موو آن کرنا عقلمندی ہے کیا؟-خطیب احمد

پڑھائی کے فوراً بعد بہن بیٹی کی شادی ایسے گھرانے میں کریں جہاں ملازمت کرنے کی اجازت ہو۔ بے شک پہلے اچھے طریقے سے بات کر لیں۔ ملازمت کے انتظار میں شادی میں تاخیر نہ کریں۔ ملازمت مل گئی تو آپ کی یا آپکی بیٹی کی سوچ بدل جانی کہ اب ہمارا پرانا معیار نہیں رہا۔ رشتہ بھی اچھا چاہیے اور پانچ دس ایسے گزرنے آپ کو پتا بھی نہیں چلنا۔ پھر لوگوں کو یہ کہتے بھی سنا ہے کہ عمر 35 ہے مگر رشتہ والوں کو بتاتے 30 ہیں۔ کوشش کریں اس جھوٹ کی نوبت نہ آئے۔ شادی وہاں تک ڈیلے کریں جہاں تک عمر بتانے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے جھوٹ نا بولنا پڑے۔ آپ میری بات سمجھ رہے ہیں ناں؟ اگر شادی کرنی ہی نہیں تو واضح موقف اپنا لیں۔ یہ آپ کا اپنا فیصلہ ہے شادی کرنی کہ نہیں۔ کسی وجہ سے نہیں ممکن شادی کرنا تو بار بار رشتے کی امید لگا کر لوگوں کے سامنے آ آ کر پلیز اپنا جذباتی استحصال نہ کریں۔

یہی فارمولا طلاق کے بعد دوسری شادی کا بھی ہے۔ تنسیخ نکاح کو خلع نہ بتائیں۔ خلع کچھ اور ہے۔ وہ پاکستان میں نہیں ہوتا۔ یہاں یا تو عدالت نکاح منسوخ کرتی ہے یا خاوند طلاق دیتا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ ہم نے خود ہی خلع لے لی۔ بے شک فریق دوم سے طلاق ملی ہو۔ طلاق کی وجہ بھی لوگ پوچھتے ہیں یہاں بھی جھوٹ سے گریز کیا جائے۔ بلکہ وجہ بتانے سے ہی گریز کیا جائے۔ تنسیخ نکاح کے بعد سامان جہیز کا واپسی کا کیس کئی سال تک چل سکتا ہے۔ اس کا انتظار ہر گز نہ کیا جائے۔ طلاق کے بعد چھ ماہ سے ایک سال میں دوسری شادی کے لیے کوشش شروع کی جائے۔ دوسری شادی میں ایسا نہیں ہے کہ عورت ہی کچھ سمجھوتے کرتی ہے مرد بھی کرتے ہیں۔ حقیقت پسندانہ سوچ اپناتے ہوئے ایک دو چیزوں پر سمجھوتا کرکے شادی کر لیں۔ بچے پاس رکھنے ہیں یا خاوند کو واپس کرنے۔ یہ آپ کا ہی فیصلہ ہے۔ پاکستانی عدالت عورت کو ہی جائز و ناجائز فیور دیتی ہے۔

پاس اس وجہ سے رکھنے کہ ان کو ڈھال بنا کر باپ کو رگڑنا ہے تو یہ ایک نفسیاتی مرض ہے جو باپ کو تو رگڑے نہ رگڑے آپ کے ذہنی سکون اور صحت کو ضرور رگڑے گا۔ دین اسلام نے دوسری شادی میں عورت کو اپنا ولی خود متعین کیا ہے۔ وہ اپنے لیے بہتر فیصلہ والدین کی رضامندی سے خود کر سکتی ہے۔ نہ کہ بیچاری بن کر سالہا سال لوگوں کی ہمدردیاں اور ترس سمیٹتی رہے۔ جب شادی کا ارادہ کرے تو پچاس ساٹھ سال کے چاچے ہی اسے قبول کریں۔ جو اپنے بچوں کو بھی بیاہ چکے ہوں۔ یا ایسے لوگ قبول کریں جو نکاح کو خفیہ رکھنے اور بچہ پیدا نہ کرنے کی شرط پر نکاح کریں۔ کسی کی دوسری بیوی بننے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے مگر وہ مرد اپنی پہلی سمیت آکر ہاتھ مانگے۔ اس سے چھپا کر نہیں۔ اسے جب بھی پتا چلے گا آپ کو جب تک وہ طلاق نہ دلوا لے گی سکون سے نہ بیٹھے گی۔

طلاق شدہ لڑکیوں کی دوسری شادی میں سب سے بڑی رکاوٹ طلاق کے بعد لمبے عرصے تک کی بریک ہے۔ جس میں شادی کی عمر (ایسی شادی جیسی لڑکیاں چاہتی ہیں) گزر جاتی ہے۔ بعد میں سمجھوتے ہی بچتے ہیں جو وہ کرنا نہیں چاہتیں اور سنگل ماؤں کی تعداد میں ہمارے آس پاس الارمنگ حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ جتنا بھی خود کو مثبت اور مصروف رکھ لیں۔ لوگوں کے سوالات اور مبینہ طور پر اپروچ کرنے والے ہوس پرست مرد بہرحال پیچھا نہیں چھوڑتے۔ ایسے ایسے لوگ چھوٹے ثابت ہوتے ہیں جن کا ہماری نظر میں بہت بڑا قد ہوتا تھا۔

لڑکے والے بھی جہیز فوری واپس کریں۔ حیلے بہانے نہ کریں۔ حق مہر ادا نہ ہوا تو وہ بھی فوری واپس کریں جہاں سے مرضی کچھ بیچ کر ہی کیوں نہ ہو۔

طلاق کے بعد سالہا سال مخالف فریق کی برائیاں بیان کرنا اور اسکی کردار کشی کرنا ایک نامناسب اور سطحی رویہ ہے۔ وہ لڑکی ہو یا لڑکا نوے فیصد کیسز میں جس برائی کی وجہ سے طلاق ہوتی ہے۔ بعد میں وہ برائی چھوٹ جاتی ہے۔ بعد میں لوگ بہت بدل جاتے ہیں اور ان کو خود بھی اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے۔ یہ حادثہ دونوں فریقین کے لیے چھوٹا ہر گز نہیں ہوتا۔ دونوں میں بہت سی مثبت تبدیلیاں آتی ہیں۔

ایک اور بات کی جاتی ہے کہ کوئی بھی لڑکی طلاق نہیں لینا چاہتی یا اسکے والدین ایسا نہیں چاہتے۔ بکواس ہے۔ اپنی مرضی سے چھوٹی سی بات کر منہ سے مانگ کر یا عدالت میں جا کر کیس کرکے طلاق لیتی ہیں۔ اس فیصلے میں دونوں فریقین برابر ہیں۔ لڑکے پر بعد میں پولیس اور عدالت کو ساتھ ملا کر ایسے ظلم کراتی ہیں کہ رہے رب کا نام۔ جب کہ معاشرے میں ہمیشہ ہمدردی اور ترس ملتا عورت کو ہی ہے۔ کہ اسکے ساتھ ظلم ہوا۔ اسکا کیا ہوا ظلم جو سہتے ہیں وہی جانتے کہ وہ جب ظلم کرتی ہے تو کس حد تک چلی جاتی ہے۔

طلاق کے بعد کیس چلتا رہنے دیں۔ وکیل عدالت میں پیش ہوتا رہے گا۔ اپنی زندگی کا مقصد عدالتوں میں خوار ہونا ہر گز نہ بنا لیں۔ اپنی زندگی کا نیا باب شروع کریں۔ اگر شادی کرنی ہے تو فوری کریں۔ کسی وجہ سے نہیں کرنی تو واضح موقف اپنائیں اور وہ شہر یا ملک بدل لیں جہاں آپ کو مشورے دینے والے آپ سے طلاق کے دس سال بعد بھی تعزیت کرنے والے نمونے رہتے ہوں۔ آپ شکر کر رہے ہوتے کہ عذاب سے جان چھوٹی اور لوگ رونے والا منہ بنا کر افسوس کر رہے ہوتے   ہیں کہ بڑا دکھ ہوا سن کر وغیرہ وغیرہ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

باتیں اور بھی بہت ہیں پھر کبھی سہی۔ ایک آخری بات لڑکوں کے لیے۔ بچوں کے خرچ سے بھاگا نہ کرو ،موت نہ پڑ جایا کرے۔ پیسے زیادہ کماؤ ان کو بھی جائز مناسب خرچ دو اور اپنی مالی حالت بہتر کرو۔ نہ کہ جیل جاؤ یا جان بوجھ کر نفرت اور انتقام کے جذبات میں بھاگتے رہو یا تاخیر کرو کہ خرچ نہیں دینا بچے واپس ہی لینے ہیں کسی طرح۔ بہت کم کیسز میں بچے واپس ملتے ہیں۔ ان کے حصول پر سب کچھ لگا دینا بیوقوفی ہے۔ جہاں بھی رہیں ان کی دیکھ بھال اور نان و نفقہ خود اٹھائیں اور آگے بڑھ جائیں۔ کیا کہتے ہیں انگریزی میں Move on۔۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply