سقوط ڈھاکہ سے سانحہ اے پی ایس تک۔۔۔۔محمد نعیم شہزاد

قومی زندگی میں عروج و زوال، آلام و سانحات اور اعزازات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ مگر انسانی فطرت ہے کہ آسائش پر ابتلا و آزمائش اور اعزازات پر سانحات غالب آ جاتے ہیں۔ قومی نوعیت کے سانحات جہاں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا باعث بنتے ہیں وہیں ان کے متاثرین کی تعداد بھی کثیر ہوتی ہے اور من حیث القوم پوری قوم ان سانحات کے صدمات سے دوچار ہوتی ہے۔ سانحہ کوئی بھی ہو رنج و غم کی کیفیت ہی ایسی ہے جو اعصاب پر طاری ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کیفیت میں فرق لانے والی چیز جذبہ حب الوطنی ہے۔ پاکستانی قوم اپنے شہداء کے لاشوں پر جب ان کو کوئی سفاک دشمن گہری چال چل کر ابدی نیند سلا دیتا ہے رنجیدہ تو ہوتی ہے مگر اس کا عزم و حوصلہ نہیں ٹوٹتا ، ہم اپنے جوانوں ، بچوں اور محافظوں کی قربانی تو دے دیتے ہیں مگر ہمارے حوصلے پست نہیں ہوتے۔
قیام پاکستان سے لے کر آج کے دن تک ہم نے اپنے دشمن کی مکاری اور سفاکیت میں کمی نہ دیکھی اور مقابل میں مایوسی اور یاسیت ہمیشہ ہمارے دشمن کا منہ چڑاتی نظر آئی جب ہمہ قسم کی قربانیاں دینے کے باوجود ہمارے پایۂ اسقلال میں لغزش نہ آنے پائی۔ دشمن کا ہر حربہ ناکام ہوا ہر محاذ پر اسے منہ کی کھانا پڑی۔ اس میں ہم نے اگر نقصان اٹھایا تو آپس کی ناچاقیوں اور اپنوں کی نادانیوں سے۔ دونوں پر قابو پانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دشمن تو دشمن ہے وہ وار بھی کرے گا اور ضرر بھی دے گا۔ اس سے خیر کی توقع عبث ہے۔ مگر اپنے تو ہمارے اپنے ہیں۔ آپس کے تعلقات کو استوار کرنا، روابط کو مضبوط کرنا اور باہمی افہام و تفہیم کی فضا پیدا کرنا نہایت اہم اور وقت کی ضرورت ہے۔ تاکہ آئندہ ہم سقوط ڈھاکہ جیسے کسی سانحہ سے دوچار نہ ہوں اور اسی اتحاد و اتفاق کو دیکھ کر دشمن کی سانحہ اے پی ایس جیسی کوششیں ناکام و نامراد ٹھہریں گی۔
زندہ قومیں اپنے ماضی کو فراموش نہیں کرتیں اور سابقہ غلطیوں اور خامیوں پر قابو پانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہم جب ماضی کے ان عظیم اور اندوہناک سانحات کو یاد کرتے ہیں تو ساتھ ہی ساتھ ان غلطیوں کے ازالہ کی بھی کوشش کرنی چاہیے جو ان سانحات کا پیش خیمہ بنیں اور ہمارا ملک دو لخت ہوا اور بعد میں ہمارے لخت جگر ہم سے جدا ہونے۔ غور کیا جائے تو دشمن ایک ہی نظر آئے گا اور اس کا طریقہ کار بھی ایک ہی ہو گا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی صفوں میں اتحاد و یگانگت پیدا کریں اور دشمن کو یہ باور کرانا ہو گا کہ اب اس کی چالیں اور سازشوں کے جال ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اسی صورت میں ہم تعمیر و ترقی کی طرف گامزن ہو سکیں گے اور مستقبل میں کسی ایسے سانحہ سے بھی بچ سکیں گے۔
ابھی کل ہی کی بات ہے ہمارے ملک کی ایک سیاسی جماعت کے سربراہ عدالت سے اپنے خلاف فیصلہ آنے پر سیخ پا تھے اور عوام کو بغاوت پر اکسا رہے تھے۔ انتہائی شرمناک بات ہے کہ وہ بار بار سانحہ مشرقی پاکستان کی بات بھی کرتے۔ ان کے الفاظ و انداز سے رعونت ٹپکتی تھی۔ اپنے آپ کو مطلق العنان سمجھ بیٹھنے والے اور قوم کے ضمیر کا سودا کرنے والوں کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایسے بیانات و الفاظ قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرتے ہیں اور دشمن کو نقب لگانے کا موقع مہیا کرتے ہیں۔ قومی یگانگت کو داؤ پر لگانے والے افراد کو قوم کبھی معاف نہیں کرتی جس کا نتیجہ حالیہ الیکشن میں واضح طور پر سامنے آ گیا۔ صد شکر کہ ہماری قوم اب اتنی بالغ نظر ہو چکی ہے کہ نہ تو دشمن کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہوتی ہے اور نہ اپنے بے ضمیر قبیل کے رہنماؤں سے۔
ہماری قوم افق پر ایک قابل فخر قوم بن کر ابھر رہی ہے۔ ہمارے پیر و جواں، مرد و زن سب یکمشت و یکجان ہیں۔ دشمن پر ضرب کاری اور اس کے اعصاب پر ہیجان ہیں۔ ہمارا باعث افتخار سرمایہ ہمارے محافظ اداروں کے جوان ہیں اور ہم سب پاکستان ہیں۔ پاک سر زمین شاد باد رہے گی۔ شہداء کی قربانیوں کا یہ ثمر بار دوام پائے گا اور یہ سب اسی صورت ممکن ہو گا جب ہم قومی اتحاد قائم رکھیں گے اور فہم و بصیرت اور ادراک احوال رکھیں گے۔
قومی سانحہ کو یاد کرنے کا اس سے بہت طریقہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں تاکہ کوئی دشمن دوبارہ کبھی نقب زنی کا موقع نہ پا سکے۔ اور ہم اپنے ملک کو اوج ثریا تک لے جائیں تاکہ وہ مقدس لہو جو اس وطن سے وفا کی پاداش میں بہا دیا گیا رنگ لے آئے اور آنے والے دنوں میں ہماری آئندہ نسلوں کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہو۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *