سندھ کے مظلوم پشتون ۔۔۔عارف خٹک

پچھلے دو سال سے مسلسل ایک پینسٹھ سالہ پشتون بابا کے میسجز پر میسجز آرہے تھے۔کہ سندھ سانگھڑ میں ہم 25،000 پشتون آبادکاروں کو انگریز کے زمانے سے جو زمینیں الاٹ ہوئی ہیں۔اُس پر ہم انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔مہربانی کرکے ہماری مدد کریں۔اور ہماری آواز اربابِ اختیار تک پُہنچا دیں۔
اے وی ٹی خیبر کے دوست کو بھی یہی فون کالز اور میسجز مل رہے تھے۔ تو ہمیں لگا کہ واقعی سندھیوں کے بیچ ہمارے پشتون بھائیوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہوں گے۔
میرے ذہن میں دیسی لبرلوں جیسی آندھیاں چلنے لگیں۔کہ ہوسکتا ہے کہ سندھی وڈیروں نے ان پشتونوں کی زمینیں ہڑپ کی ہوں گی۔یہ نہ  ہو کہ وہاں کے مقامی بدمعاشوں نے ان کی خواتین کی عزتیں خراب کی ہوں۔لہٰذا یہ فیصلہ کیا کہ AVT خیبر والا دوست اپنے چینل کےلئے نیوز ڈاکیومینٹری بنائےگا۔اور میں بی بی سی پشتو کیلئے ہاٹ سا ایشو لے کر چھا جاؤں گا۔صرف یہی نہیں،بلکہ میں نے تو شیخ چلی کے محلات کھڑے کرکے سکرپٹ میں ان خواتین تک کو بھی شامل کرلیا کہ کس اینگل سے ان کو کیسے شُوٹ کرنا ہے۔ ایکسائٹمنٹ کی وہ حالت تھی کہ سُپر ہائی وے پر اُتر کر میں نے پی ٹی سی بھی ریکارڈ کرلی۔ کہ ان پشتونوں کی حالت کے ذمّہ دار سندھ کے وہ جابر اور ظالم حکمران ہیں جو برسوں  سے سندھ کے غریب عوام کا خون چُوس کر اپنے محلات میں غریبوں کی آہیں اور سسکیاں کما کر  بیٹھے ہیں۔
حیدر آباد پُہنچا تو مرشد صفدر چیمہ صاحب  سے مُلاقات ہونے پر اُن کو بتایا کہ جناب آپ کی بھی کافی زمینیں ہیں اس علاقے میں۔ کیا آپ میری مدد کرسکتے ہیں ان مظلوموں کی داد رسی کےلئے؟
مرشد چیمہ کے پوچھنے پر اُن کو جب پوری بات بتائی۔وہ بھی حیران و پریشان،کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ اُن کے ہوتے ہوئے ایسا کوئی ظلم جاری ہو اور وہ خاموش رہیں۔خیر مرشد چیمہ کو حیدرآباد میں کنفیوزڈ کیفیت میں چھوڑ کر میں جذبات میں بپھرے ہوئے سپاہی کی طرح روانہ ہوا۔اور گاڑی کے ایکسیلیٹر پر پیر دبا کر بُھول گیا۔ کہ آج اپنا آپ محمد بن قاسم سے کسی طرح کم محسوس نہیں ہو رہا تھا۔جو ایک مظلوم بہن کی آواز پر لبیک کہہ کر دیبل پر حملہ آور ہوا تھا۔ فرق یہ تھا محمد بن قاسم ایک لڑکی کے کارن سندھ کو فتح کرنے آرہا تھا۔اور میں ایک پینسٹھ سالہ پشتون بابے کی دُہائی پر لبیک بول کر سندھ جارہا تھا۔
گاڑی کو جیسے ہی خیبر یا کیبر سے دائیں طرف موڑا،بابے کی کال آگئی۔کہ کہاں پہنچے ہو؟ جواب دیا بابا حوصلہ رکھیں۔بس ٹنڈو آدم پُہنچنے ہی والے ہیں۔ کہنے لگا کہ جلدی پُہنچو،آج میرے بیٹے کی منگنی ہے۔ میں نے مُبارک باد دی۔مُبارکباد وصول کرکے  اُنھوں نے کہا۔کوئی ہیجڑے اگر ساتھ لے کر آسکو تو ماحول بن سکتا ہے۔ میں نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔بابا ہیجڑوں والا اپنا بزنس نہیں ہے۔ وہ صُہیب جمال کی فیلڈ ہے،جب کہ میں نیوز سے ہوں۔ ہم لوگ حیران و پریشان کہ بابا کو ہوا کیا ہے،بالآخر گجری کے قریب پُہنچے۔کسی سے پوچھا کہ فلاں بابا کا گھر کہاں پر ہے۔پہلے تو اُس بندے نے ہمیں گُھور کر دیکھا۔اور پھر پشتو میں پُوچھا کہ بابے کےساتھ کیا کام ہے۔ اس کو اپنا تعارف کروایا،تو ہنسنے لگا کہ آپ لوگوں کا دماغ تو ٹھیک ہے۔وہ بابا نیم پاگل بندہ ہے۔ہر اس جگہ پُہنچا ہوتا ہے۔جہاں اس کو شک ہوتا ہے کہ کوئی سرکاری افسر موجُود ہے،یا کسی طور میڈیا والوں کا نمبر ہاتھ لگ جائے۔ تو اس کے ساتھ تصویر کھینچ کر گاؤں میں پھر دکھاتا رہتا ہے۔کہ میں اس علاقے کا فلاحی ورکر ہوں۔

خیر چونکہ 270 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کی خواری اُٹھائی تھی۔تو سوچا کہ مل تو لیں آخر کہ کہانی کیا ہے۔ بابا کو فون کیا،تو بابا نے اپنی لوکیشن بتائی۔جہاں وہ موٹرسائیکل پر سڑک کنارے بیٹھے انتظار کررہے تھے۔ علیک سلیک کے بعد ہم نے کہا،بابا آپ کے حکم پر ہم لوگ پُہنچ گئے ہیں۔ آپ یہاں کے مقامی لوگوں سے ہمیں ملادیں،تاکہ ہم ریکارڈنگ کرسکیں۔ کیوں کہ ہم نے پھر واپس کراچی بھی جانا ہے۔ بابا نے چشمہ صاف کیا اور پُوچھا،کون سی ریکارڈنگ؟ بابا کا استفسار سُن کر دل تو کیاکہ سر پھاڑ دوں،اپنا بھی اور بابا کا بھی۔ خیر دس منٹ کے پاگل کردینے والے مذاکرات کے بعد بالآخر ہم اُس کو یہ سمجھانے اور باور کرانے میں کامیاب ہوگئے کہ ہم کوریج کےلئے آئے ہیں۔
بابا کےساتھ روانہ ہوئے۔وہاں اُنھوں نے ہمیں ایک مسجد دکھائی۔جو گاؤں کے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کررہے تھے۔ اس کو شوٹ کرنے کے بعد بابا کو کیمرے کے سامنے کھڑا کردیا کہ بابا اب اپنے مسائل بیان کریں۔بابا نے بتایا کہ اس مسجد کو ہم اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کررہے ہیں۔ حکومت کو اس کی تعمیر میں ہماری مدد کرنی چاہیئے۔ میں نے ان کو تسلی دی بابا اس رپورٹ کے بعد مولانا طارق جمیل صاحب  اس مسجد کی امامت کرتے ہوئے فخر محسوس کریں گے۔آپ فقط یہ بتائیں کہ آپ کو کون سی والی پارٹی سیاسی انتقام کا نشانہ بنارہی  ہے۔ بابا نے جواب دیا کہ مقامی سیاست دان بھی ہمارا پوچھ لیتے ہیں۔ پیر پگاڑا کے  حر مجاہد بہت خیال رکھتے ہیں ہم ریٹائرڈ فوجیوں کا۔ الحمداللہ ہمارے کاروبار ہیں،اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ سندھیوں کےساتھ بھائی چارے والا ماحول ہے۔اور ہمارا معیار زندگی سندھیوں سے بہتر ہے۔لیکن مسجد کی تعمیر ضروری ہے۔ریکارڈنگ دیکھ کر کافی سارے وہاں کے مقامی پشتون اکھٹے ہوگئے۔ ہماری کوشش تھی،کہ وہاں سندھ حکومت کے مظالم کے حوالے سے کوئی بات ہو۔لیکن ہر پشتون نے یہ بات کی،کہ پیر پگارا کا بھلا ہو جو ہمارا اتنا خیال رکھتا ہے۔بس ایک مسئلہ ہے،کہ صاف پانی نہیں مل رہا اور روڈ کی حالت کافی خراب ہے۔ لہٰذا حکومت وقت کو اس پر فوری ایکشن لینا چاہیئے۔ میں نے کہا کہ یہ تو پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ اکیس کروڑ عوام رو رہی ہے۔اگر گجری کے پشتون بھی رو رہے ہیں،تو کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔بلکہ فخر کرنا بنتا ہے اس پر،کہ وہ بھی عام پاکستانی ہیں۔
اس کے علاوہ وہاں موجُود پشتونوں کی حالت باقی سندھیوں سے ہزار درجے اچھی ہے۔ لہٰذا بابا کو کہاکہ شکر ادا کرو کہ سندھ کے مقامی لوگوں نے اس خوشحالی کی وجہ سے آپ لوگوں کےخلاف کوئی تحریک نہیں چلائی۔
اس کے بعد بابا ہمیں ایک قبرستان لے گئے۔کہ یہاں حالیہ امریکی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کچھ خٹک جوان بھی شہید ہوچکے ہیں۔ ہم نے فاتحہ پڑھی بابا سے اُن شہداء کے بارے میں پوچھا۔تو بابا کو کُچھ علم ہی نہیں تھا۔کہنے لگے کتبے پڑھ کر خود معلوم کرلو۔اس کے بعدبابا نے پھر مائیک لے کر ریکارڈنگ پر اصرار کیا۔ریکارڈنگ شروع ہونے کی دیر تھی۔کہ بابا نے اردو میں جنرل باجوہ صاحب کو یقین دلانا شروع کیا کہ ملک کی حفاظت کی خاطر ہم مزید شہداء کی قربانی بھی دیں گے۔ساتھ ہی پشتو میں کچھ رزمیہ اور طربیہ ٹپے ریکارڈ کروائے۔کہ اب انشاءاللہ پینٹاگون کو ہم تخت و تاراج کئے بغیر سُکھ کا سانس نہیں لینے والے۔انگریز سُرخ کافر ہیں۔لہٰذا ہم چاہیں گے کہ باجوہ صاحب  ہمیں اجازت دیں،کہ ان کافروں پر پُوری طاقت سے یلغار کردیں۔
بابا کے یہ شوریدہ جذبات و احساسات دیکھ کر میں نے آہستہ سے AVT خیبر کے دوست سے کہا،کہ اس انٹرویو کو آپ چلا لینا۔ کیوں کہ بی بی سی اس ڈاکیومینٹری کی وجہ سے میرے ساتھ کنٹریکٹ ختم کرنا تو بعد کی بات،ملک سے باہر کسی بھی ملک میں داخلہ تک بند کرا سکتی ہے۔
واپسی پر بابا نے ساڑھے چھ ہزار میری ہتھیلی پر رکھے۔ اور سرگوشی کی کہ یہ آپ کاخرچا پانی۔اس کے بعد کان میں بولے کہ اگر آج رات رُک جاؤ۔تو بیس پچیس ہزار تک کما لوگے۔ساڑھے چھ ہزار والی بات سے میں سمجھ گیاکہ بابا سے اس مد میں مقامی صحافی پیسے ہتھیا چُکے ہیں۔میں نے پیسے اُن کو واپس کردیئے،کہ بابا یہ تکلفات آپ مقامی صحافیوں کےساتھ کیا کریں۔
لیکن بس یہ سمجھا دیں کہ رات کو پیسے کیسے کمائے جاسکتے ہیں؟بابا نے معنی خیز انداز میں مُجھے دیکھا اور پھر عرفان خٹک کو جو کیمرے کو پیک کرنے واسطے جُھکا ہوا تھا۔

بابا کے نادر خیالات جان کر آؤ دیکھا نا تاؤ،گاڑی اسٹارٹ کی  اور بغیر دُعا سلام کے گاڑی کو فُل اسپیڈ سے گجری کے کچے پکے سڑک پر دوڑا دیا۔تھوڑا سا آگے آئے،تو سڑک کنارے محمد کامران جنجوعہ بھائی منتظر تھے اس خیال سے،کہ دس منٹ حجرے میں رُکنا ہوگا۔ اس آفر کا سُن کر پھر سے میرے کان کھڑے ہوگئے۔اور ذہن کے پردے پر بابا کی معنی خیز مُسکراہٹ جھلملانے لگی۔کامران بھائی سے معذرت کرتے ہوئےجلدی سے ایک سیلفی لی۔اور کہا  کہ اگر ہمارے ساتھ ملاقات کا اتنا ہی شوق ہے تو کراچی آجاؤ کہ یہاں تو ہم کسی مسجد میں بھی رات گزارنے کا رسک نہیں لیں گے۔
بالآخر ہانپتے کانپتے حیدرآباد مرشد صفدر چیمہ کے گھر بخیریت پُہنچ گئے۔اور “فیض یاب” ہوکر ساڑھے آٹھ بجے واپس کراچی کی راہ لی۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *