گھٹیا افسانہ نمبر 20۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

میں تو حیران   آپ لوگوں پر ہو رہا ہوں جو اینکروں کو کوئی پڑھا لکھا کوئی ادبی کوئی شعوری کوئی سمجھدار کوئی سیانا کوئی تخلیقی بندہ سمجھتے ہیں۔ جیسے اب بھی آپ کسی صوبے کے اندرون میں چلے جائیں، وہاں کے کسی دیہات میں چلے جائیں، وہاں کے کسی میلے کے اندر ہونے والے پروگرام  اور ایونٹس کی جو اناؤنسنگ کر رہے ہوتے ہیں، یا جو میلوں ٹھیلوں میں سپیکروں کے اوپر کمنٹری کی خدمات سر انجام دے رہے ہوتے ہیں، یہ مختلف ٹی وی چینلوں پر بیٹھے ہوئے مختلف اینکر انہی میلوں ٹھیلوں والے کمنٹری بازوں کی ڈویلپڈ فارم ہے۔ نہ ہی اقرار الحسن نے تنویرالمقباس دیکھی ہوئی ہے نہ ہی کسی اینکر کو ایسی تفسیر پڑھنے کی ضرورت ہے۔ اینکر معروف مشہور اور بڑی بڑی چیزوں پر توجہ دیتے ہیں، جن کو عوام نے پڑھا ہو یا نہ ہو لیکن ان کا نام سنا ہوا ہو۔ یہ جو اقرار کی ٹویٹ ہے کسی فرسٹریشن کے تحت کی گئی ٹویٹ ہے۔ میں ویسے تم لوگوں پر حیران ہوں جو پچھلے آدھے گھنٹے سے اقرار کی ٹویٹ کو زیر بحث لائے بیٹھے ہو۔ میں آج جاوید صاحب سے سیکھنے آیا تھا لیکن آپ لوگوں نے یہ لامعنی سی بحث شروع کررکھی ہے۔ جاوید صاحب مجھ سے پوچھنے لگ گئے ہیں کہ آپ نے مجھ سے کیا سیکھنا تھا۔ میں نے کچھ توقف کے بعد بولنا شروع کیا ہے کہ انسان دوسرے جانداروں سے مختلف کیسے ہے؟

یہ وصف “شعور” ہے! انسان کے اندر سوچنے کی حِس اِسے دوسرے جانداروں سے مختلف اور افضل بناتی ہے۔ یہاں سوال یہ کہ انسان اپنا شعور کہاں سے حاصل کرتا ہے؟ سوچنا یہ ہے کہ انسان سوچ لاتا کہاں سے ہے؟ کیا انسان خود اپنے انفرادی وجود کے ساتھ اپنی سوچ یا اپنے شعور کا تعین کرتا ہے؟ یا اس کے برعکس انسان کا سماجی وجود اس کے شعور کا تعین کرتا ہے؟ جاوید صاحب پوری بات سننے کے بعد اپنے مخصوص انداز میں گلا صاف کر رہے ہیں، سگریٹ نکالی ہے، ہونٹوں میں داب کر بول رہے ہیں کہ بات یہ ہے کہ ایک بندہ کبھی اپنے شہر سے باہر ہی نہیں گیا، اسکی تو کل کائنات ہی اُس کا شہر ہو گی۔ کیا آپ اُن گلہ بانوں کی سوچ کا اندازہ کر سکتے جو پہاڑوں سے بھیڑ بکریاں چرانے یہاں میدانی علاقے میں آتے ہیں، آپ اِس دنیا کو کسی اور نظر سے دیکھتے ہو جبکہ یہ خانہ بدوش دنیا کو کسی اور نگاہ سے دیکھتے ہیں، لہذا آپ کے اردگرد کا سماجی ڈھانچہ ہی آپ کے شعور آپکی سوچ کا تعین کرتا ہے۔ سوچ انسان کے تجربات کے دائرے تک محدود ہوتی ہے۔ یہ بات ہم بہت ہی کم جانتے ہیں کہ قدیم انسان کیسے سوچتا ہو گا۔ لیکن یہ جانتے ہیں کہ کن چیزوں کے بارے میں وہ سوچ ہی نہ سکتا تھا۔ انسانی شعور یا انسانی رویہ قطعاً موضوعی عنصر نہیں ہے بلکہ یہ ایک معروضی معاملہ ہے- انسانی کردار کا تعین فرد اور حالات کے باہمی تعلق سے کیا جاتا ہے۔ افراد مکمل طور آزاد ہوتے ہیں، نہ ہی مکمل طور پر حالات کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ کسی بھی سماج کے ارتقا کے معروضی اسباب ہوتے ہیں جن کے باہمی تعلق سے سماجی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں. ایک وضاحت بہت اہم ہے کہ میں صرف معاشی رشتوں کو ہی سماجی ارتقا کا سبب قرار نہیں دے رہا بلکہ مذہب ،آرٹ، ثقافت، خاندانی ڈھانچوں جیسے عوامل کے کردار کو بھی تسلیم کرتا ہوں۔ مگر معاشی رشتوں اور ذرائع پیداوار کا کردار بہرحال فیصلہ کن ہوتا ہے جن کی بنیاد پر ریاست جیسے بالائی ڈھانچے تعمیر ہوتے ہیں اور اخلاقیات متعین ہوتی ہیں۔

بہت مارا ہے ان کو میں نے پچھلے ایک گھنٹے میں، ہمارے محلے میں تقریباً تمام عمارتیں کرائے اوپر لگی ہوئی ہیں جن میں سکولوں کالجوں دفتروں یونیورسٹی کے لڑکے رہتے ہیں، گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے محلہ خالی ہونے کے برابر ہے، میں نے بھی ان کو خوب چھیلا ہے، نہ کہیں آواز جانی ہے نہ ان کی کسی نے چیخ سنی ہے، میں نے کھل کے مارا ہے ان بے غیرتوں کو، پورا مہینہ لگے ان کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے۔ 18، 20، 22 سال بےغیرتوں کی عمر ہے۔ کم از کم کم از کم ان کو 20 20 سال 18 18 سال 17 17 سال کی قید ھونی ہے۔ ان کے ناک منہ سے خون نکال دیا لیکن ہے یہ پکے، پیروں کے تلووں سے وہ ڈنڈے برسائے وہ ڈنڈے برسائے کہ کبھی نہیں برسائے مگر کتے کے بچے بہت پکے ہیں، جو بات ان کو شاید کسی وکیل نے سکھائی ہے اسی بات کے پکے ہیں۔ مجھے ان پر یقین نہیں آرہا لیکن یہ تینوں کہانی سناتے ایسے ہیں کہ یقین آجاتا ہے۔ اچھا ہمیں کیا سپریم کورٹ کی طرف سے آرڈر ہے کہ ان کو گرفتار کرو اور تفتیش کرو کہ اس سارے معاملے کی۔ یہ کہتے ہیں کہ وہ لڑکی راضی با رضا ان کے پاس آئی تھی۔ ہم نے ساری رات کے لئے بک کروایا تھا۔ اس کے آنے سے پہلے ہم نے اس کے بندے کو پیسے بھی دیئے تھے۔ ساری رات یہ ہمارے پاس رہی ہے صبح اٹھ کر چلی گئی۔ اِس نے پولیس میں رپورٹ کردی ہے کہ میں اغوا ہو گئی تھی اور میرے ساتھ ریپ ہوا ہے۔ لیکن ہم نے اس کا کوئی ریپ نہیں کیا۔ نہ ہی اس کو اغوا کیا۔ ھم نے اس کو خود بلایا تھا۔ یہ اپنی مرضی سے آئی تھی۔ جبکہ وہ لڑکی جو ہے وہ آر پی او، آئی جی، سپریم کورٹ اور پتا نہیں کہاں کہاں ہیومن کمیشن کے باہر، پتہ نہیں کیسی کیسی جگہوں پر اس نے دھرنے دیے ہیں۔ ہمیں کیا پڑی ہے کہ ہم اس معاملے میں اتنا زیادہ جاکے تفتیش کریں۔ سور کے بچوں نے زنا تو کیا ہے، اپنے منہ سے مان رہے ہیں۔ بس پھر اب نھگتائیں زنا کا پرچہ بھی ہے اور ریپ کا پرچہ بھی اور اغوا کا پرچہ بھی۔ صلح ہوتی ہوئی بھی مجھے نظر نہیں آ رہی کیونکہ وہ لڑکی 50لاکھ روپے مانگ رہی ہے۔ اس کے پیچھے بھی کسی سیانے بندے کا ہاتھ ہے۔

“بھائی ہم کوئی دو مہینے ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے رہے ہیں۔ لمبی لمبی گفتگو کی ہیں۔ لمبی لمبی چیٹ کی ہے۔ مجھے تو وہ منحوس دن ہی یاد نہیں جب مجھے اس کے ساتھ محبت ہوئی تھی۔ اس کے بعد ہم نے ویڈیو کال بھی شروع کردی۔ تصاویر بھی ایک دوسرے کو بھیجنا شروع کردیں۔ ان تصاویر میں کچھ تصاویر میری ننگی تھیں۔ اب وہ مجھے بلیک میل کر رہی ہے کہ مجھے پانچ لاکھ روپے دو ورنہ ساری تصاویر انٹرنیٹ پر دے دوں گی، تمھارے دوستوں کو دے دوں گی، تمہارے گھر والوں کو دے دوں گی، تمہارے کولیگز کو دے دوں گی۔ بس یہی حال دینا تھا آپ کو کہ اب مجھے بتائیں میں کیا کروں”۔ میں ابرار کی ساری باتیں سن رہا ہوں۔ میں آج صبح سویا ہوا تھا جب مجھے بیگم نے اٹھایا ہے کہ بقہر ابرار آیا ہوا ہے۔ میں حیران تو ہوا کہ اتنی صبح صبح یہ کیوں آگیا خیریت تو ہے؟ اب یہ بیٹھا ایک گھنٹے سے اپنی لوسٹوری اور اب بلیک میلنگ والی سٹوری سنا رہا ہے۔ میں نے کچھ سوچنے کے بعد پوچھا ہے کہ کیا تمہارے پاس بھی اس لڑکی کی کوئی ننگی تصاویر ہیں؟ عمران بتا رہا ہے کہ وہ بہت شرمیلی ہونے کی ایکٹنگ کرتی تھی وہ ایسی تصاویر نہیں دیتی تھی۔
“اس کا بہترین حل تو یہی ہے کہ آپ اسے کہو وہ تمام تصاویر لیک کر دے”
“ہائیں۔ میں آپ سے حل مانگنے آیا ہوں اس مصیبت سے جان چھڑوانے کا، آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ یہی کام کر دے، یہ کیا بات ہوئی؟”
“اس کے علاوہ تمہارے پاس کوئی حل بھی نہیں ہے۔ اس میں کوئی گارنٹی بھی نہیں ہے کہ تم اس کو پانچ لاکھ دے دو اور کل کو تصاویر اٹھا کر کوئی دوسرا تمہارے پاس پہنچ جائے اور کہے کہ مجھے پیسے دو۔ پھر تم کیا کرو گے؟”
“او بھائی میں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟”
“اب تو لوگوں کو یہ سمجھنا ہوگا۔ آج انڈرائیڈ اور واٹس اپ کے آنے کے بعد جب ہماری ننگی تصاویر ایک دوسرے کے پاس آتی جاتی رہتی ہیں اور وہ بھی ہم کسی کو اپنا محبوب سمجھ کر ان پر اعتبار کرتے ہوئے یہ تصاویر بھیجتے ہیں۔ تم بھی تو کسی کو ہراساں کرتے ہوئے یہ تصاویر نہیں بھیجتے رہے۔ جب ہم محبت میں کسی پر اعتماد کرتے ہوئے تصاویر بھیج رہے ہیں تو دنیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر آپکا کوئی محبوب گندہ انڈہ نکل آئے تو یہ تصاویر کسی کی بھی لیک ہو سکتی ہیں”
“نہیں میں یہ سوچ رہا ہوں کہ میں اپنے دوستوں کو اپنے کولیگز کو دوستوں کو اپنے گھر والوں کو کیا منہ دکھاؤں گا کہ میں یہ کام کرتا پھرتا ہوں”
“میری جان ایک بات ذہن میں رکھو۔ تمہارے کولیگز تمہارے دوست اور تمہارے گھر والے اکثر یہی کام کرتے ہیں، کر رہے ہیں، کریں گے۔ لہذا کسی کی بلیک میلنگ کسی کی اخلاقی بلیک میلنگ کے نیچے دب کر کوئی غلط فیصلہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ دو چار دن باتیں ہوں گی پھر معاملہ ختم اور اس کے بعد دنیا کو بھی یہ پتہ چل جائے گا کہ ابرار کسی کے ہاتھوں بلیک میل ہونے والا نہیں ہے”۔۔۔۔۔۔۔ لگتا ہے ابرار کو میری باتیں سمجھ آرہی ہیں وہ خاموشی سے سن رہا ہے غور سے سن رہا ہے اور سوچ بھی رہا ہے۔ ویسے ہم پولیس والوں کی بھی کوئی زندگی نہیں ہوتی۔ رات چار بجے آ کے سویا ہوں چھ بجے ابرار نے اٹھایا ہے۔ اب آٹھ بج رہے ہیں ناشتہ کر رہا ہوں کم از کم تھانے سے 10 کالیں آچکی ہیں۔ اور اب گندے بھی ہم ہیں۔ میرے خیال میں ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ نفرت پولیس والوں سے کی جاتی ہے۔ جب کہ ہم پولیس والوں سے اگر کوئی پوچھ لے تو ہم اپنی نوکری پر لعنت بھیجیں گے۔ میں نے جلدی جلدی ناشتہ مکمل کرتے ہوئے ابرار سے کہا ہے:
“بھائی وہ تصویریں لیک کرتی ہے کرنے دے۔ جو تیری تھوڑی بہت بےعزتی ہونی ہے کروا لے۔ اب اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہونا ہے ایسی باتوں پر۔ تیرے گھر میں اگر چھ سات بندے ہیں تو یہ میری طرف سے لکھ لے کہ ان میں سے تین چار کا افیئر کہیں نہ کہیں چل رہا ہو گا۔ میں تو کبھی کبھی یہ سوچتا ہوں کہ حکومت کو اب یہ حیا والے اور یہ زنا والے پرچے ختم کر دینے چاہئیں۔ خیر سانوں کی؟ اب کوئی ٹنیشن کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ ہی بلیک میل ہونے کی ضرورت ہے۔ تو نے اس لڑکی پر اعتماد کرتے ہوئے اس کو تصاویر دی تھیں۔ باقی ہم سب یہیں کام کرتے ہیں۔ باقی بھی اپنی تصاویر دیتے رہتے ہیں۔ تیرے والی عورت جو تھی وہ گھٹیا نکلی۔ اس کا یہ کاروبار تھا۔ وہ تجھے ضرور بےعزت کرے گی اور تو نے بےعزت ہونا ہے۔ جا چپ کرکے سو جا۔ ٹینشن نہ لے۔ جو اس نے کرنا ہے کر لے۔ جو کچھ ہو گا دیکھا جائے گا۔ تو پریشان نہ ہو۔ بس جو ہو رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ چلتا جا۔ ہم سب یہی کام کر رہے ہیں۔ شریف بھی۔ برے بھی۔ امیر بھی۔ غریب بھی۔ سب یہی کام کر رہے ہیں۔ بس جو پکڑا جاتا ہے وہ گندہ ہوتا ہے۔ کاکا تھوڑا سا ڈھیٹ بن جا، لوگ تھوڑے عرصے تک بھول جائیں گے”۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *