• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کامریڈ ڈاکٹرتقی ارانی شہید، ایران کا انقلابی مبارز۔۔ مشتاق علی شان

کامریڈ ڈاکٹرتقی ارانی شہید، ایران کا انقلابی مبارز۔۔ مشتاق علی شان

کامریڈ ڈاکٹر تقی ارانی ایران کی کمیونسٹ تحریک کا ایک اہم حوالہ ہے ۔4فروری 1940 کوئی 78سال گزرے جب رضا شاہ پہلوی کے بندی خانے میں اپنے عہد کے اس روشن دماغ انقلابی کوتاریکیوں کی نذر کرنے کے لیے زہر کا سہارا لیا گیا ۔ زہرجو عہدِ سقرط کے ایتھنز سے رضا شاہ کے تہران اور پھر آج کی طبقات میں منقسم دنیا تک میں ظلمات پرستوں کا آزمودہ نسخہ رہاہے ۔لیکن تاریخ اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ شوکران کے تلخ گھونٹ بھرنے کے بعد ان درخشاں چہروں پر جو ابدی مسکان نمودار ہوئی اس نے آنے والوں وقتوں میں ہر خوں آشام ریاست ، ہر جلاد صفت حکمران اورہر اسقف وزار سے لے کر ہٹلر ومسولینی ، فرانکو وپنوشے، ہر رضا شاہ پہلوی اور ہرداؤد خان سے لے کر ہر ضیا ء الحق تک کا تمسخر اڑایا ہے اور کل ہر شمشیر ابن شمشیر،ہر خمینی کے انجام پر ترقی پسند انسانیت کے زندگی سے بھرپور قہقہوں کو کوئی نہ روک پائے گا ۔ بقول شاعر
جب کہیں روئی ہے شاہی پھوٹ کر
میں ہنسا ہوں مرگِ زار وماتمِ چنگیز پر

کامریڈ ڈاکٹرتقی ارانی شہید کا شمار ایران کے ان ممتاز انقلابی مساعی پسندوں اور دانشوروں میں ہوتا ہے جنھوں نے ایران میں جدید کمیونسٹ تحریک کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔1920میں قائم ہونے والی کمیونسٹ پارٹی آف ایران ’’ حزبِ کمیونست ایران‘‘ کے پہلے جنرل سیکریٹری ،کامریڈ لینن کے ہم عصر اور کامریڈ اسٹالین کے قریبی ساتھی کامریڈ حیدر خان عمواوغلی کی شہادت (1921)اور پھر کمیونسٹ پارٹی کے خلاف رضا شاہ کے سفاکانہ کریک ڈاؤن کے بعد کامریڈ تقی ارانی ہی تھے جنھوں نے ایران میں کمیونسٹ تحریک کو نئی توانائی فراہم کرتے ہوئے محنت کش عوام میں مارکس ازم،لینن ازم کی ترویج میں کلیدی کردار ادا کیا ، اپنی سرگرمیوں کی پاداش میں قید وبند کی صعوبتوں کا سامنا کیا اور ایک دن زہر پیالہ پی لیا۔

5ستمبر1903کو تبریز (آزربائیجان )میں پیدا ہونے والے تقی ارانی نے ابتدائی تعلیم تبریز کے دارالفنون سے حاصل کی اور بعد ازں مزید تعلیم کے لیے جرمنی کے شہر برلن کا رخ کیا جہاں انھوں نے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے محنت مشقت بھی کی ۔ وہ برلن میں ایک فارسی پریس کے ساتھ بطور پروف ریڈر بھی وابستہ رہے ۔ کامریڈ تقی ارانی نے طالبعلمی کے زمانے میں اینگلو ایرانی معاہدے کے خلاف احتجاجی تحریک سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا ۔1919میں ہونے ولا یہ معاہدہ دراصل برطانیہ کی طرف سے ایران کو مصر اور عراق کے طرز پر اپنی باجگزار ریاست بنانے اور سوویت انقلاب کے خلاف ایران کو اپنا مستقل اڈہ بنانے کی پالیسی کا حصہ تھاجس کے خلاف جیلان اورایرانی آزربائیجان میں سب سے زیادہ ردِ عمل ہوا۔ کامریڈ ارانی برلن میں قیام کے زمانے میں اشتراکی افکار سے متاثر ہوئے اوراسی زمانے میں ان کے جرمنی میں مقیم ایران کے کئی ایک جلاوطن انقلابیوں سے روابط استوار ہوئے جن کا تعلق ایران کی کمیونسٹ پارٹی سے تھا ۔اس زمانے میں یہ ایرانی کامریڈ جرمنی سے فارسی زبان میں دو انقلابی جریدے ’’ ستارہ سرخ ‘‘ اور ’’پیکار‘‘ شایع کرتے تھے جنھیں ایران میں خفیہ طور پر تقسیم کیا جاتا تھا۔ ڈاکٹر تقی ارانی جب 1930میں تعلیم مکمل کر کے ایران لوٹے تو ان کے پاس صرف کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری ہی نہ تھی بلکہ یہ غیر معمولی دانشور مارکس ، اینگلز ، لینن اور اسٹالین کے انقلابی افکار بھی بخوبی جذب کر چکا تھے اور اس کے بموجب ایران میں اپنے انقلابی فریضے کی تکمیل کے لیے تیار تھا ۔

کامریڈ تقی ارانی کہنے کو تو تہران یونیوورسٹی کے پروفیسر تھے لیکن ان کی اصل وجہ شہرت ایک ایسے ہر دلعزیز انقلابی استاد کی تھی جو ایران کی تاریخ میں کمیونسٹ تحریک کے ایک نازک موڑ پر سامنے آئے تھے ۔یہ وہ زمانہ تھا جب رضا شاہ اپنی شہنشاہیت مضبوط کرنے کے بعد ایرانی کمیونسٹوں کو اپنے لیے اصل خطرہ سمجھتے ہوئے ان کے خلاف پے درپے کاررائیوں میں مصروف تھا ۔
یہاں اس امر کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ یہ ایران کے دین فروش اور ہر چڑھتے سورج کے پجاری ملا ہی تھے جنھوں نے رضا شاہ کی پہلوی شہنشاہیت کی راہ ہموار کی تھی۔ قاچاری خاندان کی 131سالہ شہنشاہیت کے خاتمے کے بعدمارچ 1924میں یہ قم کے مجتہد تھے جنھوں نے یہ فتویٰ صادر فرمایا کہ اسلام میں ری پبلک بنانے کی اجازت نہیں ہے اس لیے رضا خاں نامی نیم خواندہ سالار جوانگریزوں کی ساز باز سے پہلے ہی بادشاہ گر کے فرائض سرانجام دے رہا تھا اس نے رضا شاہ پہلوی کا لقب اختیار کرتے ہوئے بادشاہ بننے میں دیر نہیں کی ۔اسی رضا شاہ نے قزاق ڈیژون کے سالار کے طور پر 1920میں جیلان میں قائم ہونے والی ایران کی تاریخ کی پہلی جمہوریہ ’’جیلان سوویت‘‘ اور بعد ازاںآزربائیجان کی انقلابی تحریکوں کو کچلا تھا ۔ یہ وہی جیلان سوویت تھی جو کمیونسٹ پارٹی آف ایران نے ایرانی وطن پرستوں کے ساتھ متحدہ محاذ کی صورت میں قائم کی تھی ۔ ایران کی سالمیت وآزادی کا تحفظ ،برطانوی سامراج کے خلاف اعلانِ جنگ ، جمہوری حکومت کا قیام ،تمام سامراجی معاہدوں کی منسوخی ،ایران میں بسنے والی تمام قوموں کے لیے مساوی حقوق اور جاگیرداری کا خاتمہ اس کا منشور تھا ۔اس متحدہ محاذ میں پھوٹ ڈالنے کے لیے برطانیہ نے متحدہ محاذ کے ایک رہنمامرزا کوچک خاں سے ساز باز کی جس کے نتیجے میں 1921میں کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری کامریڈ حیدر خان عمواغلی قتل کر دیے گئے اور پھر رضا شاہ کی قیادت میں جیلان سوویت کو خاک وخوں میں ملا دیا گیا ۔

رضا خاں کی کمیونسٹ دشمنی کا اندازہ اس ایک واقعہ سے لگانا کافی ہے کہ جب 31اکتوبر1925کو اس نے ایران کا شہنشاہ ہونے کا اعلان کیا اسی روز اس کے حکم سے کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان جریدے ’’نصیحت‘‘ کے مدیر کامریڈ مرزایحییٰ ویاز کیوانی کو برسر عام گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ۔یہ گویا مسندِ اقتدار پر براجمان ہوتے ہی ایرانی کمیونسٹوں کے خلاف اس کے عزائم کا اعلان تھا ۔جیلان سوویت کے خاتمے کے بعدکامریڈ مرزا محمد اخونزادے کی قیادت میں کمیونسٹ پارٹی کے اراکین کی تعداد پندرہ سوکے قریب تھی ۔ پارٹی ایرانی محنت کشوں کو ٹریڈ یونین میں منظم کرنے میں اور کسانوں کوجاگیرداروں کے خلاف کسانوں کو منظم کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کر رہی تھی ۔1921-22 میں کمیونسٹ پارٹی نے مختلف صنعتوں کے ایرانی محنت کشوں کی ٹریڈ یونینوں کی فیڈریشن’’سنیٹرل کونسل‘‘ کے نام سے قائم کی جس کی ممبر شپ 1925تک تیس ہزار سے زائد ہو چکی تھی۔اس فیڈریشن کی قیادت میں ایرانی تاریخ کی زبردست ہڑتالیں کی گئیں ۔عورتوں کی کئی ایک انقلابی تنظیمیں قائم کی گئیں جن میں ’’ جمعیت پیک ساداتِ نسواں‘‘،’’ بیداری ء زنان‘‘ اور ’’نسوانِ وطن خلق‘‘ شامل تھیں ۔کمیونسٹ پارٹی کی ثقافتی تنظیم ’’انجمن پرورش‘‘ اور اس کی متعدد شاخیں ’’ چراغِ نمائش‘‘،’’ چراغِ موسیقی‘‘ اور ’’چراغِ ادبی ‘‘ فعال تھیں جنھوں نے محنت کار ایرانی عوام کے ساتھ ساتھ ترقی پسند شعرا،ادبا اور دانشوروں کو اپنی جانب متوجہ کیا ۔’’انقلاب، سرخ‘‘،حقیقت ‘‘،’’کار‘‘،’’پیکان‘‘،’’خلق ‘‘،’’’چراغے‘‘،’’نصیحت‘‘ ،’’عدالت‘‘،’’ایرانِ سرخ‘‘ ،’’پیکار‘‘ ،’’نہضت‘‘ ،’’اقتصادِ ایران‘‘ اور ستارہ ء سرخ ‘‘ سمیت کئی ایک انقلابی رسائل واخبارات کی باقاعدہ اشاعت کے ذریعے پارٹی ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام سے اپنا تعلق جوڑتی جا رہی تھی ۔

یہ تھے وہ حالات جن میں رضا شاہ نے کمیونسٹ پارٹی کے خلاف اپنے منصوبوں پر بتدریج عمل درآمد کا فیصلہ کیا ۔’’سرخ خطرے‘‘ کے پیش نظر رضاشاہ نے کمیونسٹ پارٹی کے تمام رسائل وجرائد کی اشاعت پر پابندی لگا دی ۔پارٹی کے رہنما کامریڈ اخونزادے سمیت متعدد رہنماؤں اور متحرک کارکنان کی گرفتاریوں ،سزائے قید اور تشدد کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔اس صورتحال کے پیش نظر کمیونسٹ پارٹی آف ایران زیر زمین انقلابی جدوجہد کرنے پر مجبور ہوئی ۔1926میں کامنٹرن کے اجلاس میں کامریڈ اخونزادے نے کمیونسٹ پارٹی آف ایران کی نمائندگی کی ۔اگلے سال ستمبر میں پارٹی کی زیر زمین کانگریس منعقد ہوئی جس میں ایران کو برطانوی سامراج کے جوئے تلے ایک نیم نوآبادیاتی ملک قرار دیاگیا۔1929تک گوناگوں مشکلات کے باوجود پارٹی نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔اس سال دوسری کانگریس کے فیصلے مطابق برٹش آئل کمپنی کے خلاف ٹریڈ یونین کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کا آغاز کیا گیا ۔کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں منظم مزدوروں کی طاقت سے لرزاں رضا شاہ نے 29اپریل کی رات ٹریڈ یونین قیادت کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا اور سو کے قریب مزدور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ۔یکم مئی منانے پر پابندی عائد کر دی گئی جس کے خلاف چار مئی 1929کو آئل ریفائنری کے نو ہزار مزدوروں نے محنت کشوں کے عالمی گیت ’’ انٹرنیشنل‘‘ کی گونج میں اپنی تحریک کا آغاز کیا جس کے بنیادی مطالبات میں اجرتوں میں پندرہ فیصد اضافہ، یونین سازی اور اجتماعی سوداکاری کا حق تسلیم کرنا ،یکم مئی کو محنت کشوں کے دن کے طور پر منانا ،بارہ کی بجائے آٹھ گھنٹے اوقات کار،شرائطِ ملازمت وبرخواستگی میں مزدوروں کی مشاورت شامل تھے ۔شاہ کی پولیس نے اس جلوس پر حملہ کر کے اسے پر تشدد مظاہرے میں تبدیل کر دیا جس کے بعد یہ جدوجہد ایران کے دیگر شہروں تک پھیل گئی ۔یوں کمیونسٹ پارٹی اور ٹریڈ یونین کے سینکڑوں کارکنوں کی گرفتاریوں ، قتل وغارت اور جلاوطنیوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا ۔اس زمانے میں شاہ کی پولیس کے جاسوس کمیونسٹ بن کر پارٹی میں سرائیت کرنے میں کامیاب ہوئے جس سے پارٹی کا ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔لیکن رضا شاہ اس صورتحال سے مطمئن نہ تھا وہ ایران سے کمیونسٹوں کا نام ونشان مٹانے کادرپے تھا جس کے لیے اس نے یکم جون 1931کو بدنام زمانہ’’ اینٹی کمیونسٹ ایکٹ‘‘ کے ذریعے کمیونسٹ پارٹی آف ایران کو کالعدم قرار دیا ۔1930کی دہائی کے آغاز میں صورتحال یہ تھی کہ کمیونسٹ پارٹی آف ایران کے متعدد رہنما یا تو شاہ کی جیلوں میں قتل کیے جاچکے تھے یا پھر اعدام ہونے ( سزائے موت) کے منتظر تھے ۔جب کہ کامریڈ اخونزادے سمیت کچھ سوویت یونین میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے ۔

اس پس منظر میں کامریڈ تقی ارانی جب جرمنی سے ایران پہنچے تو انھوں نے کمیونسٹ پارٹی آف ایران کو از سرِ نو منظم کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔انھوں نے سب سے پہلے یونیورسٹی اور کالجوں کے ترقی پسند طلبااور باہر سے پڑھ کر آنے والے نوجوانوں کو منظم کرنا شروع کیا جنھوں نے بعدمیں ایران کی انقلابی تحریک میں اہم کردار ادا کیا ۔کامریڈ ارانی ایک طرف پارٹی کیڈرز کی تیاری کا کام کرتے رہے تو دوسری جانب انھوں نے مارکسی ،لیننی افکار کی تشہیر کے لیے جنوری 1934میں ’’دنیا ‘‘ کے نام سے ایک رسالے کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا ۔اس رسالے نے جہاں ایران میں انقلابی افکار کی ترویج میں کلیدی کردار ادا کیا وہاں ڈاکٹر تقی ارانی بھی ملک کے ایک ہردلعزیز انقلابی دانشور کے طور پر ابھرے ۔
کامریڈ تقی ارانی کے فکروعمل کا اعتراف ان کے ایک نظریاتی مخالف لکھاری ذبیح نے یوں کیا کہ ’’ بے شمار خطرات کے باوجود ارانی کا گروہ دانشوروں کے دلوں میں گھر کرتا گیا اور جوں جوں یورپ سے تعلیم مکمل کر کے طلبا ایران واپس آتے گئے ان کی تعداد بڑھتی گئی ۔ان کے رسالے ’’دنیا‘‘ نے شدید قسم کے مابعدالطبیعاتی مخالف فلسفے کی پیروی کی ۔اس کی پالیسی میں تاریخ کی مارکسی تشریح اور سیاسی فلاسفی کو اپنا شعار بنایا گیا۔تقی ارانی ایران کا وہ پہلا لکھاری تھا جس نے مارکسی تھیوری کو سائنس کی دیگر شاخوں میں ایک سلسلہ وار کتابوں کی شکل میں عین سائنسی طور پر متعارف کرایا ۔اس حد تک وہ بنیادی طور پر ایک سائنس دان کے طور پر معترف ہوا نہ کہ ایک پروپیگنڈاکرنے والے کے طور پر۔وہ دعویٰ جس کی تصدیق و توثیق اس کی تربیت اور تدریسی پیشے سے ہوتا ہے۔ بیک وقت اس کے پیروکار اسے محض ایک ایسا دانشور نہیں سمجھتے تھے جو جدید سائنسی عمرانی اور سیاسی ذمہ داریوں کے لیے وقف ہو بلکہ وہ اسے مارکس اور لینن کے اصولوں کو ملکی اور عالمی سماجی مسائل کے حل اور اس کے لیے محنت کش عوام کی جدوجہد سے خود کو مربوط کرنے والا ایک ایسا سچا مارکسسٹ انسان دوست سمجھتے تھے جو انھیں ان کے حقیقی حقوق سے بہرہور کر سکے ۔‘‘

ڈاکٹر تقی ارانی، ان کے انقلابی رفقا اور دنیا رسالے کو رضا شاہ نے اپنے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر محسوس کیا ۔اسے اس امر کا بخوبی ادارک تھا کہ کمیونسٹ پارٹی جسے وہ اپنے تئیں مکمل طور پر تباہ کر چکا ہے ڈاکٹر تقی ارانی کی شکل میں اسے ایک نئی زندگی ملی ہے ۔ وہ اس امر پر بھی بخوبی وارد تھا کہ ڈاکٹر تقی ارانی کی عوامی مقبولیت دراصل ایک فرد کی نہیں بلکہ ایران میں کمیونسٹ پارٹی اور مارکسی ،لیننی افکار کی مقبولیت ہے جس کا بروقت انسداد ناگزیر ہے ۔1935میں رضا شاہ نے ’’دنیا‘‘ پر پابندی عائد کر دی لیکن یہ 1936کے اوخر تک خفیہ طور پر شایع ہو کر تقسیم ہوتا رہا ۔تاوقتیکہ کہ’ ’گروہ پنجوہ سرنفر‘‘ کے نام سے ڈاکٹر تقی ارانی کو ان کے 52رفقاء کے ہمراہ گرفتار کر لیاگیا ۔ انھیں دو سال بغیر مقدمہ چلائے جیل میں رکھا گیا ۔ رضا شاہ چاہتا تھا کہ حسبِ سابق ان انقلابیوں کو بھی جیل میں ہی ایک ایک کر کے قتل کر دیا جائے لیکن ڈاکٹر تقی ارانی کی عوامی مقبولیت اور رائے عامہ کے دباؤ کے تحت وہ اس منصوبے پر عمل درآمد نہ کر سکا ،یوں بہ امر مجبوری نومبر1938میں ایک فوجی جنرل کی سربراہی میں خصوصی عدالت قائم کی گئی اور ڈاکٹر تقی ارانی کے’ ’گروہ پنجوہ سرنفر‘‘ کے خلاف ’’ایران میں کمیونزم کے پرچار‘‘ کا مقدمہ چلایا گیا ۔

11نومبر1938کو کامریڈ ارانی نے اس نام نہاد عدالت میں اپنے دفاعی بیان کو انتہائی جرات سے جدلی وتاریخی مادیت کے فلسفے کے حق اور تشہیر کی ایک زبردست تقریر میں تبدیل کر دیا ۔ انھوں نے مارکسزم ،لینن ازم کا دفاع اور اسے ایرانی محنت کش عوام کی نجات کا راستہ قرار دیتے ہوئے رضا شاہ کے ’’اینٹی کمیونسٹ ایکٹ‘‘ کو انصاف کے ہر اصول کی نفی اور غیر آئینی اقدام قرار دیا ۔ انھوں نے عدالت سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’یہ عدالت چونکہ سرکار کی آلہ کارہے اور پولیس کی ملی بھگت سے انقلابیوں کے خلاف کام کر رہی ہے اس لیے یہ انھیں سزا دینے کی اہل نہیں ہے ۔‘‘
لیکن رضا شاہ کی اسی نااہل عدالت نے ڈاکٹر تقی ارانی کو پندرہ سال کی سزائے قید سنائی ان کے باقی کامریڈز کو بھی تین تا پندرہ سال کی سزائیں سنائی گئیں ۔ رضا شاہ اس وقت تو کامریڈ ارانی کو قتل نہ کرسکا لیکن ہر مخالف سے چھٹکارہ اس کا خاصہ تھا ۔کامریڈ ارانی کے قتل کی راہ میں اس کی عوامی مقبولیت حائل تھی اس لیے ان کے قتل کا بالواسطہ طریقہ اختیار کیا گیا اور اس کے لیے ان کو سزائے قید سنائے جانے کے بعد سوا سال مزیدانتظار کیا گیا۔4فروری 1940کو جیل حکام نے ان کی کوٹھڑی میں ایک مہلک زہر کا اسپرے کیا جس سے ان کی موت واقع ہو گئی ۔اس وقت کامریڈ تقی ارانی کی عمر محض ب38سال تھی ۔رضا شاہ نے اس قتل کو ’’قدرتی موت‘‘ قرار دے کر ایران کے انقلابیوں سے ایک ایسا توانا ذہن چھین لیا جس نے ایرانی محنت کار عوام کی طبقاتی جدوجہد کو ابھی نت نئے راستوں اور منزلوں سے روشناس کرنا تھا۔

یہ ایرانی کمیونسٹ تحریک پر ہونے والا ایک بڑا وار تھا لیکن رضا شاہ کی جیل میں قید کامریڈ تقی ارانی شہید کے رفقا نے اپنے شہید استاد کا مشن جاری رکھنے کی قسم کھائی تھی ۔دوسری عالمگیر جنگ کے دوران رضا شاہ ہٹلر کے فسطائی سورج کے سامنے سربسجودتھا ۔اب وہ برطانیہ کی جگہ جرمنی کو اپنے نئے آقا کے طور پر دیکھ رہا تھا 1941میں اس کی فاشسٹ نواز سرگرمیوں کے انسداد کے لیے سوویت یونین اور برطانیہ کی فوجیں ایران میں داخل ہوئیں لیکن یہاں بھی برطانیہ اپنے پرانے نمک خوار کو تخت سے ہٹا کر باحفاظت جنوبی افریقہ بھیجنے اور اس کے بیٹے محمد رضا شاہ کو تخت نشین کرانے میں کامیاب رہا ۔
رضا شاہ کی معزولی کے بعدسارے سیاسی قیدی رہا کر دیے گئے جن میں کامریڈ تقی ارانی شہید کے 52انقلابی رفقا شامل تھے ۔اپنی رہائی کے محض دس دن بعد کامریڈ تقی ارانی کے یہ تربیت یافتہ کامریڈ ہی تھے جنھوں نے 29ستمبر1941کو تہران میں ایک اجلاس منعقد کرتے ہوئے تمام کمیونسٹوں کو جمہوری حقوق کی بحالی کی جدوجہد میں واپس لانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی اور اس کا پروگرام منظور کیا ۔2اکتوبر 1941کو حزب تودہ ایران’’فسطائیت کے خلاف جہاد‘‘ کے نعرے کے ساتھ ایران کے صحنہ ء سیاست میں ’’کمیونسٹ پارٹی آف ایران ‘‘ کے تسلسل کے طور پر نمودار ہوئی ۔کامریڈ ارانی کے ساتھیوں نے اپنی قسم پوری کرتے ہوئے کامریڈ تقی ارانی کے کمیونسٹ پارٹی کے خواب کو تعبیر کا جامہ پہنایا۔ ڈاکٹر محمد بہرامی،عبدالصمد کبخش،ایرج سکندری،ڈاکٹر احسان طباری، ،نوالدین الاموتی،ڈاکٹر رضا ردمانیش،مرتضی یزد ی سمیت یہ سارے وہ کامریڈ تھے جنھوں نے تودہ پارٹی کی تشکیل اور اس کی قیادت کی ۔ کامریڈ تقی ارانی کے ایک ساتھی کامریڈ ایرج سکندری بعدازاں تودہ پارٹی کے جنرل سیکریٹری بھی منتخب ہوئے ۔یہی تودہ پارٹی تھی جس نے بعد میں کامریڈ خسرو روزبہ،کامریڈ رزمی، کامریڈ موسم زادے ،نور الدین کیانوری جیسے کئی ایک انقلابی مبارز پید اکیے۔یہی پارٹی تھی جس نے عالمی کمیونسٹ تحریک کی تاریخ میں انقلابی جدوجہد اور قربانیوں کے روشن ابواب ورثے کے طور پر چھوڑے ۔ لیکن رضا شاہ کے بعد اس کے بیٹے محمد رضا شاہ ، کی فسطائیت، اس کی گسٹاپو طرز پر منظم کی گئی خفیہ تنظیم ساواک کے

مظالم اور قتل وغارت کے طوفانوں کے سامنے ڈٹ جانے والی،اس کے انجام میں اپنا قابل فخر حصہ ڈالنے والی تودہ پارٹی ایک وقت میں اپنی حکمتِ عملی کی خامیوں کے باعث فاشسٹ خمینی رژیم کے ہاتھو ں یوں تتر بتر ہوئی کہ ایران میں اس کے لیے اپنا وجود رکھنا بھی ممکن نہ رہا ۔ اس کی چوٹی کے رہنما یا تو خمینی کی جیلوں میں قتل کر دیے گئے ، خمینی کے قاتل دستوں کا نشانہ بنے یاپھر ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیے گئے ۔لیکن تاریخ اپنی خامیوں ،غلطیوں اور کوتائیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا نام ہے ۔تہران کے قریب ابنِ ببویہ کے قبرستان میں محوئے خواب کامریڈ ڈاکٹر تقی ارانی کی انقلابی روح کا رقص پہلوی شہنشائیت کے مردار پر دنیا دیکھ چکی اور وہ وقت یقیناََ آئے گا جب یہ رقص ایک بار پھر ایران کی فسطائی ملائیت کے لاشے پر دیکھا جائے گا ۔

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *