ہنسی کو بھی ترستے لوگ۔۔۔۔ہمایوں احتشام

جب آپ مسکراتی ہیں تو چمن میں بہار کا سماں بند جاتا ہے، حالانکہ یہ بہار اس علاقے سے مشروط ہے جس میں ہم براجمان ہیں۔ اگر آپ کچی آبادی میں مسکراتیں تو شاید بہار کی آمد کے بجائے آپ کی مسکراہٹ آگ اگلتے پنکھوں کی گڑگڑاہٹ میں گم ہوجاتی یا آپ سرے سے مسکراتی ہی نہ ۔ کیونکہ وہ بے مصرف اور بے فائده معلوم ہوتی۔ مگر اب چونکہ آپ شہر کے ایک پوش علاقے میں اپنے شاندار مسکن میں مسکرا رہی ہیں تو اس مسکراہٹ نے طلسم قائم کردیا ہے۔

“چلیں چھوڑیں ان باتوں کو، آپ بھی بس اپنی اور اپنے طبقے کی غربت کا رونا روتے رھہے ہیں، دنیا میں غربت اور بے روزگاری کے سوا بہت سے مسائل اور بھی ہیں، جیسے آپ میری مسکان کو پرستائش نگاہ سے نہیں دیکھتے، تعریف و توصیف میں کچھ نہیں کہتے۔”

تمھارے الفاظ تمھاری محبت، طلب، طبیعت کے عکاس تھے، مگر میں اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہا تھا، کیونکہ میں رونا نہ روتا  نہ تو کیا کرتا ؟ بیروزگاری کی عفریت بڑی ظلم ڈھاتی ہے۔ گردہ بیچنے والے میرے آس پاس گھوم پھر کر خریداروں کو تلاشتے ہیں کہ شاید گردے کو بیچ کر زندگی کچھ اچھی ہوجائے مگر ہائے افسوس! بیچارے ایک دن خاموشی سے روٹی کی تلاش میں سرگرداں مرجاتے ہیں۔
پھر سے وہی بھاشن، وہی رونا، وہی نوحے اور اپنی غربت کے مرثیے شروع۔۔۔

چلو میں تمہاری مسکان کی تعریف کرتا ہوں، جب تم ہنستی ہو تو تمہارے پورے چہرے میں ایک ربط پایا جاتا ہے، یعنی آنکھیں بھی سورج کی مانند روشن ہو کر چمکتی ہیں، یہی مسکان ہونٹوں کو شہد کے بادل بنا دیتی ہے کہ اگر یہ برسیں گے تو بس مٹھاس برسائیں گے۔ رخسار گلنار کی مانند سرخ ہوجاتے ہیں، اور شاید سرخ میرا پسندیدہ رنگ تمہارے رخساروں اور اشتراکیت کی وجہ سے بنا۔ جب تم ہنستی ہو تو تمہارا سارا بدن ہنستا ہے۔ اور میں؟ میں ہنس نہیں سکتا۔ جب میں ہنستا ہوں تو میری آنکھیں میرا ساتھ نہیں دیتیں۔ مجھے اپنا قہقہہ کھوکھلا لگتا ہے۔ تم نے ہمیشہ کہا کہ “ہمایوں! کھل کے ہنسا کرو، دل سے ہنسا کرو، دنیا کے دکھوں کو ایک جانب رکھ کر ہنسو!” میں نے بڑی کوشش کی مگر میں اپنے اعضا اور تاثرات کا ہنسی سے ربط نہ بنا سکا۔ وائے افسوس! ہنسی کو بھی ترستے لوگ۔

بعض اوقات اس زندگی سے بھرپور رسیلی مسکان کو دیکھ کر میں جلنے لگتا ہوں، دل کرتا ہے کہ زہر اگلوں، مغلظات  بکوں، تمہیں بتاوں کہ تم جن چیزوں کی بناء پہ زندگی سے بھرپور قہقے لگاتی ہو، ان چیزوں کے خالق ہم ہی ہیں، لیکن حیف صد حیف یہ چیزیں ہماری استطاعت سے باہر ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

آخر میں جب ذکر میری نامکمل اور منافقانہ مسکراہٹ کا ہوا تو میں یہ کہتا اٹھ آیا کہ “جیسے یہ مسکان لانے والی چیزیں ہماری ہونے کے باوجود ہمارے تصرف میں نہیں ہیں، ایسے ہی مکمل مسکان لانا بھی ہمارے بس کی بات نہیں۔”

Facebook Comments

ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply