ادب اور ادیب۔۔۔غلام قادر چوہدری

    آپ جیسے اہل علم و ادب کی موجودگی میں کوئی بات کرنا گویا سورج کو چراغ دکھانے کے برابر ہے۔ لیکن

     کچھ تو کہیے کہ لوگ کہتے ہیں 

     آج غالب غزل سرا نہ ہوا۔۔۔

کے مصداق کچھ نہ کچھ تو کہنا ہی پڑے گا۔ کوئی نہ کوئی بات تو کرنی ہی پڑے گی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ

     بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی۔۔۔

     جب سے انسان کو حرفوں کی پہچان ہوئی ہے، تب سے لمحہ ء حاضر تک ہر دور میں لکھنے والے لکھتے رہے ہیں اور پڑھنے والے بھی موجود رہے ہیں۔ کچھ لوگ اس لئے لکھتے ہیں کہ ان کا لکھا ہوا بکتا ہے، اس کی قیمت لگتی ہے اور کچھ لوگ اپنے اندر کے ہاتھوں بے بس ہو کر، اپنے کتھارسس کی وجہ سے مجبور ہو جاتے ہیں کہ کچھ لکھیں۔ ایسے لوگوں کو اس بات کی قطعی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کا لکھا ہوا پڑھا بھی جاتا ہے یا نہیں؟ وہ اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لئے لکھتے ہیں۔

     اور اصل ادب وہی ہوتا ہے، آپ کی اندرونی کیفیات جس کی تخلیق کا باعث بنیں۔

     دوسری زبانوں کی طرح اردو بھی اس ضمن میں تہی دامن ہرگز نہیں۔ اردو کا آنگن بھی درخشاں ستاروں سے بھرا پڑا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک نام اس میں شامل ہے۔ اور کوئی بھی نام، صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک شناخت ہے۔ ولی دکنی اور نظیر سے لے کر دور حاضر تک آپ کس کس کو نظر انداز کریں گے؟

     چاہے نظم ہو یا نثر، ہر دور میں اردو ادب کے لیجنڈز نے شہہ پارے تخلیق کئے ہیں۔ انھوں نے نسلوں کی رہنمائی کی ہے۔ کوئی بھی معاشرہ جب ارتقائی سفر کر رہا ہوتا ہے تو ادیب اور لکھاری اس کی سمت متعین کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے ایک ادیب پر بڑی بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ اس کا لکھا ہوا ایک جملہ اور بسااوقات ایک لفظ بھی کسی کے بگاڑ یا بناؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

     لیکن ایک چیز اور قابل غور ہے کہ اکثر اوقات دوسروں کی راہیں متعین کرنے والے ادیب خود گم کردہ راہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے افکار کی دنیا، ان کے ادبی معاملات اور خوش کن تصورات ان کی حقیقی زندگی سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔

     ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔۔۔۔

     بہت کم ادیب ایسے واقع ہوئے ہیں جن کی حقیقی زندگی بھی ویسی ہی تھی، جیسے وہ اپنی تحریروں میں نظر آتے ہیں۔

     لیکن ادیب کے ساتھ ایک اور المیہ بھی ہوتا ہے۔ کئی ورسٹائل ادیب، جو کئی اصناف میں لکھتے ہیں اور بہت عمدہ لکھتے ہیں، ان پر کسی ایک صنف ادب کی چھاپ لگ جاتی ہیں اور نقاد قاری کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ یہ شخص صرف یہی لکھ سکتا ہے۔ اگرچہ اس بات سے ادیب کی شخصیت اور فن پرفوری کوئی خاص اثر نہیں پڑتا لیکن اس کے کچھ تخلیقی پہلو سامنے نہیں آ پاتے، حالانکہ وہ موجود ہوتے ہیں۔ اور اگر وہ ادیب کچھ حساس ہو تو آہستہ آہستہ وہ خود بخود اسی صنف تک محدود ہوتا چلا جاتا ہے اور ایک وقت وہ آتا ہے کہ اس کی تحریروں میں یکسانیت آنا شروع ہو جاتی ہے اور وہ وقت اس کی تخلیقی موت پر منتج ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد بھی وہ لکھتا رہتا ہے لیکن اس کی تخلیق ختم ہو چکی ہوتی ہے۔

     لیکن کچھ خوش قسمت ایسے بھی ہوتے ہیں جو قسمت کے اس الٹ پھیر سے بچ نکلتے ہیں۔

     آج کا دن 16 دسمبر  پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک ہے جب ملت اسلامیہ کی اس وقت کی سب سے بڑی سلطنت کو دو لخت ہونا پڑا۔

اس کے عوامل کیا تھے؟ وہ اسباب کیوں پیدا ہوئے؟ اس کے ذمہ دار کون تھے اور ان کا تعین کون کرے گا؟

بقول منیر نیازی

     کس دا دوش سی، کس دا نئیں سی

     اے گلاں ہون کرن دیاں نئیں ۔۔۔

     ان سب موضوعات پر بھی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔

     اور مجھے یہ کہنے میں  عار  نہیں کہ ادیب نے ہی یہ قرض بھی  چکانے کی اپنے تئیں کوشش کی ہے۔

     نسلوں کا وہ قرض ادا کرنے کی کوشش کی ہے جو اس پر واجب بھی نہیں تھا کہ افتخار عارف جیسے بندے کو برملا اظہار کرنا پڑا۔

     مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

     وہ قرض اتارے ہیں  جو  واجب بھی نہیں تھے۔۔۔

Ghulam Qadir Choudhry
Ghulam Qadir Choudhry
​غلام قادر سیالکوٹ میں مقیم ایک نوجوان جو اپنے آپ کو لکھاری سے زیادہ ادب کے طالب علم کہتے ہیں۔ واجبی سی تعلیم، ایک چھوٹا سا کاروبار اور ادب سے ڈھیر دلچسپی۔ کالج میگزین میں بھی لکھتے رہے۔ سیالکوٹ کے مقامی جریدے میں بھی ان کے کچھ مضامین چھپ چکے ہیں۔ مثبت تنقید اور اختلاف رائے کو فریق مخالف کا حق سمجھتے ہیں۔​

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *