شیلٹر ہوم۔۔۔ شہزاد سلیم عباسی

کیاویلفیئر اسٹیٹ کی طرف پہلا قدم شیلٹر ہوم کا قیام ہے؟کیا ویلفیئر اسٹیٹس اپنے پاؤں پر ایسے کھڑے ہوتی ہیں کہ ان کی بنیادی ضروریات زندگی (صحت، تعلیم، روزگار) کو نظر انداز کر کے شیلٹر ہوم میں رہنے پر مجبور کیا جائے اورغیر محسوس انداز میں انہیں بتایا جائے کہ تم لوگ کبھی اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوسکتے کیوں کہ ہم پاکستانی حکمران ہیں اور ہم تمہیں کوئی کام دھندا کرنے کا خاص موقع نہیں دیں گے اور نہ ہی تمہیں روزگار مہیا کریں گے ۔ بس ہم جب بھی آئیں گے اسکیموں ، کنسٹرکشن کے ٹھیکوں اور حکومتی ہتھکنڈوں سے تمہارا جی بھلائیں گے اور تمہیں پانچ پانچ سال کا  کھٹا  میٹھا  لالی پاپ دیتے رہیں گے۔

ہم جب عمران خان کے انداز و قد کاٹھ کو دیکھ کر بلوغت کی پختگی کو چھو رہے تھے تو ان کی زبانی سنتے تھے کہ جو قوم ہم بنائیں گے وہ بھکاری نہیں بنے گی، اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگی ، اسے اپنی ملکی معیشت کو سنبھالے دینے کے لیے اغیار کا سہار ا نہیں لینا پڑھے گا، اسے مانگ تانگ کی لعنت سے چھٹکار ا دلا کرباوقار قوم بنائیں گے، قوم کی چوروں ، بدمعاشوں،رشوت خوروں، دہشت گردوں ، منی لانڈررز ، ہنڈی و حوالہ کا کاروبار کرنے والوں ، ناانصاف نظام اور لوگوں سے نجات دلائیں گے۔ اور پاکستان کو عراق، شام ، یمن ، فلسطین اور افغانستان نہیں بننے دیں گے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن شایداب ایسا لگتا ہے کہ عمران خان بھی اوروں کی طرف ڈر ڈر کر فیصلے لے رہے ہیں اور اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کر رہے ہیں ۔اور ملکی معیشت کے معاملات کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔کیوں کہ عمران خان بھی قوم سے وہی سلوک کر رہے ہیں جو نواز شریف اور زرداری کے ادوار کی Practices ہوا کرتی تھیں۔ عمران خان کے پہلے دن کے لہجے سے ہی یہ ظاہر ہو گیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کی عزت و ناموس اور پارلیمانی فورم اور نمائندگان پر یقین نہیں رکھتے ۔ عمران خان نے اپنی آمرانہ سوچ سے اسمبلیوں میں ہنگامی صورتحال پید ا کی ہوئی ہے جس سے ہیجانی کیفیت طاری ہے۔

عمران خان کی شیئر کردہ وہ تصویر جس میں خادم اعلی پنجاب عثمان بزدار ہاتھ میں میں کاغذوں کا پھلندہ تھامے تین بزرگ سائلین کیساتھ ایک ہی صوفے پر  بیٹھے  انکے مسائل کی گھتیاں سلجھانے میں مصروف ہیں ، جسے آپ سادگی اور عظیمت کی مثال قرار دے رہے ہیں۔ جب کہ یہی کام جب شہباز شریف یا کوئی دوسرا کرتا تھا تو وہ شوباز یا کرپشن کا بے تاج بادشاہ کہلاتا تھا۔جب کوئی دوسرا کسی پراجیکٹ کاا فتتاح کرتا تو وہ راشی اور پراجیکٹ میں کمیشن کھانے والا کہلاتا تھا ۔اور اب جب کہ آپ بھی افتتاح کرتے ہیں اور زلفی بخاری بھی افتتاح کرتے ہیں تو عوام کیا سمجھیں؟ آپ نے کہا تھا کہ دانش سکول بنائے جارہے ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور کرپشن بھی بہت ہوئی ہے ۔ آپ بتائیے! کہ شیلٹر ہاؤس میں کتنی کرپشن چلی ہے اور چلے گی ؟ آپ وجدان رکھنے والے ایک سچے انسان ہیں آپ کم از کم اتنا تو کرسکتے ہیں کہ ایک بجٹ شیٹ میڈیا کو شیئر کردیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ پاکستان میں کل کتنے شیلٹر ہاؤس تعمیر ہوں گے ؟ کہاں کہاں بنیں گے ؟ اور کتنے پیسے لگیں گے ؟اور شیلٹر ہوم کے لئے حکومتی فوکل پرسن کون ہے ؟ اور شیلٹر ہوم میں داخلے کا کیا طریقہ کار ہے؟ اور شیلٹر ہاؤس میں رہائشی اختیار کرنے والوں کی ڈیٹا انٹری ہو رہی ہے؟ کیا شیلٹر ہاؤس میں خدانخواستہ کوئی نشئی، ڈاکو اور دہشت گرد تو نہیں انرول ہورہا؟ یہ سب وہ سوالات ہیں جوسادہ لوح عوام کے دماغوں میں گردش کررہے ہیں۔

اسی طرح نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں میں اب تک کتنے پیسے جمع ہوئے ہیں اور ان پیسوں کے لیے زمین کہاں دیکھی جارہی ہے ؟ اطلاعات ہیں کہ اب تک 15 ارب کے لگ بھت رقم نیا ہاؤسنگ اسکیم کے اکاؤنٹ میں جمع ہوچکی ہے ؟مزید کتنے پیسے درکار ہیں پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے لیے ؟ایک عدد شیلٹر ہاؤس کی کیا لاگت ہے ؟اگر وزیر اعظم عمران خان واقعی پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے چاہتے ہیں تو پھر انہیں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ہوگا ۔ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر عوام الناس کے بھلے کے لیے سوچنا ہوگا۔ پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے ذرریعے غربت کے اندھیروں کو ختم کر ہو گا ۔ اگر عمران خان نے شیلٹر ہومز پراجیکٹ شروع کر دیا ہے تو پھر خزانے پر کم سے کم بوجھ ڈالیں ۔ اگر حکومت وقت سمجھتی ہے کہ یہ شیلٹر ہاؤس کا پائلٹ پراجیکٹ فلاپ نہ ہو تو اسے چاہیے کہ پاکستان بھر میں کام کرنے والی تنظیموں سے رابطہ کرے اور شیلٹر ہاؤس میں رہنے والے لوگوں کے دن اور رات کے کھانے کا بندوبست کریں ۔ اسلام آباد میں بھی ہیومن یوتھ فاؤنڈیشن نامی آرگنائزیشن بے سہار ااور بھوکے لوگوں کے لیے کھانے کا انتظام کرتی ہے اور مختلف ہوٹلوں سے بچا ہوا کھانا اچھا انداز میں پیک کر کے ان غرباء و فقراء تک پہنچاتی ہے، ان سے مل کر شیلٹر ہوم کے لوگوں کو کھانا کھلایا جاسکتا ہے ۔ عمران خا ن ایک صاف گو اور محنتی انسان ہیں لیکن بدقسمتی سے ان سے وہ کچھ سرزد ہونے والا ہے جو آ ج تک کسی دوسرے سے نہ ہوسکا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *