جا آوئے بھٹی۔۔۔۔سلیم مرزا

میرا مریدکے میں کوئی نہیں، عجیب شہر ھے، کنوں تول کے بکتے ھیں، ایک کلومٹن کڑاھی، بتا کر آٹھ سو گرام دیتے ھیں، اندرون شہر بس ایک بار پہلوان ھڈی جوڑ والے کے پاس گیا ھوں ،عائشہ کا بازو ٹوٹ گیا تھا، پہلوان مجھ سے ناراض ھوگیا ، جب میں نے انتہائی رازداری سے پوچھا
“پرانی چوٹوں پہ بھی پٹی کر دیتے ھو “؟
آج مجبورا ً آنا پڑا ایک فیس بک فرینڈ عمران حیدر کی نماز جنازہ میں شرکت کرنی تھی، شائد نہ آتا اگر بھٹی میسینجر پہ اصرار نہ کرتا، بھٹی میرا اور عمران کا میوچل فرینڈ ھے، مریدکے کا ھی رھنے والا ھے، مزاح لکھتا ھے، مجھے استاد جی کہتا ھے، چنانچہ ایک شکار میں دو تیر مارنے چلا آیا،
بھٹی نارووال چوک میں کھڑا تھا، شائد میں نکل جاتا مگر وہ تقریبا گاڑی کے سامنے آگیا،
گاڑی میں بیٹھتے ھی اس نے ھنس کر مجھ سے حال احوال پوچھا ۔میں نے قدرے سنجیدگی سے جواب دئیے، وہ عمران حیدر کا لنگوٹیا تھا، مجھے اس کے دکھ کا اندازہ تھا، بڑا آدمی لگا مجھے ،دکھ چھپانے کا ماھر،
“آپ بہت اچھا لکھتے ھو “اس نے مسکرا کر کہا
“تم بھی تو کم نہیں ،اور کتنا ھے آگے “میں نے جواب دیتے ھوئے پوچھا۔
“بس پانچ سات کلومیٹر اور ، فوزیہ قریشی آپ کی کب سے دوست ھے “؟
میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا، اس کے چہرے پہ کوئی تاثر نہیں تھا،
“ایک سال سے شائد ،کل وہ بہت رو رھی تھی ،دس پندرہ منٹ بات بات روتی رھی “میں نے بھٹی کو بتایا
“میری تو آپ سے پرانی دوست ھے ،پاگل ھے،روتی کتنی عجیب لگتی ھو گی ؟” بھٹی نے یہ کہہ کر قہقہہ لگایا، میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، کیسا شخص ھے شکر ھے اسے یہ نہیں بتایاکہ وہ پندرہ منٹ میں دھاڑیں مار مار رویا ھوں، میرے بیوی بچے کچھ جانے، سمجھے بغیر میرے ساتھ روئے ھیں،
انعام رانا جھوٹ بولتا ھے، فیس بک پہ ھم فیملی ھیں، اپلیکیشن فیملی نہیں ھوتی،
“تم نے یو ٹرن چھوڑ دیا “وہ ایکدم چلایا، میں نے جواب نہیں دیا کیونکہ اب آگے سے ھی گھوم کر ھی آنا تھا،
“یہ لالہ عارف واقعی بہت بڑا کھلاڑی ھے ” ؟اس نے مجھ سے مسکرا کے پوچھا،
“خالص پٹھان ھے ، ھر کام خلوص سے کرتا ھے ”
بائیں ھاتھ ایک بازار میں مڑ کر، تھوڑا ھی آگے جانے پہ جنازہ نظر آگیا،
“وہ رھا آپ کا کارٹون “وہ اچھل کر بولا،
تب بھٹی مجھے برا لگا، لوگ دکھ نہ بھی ھو تو دکھی چہرہ بنا لیتے ھیں، مگر یہ مسلسل مسکرا رھا ھے، ٹھیک ھے مزاح لکھتا ھے، میں بھی لکھتا ھوں، مگر ضروری نہیں کہ بے محل اظہار کیا جائے
گاڑی ایک طرف کھڑی کرتے، اترتے،
لوگ صف بندی کر چکے تھے،
“ؤضو کر نا ھے “؟ اس نے تھوڑی سی سنجیدگی سے پوچھا،
“نہیں، تم نے “؟
“میں فل نہا کر آیا ھوں ” فل، پہ اس نے ایک آنکھ بھی ماری شائد ،کچھ لوگ واقعی لا علاج ھوتے ھیں، میں یہ سوچ کر صف کی طرف بڑھا تو وھیں کھڑا رھا،
“میں جنازہ نہیں پڑھوں گا “اس نے میرے سوالیہ انداز میں دیکھنے پہ جواب دیا
“کیوں “؟
“ضیا ناصر نے کہا ھے یہ ھمارے مسلک کا نہیں ، تم جاؤ ،میں کسی سے ایک دو سیلفیاں بنوالوں “اب بھٹی مسکرا نہیں رھا تھا مگر طنز کی کاٹ بہت تیز تھی ،مولوی تقریر کر رھا تھا، میرے دل میں جو آرھا تھا اگر میں بھٹی کو سنا دیتا تو میرا وضو ٹوٹ جاتا،
نماز اور دعا کے بعد لوگ چہرہ دیکھ رھے تھے، بھٹی قریب، آگیا پتہ نہیں کیوں مجھے اب مجھے اچھا نہیں لگ رھا تھا، میں نے عمران کی تصویر لی۔
“عارف خٹک کیلئے پپی نہیں لو گے، کل تو کمنٹ میں لکھا تھا تم نے “؟
میں نے عمران کے چہرے کو غور دیکھا، اس کی ناک سے رستے لہو کو سہا ،لالہ کے پہاڑ جیسے دل کا سوچا، عارف خٹک ٹوٹ جائے گا، میرے بیوی بچوں نے تو سمیٹ لیا، لالے کو کون سنبھالے گا؟
“نہیں ” میں نے کہا تو وہ موقع محل دیکھے بغیر زور سے ھنس دیا،
ھم دونوں جنازے کے پیچھے چلتے چلتے قبر تک آگئے، پہلے سے تیار قبر میں اسے اتار دیا گیا، سلیں رکھ دیں، مٹی ڈالنے لگے، میں نے دونوں ھاتھوں میں مٹی بھری دو آنسو ملائے اور عمران کی دوستی پہ ڈال دی، لالہ عارف کا خیال آیا، پھر مٹی، چار آنسو لالہ کی طرف سے، انعام رانا آنسو زیادہ مٹی کم، فوزیہ قریشی کے دئے سارے ھی آنسو اچھال دئے کل کے اٹھا ئے پھر رھا تھا،
رانا لیاقت کی طرف سے دعائیں، کرن مہک کے سسکیوں بھرے تعزیتی الفاظ ، اور رابعہ خرم کی پڑھی ھوئی قرآنی آیات کا ھدیہ ،میں ٹوٹ گیا،میں پھوٹ پڑا، پیچھے ھٹ گیا بھٹی اب بھی مسکرا رھا تھا ،اس نے نام سن لئے، “جناب مکالمہ سے کچھ لوگوں نے مجھے بھی کہا ھے ”
اتا کہہ کر کسی پکڑی اور تیز تیز مٹی ڈالنے لگا، دھوپ اور گرمی سے ھانپ کر آگیا،
“مجھے زیادہ لوگوں نے کہا تھا، اس لئے آپ کی طرح مٹھی مٹھی کے حساب سے ڈال آیا ھوں،
قبر پہ کیوڑہ اور پھول ڈالے جا رھے تھے، اگر بتیوں کی خوشبو تھی، بھٹی اور شوخ ھو گیا،
“قبر کے ساتھ ایک سیلفی ھو جائے “؟ اس سے پہلے میں کوئی جواب دیتا وہ سرھانے جا کر کھڑا ھوگیا،
میں نے تصویر لی تو مسکراتا ھوا آگیا،
“کسی کو بتانا مت، عمران حیدر کا آبائی قبرستان نہیں ھے، یہ یہاں اجنبی ھے، مگر جلد ھی فرینڈ لسٹ کور کر لے گا ”
میں نے بھٹی کو گھور کر دیکھا،
“چلیں؟ “مجھے اب بھٹی اور برداشت نہیں تھا، بھٹی میرے ساتھ چل پڑا، چالیس قدم آکے میں نے دعا مانگی، بھٹی نے مسلکی ضد برقرار رکھی، میں دعا مانگ کر چل پڑا تو وہ وھیں رکا رھا،
“چلو ناں، تمہیں چھوڑ دوں گا”میں نے سوچا بعد میں کیسے آئے گا،
مگر وہ چلا نہیں، میں ھی واپس آگیا، قریب آیا تو وہ رو رھا تھا، جب سے ملا پہلی بار اس کی آنکھوں میں نمی تھی،
“کہاں چھوڑو گے “؟
“نارووال اسٹاپ پہ،
“وکی صاحب، میرا اسٹاپ تو آگیا، ” اتنا کہتے ھی اس نے آنکھ مار دی، بند آنکھ کا پانی ناک سے رستے خون میں مل گیا،
“سب کو میرا سلام کہیئے گا، “وہ مڑا اور دھیرے دھیرے چلتا ھوا قبر کے اوپر ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے بیٹھ گیا،

میں پہلوان ھڈی جوڑ والے کی دکان کے تھڑے پہ بیٹھا ھوں، وہ ابھی بھی نہیں آیا،
“پوچھنا تھا، نئی چوٹوں پہ پٹی کر دے گا “؟

عمران حیدر کے افسانے سے ماخوذ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *