقت پر لڑکی کے والد نے انہیں پاگل قرار دے کر شادی کرنے سے انکار کردیا۔
اس سانحہ کے بعد مجاز نے اپنا غم شراب میں ڈبونا چاہا لیکن خود غرق ہوئے اور دسمبر ۱۹۵۵ کو ۴۴ سال کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔
ہم مے کدے کی راہ سے ہو کر گزرگئے
ورنہ سفر حیات کا بے حد طویل تھا
مجاز کا یہ کارنامہ ہے کہ انہوں نے انقلاب کو ایک خوبصورت نغمے کا آہنگ بخشا۔ ان کی شاہ کارنظم ۔۔رات اور ریل۔۔ بلا شبہ ترقی پسند تحریک کے علامتی اظہار کے ساتھ ساتھ نت نئی تشبیہوں اور ترکیبوں اور اپنی شعریت کے لحاظ سے لاثانی نظم ہے۔
تیزی رفتار کے سکے جماتی جا بجا
دشت و در میں زندگی کی لہر دوڑاتی ہوئی
ڈال کر گذرے مناظر پر اندھیرے کا نقاب
اک نیا منظر نظر کے سامنے لاتی ہوئی
صفحہ دل سے مٹاتی عہد ماضی کے نقوش
حال و مستقبل کے دلکش خواب دکھلاتی ہوئی
ایک ایک حرکت سے اندازِِِ  بغاوت آشکار
عظمت انسانیت کے زمزمے گاتی ہوئی

مجاز نے اردو شاعری کو حسن و عشق کا ایک نیا تصور بخشا خاص طور پر غم دوراں  کے تناظر میں۔
کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے
وہ زلف پریشاں بھول گئے وہ دیدہ گریاں بھول گئے
سب کا تو مداوا کر ڈالا اپنا ہی مداوا کر نہ سکے
سب کے تو گریباں سی ڈالے اپنا ہی گریباں بھول گئے

پھر عشق کے تیور یوں عیاں ہیں۔۔

اپنے دل کو دونوں عالم سے اٹھا سکتا ہوں میں
کیا سمجھتی ہو کہ تم کو بھی بھلا سکتا ہوں میں
کون تم سے چھین سکتا ہے مجھے کیا وہم ہے
خود زلیخا سے بھی تو دامن بچا سکتا ہوں میں
دل میں تم پیدا کرو پہلے میر ی سی جرأتیں
اور پھر دیکھو کہ تم کو کیا بنا سکتا ہوں میں

مجاز نے عورت کو اپنی منفرد نظر سے اور ترقی پسند انداز سے دیکھا ہے۔ عورت محض محبوبہ ہی نہیں بلکہ ساتھی ہے اور سارے دکھ’ درد اور خوشیوں میں شریک ہے اور آزادی اور اپنی تہذیبی اقدار کی جنگ میں شریک پیکار ہے۔۔۔
تم کہ بن سکتی ہو ہر محفل میں فردوس نظر
مجھ کو یہ دعویٰٰ   کہ ہر محفل پہ چھا سکتا ہوں میں
آؤ مل کر انقلاب تازہ تر پیدا کریں
دہر پر اس طرح چھا جائیں کہ سب دیکھا کریں
اور
تیرے ماتھے پہ یہ آنچل بہت خوب ہے لیکن
تو اس آنچل کو ایک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

مجاز نے اردو شاعری کے خزینے نت  نئی  ترکیبوں تشبیہوں اور انداز بیان سے مالا مال کئے ہیں۔
اک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہ تاب
جیسے ملا کا عمامہ جیسے بئیے کی کتاب
جیسے مفلس کی جوانی جیسے بیوہ کا شباب
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
جبر و استبداد اور استحصال کے لئے مذہب کو جس طرح استعمال کیا گیا ہے اور جو آج بھی جاری ہے ’ مجاز نے نہایت دلیرانہ انداز سے اسے بے نقاب کیا ہے۔۔۔۔
مسجدوں میں مولوی خطبے سناتے ہی رہے
مندروں میں برہمن اشلوک گاتے ہی رہے
اک نہ اک در پر جبین شوق گھستی ہی رہی
آدمیت ظلم کی چکی میں پستی ہی رہی
رہبری جاری رہی پیغمبری جاری رہی
دین کے پردے میں جنگ زرگری جاری رہی

مجاز کا ذکر علی گڑھ یونی ورسٹی کے ترانے کے ذکر کے بغیر ادھورا رہے گا۔ ۱۹۳۶ میں لکھا گیا یہ ترانہ آج بھی اس دور کی طرح تازہ اور وجد آفریں ہے اور علی گڑھ یونی ورسٹی کو مجاز پر اور ان کے ترانے پر آج بھی ناز ہے اور جب جب علی گڑھ کی فضاؤں میں یہ ترانہ گونجتا ہے مجاز کی یاد کی تجدید ہوتی ہے۔۔
یہ میرا چمن ہے میرا چمن ۔ میں اپنے چمن کا بلبل ہوں
سر شار نگاہ نرگس ہوں پا بستہ گیسو سنبل ہوں
جو طاق حرم میں روشن ہے وہ شمع یہاں بھی جلتی ہے
اس دشت کے گوشے گوشے سے ایک جوئے حیات ابلتی ہے
ذرات کا بوسہ لینے کو سو بار جھکا ہے آکاش یہاں
خود آنکھ سے ہم نے دیکھی ہے باطل کی شکست فاش یہاں

نظریاتی تاریکی کے اس انحطاط پذیر دور میں مجاز ایسے مغئی انقلاب کی شاعری کی روشنی کی ضرورت ہے جو معاشرے  کو روشن خیالی کی سمت رہ نمائی کر سکے اور معاشرہ ۔۔نا انصافیوں ’ عدم مساوات’ غربت و افلاس اور مذہبی انتہا پسندی کے مسائل کا مقابلہ کر سکے۔
اسرارالحق مجاز۔
پیدائش۔19۔اکتوبر 1911 ، انتقال 5دسمبر 1955

آصف جیلانی
آصف جیلانی
آصف جیلانی معروف صحافی ہیں۔ آپ لندن میں قیام پذیر ہیں اور روزنامہ جنگ اور بی بی سی سے وابستہ رہے۔ آپ "ساغر شیشے لعل و گہر" کے مصنف ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *