منطق الطیر، جدید‘‘ایک مطالعہ۔۔۔۔۔۔اظہر حسین

اگر یہ کہا جائے کہ ادب کا مقصد ہمیں زندگی کے نت نئے امکانات سے بغلگیر کرنا ہے تو یہ کسی بھی صورت میں نامکمل سچ نہ ہوگا۔ اتنا ہی بجا یہ کہنا ہوگا کہ ادب تسخیر شدہ دنیاووں کو پھر سے تسخیر کرکے ان کے اُن کونوں کھدروں کی سیر کرانے کا بھی ذمہ دار ہے جو پہلی تسخیر میں حواسِ خمسہ کی رینج میں نہ آسکے تھے ۔اد بی تخلیق انسانی ذہن کی کشمکش کے اسباب معلوم کرکے، اس کشمکش کے حل کے لیے__ اشاروں، کنایوں ہی میں سہی __کچھ مواد بھی تو پیش کرتی ہے؛ بالکل کرتی ہے۔ ناول، جو وقت کو ماضی ، حال اور مستقبل کی حدود سے کہیں آگے، یا کہیں پیچھے کو دیکھنے کا شوقین ہے، زندگی کی ان جنگوں کو بھی جیت لینے کو تیار رہتا ہے جن کا لڑا جانا محال ہو۔ مگر ایسا ناول جو بو العجبی کے کھیتوں میں بویا اور کاٹا گیااورجس کے دانوں سے بناآٹا عقیدے، عقیدت مندی یا درویشانہ پانی میں گوندھا گیا ہو ، فکشن کے ہرہر پڑھنے والے کے لیے قابلِ ہضم نہیں رہتا۔
مستنصر حسین تارڑ کا ’’ منطق الطیر، جدید‘‘ عام پڑھنے والے کے لیے نہیں ہے!

یہ ناول ایسوں کے لیے نہیں ہے جنھیں رائی کا پہاڑ ، یا بات کا بتنگڑ بنانے والا لکھاری ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔ ایسوں کے لیے بھی نہیں جو ناول نویس کے تجربے ، تلاش اور ان دونوں کے ملاپ سے ملنے والی ناولانہ کامیابی کی حدود متعین کرنے کے شوقین ہوں۔ایک ناول نویس کی کاردانی ، ڈھونڈ اوربصیرت کی سمتیں بے انت ہوتی ہیں: انھیں گننے والے، ان کی اکائیوں پہ تجزیے جمانے والے، حتی کہ انھیں مفروٖضوں میں مقید کرنے والے؛افسانہ شناس نہیں،فسانہ تراش کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔شاید یہ ناول ایسوں کے لیے بھی نہیں جو اس متنوع صفات کی حامل صنف میں صرف و محض ٹھوس حقیقت کا شعورتلاشنے کے رسیا ہیں؛ جو مکتبی یا ترقی پسندی کی عینک کے بغیر صاف ستھرے مناظر کو بھی دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔

’’منطق الطیر، جدید‘‘، اردو کے زیادہ تر ناولوں کی طرح دو بعدی ( (two dimensional نہیں؛سہ ابعادی ناول ہے ۔اور کیا تخلیقی ادب پڑھنے والے نہیں جانتے کہ جو چیز فن پارے کو سہ ابعادی بناتی ہے وہ یا تو فلسفیانہ سلوک ہے،یا طلسماتی و روحانی فضاکاری۔اس ناول کی نیم فلسفیانہ فضا، مقدس ویدوں والی جادوئی نثر اور تصوفانہ رنگ میں لکھی تمثیل وار کہانی،پڑھنے والے کے ذہنی پکھیرو کو ایک وقت میں کئی سمتوں میں اڑاتی ہے۔ جی ہاں؛ پکھیرو، جس کی چونچ میں اس ناول کے اچنبئی کارخانے کے بھیدوں پہ لگے تالے کی چابی ہے! پکھیرو، جس کاپہلا پہلا محبی اور کھلاڑی فرید الدین عطار نیشاپوری تھا۔ اس نکتہ کو سمجھنے کے لیے اسی عطار کی منطق الطیر پہ ایک طائرانہ نگہ ڈالتے ہیں:

آج سے کوئی آٹھ صدیاں ادھر نیشاپور کا فریدالدین ایک کتاب پرندوں کے سیمرغ کی تلاش میں کیے گئے سفر کی داستان جاں فزا پہ لکھتا ہے۔ سفرصوفیانہ ہے۔یاد رہے پرندوں کے تصوفانہ و فلسفیانہ اسفار پہ نیشاپوری داستان گو سے پہلے ابن سینا اور امام غزالی ذہن آزمائی فرماچکے تھے۔عطار مگر، جنتّ گم گشتہ نامی رزمیہ کے لکھاری جون ملٹن کے مانند کچھ ایسا لکھنے کو پرعزم ہوگا جو پہلے ان لکھا رہ گیا ہو۔چناں چہ یہ کتاب ہمیں دکھاتی ہے کہ ہدہد کی قیادت میں پکھیرووں کی ڈاراپنے شاہ سی مرغ کی ڈھونڈ میں سفر باندھتی ہے۔ یہ سفر ان پرندوں کو وادیء تلاش، وادیء الفت، وادیء تفہیم،وادیء آزادی، وادی ء یک جہتی، وادیء سراسیمگی اور وادیء محرومی میں لور لور لیے پھرتا ہے۔
یہاں وہ کسی وادی میں دشوارگزاری کا منھ دیکھتے ہیں،تو کسی میں نا امیدی کا۔ یوں موقع بہ موقع ،وہ عقیدے سے چھٹکارا پانے کو شراب طلب کرتے ہیں،اچھے برے کا فرق کھوتے ہیں، قریہ قریہ پھرتے ہیں، روتے ہیں مگر سی مرغ کی تلاش جاری رہتی ہے۔
اس تلاش کا اگلاپڑاو ان پہ کھولتا ہے کہ وہ اس مادی دنیا میں غیر مادی ہونے کو ہیں : سبب یہ ہے کہ اب وہ ہر چھوٹی بڑی شے کو ذرے سے زیادہ بڑا نہیں دیکھ پارہے۔اور پھر ایسے ہی ہر پڑاو پہ یکسر نیا انکشاف ، جدیدادبی اصطلاح میں جسے epiphany کہیے، ہوتا ہے۔آخری سے پہلے پڑاو میں وہ اپنی اپنی ذات کوفراموش کرکے اپنے پیارے کے حسن و جمال میں کھو جاتے ہیں۔ڈار کے زیادہ تر پرندے اسی جگہ ٹھیر جاتے ہیں؛ گم صم اور خود رفتہ۔آخری وادی تک صرف و محض تیس پکھیرو،یعنی سی مرغ رہ جاتے ہیں۔یوں ان پہ یہ آخری انکشاف ہو چکتا ہے کہ وہ جس کے متلاشی تھے، وہ باہر نہیں اندر تھا؛ لہٰذکلیہ یہ سامنے آتا ہے کہ انسان مردِ کامل کی تلاش اپنے اندر کی اور سفر کرکے ہی پوری کرتا رہا ہے، اور آیندہ بھی کرتا رہے گا۔
میرے سننے والو!
بادی النظر میں جناب تارڑ نے ذیرِ بحث ناول میں فرید الدین عطا ر سے کچھ زیادہ مختلف کام نہیں کیا۔ مگر پھر یہ صرف بادی النظر ہی میں ہے اور ادبی تخلیق بازار میں بکنے والا لباس تو ہے نہیں جسے ایک اچٹتی سی نگاہ کے بعد ردیا قبول کیا جائے۔ ادبی تخلیق صبر اور شکر گزاری والی پڑھت مانگتی ہے۔ اور جب یہ دونوں مرحلے طے ہوچکتے ہیں تو ایک اور مرحلہ آتا ہے جسے سوچ بچار اور غور و فکر کا مرحلہ کہیے۔ یہاں آپ اپنی آرام کرسی پر بدن ڈھیلا چھوڑ کر اپنے آپ کو ان پرانی پڑھتوں کے حوالے کردیتے ہیں جو آپ نے فکشن کی مد میں گھونٹ گھونٹ اپنے اندر اتا ری تھیں۔ یہاں آپ پر بھی اسی طرح کے انکشافات ہوتے ہیں جیسے تازہ پڑھی گئی کتاب کے کرداروں پہ ہوے تھے اور جیسے، اب سے پہلے پڑھی گئی کتابوں کے کرداروں پہ ہوے تھے۔ انھی انکشافات کی لالٹینوں کی روشنی میں آپ نئی پڑھت کے اندرون و بیرون دیکھتے ہیں او رنہ صرف دیکھتے ہیں، سنتے، سونگھتے ، چھوتے اور چکھتے بھی ہیں۔ اور یہ انکشافات عام پڑھنے والے پہ نہیں ہوتے؛ جبھی میں نے یہ عجیب سا دعوی کیا کہ:
تارڑ کا ناول’’ منطق الطیر ، جدید‘‘ عام پڑھنے والے کے لیے نہیں!
اس نکتہ کی مزید تفہیم کے لیے ناول کی جادوئی دنیا کا ایک پھیرا ضروری ہے
’’منطق الطیر جدید ‘‘ کا آغاز ’’راکھ ‘‘ کے آغاز ایسا ہے:پہلے صفحے کے بعد قرآنی آیت جہاں سے ناول نویس ناول کا نام چنتا ہے اور گرامر اور گرامر کے ماہرین کی متوقع نکتہ چینیوں کو یکسر توجہ کے لایق نہ جانتے ہوے جوں اور جیسے کی بنیاد پہ مرکب اضافی کے قرآنی اعراب کے ساتھ معنون کرتا ہے: یعنی منطقُ الطیر کے بجائے منطقَ الطیر۔ میرا دل مصنف کی اس جرات اور اعتماد پہ خوش ہے۔ایک سُچے ادیب کو اتنا جرات مند تو ہونا ہی چاہیے۔اسی اعتماد اور جرات کی دوسری جھلک ہمیں ناول کی پہلی پہلی سطروں کی پڑھت کے دوران میں دکھائی دیتی ہے، سنائی دیتی ہے۔
’’چار چیزیں تھیں جو ہر دسمبر میں بلاتی تھیں‘‘ ا ب کے ان چاروں میں سے ٹلہ جوگیاں وہ چیز یا ہستی ٹھیرتی ہے جسے اس کتاب میں عشق گاہ بن جانے کا شرف ملنا ہے۔ناول کا مرکزی کردار اور بابِ اول میں ناول کا راوی موسےٰ حسین خود کلامی کے سے انداز سے ، نیم طنزیہ مگر رنج بھرے لہجے میں ٹلہ جوگیاں کے تقدس اور عظمت کے گن گاتے ہوے ناول میں پیش آنے والے ممکنہ حالات و واقعات پہ کئی ایک گہرے دور رس اشارے جھلکاتا ہے۔ناول کا پہلا باب صحیح معنوں میں افشائی باب(expositional chapter) ہے: جہاں ناول کے پلاٹ میں ابھرنے والے قریب قریب سبھی کرداروں،ممکنہ موضوعوں،علامتوں، اسطوری حوالوں اور کلاسیکی و جدید کے امتزاجوں کی تیکھی اور نیم مرئی صورتیں، کہیں دھندلے اور کہیں واضح انداز سے دکھا دی جاتی ہیں۔باوجود اس کے کہ یہ ساری صورتیں کسی خاص نظم اور ترتیب و تنظیم کے بغیر ہیں؛ ان سے ناول کی بہت سی ہونیوں اور ان ہونیوں کی خبر ملتی ہے۔

ذرا ان دس بارہ لفظی شکلوں کو سنیے اور ذہن کو من مانا خاکہ بنانے دیجیے: ٹلہ جوگیاں، جوگی گورکھ ناتھ،بالناتھ، کوہ طور، یروشلم کی پہاڑی،،صلیب ،جبل نور،، منصورحلاج پورن کا کنواں،تخت ہزارے کا رانجھا،خاتونِ عجم، قراۃ العین طاہرہ وغیرہ ۔ہمارا ناول نویس ، چند اوراسطوراتی علامتوں کی ہمرہی میں مذکورہ صورتوں ہی سے منطق الطیر جدید کی صورت گری کرتا ہے۔

ناول کی مجموعی فضا کچھ یو ں بنتی ہے : عمدہ مصور ،بے اولاد موسٰے حسین زندگی کے اس موڑ پہ ہے جہاں اس کا رخش عمر قدم قدم لڑکھڑاتا ہے۔اسی لڑکھڑاہٹ اور لرزش میں اسے اولاد کے حصول کی ایک آخری کوشش کی سوجھتی ہے تو وہ اپنی ایک خوش بدن مداح کی ترغیب پرسیالکوٹ میں برس ہا برس سے موجود پورن کے کنویں کا رخ کرتا ہے۔ یہاں، بیر بہوٹیوں کو تکتے ہوے وہ عجب بے خودی کے عالم میں ہوتا ہے جب ایک پکھیرو موسے حسین کے کان میں سرگوشی کرتا ہے کہ اس کے نصیب میں اولا د نہیں، وجدان اور وارفتگی ہے، جسے موسے کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔او ر یہ کہ اس وجدان کی تلاش کے لیے اسے ٹلہ جوگیاں کا رخ کرنا ہے۔ موسٰے ،پکھیرو کی اس نصیحت پر وہاں سے نکل کر گھر آدھمکتا ہے اور چپکے سے اپنی بیوی کے ساتھ ڈبل بیڈ پر دراز ہوجاتا ہے۔
اس واقعہ کے بعد ناول کا سفر تخیلی اور خفقانی hallucinatory) (ہے اور کم و بیش ہر زاویے سے ٹلہ جوگیاں کی اَور ہے۔

ناول کے اس حصے تک پہنچتے پہنچتے یہ معلوم دے چکا ہوتا ہے کہ دنیا کی مختلف سمتوں سے سات پرندے اپنے اپنے سفر کا آغاز کر چکے ہیں۔ ان میں ایک سلگتا ہوا پرندہ موسی کے طور سے ، دوسرا، بدھ کے گھٹنوں کے بیچ اگی گھاس میں سے، تیسرا ابن مریم کی ہتھیلی سے ٹپکتی بوند سے،چوتھا، غار حرا کے بطن سے، پانچواں بلخ کے انگاروں کی راکھ سے،چھٹا قراۃ العین طاہرہ کے کنویں سے، جب کہ ساتواں پرندہ منصور کے لوتھڑے کی خاک سے پیدا ہو چک کر محوِ پرواز ہے۔

اب ناول میں ایک جانب عرشی یا عشق حقیقی میں گم پرندوں کا سفر جاری ہے تو دوسری جانب موسٰے کی خود شناسی و خود فراموشی کا سفر ۔ یہ دونوں قسم کے سفر اس وقت بہت دلچسپ اور چونکادینے والے بن جاتے ہیں جب ٹلہ جوگیاں کی جادوبھری فضا میں ایک تیسرے سفر کا ملاپ ہوتا ہے۔یہ تیسرا سفر زمینی پرندوں کا ہے۔ آپ جنھیں علاقائی یا لوکل پرندے کہیے تو زیادہ مناسب رہے۔یہاں آسمان اور زمین کو باہم ملنا،حقیقی و مجازی کو بغلگیر ہونا اور ساتھ ہی ساتھ عالمی اور لوکل تجربے کو بھی معانقہ کرنا ہے۔ ناول کا یہی وہ مقام ہے جہاں ناول نویس فرید الدین عطار کی منطق الطیر کی بنیادی فکر کو چیلنج کرتا دکھائی دیتا ہے: یعنی صرف و محض اندر کی اور سفر سچ کی تلاش میں کامیابی کا ضامن نہیں۔ اندر اور باہر،عرش اور فرش، لذتیت اور بے لذتیت ، اصل اور نقل،بدن اور روح ،کثافت اور لطافت ۔۔اور ایسے ہی تمامی بظاہر متضاد جوڑوں یا binary oppositions کے اختلاط ہی سے اس زمانے کی سچائیوں تک رسائی ممکن ہے۔دونوں میں سے کسی ایک کے غیاب سے ، دوسرا نامعلوم کے پاتال میں رہے گا۔ناول کے راوی کے الفاظ میں:
’’جو آسمانی صحیفوں میں سے پھڑپھڑاتے برآمد ہوتے الوہی پرندے تھے اور یہ جو مٹی سے جنم لینے والے عشق کی بھٹی میں پکے ہوے زمینی پکھیرو تھے، اگر یہ رضا و رغبت آپس میں میل کرلیں، اختلاط کرلیں تو ان کے بطن سے کیسے انوکھے پنچھی پیدا ہوجاویں گے۔۔۔آسمانی مذاہب اور مٹی کے مذہب کے وصل سے پرندوں کی ایک ایسی انوکھی نسل جنم لے گی جو دنیا بھر کے سب جھگڑے جھیڑے ، اختلاف، انکار، ملیا میٹ کردے گی۔۔آسمان مٹی ہوجائے گا اور مٹی آسمان‘‘

دیکھا جائے تو یہی عطار اور تارڑ کی فکروں کا نکتہء امتیاز ہے۔ اور یہی بعد الذکر کی کاوش کا جواز۔ کسی بھی ناول کو ، اگر وہ کسی صدیوں پرانی فکر کی تعمیرِ نو ایا اس کی ڈی کنسٹرکشن جیسا اہم تر ذمہ خود پہ ڈالتا ہے،اپنا جواز پیش کرنا ہوتا ہے۔ شاعری میں دیکھیں تو شعرا غالب یا میر کی تضمین پر غزل یا تو اس لیے لکھتے ہیں کہ ان عظیم شعرا کو خراجِ عقیدت پیش کریں، یا پھر شاید اس لیے کہ ان اساتذہ کی وضع کردہ شعری تضامین میں کچھ خالی جگہیں رہ گئی ہوتی ہیں جنھیں ان کے جا نشین شعرا پر کرنے کے آرزو مند ہوتے ہیں۔اور پھر شعرا یوں بھی تو کرتے ہیں کہ اساتذہ کے شعری افکار کی اپنے زمانے کی حسیات (local sensibility ) کے تابع ہوکر کایا پلٹ کر دیتے ہیں۔اور اگر تو یہ فکری کایا پلٹ پورے شعری وفور اور سخنی جمالیات کے ساتھ برآمد ہو تو اس سے بڑی کامیابی کوئی نہیں ۔
جناب تارڑ نے بھی ایسا ہی کیا ہے؛ اور کامیابی سے کیا ہے؛ اور بر وقت بھی۔ بر وقت یوں کہ پچھلی دو دہائیوں سے ، یعنی نائن الیون کے بعد سے، یوروپ امریکہ اور ایشیا کے غیر اردو زبانوں کے فکشن نویس فارسی کے کلاسیکی ادب، اور ایشیائی و اسلامی تہذیب کو ری وزٹ کرکے اپنی تخلیقات کے بنیادی ڈھانچے اور افکار وہاں سے اچک رہے ہیں۔برازیل کے پاؤلو کوئلو، ترکی کی ایلف شفق ،برطانیہ کی کیرن آرم سٹرونگ،اور امریکہ کی جنیو ایبڈو وغیرھم کا فکشنی اور غیر فکشنی کام ، اس کی چھوٹی سی مثال ہے۔اس تناظر میں اردو کے اس بڑے فکشن نویس کا یہ ناول اور بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔

اور پھر اس ناول کی ایک اور امتیازی صفت بھی تو ہے؛زبان ، ہےئت اور موضوع کی یکجائی۔ فی زمانہ اردو کے کتنے ناول نویس ہیں جنھیں اس مشکل کو سر میں سمانے کا سودا ہے؛ کتنے ہیں جو اس سہ رخی کو یک رخی میں متشکل کرلینے پہ قادر ہیں!لے دے کر دھیان مرزا اطہر بیگ کی اور جاتا ہے؛ یا ناولٹ’’ ٹبا ‘‘والے خالد فتح محمد کی اور۔ پھر پلٹ کر ’’بہاو‘‘ والے تارڑ سے ہوتا ہوا ’’منطق الطیر، جدید‘‘ والے تارڑ پہ آ ٹھیرتا ہے؛ اور ٹھیرا رہتا ہے۔ دھیان کے ٹھیراو کے اسباب یہ ہیں:

’’منطق الطیر، جدید‘‘ کی لکھت میں نپی تلی، جچی رچی اور لطیف نثر والی زبان کے ساتھ ساتھ ناول اور زبان کا رشتہ آج سے جوڑنے کی خاطر ، کثیف یا سلینگ ڈکشن کا تڑکا بھی لگایا گیاہے، اور بڑے فطری بہاو اور لسانی مہارت سے لگایا گیا ہے۔ آغاز سے انجام تک، مرکزی کردار موسٰے حسین کی بیوی صفورہ کے مکالموں کے سلینگز سمیت، ناول کی زبان اپنے موضوع سے ہم آہنگ ہے اور ایسی ہےئت کی پروردگار دکھتی ہے جو ناول کے عنوان ، موضوع، اس کی طلسماتی فضاکاری،اسطوری انگ اور سنجیدہ رنگ کے لیے موزوں ہی نہ تھی ، ضروری بھی تھی۔ اورتخلیقی ادب پڑھنے والا محسوس کرسکتا ہے کہ جیسے ہی ناول کے اندر عرشی پکھیرو ، فرشی پکھیرووں سے ملاپ کرتے ہیں، اور ایک نئی وجودی اور فکری ہستی جنم لیتی ہے، ویسے ہی ناول کی زبان، کرداروں کی ذہنی بل کہ موسے حسین کے معاملے میں تو جسمانی ساخت کی بدلاو کی صورت اختیار کرتی ہے۔صفورہ کی فکری کایا پلٹ اس کے ان دو مکالموں کے فرق میں خوب جھلکتی ہے، ان میں سے پہلا مکالمہ ناول کے ابتدائی صفحوں سے، جب کہ دوسرا بالکل اخیرلے صفحوں سے لیا گیا ہے۔

۱۔ بل شٹ۔۔تم مجھ سے یہ توقع کرتے ہو کہ میں کسی گاڈ ڈیم پورن کے فکنگ کنویں کے پانیوں سے غسل کرکے ، اپنی شلوار اتار کر کسی مندر کے فرش پر نقش ، یونی پہ بیٹھ کر اس سے اپنی یونی کو مس کروں گی۔بل شٹ‘‘

۲۔’’موسےٰ رات کے اس پہر مجھے محسوس ہورہا ہے کہ میرے پہلو میں تم نہیں، کوئی پرندہ پھڑپھڑا رہا ہے۔۔مجھ سے جڑ کر مت سوو۔یہ ڈبل بیڈ تہذیب کی سب سے بڑی لعنت ہے۔۔پلیز یوں پھڑپھڑاو مت۔تمھارے اس پورن بھگت نے کام دکھایا ہے،تم نے نہیں اس نے مجھے پریگننٹ کردیا ہے۔۔آئی لو پورن‘‘

اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہِ صفورہ کی سوچ کی تبدیلی کے سا تھ ہی ساتھ موسےٰ حسین بھی ’’سمٹتا ہوا، مختصر ہوتا، ایک پرندہ ہورہا‘ ہوتا ہے۔بالکل ویسے ہی جیسے نیشا پور کا فریدالدین عطار ، ایک فقیر کی سبق آموز، اچانک اور اچنبئی مرگ پر تبدیلیء ہیت کا شکار ہوا تھا۔ناول کی یہی کروٹ، جیسا کہ اس سے پہلے بھی کنایتاََ بتا دیا گیا ہے، اس ناول کو آج کے ناولوں میں ممتاز حیثیت عطاکرے گی۔

یہاں ایک بات کہنا ضروری محسوس ہوتی ہے کہ صفورہ کا یہ دوسرا مکالمہ دو سو صفحوں کے اس ناول کے نواسی ویں صفحے پر ہے۔یہاں تک ناول کے بیانیے کے سارے پہلووں، کردار ار وں، ضمنی و مرکزی موضوعوں اور علامتی و اسطوری حقیقتوں کے بیانوں کو ناولانہ و ناقدانہ خوبی سے سمیٹا جا چکا تھا۔ مگر نوے ویں صفحے پر ، مصنف کو ناول کے اندر کود کر اس ساری کایا پلٹ کو بتانے اور تشریحانے کی ضرورت نہ جانے کیوں محسوس ہوئی۔ممکن ہے یہ تشریح اس ناول میں نان فکشنل بیانیے کے اس تڑکے کا تسلسل ہو جو ہمیں ،ٹکڑوں ہی میں سہی، مگر موقع بہ موقع ملتا رہا ہے۔کچھ بھی ہو، یہ ہے کچھ اضافی سا ہی۔

’’منطق الطیر، جدید‘‘ اپنی تمام تر خوبیوں اور ایک آدھی خامی کے وجود کے ساتھ، مستنصر حسین کا تارڑ کا عمدہ ناول ہے۔یہ عظیم ناول نہیں، ایک دلچسپ، تازہ، اور خوش مزہ ناول ہے۔فی زمانہ شاید ہی آدھی درجن ناول ایسے ہوں ، جنھیں خوش مزہ پکارا جا سکتا ہو۔پختہ ، رسیلی اور خالص ادبی ذائقوں کی حامل یہ کتاب اردو کے اچھے اچھے ناولوں میں شمار ہوگی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *