یہ ہیمو گلوبن کیا ہے ؟۔۔۔۔عبداللہ احمد/ہیلتھ بلاگ

اس وقت بظاہر آپ موبائل ہاتھ میں لیے News Feed کو Scroll کررہے ہیں اور Macro Level پر آپ آرام سے بیٹھے ہیں لیکن آئیے ایک نظر آپ کے اندر جھانکتے ہیں ، اس وقت Micro Level پر ایک طوفان سا برپا ہے ۔ آپ کے جسم میں موجود 37.2 کھرب خلیوں میں سے ہر ایک خلیہ نہ صرف اپنی بقاء کی جنگ لڑرہا ہے بلکہ وہ بہت سی ایسی سرگرمیوں میں بھی مصروف ہیں جوبطور Individual آپ کی بقاء کے لیے ضروری ہیں ۔ ان تمام مراحل سے گزرنے کے لیے انہی توانائی درکار ہے ۔

اب یہ توانائی کہاں سے آئی گی؟
جی تو اس کے لیے انہیں چاہیے ہے Oxygen کیوں کہ جب بھی یہ کسی Molecule کے ساتھ Attach ہوتی ہے تو توانائی Release ہوتی ہے ۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ آپ ہوا میں موجود آکسیجن کو براہ راست اپنے خلیوں دے سکیں ۔ اس کے لیے باقاعدہ ایک Mechanism ہوتا ہے۔ بالخصوص Vertebrates (ماسوائے مچھلیوں کے ایک گروہ Channichthyidae کے ) ایک Globular Protien پائی جاتی ہےخون کے خلیات میں ، اگر اس کی Chemistry کو پڑھا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کے اس کے بالکل وسط میں Iron کا ایک Atom موجود ہوتا ہے جو Oxygen کے Molecule کو اپنی جانب Attract کرتا ہے جو خون کی نالیوں میں بذریعہ Lungs داخل ہوئی ہوتی ہے۔ اس طرح سے جہاں جہاں خون جاتا ہے تو Oxygen بھی وہاں پہنچ جاتی ہے اور خلیے اس کو اپنی Metabolic Activities کے لیے استعمال میں لاتے ہیں ۔

Advertisements
julia rana solicitors london
FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

یہ Haemoglobin نہ صرف اپنے ساتھ Oxygen کو Carry کرتا ہے بلکہ بہت سی Gases کی Transport میں اپنا کردار ادا کرتا ہے ۔ ان میں سے اہم Carbon Dioxide ہے جو یہ Carbaminohemoglobin کی صورت موجود ہوتا ہے ۔  اس کے علاوہ ایک اہم Regulatory Molecule یعنی Nitric Oxide کو بھی یہ اپنے ساتھ لے کرچلتا ہے ۔
یہ Haemoglobin بنیادی طور پر Metalloprotein کی ایک قسم ہے ۔ یہ وہ Protiens ہیں جن کو بہتر طریقے سے کام کرنے کے لیے ایک Metal Ion درکار ہوتا ہے ( اس Case میں Fe یعنی Iron)
آکسیجن کو ساتھ لے کرچلنے والے Haemoglobin کو Hünefeld نے 1840 میں دریافت کیا ۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply