سوشل میڈیا کے ماڈرن بھکاری اور بھکارنیں ۔۔۔فوزیہ قریشی

بیچاری صبا لوڈ والی تو ایسے ہی بدنا م ہے یہاں یہ دھندا تو ماڈرن لوگ بھی کر رہے ہیں بس طریقہِ واردات تھوڑا مختلف ہے۔۔۔۔
آپ حیران مت ہوں اس طرح کے نمونے آپ کو فیس بک پر ملیں گے۔ جن کی ڈی پی اور وال چیخ چیخ کر کہہ رہی ہوتی ہے کہ یہ لوگ کھاتے پیتے گھرانے کے ہیں اور ہم سےزیادہ اچھے حالات میں ہیں۔۔۔
یہ افورڈ کر سکتے ہیں اور ہم پردیس میں رہنے والے پُھونک پُھونک کر خریدتے ہیں۔ ان جیسوں کے مانگنے کے انداز بھی حسین اور نرالے ہوتے ہیں بالکل رقاصہ جیسے۔۔ کچھ ماہ پہلے میرے پاس ان باکس ایک ماڈرن بھکاری آیا۔ ماڈرن اس لئے کہ محترم جوان خوبرو سُوٹڈ بُوٹڈ تھا۔ بدن پر جو سُوٹ تھا وہ ایک عام بندہ افورڈ نہیں کرسکتا ۔ وہی سوٹ والی پروفائل پکچر تھی۔۔اسی ڈی پی نے مجھے مجبور کیا کہ میں اس کی وال کو دیکھوں کہ آیا حق دار ہے یا پھر صرف ٹوپی ڈرامہ ہے۔وال چیک کی تو میری حیرت اور بڑھ گئی جناب ویسے تو مجھ سے تعلیم جاری رکھنے کے لئے پیسے مانگ رہے تھے لیکن وال چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ یہ تو ایک مالدار باپ کی اولاد ہے۔۔کھانا پینا، ہوٹلنگ سب وال سے جھلک رہا تھا۔ فیشن عروج پر تھا بال جیل سے لُتھڑے ہوئے تھے۔ چہرہ فیشل سے چمک رہا تھا۔ کان میں کوکا ،مہنگی گھڑی کلائی پر تھی۔ ایک آدھ تصویر ہوتی تو میں اتنی حیران نہ ہوتی لیکن وہاں کالج کے دوستوں گھر،فیملی  ،گھومنے پھرنے ہر طرح کی انجوائے منٹ یہ دعوتِ نظارہ پیش کر رہی تھی جبکہ کمنٹ میں مجھ سے لاکھ روپے کالج کے سمسٹر کی فیس کے لئے مانگے جارہے تھے۔

اسی طرح بہت سارے ان باکس مانگنے آئے لیکن میں مدد نہ کر سکی کیونکہ میرے لئے مدد کرنا اتنا آسان نہ تھا۔ لیکن ان جیسے بھکاریوں کی وجہ سے بہت سارے حق دار بھی اس حق سے محروم ہوجاتے ہیں اس کی تکلیف مجھے ہمیشہ دکھ دیتی ہے کیونکہ لوگوں کے دل میں عجیب سے وسوسے پیدا ہوجاتے ہیں اور نیکی دریا کی جگہ گندے نالے میں چلی جاتی ہے۔ ایسے ہی کچھ بھکارنیں بھی آپ کو فیس بک پر ملیں گی۔۔۔ جو دیکھنے میں میک اپ کے کمال سے حسین نظر آرہی ہوتی ہیں، بال بلونڈ ہوتے ہیں یا نئے فیشن کے نت نئے رنگوں میں ڈائی کئے ہوتے ہیں۔ لپ اسٹک کے شیڈز دعوتِ نظارہ پیش کر رہے ہوتے ہیں لیکن ان میں دو طرح کی بھکارنیں پائی جاتی ہیں۔۔۔۔ ایک تو فیس بک سے پیسے والے لڑکوں کو پھانستی ہیں۔ پیار و محبت کے کھیل کھیلتی ہیں ادائیں دکھاتی ہیں۔ ان میں سے اکثر این جی اوز چلا رہی ہوتی ہیں اور این جی اوز کے نام پر ہی پیسے مانگتی ہیں۔ کچھ محبت کے جال میں پھانس کر اپنے مجبور حالات کے رونے رو کر ٹھرکی عاشق سے پیسے مانگتی ہیں ۔۔ٹھرکی عاشق کی حالت پھڑپھڑاتے پرندے جیسی ہوتی ہے جواب میں وہ اپنی ڈیمانڈ ز پیش کرتا ہے۔ تُھڑ دل عاشق حسینہ کی ایک جھلک کے لئے اتنا اندھا ہوجاتا ہے کہ وہ سب کچھ کرنے کو تیار بھی ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھی کچھ محبت میں سنجیدہ بھی ہوجاتے ہیں یہ سوچے سمجھے بغیر کہ دوسری طرف یہ چڑیا اُڑ بھی سکتی ہے ۔ایسے معصوم عاشق محبوبہ کی کہی گئی باتوں پر اتنا اعتبار کرتے ہیں کہ اس کے مالی دکھ درد اور تکلیف کو دل سے محسوس کرتے ہوئے۔۔۔۔ اسے ہزاروں روپے بھجوا بھی دیتے ہیں ۔ جواب میں ڈائی والی اس حسینہ کی طرف سے بھی سلامی کے عِوض نذرانہ اِن جیسے مالدار ٹھرکیوں کو مل جاتے ہیں۔۔۔۔ لیکن حسینہ کچھ ماہ کے بعد یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتی ہیں کہ ابا نہیں مان رہے یا اب میرا شوہر مجھ پر نظر رکھ رہا ہے اور فیس بک اور وٹس ایپ کا پاسورڈ بھی اُس کے پاس ہے ۔ اگر تمہیں میری عزت کا اور اس محبت کا ذرا بھی پاس ہے تو جانُو آئندہ مجھے میسج مت کرنا۔۔۔۔ تمہارے بغیر میں بھی جی نہیں پاؤں گی اور دل پر پتھر رکھ کر گزارہ کر لوں گی۔۔

لیکن !! در حقیقت یہ حسینہ نئے شکار کی طرف بڑھ جاتی ہے۔ پھر وہی جال وہی طریقہِ واردات اور وہی کہانی کا اختتام ….
مجھے جب اس طرح کی خواتین کی اصلیت کچھ دوستوں سے پتا چلی تو یقین کیجئے شروع میں مجھے لگا وہ مرد ہی کمینہ ہے جو سارے مزے لے کر اس بیچاری شریف بچوں والی پر الزام لگا رہا ہے لیکن پھر ایک کے بعد دوسرے  نے وہی کہانی اس عورت کے بارے میں سُنائی تو مجھے دُکھ ہوا کہ اس عورت کی وال پر کہیں سے بھی نہیں لگ رہا کہ اسے پیسے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔جس کا شوہر اچھی پوسٹ پر ہو۔ بچوں کی جو تصاویر اپلوڈ ہیں۔۔ وہ بھی مہنگے کپڑوں میں نظر آرہے ہیں اور انگلش میڈیم سکول میں پڑھتے ہیں۔

بہت پہلے مجھ سے بھی ایک دو لڑکیوں نے رقم ان باکس مانگی تھی۔ یہاں ان کا نام نہیں لوں گی لیکن میں چاہ کر بھی نہ دے سکی کیونکہ اس کے مانگنے پر مجھے اپنے بہت سے قریبی یاد آگئے کہ جو حق دار ہیں اور میں ان کی مدد نہیں کر سکتی تھی کیونکہ مہنگائی اور سفید پوشی کے اونچے بَھرم رکھنے کے چکر میں میری تو خود کی   مشکل سے  پوری پڑتی ہے۔۔
پھر جب اِن لڑکیوں کے ڈائی بال اور فاؤنڈیشن سے اَٹا فیس اور مسکارا ، کاجل لپ اسٹک آنکھوں کے گرد گھومتی تھیں تو مجھے یہ احساس ھوتا تھا کہ کہ اگر ایسی حالت میری ہو تو میں سب سے پہلے اس طرح کے اَسراف سے خود کو دُور کروں گی ۔ جہاں تک ھو سکے گا ہر وہ خرچہ کم کروں گی۔ جس کی وجہ سے میں اس حالت تک پہنچی ہوں۔۔۔۔۔
ایسے لوگ اس طرح کے فیشن بھی جاری رکھیں اور گھومنے پھرنے کے چونچلے بھی چل رہے ہوں تو کس منہ سے یہ لوگ کسی سے بھی پیسے مانگ لیتے ہیں؟
آخر میں صرف اتنا کہوں گی کہ ان جیسے ماڈرن بھکاریوں اور بھکارنوں کی وجہ سے بہت سارے لوگ جو   سچ میں حق دارہیں۔۔۔ وہ بھی مشکوک ہو جاتے ہیں۔
اللہ ہم سب کو کبھی کسی کا محتاج نہ بنائے آمین سب کے لئے یہی دعا ہے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *