عقیدت کی کن پٹیاں ۔۔۔سیٹھ وسیم طارق

کن پٹیاں ! ایک ایسا پہناوا یا اوزار ہے کہ جسے  ریڑھی بان اپنے گدھے کو راہ راست پہ رکھنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ وہ گدھا اردگرد کے ماحول سے بے خبر و بےپرواہ ناک کی سیدھ میں چلتا رہتا ہے اور تب تک چلتا رہتا ہے جب تک کہ مالک مڑنے کا حکم نہ دے۔ کہاں جانا ہے اور کس راستے سے جانا ہے اس کا فیصلہ گدھے کا مالک ہی کرتا ہے۔ مالک کے بتائے ہوئے راستے پہ چل چل کر اس میں ایسا سدھار پیدا ہو گیا ہوتا ہے کہ ایک وقت آتا ہے جب مالک سامان لاد کر صرف ایک تھپکی ہی دیتا ہے اور گدھا صاحب خیالی کن پٹیوں کے سہارے رٹے رٹائے راستے سے ہوتے ہوئے منزل مقصود پہ جا کے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

یہ تو ہوا گدھا عقل سے محروم، لاشعور، بے زبان کہ جس کو راہ راست پہ چلنے کے لئے کن پٹیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن یہ میں کیا دیکھتا ہوں کہ عقل والوں نے بھی اپنی آنکھوں پہ خیالی کن پٹیاں باندھی ہوئی ہیں۔ انہی خیالی کن پٹیوں کے سہارے وہ چلتے جا رہے ہیں۔ بنا سوچے سمجھے، غوروفکر کیے بغیر جو وراثت میں ملا اسی رٹے رٹائے راستے پہ چلتے جا رہے ہیں۔ راستے میں ملنے والا کوئی راہبر، کوئی اہل علم اگر ہاتھ پکڑ کر تھوڑی سی ڈائریکشن تبدیل کروانا چاہے تو اس کی ڈائریکشن کو سمجھے بغیر اس سے جھگڑنے لگ جاتے ہیں۔ “ہمارے باپ دادا اسی راستے پہ چلتے تھے تم کون ہوتے ہو ہمارا رستہ تبدیل کرنے والے ۔۔۔۔ ہمارے بزرگوں نے ہمیں یہی بتایا ہے ہم یہی کریں گے ۔۔ کیا ہمارے باپ دادا غلط تھے؟؟ وغیرہ وغیرہ۔

آنکھ کھلی تو پتا چلا کہ گھر اسلامی ہے۔ (الحمداللہ ۔۔ یہ اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اس پہ شکر بجا لانا چاہئے۔ یہ میرا عقیدہ ہے)۔ تھوڑے بڑے ہوئے تو مولوی صاحب نے اپنی کن پٹی کے رنگ کی ایک چھوٹی سی خوبصورت کن پٹی ڈال دی۔ اور ساتھ تنبیہ کر دی کہ خبردار کسی دوسرے رنگ کی کن پٹی نا پہن لینا اور نا ہی اس کو اتارنا ۔۔۔ اللہ ناراض ہو جائے گا۔ چار پانچ سال ایسی تربیت چلتی رہی۔ بچہ سدھر گیا اب وہ سیدھے رستے پہ ہی چلتا ہے۔ چلتا تو سیدھا ہے لیکن اہل عقل ہونے کے ناطے اس میں ایک اضافہ یہ ہوا کہ اس کے دل میں دوسرے رستے پہ چلنے والوں کیلئے بہت غصہ پیدا ہو گیا۔ وہ دوسروں کو دھتکارتا ہوا منزل کی جانب بڑھتا ہے۔ حالانکہ وہ یہ بات جانتا ہے کہ منزل سب کی ایک ہی ہے۔ سب نے ایک ہی جگہ اکھٹے ہونا ہے لیکن غرور صرف اس بات کا ہے کہ جس راستے سے میں جا رہا ہوں یہی سیدھا راستہ ہے۔ سب کو اسی راستے سے چلنا چاہئے۔

یوں ایک منزل کے مسافر ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے مخالف، کافر، کافر، یہ بھی کافر، وہ بھی کافر، جو نہ مانے وہ بھی کافر نعرے لگاتے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کی بات کو سمجھے بغیر صرف اس لیے رد کر دیا جاتا ہے کہ تمہاری کن پٹیاں مختلف ہیں۔ تم ہم میں سے نہیں ہو۔ اہل عقل ہوتے ہوئے بھی بے عقلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کسی دوسرے کی بات کو سنو ، تحقیق کرو پھر فیصلہ کرو کہ کس نے کن پٹیاں غلط پہنی ہیں۔ صرف اپنی کتابیں اور اپنوں سے ہی سن کر فیصلے کرنا حماقت ہے۔ اور میرے خیال میں تفرقہ بازی کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔

اصل میں قصور ان کا نہیں ان کن پٹیوں کا ہے۔ جس نے سب کو ایک دوسرے سے مختلف کر دیا ہے۔ ہر ایک کن پٹی کی اپنی ایک پہچان بن چکی ہے۔ جو کہ اب چاہ کر بھی ختم نہیں ہو سکتی۔ کسی کی سفید ہے تو کسی نے ہرا رنگ چڑھایا ہوا ہے۔ کسی کو ہم پاوں کے پائنچے دیکھ کر پہچان لیتے ہیں تو کسی کی داڑھی کی لمبائی اس کے بارے سب کچھ واضح کر دیتی ہے۔ کسی کے ٹوپی پہننے کا طریقہ منفرد ہے تو کسی کے بولنے کے انداز سے ہم اس کی سوچ کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ کوئی مسجدوں میں اللہ اکبر کا کہنے کا عادی ہے تو کوئی بازاروں میں بآواز کہنے کا حامی ہے۔  یہ سب عقیدت کی کن پٹیاں ہیں جو ہمیں پہنائی گئیں تھیں اور ہم نے پہن لیں ہیں۔نہ ہم مسلمان بن رہے ہیں اور نہ ہی پاکستانی سب ایک دوسرے کو روندتے اور پچھاڑتے ہوئے چلے جا رہے ہیں چلے جا رہے۔

اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔ آمین

Avatar
سیٹھ وسیم طارق
ھڈ حرام ، ویلا مصروف، خودغرض و خوددار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *