لخت جگر کے خون سے ممتا بے حال ہے۔۔۔۔بنت نقاش

یہ ایک سردیوں کی رات تھی۔ پشاور شہر کا ہر کوچہ، ہر مکاں دھند کی زد میں تھا۔ پہاڑوں سے گھرا ہوا یہ علاقہ سرد ہواؤں کے تندو تیز تھپیڑوں کا مسکن بن چکا تھا. پہاڑی چوٹیاں برف سے ڈھکیں جہاں ایک طرف دلکش نظارہ پیش کر رہی تھیں وہیں دوسری طرف جسم میں خون جما دینے والی سردی کی وجہ بھی بن رہیں تھیں.. ہر کوئی گھروں میں گھسا لحاف تانے سمٹا بیٹھا تھا…. ہر گلی ہر مکان میں سکوت چھایا ہوا تھا . کسی چرند پرند کی خبر نہ تھی. کسی جانور کی موجودگی کا اندیشہ نہ ہوتا تھا..ہر ذی روح سردی کے اس عذاب میں اپنے گرم آشیانوں اور گھروں کامہمان بنا ہوا تھا…. اس خاموش اداس کہر بھری رات میں یوں محسوس ہوتا تھا جیسے انسانی زندگی کی رمق ایک بہت بڑے برفیلے پرندے کے سرد پنجوں نے اچک لی ہے…. کوئی ہوٹل کھلا دکھائی نہ دیتا تھا… کہیں انسان کا اتا پتا نہیں تھا… ایسے میں وہ علاقہ سردی، کہر اور برف کی آماجگاہ لگتی تھی… ہوا منجمد ہو چکی تھی ….کسی ایک پتے کا شور سنائی نہ دیتا تھا…. سماں خاموش اور اعصاب شکن تھا…
اتنے میں ایک گھر کے بالائی کمرے کی کھڑکی سے پردہ ہٹتا ہے… اور روشنی کی ایک باریک لکیر تاریکی میں بڑھتے بڑھتے ایک فٹ چوڑی ہو جاتی ہے… کھٹاک کی آواز سے کھڑکی کھلتی ہے… سردی کی  بے قرار و ٹھنڈی لہر کمرے میں تیزی سے گھس کر ماحول کی گرمی سے نبرد آزما ہوتے ہوۓ سماں کی نیم گرم بانہوں کا حصار توڑ کر اسے سردی کے وجود سے آشنا کروانے لگتی ہے…… اسی اثناء میں ایک نسوانی چہرے نے جو ناک تک کپڑے میں ڈھکا ہوا تھا ایک بھر پور نگاہ سے باہر جھانکتے ہوۓ گلی کا جائزہ لیا … اور فوراًًً  ہی اسکے بازو تیزی سے حرکت میں آۓ کھڑکی کے دونوں پٹ بند کر کے پردے درست کرتے ہوۓ وہ تیزی سے آتش دان کے قریب آئی اور جلتی ہوئی لکڑیوں میں ایک لکڑی کا مزید اضافہ کیا…اور مڑ کر کمرے میں موجود لحاف میں سمٹے سمٹاۓ سرخ گالوں , سبز آنکھوں اور بھورے بالوں والے اس بچے کو دیکھنے لگی … جسکے لئے اسکی آنکھوں میں بے پناہ محبت دکھائی دے رہی تھی… بیٹا!اس نے اپنی کاپی پر سے نظر اٹھا کر ماں کی طرف دیکھا… اسکی آنکھوں میں نیند کے ساتھ آتش دان میں سلگتی لکڑیوں کا عکس بھی تھا… بیٹا آپ ایسا کرو بس یہی صفحہ مکمل کر کے توآپ سوجاؤ ورنہ صبح کلاس میں نیند آۓ گی…اور شاید صبح یہ دھرتی سورج کا چہرہ نہ دیکھ پاۓ لہذا صبح گرم کپڑے نیچے سے پہننے پر انکار مت کرنا…… ننھے وجود کے لب ہلے اور اور ایک معصوم آواز نے سماعت پر دستک دی …. نہیں امی…اگر میں نے پریکٹس نہیں کی تو آمنہ فرسٹ آ جاۓ گی…. بیٹا آپکی کافی پریکٹس ہوگئی ہے دیکھنا اس رائٹنگ کمپیٹیشن میں تم ہی جیتوگے… بچے نے مسکرا کر ان شا اللہ کہا اور ماں کے آنچل تلے بے فکری کے ساتھ سو گیا… دھیرے دھیرے رات سرکتی گئی اور وہ ماں… ممتا کی ماری بار بار اٹھ کر بیٹے کا لحاف درست کرتی رہی…آخر رات نے آخری پہر کا ساتھ بھی چھوڑ دیا اور تاریکی , روشنی کے گھوڑے پر سوار ہو کر دن بھر کے سفر پر روانہ ہو گئی… وہ اٹھی بچے کو اٹھایا اپنے ساتھ نماز پڑھائی اور اسے  آتش دان کے قریب بٹھا کر اس کے منہ میں  نوالے ڈالنے لگی… امی آپ دعا کریں گی ناں؟؟ جی میرا بیٹا ضرور کروں گی آپ ہی جیتو گے…بس آپ نے لکھتے ہوۓ رائیٹنگ اچھی اچھی کرنی ہے الفاظ لائنوں سے باہر نہ جائیں… جی ان شا اللہ ایساہی کروں گا… اتنے میں ناشتہ ختم ہوا… اس نے ناشتے کے برتن سائیڈ ٹیبل پر رکھے اور الماری سے اسکا صاف ستھرا اجلا یونیفارم نکالا…اسے پہنایا.. اسکے بال سنوارے اور کرسی پر بٹھا کر اسے گرم موزے پہنا کر بوٹ کے تسمے زور سے کس دیے… جرسی پہناتے ہوۓ بولی ٹوپی یا دستانے مت اتارنا مجھے آپکی کلاس ٹیچر بتا دیتی ہیں… ماں نے اسکے گال تھپتھپاتے ہوۓ کہا… بچے نے جوابا ًًً صرف مسکرانے پر اکتفا کیا… اتنے میں قریب گلی کی نکڑ پر سکول بیل بجنے کی آواز آئی .. دونوں نے چونک کر گھڑی کی طرف دیکھا… اور دونوں حرکت میں آ گئے… اگلے ہی لمحے ماں بچے کو دروازے پر دعائیہ کلمات سے رخصت کرتے ہوۓ دکھائی دی… بچہ ہاتھ ہلاتا ہوا فی امان اللہ کہتا ہوا دروازے سے باہر بھاگ گیا… سردی کو محسوس کرتے ہوۓ اس نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا… اور تیز آواز میں بولی بیٹا جرسی یا ٹوپی مت اتارنا…
دروازہ بند کر کے وہ تیزی سے کھڑکی میں آئی اور دور جاتے ہوۓ بچے کو اداسی سے دیکھتی رہی…آخر بچہ سکول میں داخل ہو گیا… اس نے کھڑکی بند کی اور کھانے کے برتن سمیٹ کر اسکے اترے ہوۓ کپڑے مشین میں رکھے… اور الماری سے اسکے لئے سبز ویلوٹ کا شرٹ اور پاجامہ نکالا اور صوفے پر رکھتے ہوۓ تصور میں اسے پہنے دیکھ کر مسکرانے لگی..کام کاج میں مصروف وہ اسکی کامیابی کی دعائیں مانگتی رہی…
دوسری طرف بچہ اسمبلی سے فارغ ہو کر کلاس میں چلاگیا… دوسرے پیریڈ میں کمپیٹیشن کا اعلان ہوا… سب بچے چست ہو کر بیٹھ گئے…اتنے میں با ہر سے چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگیں… بچے اوپر ہو ہو کر باہر کھڑکی سےجھانک کر دیکھنے کی کوشش کرنے لگے.. مگر جلد ہی وہ بھیانک منظر ان کی ہی کلاس میں انکی آنکھوں کے سامنے تھا…چہرے پر سیاہ نقاب .. ہاتھوں میں گنز… بچے پستولیں دیکھ کر پہلے پہل تو خوفزدہ ہوۓ مگر بعد میں خوف سے ان کے دل پھٹنے لگے جب آتے ہی انہوں نے فائر کر کے ٹیچر کو مار گرایا… بچے ڈر کر پیچھے کو بھاگے…سب ایک دوسرے کے اوپر گر رہے تھے…اسی اثناء میں موسی کی ٹوپی گر گئی… وہ گرج دار آواز میں بولے ..چپ…!!!مجھے کسی کی بھی آواز نہ آۓ… سب زمیں پر ادھر کونے میں بیٹھ جاؤ.. جو جہاں تھا وہیں دبک کر بیٹھ گیا.. موسیٰٰٰ  اپنی ٹوپی پکڑنے لپکا…ادھر سے اس ننھے وجود میں حرکت ہوئی ادھر سے گولی چلی… ٹھاااااہ ہ ہ… !
موسی کی چیخ کے ساتھ کئی اور بچے بھی یہ منظر دیکھ کر چیخ پڑے …ایک بازو سے خون کی پھوار نکلی…ننھے وجود کا خون بہتے بہتے مزید کم ہونے لگا…جان کنی کی کیفیت میں وہ زمین پر ڈھیر ہو کرتڑپنے لگا… زخمی حالت میں اس موت کی گھڑیوں کے ٹلنے کا انتظار کر رہا تھا… مگر اس قیامت کو اس کی موت سے پہلے نہ ٹلنا تھا نہ ٹلی… بلکہ اس موت کی ایسی آندھی چلی کہ جس میں گولیاں اس طرح اندھا دھند برس رہی تھیں جیسے آندھی میں شاپر اور بسنت میں پتنگیں کٹ کر انجانی منزل کی طرف بڑھنے لگتی ہیں… کئی بچوں کا خون اس کو غسل دے چکا تھا…موت کی ہچکیوں اور تکلیف و درد سے نیم بے ہوشی کے عالم میں اسکے کان چیخ و پکار سے پھٹے جا رہےتھے ننھا ذہن کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا ….آنکھوں سے آنسو اور جسم سے خون رواں تھا.. ماں ماں پکارتا اس کا وجود اک آزاد گولی کا نشانہ بنا…اور اک آخری ہچکی اسکے حلق سے نکلی اور وہ لقمہ اجل بن گیا… موت کے سوداگروں کو ابھی بھی رحم نہیں آیا مردہ جسموں پر گولیاں برساتے رہےجسم چھلنی کرتے رہے… جب درندگی کو تسکین ملی تو مکتب کو شمشان گھاٹ بنا کر گلشن کی کلیوں کو مسل کر ماؤں کو ممتا سے محروم کر کے وہ فرار ہوگۓ… والدین تک اطلاع پہنچی توموسی کی ماں بھی بھاگتی ہوئی بے حال چیختی پکارتی اپنے بیٹےکی سلامتی کی دعائیں مانگتے ہوۓ سکول میں داخل ہوئی…
بیٹے کو پکارتے ہوۓ دیوانہ وار ادھر ادھرڈھونڈنے لگی… جب زندہ بچوں میں اسے اپنے بچے کا چہرہ نہ دکھا تو وہ پاگلوں کی طرح مردہ جسموں کو ہٹا ہٹا کر اپنا بچہ تلاش کرنے لگی…آخر سیکشن سی میں بچوں کی لاشوں میں دبا اسے اپنا لعل بھی مل گیا… اس نے اپنےآنچل سے بچے کاچہرہ صاف کر کے دیکھاکہ کچھ ایسا ہوجاۓ کہ یہ مرا ہوا بچہ میرا نہ ہو… مگر جو ہوچکا تھا اس کا اب مداوا کہاں… وہ اسکا اپنا موسیٰٰٰ  ہی تھا.. بچےکو بانہوں میں اٹھاکر وہ اس کے دل کی دھڑکن سننے لگی… مگر دھڑکن خاموش تھی…. سامنے والی جیب سے اسے ایک طے کیا ہوا کاغذ ملا… جس میں نہایت خوش خطی میں لکھا تھا … میرا نام موسیٰٰٰ  ہے…آج 16 دسمبر ہے.. میرا رائیٹنگ کمپیٹیشن ہے ماں نے کہااگر جیتو گے تو بابا ملنے آئیں گے اور تحفہ بھی ملے گا…. میں بہت خوش ہوں آج… میرے بابا آئیں گے میں ان کے آنے سے پہلے اچھا سا تیار ہو کر نیا سبز رنگ والا پاجامہ شرٹ پہنوں گا… ان لفظوں کے ساتھ ہی خون میں دھندلی تحریر ختم ہو گئی۔ وہ دیوانہ وار اپنے جگر کی نبض ٹٹولنے لگی… مگر زندگی کی کوئی  رمق باقی نہ تھی….ناکام ہو کر وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی اللہ… اللہ جی… میرا بچہ… اللہ میرا بچہ…ہاۓ اللہ میرا بچہ…یہ سانس کیوں نہیں لے رہا… اے رب تورب العالمین ہے… کہہ دے نہ کن.. اے اللہ تو کہہ دے نہ (کن…) سانس دے دے میرے بچے کو…اے کن فیکون والے رب…رحم…رحم میرے مالک رحم….
مگر جلد ہی اسےاحساس ہوا کہ یہ التجا کرنے والی وہ اکیلی نہیں اردگرد کئی ماں باپ اسی طرح زندگی اور موت کے بیچ کھڑے اپنے بچوں کو زندہ دیکھنے کی دعائیں کر رہے تھے….
بس دعائیں تھیں… آہیں تھیں سسکیاں تھیں ماؤوں کی چیخیں تھیں…
اے اللہ نیست و نابود کر ان کافر ظالموں کو جنہوں نے کم سن کلیوں کو کچل کر چمن ویران کر ڈالا… جنہوں نے کئی آنگنوں کے بچے مار کر اس آنگن کو بچوں کی قلکاریوں سے ہمیشہ کیلۓ محرم کر دیا…
یہ 16 دسمبر کاایک ہولناک دن تھا جس میں انسانیت پر موت کی نقب لگائی گئی… شہر پشاور کے لوگوں پر موت کی شام چھا گئ…دسمبر کی اس سردی نے سکول کے بچوں کے خوں کو جما کر ان کے خون کو ہی ان کا کفن بنا دیا…. جی ہاں یہی 16 دسمبر تھا جب درندوں نے اپنی درندگی اتنی بے دردی سے دکھائی کہ بزدلی کی مثال ان کے ماتھے کا کلنک بن گئی…ہاں وہ بزدل ہی توتھے جو اسلحہ لے کر بچوں پرحملہ آور ہوۓ… بچے…؟؟؟ وہ بچے جو اپنے شوز کا تسمہ باندھنا نہیں جانتے…. جو اپنے لنچ باکس کھول کر خود کھانا نکالنا ٹھیک سے نہیں جانتے…ان کمزور و ناتواں معصوم کلیوں سے لڑنے تم اسلحہ لےکرآۓ تھے… یہ تاریخ کی سب سے بڑی بزدلی کی مثال ہے یا نہیں…؟؟
تم مردہ قوم ہو…. بزدل قوم کے بزدل سپوت ہو… ڈر اورخوف کی اس دلدل میں پھنس چکے ہو جسے پاکستان آرمی اور مجاھدوں نے تم جیسوں کے لیے ہی بنایا ہے تم اس سے کبھی نہیں نکل سکتے… تم میں اتنی ہمت کہاں کہ اس خوف کے خول سے نکل کر مردوں کی طرح جانباز مردوں سے مقابلہ کرو… ہمیں جب جب موقع ملے گا ہم تم سے تمہاری اس درندگی اور ظلم کا بدلہ لیتے رہیں گے…. ان شا اللہ

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *